بات سنتے نہ بات کرتے ہو – نظم

ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ مئی 2012ء میں محترم چودھری محمد علی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

بات سنتے نہ بات کرتے ہو
کس قدر احتیاط کرتے ہو
سچ کہو! انتظار کس کا ہے
صبح کرتے نہ رات کرتے ہو
عقل کے بھی ہو زر خرید غلام
عشق بھی ساتھ ساتھ کرتے ہو
ہاتھ جاناں کے ہاتھ میں دے کر
کیوں غمِ پُلِ صراط کرتے ہو
پہلے اس کا جواز ڈھونڈتے ہو
پھر کوئی واردات کرتے ہو
جب بھی کرتے ہو قتل مضطرؔ کا
سرِ نہرِ فرات کرتے ہو

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/Fgavb]

اپنا تبصرہ بھیجیں