تبصرہ کتاب: ’’قلم دا سورج‘‘

تعارف کتاب:
مطبوعہ احمدیہ گزٹ کینیڈا اکتوبر 2019ء

’’قلم دا سورج‘‘
(فرخ سلطان محمود)

نام کتاب : قلم دا سورج (پنجابی)
لکھاری: مبارک احمد ظفرؔ
ناشر: رفعت تسنیم
ایڈیشن اوّل: 2018ء
تعداد: 3000
صفحات: 180
خاکسار کے لیے یہ امر باعثِ مسرّت ہے کہ پنجابی زبان میں شاعری کی ایک کتاب کا تعارف لکھنے کو موقع مل رہا ہے۔ اس خوشی کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ مہدیٔ آخرالزماں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش جس مبارک بستی قادیان میں ہوئی اور جس خطّۂ ارض میں آپؑ کی زندگی کا بیشتر حصہ گزرا اور پھر وفات ہوئی، وہ سب پنجاب کے ہی مختلف علاقے ہیں۔ اگرچہ حضورعلیہ السلام نے براہ راست پنجابی زبان میں کوئی تصنیف رقم نہیں فرمائی، نظم نہیں کہی یا کوئی قابلِ ذکر تفصیلی گفتگو بھی پنجابی میں نہیں فرمائی لیکن پنجابی زبان کی سعادت ہے کہ حضور علیہ السلام کو اس زبان میں الہامات سے سرفراز فرمایا گیا اور

’’جے تُوں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو‘‘

جیسی پیشگوئی آپؑ کی زندگی میں ہی نہایت شان سے پوری ہونے لگی۔
پنجاب کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی مسند خلافت پر متمکّن ہونے والے سارے بابرکت وجود بھی پنجاب کے ہی مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور دائمی مرکز قادیان سے ہجرت کے بعد جس شہر ربوہ کو مرکز احمدیت ہونے کا شرف حاصل ہوا وہ بھی پنجاب میں ہی واقع ہے۔ پس پنجاب اور پنجابی زبان کا احمدیت اور احمدیوں کے ساتھ ایسا خوبصورت رشتہ ہے جسے زمین کے کناروں تک پھیلی ہوئی دنیائے احمدیت میں ہمیشہ محبت اور عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
خطّۂ پنجاب جو صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بسااوقات محض چند کوس کے فاصلہ پر ہی پنجابی زبان اپنا مزاج اور انداز تبدیل کرتی چلی جاتی ہے، مزید یہ کہ گزشتہ ایک صدی میں سیاسی اور کبھی لِسانی بنیادوں پر یہ صوبہ تقسیم در تقسیم ہوتا چلاآیا ہے تاہم آج بھی اس کے باسی پنجابی زبان کثرت سے بولتے اور سمجھتے ہیں۔ البتہ لکھنے اور پڑھنے کا معاملہ کلّیۃً مختلف ہے جس کی ایک وجہ مشرقی اور مغربی پنجاب میں مختلف رسم الخط کا استعمال ہے۔ اور دوسری وجہ یہ کہ پنجابی زبان کے پڑھنے پڑھانے یعنی شعبۂ تدریس میں کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی سرکاری سرپرستی اسے حاصل رہی ہے۔ چنانچہ ماضی کے چند نامور بزرگوں کی کہی ہوئی بامقصد پنجابی شاعری اور لوک گیتوں کے طفیل ہی یہ زبان عوامی سطح پر زندہ رہی ہے اور ثقافتی سطح پر مقبولیت بھی اسے حاصل ہے۔
مذکورہ حالات میں پنجابی زبان میں کچھ کہنا یا لکھنا اور پھر اس ادبی تخلیق کا اشاعت کے مراحل طَے کرکے قبولیت کا شرف پانا محال نظر آتا ہے۔ چنانچہ زیرنظر کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اُس محنت اور جذبہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو اس بامقصد کام میں صَرف ہوا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عشق و آگہی کے بِنا یہ کلام نہیں کہا جاسکتا تھا اور ولولے اور شوق کے بغیر یہ کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ قبل ازیں جناب مبارک احمد ظفرؔ کی اردو شاعری کی دو کتب شائع ہوکر داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔
عرفِ عام میں جناب مبارک احمد ظفرؔ کی شاعری کا سلسلہ دینی اور اخلاقی موضوعات سے شروع ہوکر روحانی موضوعات پر ختم ہوتا ہے۔ گویا (ذریعۂ اظہار خواہ کچھ بھی ہو) یہ اُن کی روح میں بسی ہوئی عشقِ حقیقی کی خوشبو اور شعائراللہ کے ساتھ اخلاص و وفا کا جذبہ ہی ہے جو قرطاس پر بکھرنے لگا تو بکھرتا ہی چلا گیا۔ اگرچہ اپنی مادری زبان پنجابی میں پہلے بھی اِکّادُکّا نظمیں کہنے کا موقع انہیں ملتا رہا تھا لیکن آپ کے زورِ قلم کا غیرمعمولی انداز اور قبولیت اُس وقت تک دیکھنے میں نہیں آیا جب تک حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خوبصورت پنجابی الہام ’’عشق الٰہی وسّے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی‘‘ کو ایک مصرعہ طرح کے طور پر آپ کو دیا۔ جب اگلے ہی دن آپ نے ایک نظم اپنے آقا کے حضور پیش کی تو خوشنودی کے ساتھ ساتھ جن دعاؤں سے حصّہ پایا اُن کا فیض تھا کہ ابررحمت جھوم کر برسا۔ مذکورہ نظم کا مطلع اور چند اشعار یوں تھے:

چلدے پھردے چار چفیرے ونڈن فیض روحانی
’’عشق الٰہی وسّے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی‘‘
توبہ ، تقویٰ نال گزارن جگراتے جو کٹن
ولی پیغمبر ہوندے جیہڑے رکھن پاک جوانی
جوہ خلافت والی اندر ، ساڈیاں ستّے خیراں
تھاں تھاں رُلدے پِھردے جنہاں ایہدی قدر نہ جانی
نال قرآن دلیلاں لے کے ہتھ قلم تلواراں
بیاسی لکھ کتاباں اُس نے کیتی اے سلطانی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنا ایک کشف یوں بیان فرماتے ہیں کہ لباس فاخرہ زیب تن کئے ہوئے چند فرشتے ایک غزل پڑھتے ہیں اور مصرعہ کے آخر پر لفظ ’’پِیرِپیراں‘‘کہتے ہوئے آپؑ کی طرف ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے ہیں۔ اس کشفی کیفیت کو نظم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جناب مبارک احمد ظفرؔ کہتے ہیں:

تیرے دَم نال سُتیاں ہویاں جاگ پیاں تقدیراں
ساڈیا سوہنیا سائیاں تینوں مَنّیا ’’پِیرِ پِیراں‘‘
مُلکاں مُلکاں تیرے ناں دا جاری لنگر ہویا
دَر تیرے توں فیض کمایا وَلیاں ، بَھگتاں ، میراں
وَنْ سَونِّی بولیاں والے پکھو ہو گئے تیرے
صورت تیری ویکھ کے نالے تیریاں پڑھ تحریراں
وریاں پہلاں جیہڑے سُپنے تُوں سَن ویکھے پِیرا!
سچّے نکلے ، اوہناں نوں اَج مِل گئیاں تعبیراں
کَرماں والی نظر جے پاویں ، ہَتھ موڈھے تے رکھیں
پاٹیاں لِیراں والے وی فیر پا جاوَن توقیراں

موصوف شاعر کے اردو اور پنجابی کلام سے استفادہ کرنے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنی سوچوں کا رُخ اور منزلِ مقصود محض دین کو ہی قرار دیا ہے۔ گویا ایسا زاویۂ نظر ہے جو دنیاوی رطب و یابس سے پاک ہے اور کلّیۃً اپنے خالق و مالک اور اُس کی پیاری مخلوق کے گرد گھومتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کتاب کو اُن شہدائے احمدیت سے معنون کیا گیا ہے جو اپنے پیاروں کو پیچھے چھوڑ کر اپنے ربّ کی آغوشِ رحمت میں جابیٹھے۔
معرفت کے سفر کی ابتدائی منازل کا رُخ متعیّن کردینے والی شاعری کی اس کتاب کا آغاز ایک خوبصورت حمدیہ کلام سے ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری نظم تو سورۃالاخلاص کی تفسیر ہے جس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ:

او لاثانی او واحد

قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدْ

سارے اوسدے ہین محتاج
بس اِک اوسدی ذات صَمَدْ
اوسدا ساتھ ناں کوئی سنگ

لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْ لَدْ

اِکّو اِک خدا دی ذات
باقی سارے کرنا ردّ

بلاشبہ شاعر موصوف کی شاعری سہلِ ممتنع کی ایک عمدہ مثال ہے۔ سادہ اور بے تکلّف انداز میں کہی گئی نظموں میں جو دینی مضامین سمٹے ہوئے نظر آتے ہیں وہ بزبان خود اشارہ کرتے ہیں کہ یہ بیج کس بابرکت مٹی میں نمو پاکے پلابڑھا ہے۔ چنانچہ ایک اَور حمدیہ نظم کے چند اشعار ہیں:

تیریاں حمد ثناواں سائیں
شام سویرے گاواں سائیں
تیرے پاک کلام دوالے
گُھماں پھیرے لاواں سائیں
دِل دے ویہڑے پَیر جے پاویں
رَج دھمالاں پاواں سائیں

آنحضرت ﷺ کی مدح میں کہی گئی ایک طویل نعت کا پہلا بند پیش ہے:

ھَتھ وِچ مُہرِ نبوّت آلی
اس دے موہڈے کملی کالی
اس دا رُتبہ سب توں عالی
نبّیاں دا سردار محمدؐ
صلی اللہ علیہ وسلم
صلی اللہ علیہ وسلم

اگرچہ جناب مبارک ظفرؔ نے خالص دینی موضوعات سے ہٹ کر بھی بہت سی نظمیں کہی ہیں تاہم اعلیٰ اخلاقی قدروں کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ چنانچہ معاشرتی روایات کو مزید جِلا بخشنے اور سچائی کے فروغ کے لئے آپ کی شاعری میں جو پیغام موجود ہے اس سے صَرفِ نظر کیا ہی نہیں جاسکتا۔ نمونۃً یہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جیہڑے لاندے لارے لوکی
ہوندے بے اعتبارے لوکی
مال تے دولت پوجن والے
ہوندے قسمت مارے لوکی
خاک نشینی والے ہووَن
اسماناں دے تارے لوکی

اور یہ بھی کہ:

ربّ دے اگّے سیس جھکائیے
تھاں تھاں کھپ نہ رولا پائیے
لوکاں دے دکھ درد ونڈائیے
اجر خدا توں اُس دا پائیے
پِشلے ویلے راتِیں اُٹھ اُٹھ
رُسّیا ہویا یار منائیے

اپنی مختصر نگارش کا اختتام ایک خوبصورت بند سے کرنا چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں:

تَینوں مَنّیا اے اپنا خدا ربّا
تیرے نال اے ساڈی وفا ربّا
سانوں رات ہنیری پئی ڈَنگدی اے
کوئی پیار دا رنگ وکھا ربّا

گو کہ جناب مبارک احمد ظفر کی شاعری پر اَور بھی بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ تاہم اختتام سے قبل یہ کہنا نہایت مناسب ہے کہ انسانی تخلیق کے ہر شاہکار میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔ چنانچہ بہت سی خصوصیات کی حامل اس کتاب ’’قلم دا سورج‘‘ میں مشکل الفاظ پر حتّی المقدور اعراب لگاکر اس کتاب کو قارئین کے لئے کسی قدر آسان بنایا جاسکتا تھا۔ نیز اگر کتاب کے آخری چند صفحات مُشکل الفاظ کے اردو میں معانی کے لئے مختص کردیے جاتے تو یقینا یہ سونے پر سہاگہ ہوتا۔ اسی طرح ٹیکسٹ کی سیٹنگ اور ڈیزائننگ کو بھی مزید بہتر کیا جاسکتا تھا۔ تاہم پُراثر کلام کے علاوہ شاندار گیٹ اَپ، سفیدعمدہ کاغذ، جاذب نظر سرورق، صاف واضح تحریر اوردیگر بہت سی ظاہری خوبیاں اس کتاب کو شیلف پر موجود دیگر ادبی کتب سے ممتاز کرتی ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/n28ID]

اپنا تبصرہ بھیجیں