تربیت اولاد

(مطبوعہ انصارالدین مارچ اپریل 2012ء)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 28 جولائی 2017ء)

انتخاب از ’’مضامین شاکر‘‘

(فرخ سلطان محمود)

تربیّتِ اولاد

جُوں جُوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہم سے دور ہوتا جارہا ہے نور نبوت کم ہوتا جا رہا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ

اِنَّ الِانْسَانَ لَفِی خُسْرٍ

یعنی انسان ہرروزگھاٹے میں جارہاہے اس لئے ہم کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں کریں کہ بعد میں کوئی پچھتاوا نہ ہو۔ ہمارے بزرگوں نے احمدیت کو پرکھ کر بڑی گراں قیمت د ے کر خریدا ہے۔ اس کے لئے بہت قربانی دی ہے۔ وطنوں سے جُدا ہوئے۔ رشتہ داریاں ترک کردیں مگر حضرت مہدی علیہ السلام کا دامن تھاما ہے اُسے مضبوطی سے تھامے رکھا۔ اب اگر ہماری اولادیں اس مقدس ورثہ کو بھلادیں تو ہمارے لئے وہ دن سخت مصیبت کا ہوگا۔
’تربیت اولاد‘ کے اندر بڑے وسیع معانی اوربیشمار قسم کی ذمہ داریاں ہیں۔ تاہم بنیادی اصول یہ ہیں کہ بچہ پیدا ہوتے ہی کان میں اذان اورتکبیر کہی جائے۔ پہلا نام اللہ سکھایا جائے جب کھانے پینے لگے تو بسم اللہ سکھائی جائے۔ ذر ابڑا ہوتو دائیں اوربائیں ہاتھ کی تمیز سکھائیں۔ کلمہ طیبہ وغیرہ یاد کرایا جائے۔ سات برس کا ہوجائے تو نماز یادکرائیں۔ دس سال کے بچے پر تو نماز ویسے ہی فرض ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید ناظرہ آتاہو … جوں جوں بچہ جوان ہوگا اس کے فرائض بڑھتے جائیں گے۔ اسلامی عقائد کی تعلیم دیں، وقت کی پابندی سکھائیں، اسلام اور احمدیت کی مختصر تاریخ سے آگاہی دیں۔ بچے کو بُرے ہمجولیوں سے اجتناب سکھائیں۔ اُس کے اساتذہ سے اُس کی تعلیمی اوراخلاقی حالت کی رپورٹ لیتے رہیں۔ مگر یہ تمام کام آسان نہیں ہے۔ تاہم جس گھرانے پر اللہ کا فضل ہو وہاں کے مرد اور سمجھدار خواتین یہ کام بڑی ذمہ داری سے کرتے ہیں بشرطیکہ ان کو اپنے بچوں کی تربیت کا احساس ہو۔
تربیت کے بعض پہلوؤں کی مثالیں پیش ہیں:
٭ 1925ء میں خاکسار نے میڑک کا امتحان دیا تو حضر ت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب ؓ نے مجھ سے دریافت فرمایاکہ اب کیا کروگے ؟ میں نے جواب دیا: آوارہ گردی کریں گے۔ آپؑ کو بہت غصہ آیا اور مجھے حکم دیا کہ ہسپتال میں آکر مریضوں کا رجسٹر لکھا کرو، آوارہ نہیں پھرنا۔ مَیں اُن کے سامنے بیٹھا رجسٹر لکھتا رہتا اورآپ گہری نگاہوں سے مجھے گھورتے رہتے اورمجھے یوں محسوس ہوتا کہ کوئی چیز میرے اندر سمائی جارہی ہے۔ آپ کی صحبت کی یاد اب تک دل کو گرماتی رہتی ہے۔
٭ بچوں کی تربیت کے لئے بعض دفعہ اپنی سطح سے اُتر کر بچوں کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ حضرت مولانا شیرعلی صاحبؓ ہمیں نویں جماعت میں انگریزی گرامر پڑھارہے تھے۔ اور مَیں ریاضی کے سوالات نقل کررہا تھا۔ آپؓ نے دیکھ لیا اورفرمایا یہ کیا کررہے ہو؟ میں چُپ رہا۔ فرمانے لگے کہ آپ کلاس سے باہر چلے جائیں۔ مَیں جاکر برآمدے میں کھڑا ہوگیا۔ ایک منٹ کے بعد مولانا میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا: ’’آپ اب کلاس میں تشریف لاسکتے ہیں‘‘۔ وہ ندامت اب تک دل پر ہے اورمولانا کے اخلاق عالیہ کا اثر جو میرے دل پر ہے وہ کچھ میں ہی جانتا ہوں۔
٭ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحبؓ (سابق سردار جگت سنگھ) کا اپنا ہی مقام ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے رنگ میں رنگین اور دینیات و عربی کے بہترین استاد تھے اور بورڈ نگ میں ہمارے ٹیوٹر تھے۔ ایک روز نماز کے وقت ایک غیر احمدی لڑکا جو بڑے امیر خاندان کا اکلوتا بیٹا تھا کہنے لگا کہ میرا تو نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا۔ اُس وقت مَیں نے دیکھا کہ بھائی جی کے اندر ایک بگولہ سا اٹھا مگر کمال ضبط کے ساتھ فرمایا: ’’جب تمہارادل نہیں چاہتا تو نماز نہ پڑھو‘‘۔ دوسرے تما م لڑکے نماز کے لئے چلے گئے۔ وہ اکیلا کمرہ میں بیٹھا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد ضمیر نے اسے جھنجوڑا اوروہ آکر نماز میں شریک ہوگیا۔ نماز کے بعد وہ بھائی جی کے آگے پیچھے پھرتا رہا تا دیکھ لیں مگر اُنہوں نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔
چند روز کے بعد بھائی جی کو کہنے لگا کہ میری بیعت کرادیں۔ آپؓ نے فرمایا کہ اپنے والدین سے تحریری اجازت منگوالو وگرنہ مشکل ہے۔ اُس کے والدین نے لکھا کہ ہم نے تم کو قادیان میں نیک صحبت اوربہتر تعلیم کے لئے بھجوایا ہے۔ یہ بڑی سعادت ہے اگر تمہارا دل چاہتا ہے تو بیعت کرلو- اوراس نے بیعت کرلی۔
اگر اس کے نماز کے انکار پر بھائی جی ڈنڈا لے کر مارتے تو بجا تھا۔ مگر اُن کی حکمت اوردلی دعائوں اورتحمل اور بردباری نے کام بنادیا۔
٭ قادیان میں حضرت حکیم عبیداللہ بسمل ؔؓ بہت بڑے عالم، حکیم، فلسفی اورفارسی دان بزرگ گزرے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو اپنی جماعت کا فردوسی فرمایا۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓ فرماتے تھے کہ ’’کاش مجھے عبیداللہ جتنی فارسی آتی ہو‘‘۔
خاکسار اپنا فارغ وقت اُن کی خدمت میں گزارا کرتا تھا۔ آپؓ نے فارسی نظم میں فلسفہ حیاتِ انسانی پر کتاب ’حیاتِ بسمل ‘ لکھی۔ جب چھپ کرآئی تو مجھ سے پوچھا کہ کیسی ہے کتاب؟ میری بیوقوفی کہ مَیں نے جوش میں کہہ دیا کہ یہ نام درست نہیں۔ پوچھا کیا چاہئے؟ میں نے کہہ دیا ’رقص بسمل‘ چاہئے۔ صاف ظاہر ہے کہ میری نادانی تھی۔ مولوی صاحب نے سخت بُرا منایا اورچہرہ سُرخ ہوگیا۔ میں یہ حالت دیکھ کر وہاں سے بھاگا اور تین دن متواتر اُن کے ہاں نہ گیا تو ایک رات دس بجے کے قریب آپؓ خود ہمارے گھر تشریف لائے۔ والد صاحب نے پوچھا کہ ایسا کیا کام تھا جو اس وقت تشریف لائے ہیں۔ فرمایا: ’’عبدالرحمن شاکر ناراض ہوگیاہے اُسے منانے آیا ہوں۔ تین دن سے ملنے نہیں آیا‘‘۔ جب والد صاحب کو تمام واقعہ کا علم ہوا تو مجھے بہت سخت سست کہا اور کہا کہ فوراً معافی مانگو۔ مَیں مولوی صاحب کے قدموں میں بیٹھ گیا اورمعافی چاہی۔
دیکھئے کہ اس عالمِ بے بدل نے میری اصلاح کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا۔ لیکن اگر تربیت کرنی ہے اوربچوں کو پکا احمدی بناناہے تو یہی طریق ہے۔ اگر باربار مسائل بچوں کے دماغوں میں بسائے نہ جائیں گے تو محفوظ کیسے ہوں گے۔ انگریزی زبان کے لفظ Drill کے معنی ’’برمے‘‘ کے ہوتے ہیں۔ یہی لفظ ڈرل فوج میں استعمال ہوتاہے کہ ایک مشق کو باربار کرایاجائے۔
٭ حضرت میرمحمد اسحاق صاحبؓ میرے حال پر بہت مہربان تھے۔ ہم اُن کے پڑوس میں عرصہ تک رہے تھے۔ خاکسار ایک دن ننگے سرجامعہ احمدیہ قادیان چلاگیا تو آپؓ فرمانے لگے کہ جاتے ہوئے مجھ سے مل کرجانا۔ مَیں حاضر ہوا تو مجھے دُور لے گئے اورفرمایا کہ تمہارے دوست تم سے پوچھیں گے کہ میر صاحب سے کیا بات ہوئی مگر کسی کو کچھ نہ بتانا۔ مَیں نے کہا درست ہے۔ پھرمیرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ’’دیکھو ! شریف زادے ننگے سر نہیں پھرا کرتے‘‘۔
یہ تمام معمولی واقعات ہیں مگر بڑے سبق آموز ہیں۔ ایک اورنہایت اہم چیز جو بچوں کے ذہنوں میں جاگزیں کرائی جائے وہ خلیفۂ وقت کی عظمت اور مرکز سلسلہ کی اہمیت ہے۔ وہاں اکثر حاضری دی جائے اور بزرگان سلسلہ کی خدمت میں حاضری دی جائے۔ بہرحال مرکز سے رابطہ ضرور ہونا چاہئے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/eUEcu]

اپنا تبصرہ بھیجیں