تعارف کتب: ’’خواب سجائے پھرتے ہیں‘‘ اور ’’دستک سے تھکے ہاتھ‘‘

تعارف کتب:
’’خواب سجائے پھرتے ہیں‘‘ اور ’’دستک سے تھکے ہاتھ‘‘
(محمود احمد ملک)

2011ء کے ایک ابتدائی شمارہ میں ہم نے قارئین کی خدمت میں متعدّد ظاہری خوبیوں اور حسنِ خیال سے آراستہ ایک خوبصورت مجموعۂ کلام ’’برفیلی دھوپ‘‘ کا تعارف پیش کیا تھا اور نمونۂ کلام پیش کرتے ہوئے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ جناب طفیل عامرؔ کے مزید مجموعے بھی جلد ہی منظر عام پر آئیں گے۔ سو یہ امر بہرحال باعث حیرت و مسرّت ہے کہ 2015ء میں موصوف شاعرکے منفرد کلام کے حامل مزید دو مجموعے بعنوان ’’خواب سجائے پھرتے ہیں‘‘ اور ’’دستک سے تھکے ہاتھ‘‘ شائع ہوکر اہل علم و ادب سے داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں۔ دونوں شعری مجموعے بالترتیب قریباً ڈیڑھ صد اور 170 صفحات پر مشتمل ہیں۔ مجلّد (Hard Binding) اور رنگین تجریدی آرٹ سے مرصّع سرورق کے ساتھ اندرونی تزئین کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔
اگرچہ اوّلین نظر اُٹھے تو ہر دو کتب کی ظاہری زینت ان کی پسندیدگی کا ذریعہ ضرور بنتی ہے۔ لیکن ان میں شامل منتخب کلام کا مطالعہ شروع کریں تو قاری اپنے ظرف اور ذہنی وسعت کے مطابق ایسے معانی و مطالب اخذ کرتا چلا جاتا ہے جن کا لطف پڑھنے والا ہی جان سکتا ہے۔ دراصل سادہ اور رواں انداز میں کہے گئے اس کلام میں پائی جانے والی ایک منفرد کشش پڑھنے والے کی دلچسپی اور لطف میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے اور بلاشبہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قاری کے ذہن میں پوشیدہ منتشر اور ناقابل بیان خیالات کو گویا زبان ملتی چلی جاتی ہے۔ جناب طفیل عامرؔ کا کلام، درحقیقت، سہل ممتنع کی ایک عمدہ مثال ہے۔
آپ اکثر چھوٹی بحر میں شعر کہتے ہیں لیکن کہا جاسکتا ہے کہ شعر کہنے کا حق ادا کردیتے ہیں۔ زندگی کی تلخیوں کو بہت قریب سے مشاہدہ کرنے اور اس کے نتیجہ میں واقع ہونے والی قلبی واردات کو اپنی ذات میں جذب کرلینے کے بعد جب اندرونی کرب کا اظہار خودبخود زبان پر آنے لگے تو یہی وہ آئینہ ہے جس کے عکس میں طفیل عامرؔ کی غزل کا ظہور ہوتا ہے اور پھر اس غزل یا نظم کے ہر شعر سے منعکس ہونے والی شعاعیں معاشرے کے ظاہری و اندرونی عوامل کو اُجاگر کرتی چلی جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ بات یقینا ناممکن ہے کہ شاعر کے قلب و نظر میں تلاطم برپا کردینے والی لہروں کو ایک حسّاس قاری محسوس کرنے سے قاصر رہے۔
فلسفہ و شعر کے میدان میں اپنی کم مائیگی کا احساس رکھتے ہوئے کسی اچھے مجموعۂ کلام میں سے انتخاب کرنے کا مرحلہ کس قدر دشوار ہوگا! اس کا اندازہ مجھے آج ایک بار پھر ہوا ہے۔ تاہم مذکورہ بالا دونوں کتب میں سے ایک مختصر انتخاب اس گزارش کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے کہ اس کلام سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونے کے لئے آپ کو اپنی ہی ذات کا حوالہ ذہن میں رکھتے ہوئے اُسی چشمہ سے اپنی تشنہ لَبی کی سیرابی کا سامان کرنا ہے جس سے شاعر نے اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کی ہے۔ یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ قاری کو بھی اُسی چشمہ (عینک) سے اس عالمِ رنگ و بُو کا نظارہ کرنے کی کوشش کرنی ہے جو موصوف شاعر نے لگا رکھا ہے۔ امر واقعہ تو یہی ہے کہ شاعر موصوف نے جس زاویۂ نظر سے بھی نگاہ اٹھائی ہے تو اُس کے کلام میں بے ساختہ ایسے افکار نے آنکھ کھولی ہے جن میں انفرادیت کا اپنا ہی حسن مستور نظر آتا ہے۔
طفیل عامر کے خوبصورت کلام سے انتخاب کی سعی بلاشبہ ایک غیرمعمولی کاوش ہے۔:

مجھے ہر پَل خیال تیرا ہے
اور لبوں پر سوال تیرا ہے
حُسن جو بھی ہے ان جہانوں میں
میرے مولا! جمال تیرا ہے
ہر طرف تیری خودنمائی ہے
ہر طرف ہی کمال تیرا ہے
…………………
جن سے پہلا قدم نہیں اُٹھتا
اُن کا اگلا قدم نہیں ہوتا
…………………
گر سفر ہو تو ہمسفر بھی ہو
زندگی ہو تو پھر بسر بھی ہو
پیار وہ ہے جو دوسرا سمجھے
بات وہ ہے جو پُراثر بھی ہو
…………………
نہیں ایسا کہ ہم مُکر جائیں
پر یہ دریا ہیں کب اُتر جائیں
ہم سمجھتے ہیں نارسائی کو
آرزو پھر بھی ہے اُدھر جائیں
ہم سے اچھے ہیں یہ پرندے جو
شام ہوتے ہی اپنے گھر جائیں
…………………
باز آئے نہ دل دکھانے سے
بھولتا جو نہیں بھُلانے سے
چاہتوں نے جُھکا دیا اُس کو
نہ جُھکا تھا جو سَر جُھکانے سے
لاکھ چاہو بھی تم مگر عامرؔ
درد چھپتا نہیں چُھپانے سے
…………………
بِن ترے زیست اگر ہوتی ہے
دیکھ لے کیسی بَسر ہوتی ہے
دھڑکنیں دل کی سنبھل جاتی ہیں
جب محبت کی نظر ہوتی ہے
پیار الفاظ کا محتاج نہیں
پیار کی دل کو خبر ہوتی ہے
…………………
ہوگئی پہچان لیکن
ہم رہے نادان لیکن
جان تو جانی ہی تھی
بچ گیا ایمان لیکن
وقت کے پردے میں کیا
ہیں چُھپے طوفان لیکن
…………………
دن ہیں وہ نہ راتیں ہیں
سب بے معنی باتیں ہیں
اپنے اپنے سب کے دکھ ہیں
اپنی اپنی ذاتیں ہیں
حرفِ شکایت ، چھوڑیں بھی
یہ برداشت کی باتیں ہیں
…………………
ہم روایت کے امیں اور نبھانے والے
اتنا کب جان سکیں گے یہ زمانے والے
تھا مکیں کب سے تُو ، حیرت ہے تو بس اتنی سی
اتنے خاموش مرے دِل میں سَمانے والے
پیار محتاج نہیں ہوتا کبھی لفظوں کا
پیار کرتے ہی نہیں پیار جَتانے والے
………………………
یہ پوچھیے اُس سے کہ جسے تَشنہ لَبی ہو
کہ درد وہی جانے جسے چوٹ لگی ہو
سامان یہ ظاہر کے ہیں بے کار میرے دوست
تصویر مِٹے کیسے کہ جو رُوح میں بَسی ہو
………………………
دردِ آگہی نہ پُوچھ
چِھن گئی خوشی نہ پُوچھ
آج ، اتنا کافی ہے
چھوڑ دے ، سبھی نہ پُوچھ
آس اَب بھی رکھتا ہے
دل کی سادگی نہ پُوچھ
………………………
اُلٹے سیدھے سوال ہوتے ہیں
اپنے اپنے خیال ہوتے ہیں
ہجر کیا ہے ، نہیں جنہیں معلوم
خاک اُن کے وصال ہوتے ہیں
راہِ حق پر جو جان دیتے ہیں
آپ اپنی مِثال ہوتے ہیں

مجھے یقین ہے کہ یہ مختصر انتخاب مذکورہ کتب کے حصول اور مطالعہ کے لئے مہمیز کا کام دے گا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/kqe0n]

اپنا تبصرہ بھیجیں