حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (سیرت صحابیات نمبر 2011ء) میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ کے اوصاف کا مختصر ذکر مکرمہ آصفہ احمد صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت میمونہؓ کااصل نام برّہ تھا۔آپؓ حارث بن حزن اور ہند کی بیٹی تھیں ۔ قبیلہ قریش کے اہل نجد سے تعلق تھا جو مسلمانوں کے بہت بڑے دشمن تھے اور انہوں نے ہی مسلمانوں کے ستّر حفّاظ قرآن دھوکہ سے شہید کردیئے تھے۔ برّہ کا پہلا نکاح مسعود بن عمر سے ہوا۔ ان سے طلاق ہوجانے کے بعد دوسرا نکاح ابورہم بن عبدالعزیٰ سے ہوا۔ 7ہجری میں اُن کی وفات ہوگئی اور اسی سال جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی ادائیگی کے لئے مدینہ سے مکّہ کے لئے روانہ ہونے لگے تو آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ نے آپؐ سے درخواست کی کہ اُن کی سالی حضرت میمونہؓ سے نکاح فرمالیں ۔ آپؐ رضامند ہوگئے اور پھر احرام کی حالت میں ہی شوال 7ہجری میں پانچ سو درہم حق مہر پر یہ نکاح ہوا۔ اس وقت حضرت میمونہؓ کی عمر 36 سال تھی۔ حضرت عباسؓ اس نکاح کے متولّی بنے۔ آپؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زوجہ مطہرہ تھیں ۔
عمرہ سے فارغ ہوکر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ سے دس میل کے فاصلہ پر سرف کے مقام پر قیام فرمایا۔ حضورؐ کے غلام ابورافعؓ حضرت میمونہؓ کو ساتھ لے کر اسی جگہ آگئے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی۔ جس کے بعد آپؓ کا نام میمونہ رکھا گیا۔
حضرت میمونہ بہت خداترس خاتون تھیں ۔ اپنے مہربان خاوند کی خوشیوں پر بہت خوش ہوتیں ۔ حضورؐ کی دل و جان سے اطاعت گزار تھیں ۔ آپؓ کو حضورؐ کی معیت میں حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔آپؓ کے بارہ میں حضرت عائشہؓ نے فرمایا: وہ ہم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور ہم سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی تھی۔
حضرت میمونہؓ کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ آپؓ سے 76 احادیث مروی ہیں جن میں بعض سے آپؓ کی فقہ دانی کا پتہ چلتا ہے۔ ایک بار کسی بیمار عورت نے منّت مانی کہ شفا ہوجائے تو وہ بیت المقدس جاکر نماز ادا کرے گی۔جب صحتیاب ہوکر وہ رخصت ہونے سے قبل حضرت سیّدہ سے ملنے آئی تو آپؓ نے فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مساجد سے زیادہ ہے اس لئے تم یہیں رہو اور یہیں نماز پڑھ لو۔
آپؓ کو غلام آزاد کرنے کا بہت شوق تھا۔ غرباء کی مدد کے لئے بھی ہر وقت آمادہ رہتیں ۔ اس کے لئے قرض بھی اٹھالیتیں ۔ ایک بار زیادہ رقم قرض لی تو کسی نے کہا کہ کس طرح ادا کریں گی۔ نہایت توکّل سے فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مسلمان جب قرض لیتا ہے تو اُسے اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ادا کردے گا۔
حضرت میمونہؓ کی وفات قریباً 80 سال کی عمر میں ہوئی۔ وفات سے قبل انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپؓ کو مکّہ کے باہر اُسی جگہ دفن کیا جائے جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خیمہ نصب تھا جس میں پہلی بار آپؓ کو رسول اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے آپؓ کا جنازہ پڑھایا اور قبر میں اُتارا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/jBkZa]

اپنا تبصرہ بھیجیں