خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍جولائی 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
امانت،دیانت اور عہد کی پابندی سے متعلق آنحضرتﷺکے ارشادات اور آپ ؐ کی پاکیزہ سیرت کے واقعات کابیان۔
یہ امر ایسا خُلق ہے جس کی آج ہمیں ہر طبقہ میں، ہر ملک میں، ہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں کمی نظر آتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
آنحضرت ﷺنے امانت و دیانت اور عہدوں کی پابندی کے جو اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں وہی معیار ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتاہے۔
(انڈونیشیا میں جماعت کی شدید مخالفت کے واقعات کے حوالہ سے احباب کو خصوصی دعا کی تحریک)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 15؍جولائی 2005ء (15؍ وفا 1384ہجری شمسی)بمقام مسجد بیت الفتوح،لندن۔ برطانیہ

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ (المومنون: 9)۔

اپنے بیرونی ممالک کے دوروں سے پہلے مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مضمون بیان کر رہا تھا اور خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق اور سیرت کے ہر پہلو کو کچھ حد تک بیان کروں۔ لیکن پھر دوروں کی وجہ سے وہاں کی مقامی ملکی ضرورت کے مطابق خطبات اور تقاریر ہوتی رہیں۔ میرا خیال تھا کہ سفر میں بھی اس مضمون کو جاری رکھوں گا مگر جیسا کہ مَیں نے کہا کہ مقامی ضروریات کی وجہ سے وہاں دوسرے مضمون بیان ہوتے رہے۔ گو جیسا کہ میرا طریق ہے ان خطبات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور نصائح کے مطابق ہی مختلف تربیتی مضامین بیان ہوتے رہے، مگرسوائے کینیڈا کے جلسے کی ایک تقریرکے آپؐ کی سیرت کے کسی خاص پہلو کو لے کر خطبات کا سلسلہ نہیں چل سکا۔ بہرحال آج پھر مَیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ہی مضمون بیان کرنے لگا ہوں اور انشاء اللہ مختلف خطبات میں بیان ہوتا رہے گا۔ لیکن بیچ میں ہو سکتا ہے کہ جلسوں کی وجہ سے پھر دوسرے مضامین بھی آتے رہیں۔
بہرحال جیسے کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ان خطبات میں آپؐ کی سیرت کے ہر پہلو کا بیان ناممکن ہے، یہ بیان ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن مختلف پہلوؤں کی جو چند جھلکیاں ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے بھی چند ایک سننے اور پڑھنے کے بعدجوایک مومن میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے، اگر وہ نیک نیت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو سُنے اور پڑھے، وہ تبدیلی یقینا ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا بننے کی طرف لے جانے والی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ آج بھی ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام قرب اور قوت قدسی کی برکت سے اس اُسوہ پر اور تعلیم پر عمل کرنے کی وجہ سے جو آپؐ نے ہمیں دی اپنا قرب عطا فرما سکتا ہے اور فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اور اس کا آپؐ کے ذریعہ اعلان بھی فرمایا جیسا کہ فرمایا کہ

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۔ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران:32)۔

یعنی توُ کہہ دے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا۔ اور تمہارے قصور بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
تو دیکھیں بڑا واضح ارشاد ہے کہ آپؐ کی محبت اور اس محبت کی وجہ سے آپؐ کی اتباع ایک زمانے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہمیشہ رہنے والا اور جاری حکم ہے۔ یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا قرب پاؤ گے۔ اور اب اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلو تاکہ خدا کا پیارحاصل کر سکو اوراس کا قرب پا سکو۔ اللہ تعالیٰ اس اہم نکتے کو ہر احمدی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ کے جس پہلو کا مَیں ذکر کرنے لگا ہوں وہ ہے امانت و دیانت اور عہد کی پابندی۔ یہ ایک ایسا خُلق ہے جس کی آج ہمیں ہر طبقے میں، ہر ملک میں، ہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں کمی نظر آتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ بظاہر جو ایماندار نظر آتے ہیں،عَہدوں کے پابند نظر آتے ہیں، جب اپنے مفاد ہوں تو نہ امانت رہتی ہے نہ دیانت رہتی ہے، نہ عہدوں کی پابندی رہتی ہے۔ دو معیار اپنائے ہوئے ہیں لیکن ہمارے ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے، اپنے اسوہ سے، اپنی امت کو ان باتوں کی پابندی کرتے ہوئے عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور امانت و دیانت اور عَہدوں کی پابندی کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ اب وہی معیار ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پا سکتا ہے۔ اس سے باہر کوئی چیز نہیں۔
یہ آیت جومَیں نے تلاوت کی اس میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں۔ اس پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تبھی تو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا کہ آپؐ کے اخلاق کے لئے قرآن کریم کی تعلیم دیکھ لو۔ یعنی آپؐ کا ہر فعل قرآنی تعلیم کے مطابق تھا۔
اب دیکھیں آج کل بھی جنگیں ہوتی ہیں۔ اپنے آپ کو بڑی پڑھی لکھی اور مہذب کہنے والی قومیں کمزور قوموں کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے حربے استعمال کر رہی ہوتی ہیں کہ انسانیت کو شرم آئے۔جنگوں کی وجہ سے بغض اور کینے کی آگ اس قدر بھڑک رہی ہوتی ہے کہ مقصد صرف اور صرف دوسری قوم کو ذلیل و رسوا کرنا اور تباہ کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؐ نے اسلام پھیلانے کے لئے جنگیں کیں یااپنے مقاصدحاصل کرنے کے لئے جنگیں کیں۔ یہ سب الزام اور بہتان ہیں، اس وقت مَیں اس موضوع پر تو بات نہیں کر رہا لیکن ایک جنگ کے دوران کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حالت میں ،جبکہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دشمن کو ایسی حالت میں لایا جائے جس سے وہ مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دے، آپؐ نے امانت و دیانت کے کیا اعلیٰ نمونے دکھائے اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جب اسلامی فوجوں نے خیبر کو گھیرا تواس وقت وہاں کے ایک یہودی سردار کا ایک ملازم، ایک خادم، ایک جانورچرانے والا جانوروں کا نگران جانوروں سمیت اسلامی لشکر کے علاقے میں آ گیا اور مسلمان ہو گیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :یا رسول اللہ! مَیں تو اب مسلمان ہو گیا ہوں، واپس جانا نہیں چاہتا، یہ بکریاں میرے پاس ہیں، ان کا اب میں کیا کروں۔ ان کا مالک یہودی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بکریوں کا منہ قلعے کی طرف پھیر کر ہانک دو۔ وہ خود اس کے مالک کے پاس پہنچ جائیں گی۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا اور قلعہ والوں نے وہ بکریاں وصول کر لیں، قلعے کے اندر لے گئے۔ تو دیکھیں یہ ہے وہ امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا۔ کیا آج کوئی جنگوں میں اس بات کا خیال رکھتا ہے۔نہیں، بلکہ معمولی رنجشوں میں بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی، ایک دوسرے کا پیسہ مارنے کی اگر کسی نے کسی سے لیا ہو تو، کوشش کی جاتی ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی احساس تھا کہ اس حالت میں بھی جبکہ دشمن کے مال پر قبضہ مل رہا تھا، اس طرح کے قبضے کو ناجائز سمجھا۔ اس محاصرے کی وجہ سے، اس گھیرے کی وجہ سے جو قلعے کا تھا، باہر سے تو خوراک اندر جا نہیں سکتی تھی اور یہ بکریاں جو تھیں یہ قلعے والوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے خوراک کا سامان مہیا کر سکتی تھیں۔محاصرہ لمبا بھی ہو سکتا تھا، لڑائی لمبی بھی ہو سکتی تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برداشت نہ کیا کہ ایک شخص جو کسی کے مال کا امین بنایا گیاہے اور اب مسلمان ہو چکا ہے وہ مسلمان ہو کر کسی خیانت کا مرتکب ہو۔ اور اس شخص کو اسلام لاتے ہی پہلا سبق یہ دیا کہ امانت میں کبھی خیانت نہیں کرنی چاہئے۔ جیسے بھی حالت ہو تم نے خدا تعالیٰ کے اس حکم کی ہمیشہ تعمیل کرنی ہے کہ اپنی امانتوں کی نگرانی کرو۔ ان کو واپس لوٹاؤ۔ اس نگرانی سے کبھی بے پرواہ نہ ہو۔ پس یہ ہے ایسے حالات میں آپؐ کا امانت و دیانت کا اعلیٰ معیار۔اس وقت جب جنگ ہو رہی تھی شاید مسلمانوں کو بھی خوراک کی ضرورت ہواور وہ بکریاں ان کے کام آسکتی تھیں اور بعضوں کے نزدیک شاید یہ جائز بھی ہو کہ یہ مال غنیمت کے زمرہ میں آتا ہے۔ لیکن آپؐ نے فرمایا: نہیں یہ ناجائز ہے، خیانت ہے۔ اور ناجائز اور خیانت سے لیا ہوا مال مسلمان پر حرام ہے۔
پس یہ سبق ہیں اور یہ اسوہ ہے جو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں دیا۔ اب اس کی مختلف مواقع کی چند اور مثالیں ہیں وہ میں پیش کرتا ہوں۔
آپؐ کی پاک فطرت میں امانت و دیانت اور عہدوں کی پابندی کا اعلیٰ خُلق دعویٰ نبوت سے پہلے بھی تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور قرآنی تعلیم نے اس کو مزید اجاگر کیا اور مزید نکھارا۔وہ واقعہ بھی دیکھیں جس سے آپؐ کے مختلف اخلاق اور اخلاقی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ اس میں ایک سبق یہ بھی ہے جو کہ عہد کی پابندی کے بارے میں ہے۔ دعویٰ نبوت سے پہلے مکّہ کے چند شرفاء نے مل کر لوگوں کے بعض حقوق قائم کرنے کے لئے، ان کو حقوق دلوانے کے لئے انسانیت کی خدمت کے لئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کا نام حلف الفضول تھا۔ اس معاہدے کے تحت جب ایک مظلوم نے اس معاہدے کا حوالہ دے کر آپؐ سے مدد کی درخواست کی تو آپؐ فوراً اٹھے اور گو دعویٰ نبوت کے بعد آپؐ پر بڑے سخت حالات تھے اور ابو جہل تو مخالفین میں سب سے زیادہ بڑھا ہوا تھا لیکن اس عہد کی وجہ سے جو آپؐ نے کیا تھا۔ بہت پہلے کا کیا ہوا عہد تھا، جس میں سے بہتوں نے تو شایداس عہد کو توڑ بھی دیا ہو یابھول بھی ہو گئے ہوں لیکن کیونکہ آپؐ ایک دفعہ عہد کر چکے تھے اس لئے اس کو آپؐ نے ان حالات میں بھی نبھایا۔ آپ ؐ فوراً اس شخص کی مدد کے لئے ابو جہل کے پاس گئے اور اس کا حق اس کو دلوایا۔
آپؐ کی امانت ودیانت جوانی میں ہی اس قدر مشہور تھی کہ قریش مکہ آپؐ کو ہمیشہ جوانی کے دوران بھی’ امین ‘کے نام سے پکارا کرتے تھے۔اس لئے جب حجر اسود کے رکھنے کے بارے میں ایک فیصلے کے تحت سرداران قریش سب سے پہلے آنے والے کا انتظار کر رہے تھے کہ صبح جو بھی سب سے پہلے آئے گا اس سے فیصلہ کروائیں گے۔ تو انہوں نے جب آپؐ کوآتے دیکھا تو بے اختیار ھٰذَالْاَمِیْنُ ان کے منہ سے نکلاکہ یہ تو امین ہے۔یقینا یہ بہترین فیصلہ کریں گے۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ ؐ نے کیا خوبصورت فیصلہ فرمایا۔ تمام گروہوں کی تسلی ہو گئی۔ نبوت سے پہلے کا یہ ذکر ہے۔ ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن ابی الحمسائ؄ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بعثت سے پہلے ایک سودا کیا۔ میرے ذمے کچھ رقم تھی، ادا کرنی رہ گئی تھی۔ تومیں نے کہا آپؐ اسی جگہ ٹھہریں میں بقیہ رقم لے کر آیا۔ گھر آنے پر کہتے ہیں میں بھول گیا۔ کہتے ہیں مجھے تین دن کے بعد یاد آیا۔ پس مَیں گیا تو دیکھا کہ آپؐ اسی جگہ کھڑے ہیں۔ مجھے دیکھ کرآپؐ نے فرمایا اے نوجوان! تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا۔ مَیں تین دن سے اس جگہ تیرا انتظار کر رہا ہوں۔(ابوداؤد کتاب الأدب باب فی العدۃ)
یعنی عہد کا اتنا پاس تھا۔ اس سے کہہ دیا ٹھیک ہے مَیں تمہارے انتظار میں یہاں کھڑا ہوں۔ اور کیونکہ ایک بات منہ سے نکال دی تھی کہ انتظار میں کھڑا ہوں اس لئے تین دن تک مختلف اوقات میں وہاں جاتے رہے، دیکھتے رہے اور خاص طور پر اس وقت جس وقت وہ کہہ کے گیا تھا کہ انتظار کریں آپؐ وہاں جا کے انتظار کرتے رہے۔ تو یہ معیار تھے جو آپؐ نے اپنی بات کے، اپنے وعدوں کے، اپنے عہدوں کے قائم کئے۔
پھر نو جوانی کے زمانے کی یہ روایت ہے جب حضرت خدیجہؓ نے اپنا مال تجارت دے کر آپؐ کو بھیجا اور ایک غلام جو ساتھ بھیجا تھا۔ اس نے جب آپ ؐ کی امانت و دیانت کی تصویر کھینچی تو حضرت خدیجہؓ نے اس سے متاثر ہو کر آپؐ کو رشتے کا پیغام بھیجا۔
پھر مکہ والوں میں سے ہی، ان دنوں میں جب آپؐ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ایک شخص نے آپؐ کے بارے میں گواہی دی۔ یہ شخص نضر بن حارث ہیں۔ انہوں نے تمام قریش کو مخاطب کرکے یہ اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، تم میں پلابڑھا، تم میں سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت کا مالک ہے، تم میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، اور تم میں سے سب سے زیادہ امین ہے۔ جب تم نے اس کی کنپٹیوں میں بڑھا پے کے آثار دیکھے اور وہ تمہارے پاس وہ تعلیم لے کر آیا جس کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے تو تم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ساحر ہے۔ اللہ کی قسم وہ ہرگز ساحر نہیں ہے۔ (الشفاء لقاضی عیاض۔الفصل العشرون۔عدلہ وامانتہ ﷺ)
تو یہ ساری خصوصیات جو آپؐ کی نوجوانی میں سب کو نظر آئیں اور قوم کے اس وقت جو شرفاء تھے، انہوں نے اس پر گواہی بھی دی۔ تو دوسرے لوگ جو مخالفین تھے، اعتراض کرنے والے تھے، ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، ہم نے تو کبھی امین نہیں دیکھا۔ بلکہ سب خاموش ہو گئے۔ بلکہ آپ ؐ کے دعویٰ نبوت کے بعد بھی جب مخالفت زوروں پر تھی اور سردار آپؐ کے مخالف تھے مکّہ کے رہنے والوں میں سے ہی لوگ تب بھی آپؐ کے پاس اپنی امانتیں رکھوا دیا کرتے تھے۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہی ایک امین شخص ہے جس کے پاس ہماری رکھی ہوئی امانت کبھی ضائع نہیں ہو گی۔
اور پھر دیکھیں آپؐ نے ان کا کیسے حق ادا کیا کہ جب آپؐ نے مکّہ سے ہجرت کرنی تھی تو اس وقت بھی بہتوں کی امانتیں آپؐ کے پاس تھیں اور آپؐ نے اس کا انتظام فرمایا۔ اس بارے میں بھی دیکھیں کہ کیسی مثال قائم کی۔ اس وقت کفار آپؐ کے خون کے پیاسے تھے جب آپؐ نے ہجرت کا فیصلہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے، حکم سے، فیصلہ ہوا کہ آپؐ ہجرت کریں۔ اور پروگرام کے مطابق بڑی خاموشی سے ہجرت کی تھی۔ اگر آپؐ پہلے امانتیں لوٹانے کا انتظام فرماتے تو بات نکل جاتی، خطرہ پیدا ہو جاتا۔ لیکن آپؐ کو اس بات کی بھی فکر تھی کہ لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچ جائیں۔ کسی کو یہ کہنے کی جرأت نہ ہو کہ ہماری امانتیں دئیے بغیر چلے گئے۔ ہم تو امین سمجھے تھے آج ہم دھوکہ کھا گئے۔ یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ تو اس کے لئے آپؐ نے یہ انتظام فرمایا کہ حضرت علیؓ کو مقرر کیا اور ان کے سپرد امانتیں کیں کہ جن جن لوگوں کی امانتیں ہیں ان کو لوٹا دینا۔ اور فرمایا اس وقت تک تم نے مکّہ میں ہی رہنا ہے جب تک ہر ایک کو اس کی امانت نہ پہنچ جائے۔ پس اس صادق و امین نے اُس مشکل وقت میں بھی اپنے ایک جاں نثار کو پابند فرمایا کہ اس شہر کے لوگوں نے تو مجھے نکالنے یا ختم کرنے کے سامان کئے ہیں۔ لیکن میرے امین ہونے کے اعلیٰ معیار کا تقاضا یہ ہے کہ اُن کی امانتوں کو محفوظ طریقہ سے اُن تک واپس پہنچایا جائے۔ پھر آپ نے جہاں امانت و دیانت کے یہ اعلیٰ نمونے دکھائے وہاں اُمت کو بھی نصیحت کی کہ اس کی مثالیں قائم کرو۔ اور پھر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی اس کا خیال رکھو۔ مثلاً میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔اس میں بھی آپؐ نے نصیحت فرمائی کہ یہ تعلقات امانت ہوتے ہیں ان کا خیال رکھو۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ شمار ہو گی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے۔ پھر وہ بیوی کے پوشیدہ راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الأدب باب فی نقل الحدیث)
آج کل کے معاشرے میں میاں بیوی کی آپس کی باتیں جو اُن کی ہوتی ہیں وہ لوگ اپنے ماں باپ کو بتا دیتے ہیں اور پھر اس سے بعض دفعہ بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ماں باپ کو خود عادت ہوتی ہے کہ بچوں سے کرید کرید کے باتیں پوچھتے ہیں۔ پھر یہی جھگڑوں کا باعث بنتی ہیں۔ اس لئے آپؐ نے فرمایا:میاں بیوی کی یہ باتیں کسی بھی قسم کی باتیں ہوں نہ ان کا حق بنتا ہے کہ دوسروں کو بتائیں اور نہ دوسروں کو پوچھنی چاہئیں اور سننی چاہئیں۔ اگر اس نصیحت پر عمل کرنے والے ہوں تو بہت سارے جھگڑے میرے خیال میں خود بخود ختم ہو جائیں۔
پھر آپؐ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو امانت لوٹا دے جس نے تم پر اعتماد کرکے تمہارے پاس امانت رکھی اور اس شخص سے بھی خیانت نہ کر جو تجھ سے خیانت کرتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب البیوع باب ما جاء فی النھی للمسلم…)
یہ صرف نصیحت ہی نہیں بلکہ جیسا کہ ہم پہلے دیکھ آئے ہیں آپؐ نے کس طرح امانتیں لوٹانے کا حق ادا کیا۔
پھر ہمیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا،حضرت ابوہریرہؓ اس کی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں۔ جب گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے، جھوٹ سے کام لیتا ہے۔ جب اس پر اعتماد کیا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔ اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔(بخاری کتاب الشھادات باب من امر بانجاز الوعد)
تو یہ بہت خوف کا مقام ہے۔ اللہ ہر احمدی کو ایسی حالت سے محفوظ رکھے۔ اور ہر ایک کو ہمیشہ سچوں، ایمانداروں اور عہدوں کی پابندی کرنے والوں میں شامل رکھے۔
ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ

لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّاعَہْدَ لَہٗ

یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کی پابندی نہیں کرتا، اس کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد3صفحہ135مطبوعہ بیروت)
اپنے عمل سے امانتوں کے معیار قائم کرنے کے علاوہ عہد کے پورا کرنے کے بارے میں آپؐ نے کیا نمونے ہمیں دکھائے اور آپؐ کے عہد کے پابند ہونے کی دشمن نے کس طرح گواہی دی اس کی بھی ایک مثال دیکھ لیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان؄ نے مجھ سے خود ذکر کیا کہ اس زمانے میں جبکہ ہمارے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تھا، مَیں شام کے علاقے میں تجارت کی غرض سے گیا۔ ابھی مَیں شام میں ہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط قیصر روم ہرقل کے پاس پہنچا۔ یہ خط دِحْیَہ کَلْبِی لائے تھے۔ انہوں نے بُصریٰ کے سردار کو یہ خط دیا کہ وہ ہرقل کے پاس آپؐ کا یہ خط پہنچا دے۔ جب یہ خط ہرقل کو ملا تو پوچھا کہ عرب میں جو شخص نبی ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے کیا اس کی قوم کا کوئی آدمی یہاں ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں کچھ لوگ اس علاقے میں آئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ مجھے قریش کی جماعت سمیت بلایا گیا۔ کہتے کہ جب ہم ہرقل کے دربار میں پہنچے تو ہمیں اس کے سامنے بٹھایا گیا۔ پھرہرقل نے پوچھا تم میں اس عربی شخص کا جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں مَیں نے کہا مَیں اس کا قریبی رشتہ دار ہوں۔ چنانچہ منتظمین نے مجھے ہرقل کے سامنے بٹھا دیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ پھر ہرقل نے ترجمان کو بلایا اور اسے کہاکہ ان لوگوں کو جو میرے سامنے بیٹھے ہیں کہو کہ مَیں ا س شخص سے متعلق جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ابو سفیان سے بعض باتیں پوچھوں گا اگر یہ جھوٹ بولے تو تم مجھے پیچھے سے اشارہ کرکے بتا دینا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میرے پیچھے بیٹھنے والے ساتھی میرا جھوٹ ظاہر کر دیں گے تو مَیں ضرور کذب بیانی سے کام لیتا۔
تو بہرحال یہ ایک لمبی روایت ہے جہاں ہرقل نے بہت سے سوال پوچھے ان میں سے ایک عہد کے بارے میں بھی تھا۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ سارے سوالوں کے بعد پھر اس نے جب مجھ سے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں) یہ پوچھا کہ کبھی اس نے غداری اور بدعہدی بھی کی ہے؟ تو مَیں نے کہا اس سے پہلے تو نہیں کی لیکن آج کل ہمارا اس سے صلح کا معاہدہ ہوا ہے، نا معلوم اب وہ اس کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرے۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اس ساری گفتگو میں سوائے اس بات کے مجھے آپؐ کے خلاف کہنے کا کوئی اور موقع نہ ملا۔ تو بہرحال اس جواب پر ہرقل نے کہا کہ مَیں نے تم سے پوچھاکہ کبھی اس نے غداری کی ہے۔ تو تم نے کہا ہے کہ نہیں کی۔یہی تو رسولوں کا نشان ہوتا ہے کہ وہ کبھی بدعہدی اور غداری نہیں کرتے۔ اور نہ ہی کبھی امانت میں خیانت کرتے ہیں۔ وہ قول کے پکے اور سچے ہوتے ہیں۔ پس دیکھیں وہاں رہنے والوں کا سینہ نہیں کھلا جبکہ ہر قل کو یہ بات سمجھ آگئی۔ اللہ ہی ہے جو کسی کا سینہ کھولتا ہے۔
پھر صلح حدیبیہ کے معاہدے کی پابندی کے ضمن میں ہی عہد کی پابندی کا یہ واقعہ بھی عدیم المثال ہے، جس کا تاریخ میں یوں ذکر آتا ہے کہ ابھی صلح حدیبیہ کا صلح نامہ لکھا جا رہا تھا کہ ابو جندلؓ بن سہیل بن عمرو زنجیروں سے بندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں آئے جبکہ مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ پہلے تو بڑے ذوق و شوق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی خبر سن کر مکّہ کی زیارت اور فتح کی امید سے آئے تھے۔اب جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح صلح کرکے واپس ہوتے دیکھا تو مسلمان بہت افسردہ دل ہو گئے اور قریب تھا کہ اس رنج سے ہلاک ہو جائیں۔ تو بہرحال سہیل بن عمرو نے اپنے بیٹے ابو جندل کو کھڑا دیکھا تو ایک طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور حضورؐ سے کہا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے تمہارے درمیان قضیہ کا اس کے آنے سے پہلے فیصلہ ہوچکا ہے۔ یعنی میں اپنے بیٹے ابو جندلؓ کو تمہارے ساتھ جانے نہ دوں گا۔ حالانکہ یہ بھی غلط بات تھی۔ بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا توُ سچ کہتا ہے۔ سہیل نے ابو جندلؓ کو کھینچ کے پیچھے کرنا چاہا تاکہ قریش میں پہنچا دے۔ ابوجندلؓ نے شور کرنا شروع کر دیا کہ یا رسول اللہ! اور اے مسلمانو! کیا مَیں کافروں میں واپس کر دیا جاؤں گا تاکہ وہ مجھ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ مسلمانوں کو اس سے بہت قلق ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو جندل! تم چند روز اور صبرکرو۔ عنقریب خداوندتعالیٰ تمہارے واسطے کشادگی پیدا کرے گا۔ مَیں مجبور ہوں

وَاَعْطَیْنَاھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ وَاَعْطُوْنَا عَھْدَ اللہِ وَاِنَّا لَا نَغْدُرُبِھِمْ

کہ ہم نے اس بارے میں ایک دوسرے سے معاہدہ کر لیا ہے اور ہم ان سے کئے گئے عہد کی ہرگز بد عہدی نہیں کریں گے۔(سیرت ابن ھشام۔امر الحدیبیۃ۔ماأھم الناس من الصلح ومجیٔ ابی جندل)
دیکھیں سب سے زیادہ تکلیف اور صدمہ تو آپؐ کو اس واقعے سے پہنچا ہو گا۔ لیکن آپؐ نے عہد کا پاس کیا۔ اس کی پابندی کی۔ حالانکہ عہد ابھی لکھا ہی گیا تھا۔ شاید اس کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی ہو۔ اور اس دوران ابو جندل وہاں پہنچ چکے تھے۔ لیکن آپؐ جو معاہدوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے تھے، آپ جو اس بات کا سب سے زیادہ ادراک رکھتے تھے کہ اپنے عہدوں کی پابندی اور نگرانی کرو۔ آپ نے فرمایا کہ صبر کرو،مَیں مجبور ہوں اور عہد پر عمل کا پابند ہوں۔ اور پھر دیکھیں عہد کی پابندی کا اجر اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا دیا اور ان مظلوموں اور مجبوروں کے صبر کا پھل کتنا بڑا دیا کہ خود کفار سے ہی ایسی حرکتیں سرزد ہوگئیں جن سے عہد ختم ہوگیا،معاہدہ ٹوٹ گیا اور آخر اس کے نتیجہ میں فتح مکہ ہوئی۔
پھر دیکھیں جنگوں میں اور خاص طورپر جنگ بدر میں جب مسلمان بہت ہی کمزور تھے۔جتنی بھی مدد مل جاتی اتنی ہی کافی تھی کیونکہ کفار بھرپور رنگ میں تیار ہو کر آئے تھے۔آپؐ نے عہد کی پابندی کی خاطر دو اشخاص کو جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا۔ اس واقعہ کا ذکر یوں ملتاہے کہ حذیفہ بن یمان؄ روایت کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں شریک ہونے کے لئے مجھے یہ بات مانع ہوئی، روک یہ بن گئی کہ مَیں اور اَ بُوحُسَیْل نکلے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہا کہ تم محمد(ﷺ) سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ ہم نے کہا ہمارا یہ ا رادہ نہیں ہے۔ہمارا ارادہ صرف مدینہ جانے کا ہے۔ انہوں نے ہم سے عہد لے کرچھوڑا کہ ہم مدینہ جائیں گے اور محمد (ﷺ) کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے۔ چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کواس واقعہ سے جو ہمیں پیش آیا تھا آگاہ کیا۔ یہ سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں جاؤ اور ان سے کیا ہوا عہد پورا کرو۔ہم ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کریں گے۔(مسلم کتاب الجہاد باب الوفاء بالعہد)
دیکھیں یہ تھا آپ کا عمل۔آدمیوں کی سخت ضرورت ہے۔ ایک ایک آدمی کی ا ہمیت ہے۔جنگ کی حالت میں کوئی بھی ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔لیکن آپ ؐنے فرمایا عہد کو نبھانا ضروری ہے۔اللہ خود ہمارا مددگار ہوگا۔ اورپھردیکھیں اللہ نے بھی کس طرح مدد فرمائی۔
پھر ایک اور واقعہ دیکھیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس باریکی سے آپ عہدوں کی پابندی فرمایا کرتے تھے۔حسن بن علی بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ ابورافع؄ نے انہیں بتایا کہ قریش نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ جب مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی۔ اس پر مَیں نے کہا :یا رسول اللہ !بخدا مَیں ان قریش کے ہاں واپس نہیں جاؤں گا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مَیں بد عہدی نہیں کیاکرتا اورنہ سفیروں کو قید کرتاہوں۔ البتہ تم واپس جاؤ اوراگر تمہاری وہ کیفیت جو اس وقت ہے برقرار رہے (یہ بھی پتہ لگ جائے گاکہ وقتی جوش تو نہیں ہے) تو واپس آ جانا۔ ابو رافع کہتے ہیں کہ میں واپس گیا اورپھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور اسلام قبول کر لیا۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد۔ باب فی الامام یستجن بہ فی العہود)
توہر نئے مسلمان ہونے والے کو آپؐ نے پہلے دن سے ہی یہ سبق دیا کہ ایک تو امانت میں خیانت نہیں کرنی، اس کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ عہد کی پابندی کرنی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امین ہونے کی شان کی جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی ہے اصل تو وہ شان ہے، اور یہ مثالیں اس کی چند معمولی جھلکیاں ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں۔
’’ امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قویٰ اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاھت اور جمیع نعماء روحانی وجسمانی ہیں ‘‘۔ یعنی تمام روحانی اور جسمانی نعمتیں ہیں۔’’ جو خداتعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے۔ اور پھر انسان کامل برطبق آیت

اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْاالْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا ۔ (سورۃ النساء آیت 59:)‘‘۔

یعنی اس آیت کے مطابق کہ

اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْاالْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا

اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کر دو‘‘۔ اس ساری امانت کو جناب الٰہی کو واپس دے دیتا ہے۔ یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے…… اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولیٰ، ہمارے ہادی، نبی امی صادق و مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی‘‘۔ (آئینہ ٔکمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد پنجم صفحہ 162-161)
تو امانت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تمام طاقتوں کا اس کے موقع پر اور صحیح محل پر استعمال ہو اور اظہار ہو۔اور اس کی سب سے اعلیٰ صورت یہ ہے کہ یہ تمام طاقتیں اور صلاحیتیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق خرچ کیا جائے۔ جس میں خداتعالیٰ کے حقوق بھی ادا ہوتے ہوں اور خداتعالیٰ کی مخلوق کے حقوق بھی ادا ہوتے ہوں۔اور پھر یہی نہیں بلکہ زندگی کا ہر لمحہ اسی سوچ اور فکر میں گزرے کہ یہ حقوق ادا کرنے ہیں اور اپنی تمام طاقتیں اور صلاحیتیں اس کی تعلیم کے مطابق خرچ کرنی ہیں۔ تبھی کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے اپنی امانتوں کو اور عہدوں کو صحیح طور پر نبھایا اور ان کا حق ادا کیا۔ تو آپؑ نے فرمایا کہ جب ہم آنحضرت ﷺ کی زندگی کا جائزہ لیں تو ان تمام اخلاق کا اعلیٰ ترین معیار ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ اور یہی اسوۂ حسنہ ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ اس کی پیروی سے ہمیں بھی خداتعالیٰ کا قرب مل سکتا ہے۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:
’’ کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں۔ اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کر لیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدا اُن کا۔ وہ ہر ایک بلا کے وقت بچائے جائیں گے‘‘۔ (کشتیٔ نوح۔روحانی خزائن جلد 19صفحہ20-19)
اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنے عہدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان خوش قسمتوں میں شامل فرمائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لئے کی گئی دعاؤں کے وارث بننے والوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اپنی جماعت کے لئے کی گئی دعاؤں کے وارث بننے والے ہوں۔ اور ہمیشہ اپنے عہدوں کا حق ادا کرنے والے، عہدوں کو پورا کرنے والے، اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔
ایک اور بات میں کہنی چاہتا ہوں۔آجکل دنیا کے بعض ممالک میں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں باقاعدہ جماعت احمدیہ بھی ہے وہاں مخالفین بڑے سرگرم ہوئے ہوئے ہیں۔ ہماری پہنچ تو دنیاوی طاقت کے لحاظ سے نہ کسی دنیاوی بادشاہ تک یا صدر تک یا کسی اور تک ہے اور نہ ہی اُن پر ہمارا انحصار ہے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے اور اسی سے مدد مانگنے والے ہیں۔ اس لئے خاص طور پر ان دنوں میں بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ خاص طور پر آج کل انڈونیشیا میں کافی فساد پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں میں وہاں ہمارا جلسہ ہو رہا تھا اور مخالفین نے حملہ کیا۔ کچھ احمدی زخمی بھی ہوئے اور اس کے بعد خبریں آ رہی تھیں کہ آج وہاں کے ایک شہر میں (اس کا نام مجھے بھول گیا) وہاں حملے کا پروگرام تھا۔ تو آج انہوں نے جمعہ کے وقت وہ حملہ کیا ہے۔ اور کچھ احمدی وہاں زخمی بھی ہوئے ہیں اور انتظامیہ کا تعاون بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسجد انتظامیہ نے ہمارے آدمیوں سے خالی کروا لی ہے۔ تو بہرحال اللہ تعالیٰ خود ہی ان مخالفین سے نمٹے اور جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ یہ تو بہرحال ہمیں پتہ ہے اور ہر ایک احمدی کو علم ہونا چاہئے کہ جماعت کی ترقی جب بھی ہو گی یہ باتیں بھی ہوں گی۔ دشمن کی حسرت کی آگ بھڑکے گی۔ لیکن جب دشمن کی حسرت کی آگ بھڑکتی ہے تو احمدی کا بھی کام ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جائے اور دعائیں کرے۔اپنے لئے دعائیں کرے، ایمان کی ترقی کے لئے دعائیں کرے، جو عہد بیعت باندھا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے دعائیں کرے اور مجموعی طور پر جماعت کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ اور یہ بھی دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ احمدیوں کو بھی حوصلہ دے اور صبر دے اور استقامت دے اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔(آمین)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/iSCcQ]

اپنا تبصرہ بھیجیں