دعاؤں کی تاثیرات

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اکتوبر 2011ء میں مکرم فضل الرحمٰن ناصر صاحب کے قلم سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی تاثیرات کے حوالے سے ایک مضمون رقم کیا ہے۔ حضورؑ نے اپنی کتب ’’برکات الدعا‘‘، ’’تریاق القلوب‘‘، ’’براہین احمدیہ جلد پنجم‘‘ اور ’’حقیقۃالوحی‘‘ میں قبولیتِ دعا کے متعدد تجربات کا نہایت تفصیل سے ذکر کیا ہے جن میں بعض ایسی وسیع الاثر دعائیں ہیں جن کی قبولیت نے بڑی بڑی دہریہ اور مشرک اقوام پر اثر ڈالا۔ ایک دعا پنڈت لیکھرام کی موت کے حوالے سے تھی اور ایک امریکی پادری ڈوئی کی ہلاکت سے متعلق تھی۔ نیز متعدد ذاتی حوالوں سے نشانات ظاہر ہوئے۔ مثلاً ایک دوست نے اپنے کسی عزیز کے سنگین مقدمہ میں ماخوذ ہوجانے کا پُردرد ماجرا لکھا کہ کوئی سبیل رہائی کی نظر نہیں آتی۔ حضورؑ نے دعا کی اور قبل از وقت قبولیت کے آثار سے اطلاع دے دی۔ چند روز بعد خبر ملی کہ مدعی ایک ناگہانی موت سے مرگیا اور ماخوذ نے خلاصی پائی۔
حضورؑ بیان فرماتے ہیں کہ ایک ہندو آریہ باشندہ طالب علم مدرسہ قادیان جس کی عمر بیس یا بائیس برس ہوگی ایک مدّت سے بہ مرض دق مبتلا تھا اور رفتہ رفتہ آثار مایوسی کے ظاہر ہوگئے۔ ایک دن وہ میرے پاس آکر بہت بیقرار ی سے رویا کہ میرا دل اُس کی عاجزانہ حالت پر پگھل گیا اور مَیں نے حضرتِ احدیّت میں اس کے حق میں دعا کی۔ چونکہ حضرت احدیّت میں اُس کی صحت مقدّر تھی اس لئے دعا کرنے کے ساتھ ہی الہام ہوا:

قُلْنَا یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا

یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ تُو سرد اور سلامتی ہوجا۔ چنانچہ اُسی وقت کئی ہندوؤں کو اس الہام سے اطلاع دی گئی اور خدا پر کامل بھروسا کرکے دعویٰ کیا گیا کہ وہ ہندو ضرور صحت پاجائے گا اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا۔ چنانچہ بعد اس کے ایک ہفتہ نہیں گزرا ہوگا کہ وہ اس جاں گداز مرض سے بکلّی صحت پاگیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانونِ قدرت مقرر کردیا ہے کہ اس کی دعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا دخل ہے۔ جو لوگ اپنی مہمّات میں دلی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے تو ضرور فیضانِ الٰہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/bth0b]

اپنا تبصرہ بھیجیں