ذہنی دباؤ اور اس کا علاج

آج کے معاشرے کے حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں لیکن وہ اس کی وضاحت نہیں کر سکتے۔ وہ محسوس کرتے ہیں لیکن اظہار نہیں کر سکتے۔
ذہنی دباؤ کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے۔
’’ذہنی اور جسمانی توانائی کی اضافی طلب جو اکثر وپیشتر غصّے ، پریشانی، خوف اور مایوسی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ایسی کسی بھی صورت میں ہمارے جسم میں پیچوٹری ایڈرینل اور تھائی رائیڈ ہارمونز اور گردوں میں اینجیوٹینشن رطوبت کے اخراج میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور پھر یہ رطوبت کولیسٹرول لیول اور بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہیں۔ جس کے نتیجہ میں شریانوں میں چکنائی ذخیرہ ہونا شروع ہوجاتی ہے اور دل کی شریانوں کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک چلتا رہے تو شریانیں تنگ ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور بالآخر بند ہوکر ہارٹ اٹیک کے خطرے کا باعث بن جاتی ہیں۔
ذہنی دباؤ کم کیجئے:
زندگی کی تیز رفتاری کے ساتھ دنیا بھر میں لوگوں کی زندگی میں ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگیا۔ مسائل بڑھ رہے ہیں۔ روزگار، الجھنیں، کاروبار، ملازمت ، عدم تحفظ، مادی آسودگی کی تلاش ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں دل کی شریانوں کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ دل کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان 20سال کی عمر کے بعد شروع ہوجاتا ہے اور دباؤ میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ ہم خطرے کی زد میں آتے چلے جاتے ہیں۔ دراصل دباؤ ایک بم کی مانند ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اگر آپ کے علم میں ہے تو تحفظ کی صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
آئیں اب ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم بھی کہیں ذہنی دباؤ کا شکار تو نہیں ہیں۔ ہر سوال کے جواب کے آگے ہاں یا ناں لکھیں۔
1۔ کیا آپ اپنے کام میں زیادہ غلطیاں کرنے لگے ہیں؟
2۔ کیا آپ کو بار بار زکام انفیکشن کی شکایت ہوجاتی ہے؟
3۔ کیا آپ کو بار بار سردرد ہوجاتا ہے؟
4۔ کیا آپ کو پورے بدن میں درد اور تکلیف رہتی ہے؟
5۔ کیا آپ تھوڑے وقفے کے لئے بے چینی اور اضطراب رہتا ہے؟
6۔ کیا آپ کو ہر وقت تھکاوٹ اور توانائی کی کمی کا احساس ہوتا ہے؟
7۔ کیا سونے کے انداز میں تبدیلی ہوئی ہے یعنی کی آپ کو سونے میں دقّت ہوتی ہے یا آنکھ بار بار کھلتی ہو؟
8۔ کیا آپ کے دل کی دھڑکن کبھی کبھی بے قاعدہ ہوجاتی ہے؟
9۔ کیا سینے میں جلن کی تکلیف بار بار ہوجاتی ہے؟
10۔ کیا آپ کچھ عرصے سے ڈپریشن میں ہیں؟
11۔ چائے یا کافی میں اضافہ تو نہیں ہوا؟
12۔ کیا آپ ناخن چباتے ہیں؟
13۔ اعصابی ادویات کا استعمال تو نہیں کرتے؟
14۔ کیا آپ کبھی کبھار زیادہ بحث میں تو نہیں الجھ جاتے؟
15۔ کیا بلڈ پریشر زیادہ رہتا ہے۔
16۔ کیا آپ کی بھوک کچھ عرصہ سے کم ہوگئی ہے۔
17۔ بغیر کسی وجہ سے وزن کم ہوگیا ہے۔
18۔ کسی بھی کام میں پہلے والی دلچسپی نہیں رہی۔
19۔ اپنی زندگی بے لطف اور بے رنگ لگتی ہے۔
اپنا جائزہ لیجئے اور اگر جوابات کی تعداد ہاں میں 4 تک ہے تو آپ معمولی دباؤ میں ہیں ۔ 4 سے8 کا مطلب درمیانے درجے کا دباؤ ہے۔ 8سے زیادہ سکور کا مطلب ہے کہ آپ شدید قسم کے دباؤ میں ہیں۔
دباؤ کم کرنے کا طریقہ:
1۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں پریشان ہونا چھوڑ دیجئے۔ آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی بات غلط ہوجائے تو میں قطعاً برداشت نہیں کرتا‘ یا ’میں تو اس طرح کا انسان ہوں‘۔
اس طرح کے تفاخر آپ کے حیاتیاتی کیمیاوی توازن کا استحکام بگاڑ دیتا ہے۔ غصے اور پریشانی میں ایسے ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو بڑھا دیتے ہیں۔ غصے پر قابو پانے کی پریکٹس کیا کریں۔ اس طرح آپ اپنی زندگی کا حسن خود ہی برباد کر لیتے ہیں۔
2۔ اردگرد کا ماحول خوش کن بنائیں۔ ماحول خوش کن صرف نوجوانوں کا ہی نہیں ہوتا۔ ہر عمر کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے۔ اس خوبصورتی کو انجوائے کریں۔
3۔ اپنے گھر میں نئی دلچسپیاں پیدا کریں۔ یکسانیت بھی ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتی ہے۔
4۔ ایسے دوست اور سہیلیاں بنائیں جو زندہ دل ہوں جن کی صحبت آپ کو خوش رکھے مایوس افراد آپ کی زندگی کو مزید الجھا سکتے ہیں۔
5۔ ہنسنے مسکرانے کی عادت کو اپنائے رکھیں۔ ہنسنا اور قہقہہ لگانا ہارمونز میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے۔
ذہنی دباؤ میں کمی نہ صرف آپ کو دل کی بیماری سے محفوظ رکھے گی بلکہ آپ کی زندگی کا معیار بہتر بنائے گی اور آپ کو گھر اور اردگرد کے لوگوں میں بھی ایک خوشگوار تبدیلی لائے گی۔
(ماخوذ)

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/O85rk]

اپنا تبصرہ بھیجیں