محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب

روزنامہ الفضل ربوہ 4 جنوری 2012ء میں مکرم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کے بارہ میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ 1995ء میں محترم ڈاکٹر صاحب امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئے تو ایک طرف اپنے والد کے قائم کردہ فضل عمر میڈیکل سنٹر میرپور میں طبّی خدمات کا آغاز کیا تو دوسری طرف بطور قائد علاقہ سندھ خدمت کی توفیق پانے لگے اور اسی سال امیر ضلع میرپورخاص بھی مقرر ہوگئے۔ نیز کئی مرکزی کمیٹیوں کے ممبر بھی رہے اور میٹنگز کے لئے لمبا سفر کرکے مرکزِ سلسلہ تشریف لاتے رہے۔
امیر ضلع مقرر ہونے کے بعد آپ سال میں چند مرتبہ مذاکروں کا اہتمام کرتے ۔ ان پروگراموں کی تیاری میں ذاتی محنت اور وسائل استعمال کرتے۔ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر اہل علم افراد کو مدعو کرتے۔ مجالس ختم ہونے کے فوراً بعد خصوصی دعوت کا اہتمام ہوتا اور مہمانوں کے جانے کے بعد انتظامیہ کی میٹنگ بلالیتے کہ کون سے دوست تشریف نہیں لائے اور جو آئے تھے اُن کے تاثرات کیا تھے اور آئندہ اُن سے رابطہ کیسے رکھنا ہے وغیرہ۔ اس سے فارغ ہوکر وہ اپنے ہسپتال میں داخل مریضوں کا جائزہ لینے چلے جاتے، نہ جانے کب واپس لَوٹتے مگر علی الصبح فجر کی نماز میں موجود ہوتے۔ نماز فجر کے بعد کچھ آرام کرتے اور پھر ناشتے پر بطور مہمان نواز موجود ہوتے۔ الغرض اَنتھک انسان تھے۔
محترم ڈاکٹر صاحب ایسے نرم خُو تھے کہ کسی بھی جگہ پروگرام ہوتا تو وہاں کے کسی مریض یا اُس کے لواحقین کی درخواست کبھی نہ ٹالتے بلکہ مجلس سے پہلے اور بعد میں اُن کا یہی شغل معائنہ مریضاں جاری رہتا۔ آپ یوں بھی اُن دُوردراز علاقوں میں اکثر فری میڈیکل کیمپ لگایا کرتے تھے جہاں طبّی سہولتیں مفقود تھیں۔ اس لحاظ سے وسیع حلقہ احباب بھی تھا اور حلقہ مریضان بھی۔ اپنے مریضوں کے لئے دعائیں بھی کرتے اور لاعلاج مریضوں کے حق میں قبولیتِ دعا کے معجزات بھی دیکھتے۔
ایک دفعہ نصرت آباد اسٹیٹ میں مجلس مذاکرہ کے لئے پہنچے تو وہاں پولیس کی گاڑی موجود پائی۔ متعلّقہ تھانہ کے SHO اپنے عملہ کے ساتھ موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے بہت عقیدت و احترام سے ملے۔ وہ آپ کے زیرعلاج رہ چکے تھے۔ کہنے لگے کہ جب یہاں ڈاکٹر صاحب کی آمد کا سنا تو رہ نہ سکے اور ملنے چلے آئے۔ تھانیدار صاحب پھر ہماری مجلس میں بھی بیٹھے اور سوال بھی کئے۔ مجلس کے بعد کافی دیر تک ڈاکٹر صاحب مریضوں کے ساتھ مصروف رہے اور رات گئے فارغ ہوئے۔ اُس وقت اس علاقہ میں سفر کرنا خطرناک تھا لیکن تھانیدار صاحب کی ہدایت پر پولیس نے ہماری دو کاروں کو اسکواڈ کیا اور اپنے تھانہ کی حدود سے پچاس ساٹھ کلومیٹر آگے تک پہنچاکر بحفاظت رخصت کیا۔
محترم ڈاکٹر صاحب کا احترام اس قدر تھا کہ ایک مجلس میں آپ نے مرکزی ہدایت پر صرف 120 مہمانوں کو مدعو کیا۔ کئی احمدی اپنے ساتھ بھی مہمان لے کر آئے تھے جنہیں معذرت کے ساتھ واپس کرنا پڑا کہ آئندہ کسی مجلس میں بلائیں گے۔ حیرت تھی کہ اُس مجلس میں سارے مدعووین شامل ہوئے۔
محترم ڈاکٹر صاحب کا میڈیکل سنٹر اور وہاں کی جماعت ایک ساتھ ترقی کر رہے تھے جو بلاشبہ حاسدوں کی نظر میں کھٹکتی تھی۔ آپ اپنے ضلع کے احمدی بچوں کو تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کرکے انعامات بھی دیا کرتے تھے۔
جب کوئی مرکزی نمائندہ مرکزی پیغامات لے کر آپ کے ضلع میں پہنچتا تو مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہدایات سننے کے بعد پہلے آپ خود ان کی تعمیل کا عہد کرتے اور پھر سب عہدیداران سے عہد لیتے اور واقعی اُن کی مساعی کی صدائے بازگشت سنائی دیا کرتی تھی۔
ڈاکٹر صاحب موصوف منکسرالمزاج اور انتہائی ہمدرد خلائق تھے۔ کسی کی تکلیف کا سنتے تو بے چین ہوکر اُس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے۔ مریض کی آدھی بیماری تو اپنی شیریں گفتگو سے تسلّی دلاکر دُور کردیتے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/F7KT1]

اپنا تبصرہ بھیجیں