مکرمہ ثریا بانو صاحبہ

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان21؍اپریل 2011ء میں مکرم مولانا جلال الدین نیّر صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ ثریا بانو صاحبہ بنت مکرم ماسٹر عبدالرزاق صاحب آف بھدرواہ کشمیر کا ذکر خیر کیا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ مرحومہ کی شادی فروری 1969ء میں خاکسار سے ہوئی۔ ایک واقف زندگی سے شادی کے نتیجہ میں وہ خوش دلی سے سلسلہ کے کاموں کو ہرحال میں مقدّم رکھنے کے عہد میں شامل رہی۔ آمد محدود تھی۔ چونکہ وہ ٹیچر ٹریننگ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرچکی تھی اس لیے نصرت گرلز ہائی سکول قادیان میں ٹیچر ہوگئیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی اور دو بیٹے عطا کیے۔ پہلے دو بچوں کی پیدائش کے وقت خاکسار جماعتی دوروں پر گھر سے دُور تھا۔ لیکن اُس نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ صرف ایک بار جب میری بیٹی تشویشناک طور پر بیمار ہوگئی تو اُس نے نظام کے تحت بذریعہ ٹیلیگرام مجھے اطلاع کی اور مَیں اُڑیسہ سے تین دن کا اذیّت ناک سفر طَے کرکے واپس قادیان پہنچا۔ خداتعالیٰ نے فضل فرمایا اور اُسی روز میری بیٹی ہسپتال سے شفایاب ہوکر گھر آگئی۔ بہرحال مَیں سال میں سات آٹھ مہینے دوروں پر رہتا تھا اور وہ سکول اور گھر کی ذمہ داریاں نہایت حوصلے سے انجام دیا کرتی تھی۔
کمزور ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاسکی۔ پاؤڈر کا جو دودھ بچے پیتے تھے وہ ساڑھے چھ روپے کا آتا تھا۔ مالی تنگی اس قدر تھی کہ اکثر گزارہ کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایسے ہی ایک دن جب مہینے کے آخری دن تھے اور کوئی پیسہ نہیں تھا کہ دودھ کا ڈبّہ خرید سکتے تو ہم دونوں دعاؤں میں لگ گئے۔ اسی اثناء میں مَیں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ میری دونوں الماریوں میں جس قدر کتابیں اور فائلیں ہیں، اُنہیں ایک ایک کرکے پھولنا شروع کرو، ہوسکتا ہے مَیں کسی کتاب میں کوئی نوٹ رکھ کر بھول گیا ہوں۔ چنانچہ ہم اس کام میں جُت گئے۔ ایک گھنٹے کی محنت کے بعد ایک کتاب سے اچانک تین چار دس دس روپے کے نوٹ گرے۔ اس پر ہم دونوں کو اس قدر خوشی ہوئی جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ مرتے دَم تک وہ یہ واقعہ دہراکر خدا کا شکر ادا کیا کرتی تھی۔ بہرحال ہر عسرویسر میں اُس نے وفا کے ساتھ میرا ساتھ دیا۔
مرحومہ اپنوں اور غیروں سے بے انتہا حسنِ سلوک کرنے والی تھی۔ مہمان نواز تھی اور جو بھی میسر ہوتا وہ سامنے رکھ دیتی۔ سکول کی غریب بچیوں کو اپنی طرف سے کاپیاں، پنسل اور ربڑ وغیرہ دیا کرتی اور کبھی کھانا بھی کھلادیتی۔ بعض بچیوں کی فیس بھی خاموشی سے ادا کردیتی۔ قریباً بیس سال لجنہ اماء اللہ قادیان میں بطور سیکرٹری مال خدمت کی۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی انتظامیہ میں خدمت بجالاتی۔ وفات سے پہلے قریباً دو سال بیمار رہی اور نہایت حوصلے اور صبر سے بیماری کا مقابلہ کیا۔ 7؍فروری 2011ء کو صرف 64 سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین عمل میں آئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے ازراہ شفقت لندن میں نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ueo1S]

اپنا تبصرہ بھیجیں