مکرم مبارک احمد طاہر صاحب شہید

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ ستمبر 2011ء میں سانحہ لاہور میں شہید ہونے والے مکرم مبارک احمد طاہر صاحب کا ذکرخیر مکرم عطاء المحسن صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مکرم مبارک احمد طاہر صاحب محترم عبدالمجید صاحب کے بیٹے اور مؤرخ احمدیت مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے داماد تھے۔ قبل ازیں الفضل انٹرنیشنل 4؍ستمبر 2015ء کے الفضل ڈائجسٹ میں آپ کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہوچکا ہے۔ چند اضافی امور درج ذیل ہیں:
محترم مبارک احمد طاہر صاحب بوقت شہادت نیشنل بنک کے شعبہ آڈٹ میں وائس پریذیڈنٹ تھے۔ بنک کی طرف سے ٹی اے، ڈی اے ملنے کے باوجود سستے اور معمولی ہوٹل میں ٹھہرتے۔ آپ شوگر کے مریض تھے۔ اکثر زیادہ کام اور سفر کی تھکاوٹ سے طبیعت خراب ہوجاتی۔ کوئی کہتا کہ جب بینک آپ کو اچھی رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرتا ہے تو پھر آپ کیوں اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس پر آپ ناراضگی کا اظہار کرتے اور کہتے کہ بینک بھی تو اپنا ہے، اگر اس کی بچت ہوجائے گی تو آپ کو کیا نقصان ہوگا۔جہاں آڈٹ کے لیے جاتے وہاں پر تحائف قبول نہ کرتے۔ دورانِ ملازمت بہت سی مشکلات پیش آئیں بلکہ آپ کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا لیکن ہمیشہ دیانتداری کو آپ نے مقدّم رکھا۔
شہید مرحوم نے اپنے والدین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ والد صاحب کی کم آمدنی کی وجہ سے F.A. کے بعد ملازمت شروع کی۔ جب ذاتی گھر بنایا تو اپنے والدین اور غیرشادی شدہ بھائی بہنوں کو ساتھ رکھا۔ بہنوں کی شادیاں کیں۔ والد کی بیماری میں چھٹیاں لے کر دن رات ہسپتال میں رہے اور اُن کی وفات کے بعد اپنی والدہ اور بھائی بہنوں کا پہلے سے زیادہ خیال رکھا۔
آپ نے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دی۔ سب بچے نظام وصیت میں شامل ہیں۔ آپ کی خواہش تھی کہ چاروں بچے قرآن کریم حفظ کریں۔ آپ کی کوششوں سے دو بچوں نے مکمل جبکہ دو نے جزوی طور پر قرآن کریم حفظ کرنے کی توفیق پائی۔دین کو ہمیشہ دنیا پر مقدّم رکھتے۔ ایک بیٹا F.A. کے امتحان میں صرف تین مضامین میں پاس ہوا تو آپ کی اہلیہ نے کہا کہ جماعتی کاموں میں زیادہ مشغول ہونے کی وجہ سے فیل ہوا ہے۔ آپ نے کہا کہ جماعتی کاموں میں حصہ لینے کی برکت سے تین مضامین میں پاس ہوا ہے لہٰذا پہلے سے زیادہ دینی خدمت کرنی چاہیے۔
غریبوں کا اپنے بچپن سے ہی خیال رکھتے۔ اپنے جیب خرچ سے ہی ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ گھر میں کوئی کام کے لیے آتا تو اُس کے لیے چائے پانی کا اہتمام کرتے، کھانے کا وقت ہوتا تو کھانا کھلاتے۔ چھابڑی والے غرباء سے اکثر ضرورت سے زیادہ پھل وغیرہ خریدلیتے۔ اپنے علاقے کے غرباء میں چھوٹی عید پر کیک اور بڑی عید پر گوشت خود تقسیم کرتے۔
خلیفہ وقت سے بہت تعلق رکھتے۔ پریشانی ہوتی یا کامیابی ملتی تو سب سے پہلے حضور کی خدمت میں خط تحریر کرتے۔ ان کا گھر جماعتی سرگرمیوں کا ہمیشہ نمایاں مرکز رہا۔ ہر کام کے لیے نہایت عاجزی سے خود کو پیش کردیتے۔ الغرض ایک مومن کی تمام خوبیاں آپ میں موجود تھیں۔
28؍مئی 2010ء کو مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران جب فائرنگ شروع ہوئی تو آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔ اسی حالت میں ایک گولی بائیں بازو سے گزر کر دل میں لگی اور آپ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/PdxlZ]

اپنا تبصرہ بھیجیں