مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍نومبر 2011ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے محترم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں آپ کا ذکرخیر الفضل انٹرنیشنل کے 20دسمبر 1996ء اور یکم مئی 2015ء کے شماروں میں ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ کی زینت بنایا جاچکا ہے۔ ذیل میں چند اضافی امور پیش ہیں ۔
محترم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب فرینکفرٹ جرمنی میں 4؍جنوری 2011ء کو تقریباً 65 سال کی عمرمیں وفات پاگئے ۔ آپ 1946ء میں پیدا ہوئے۔ قبول احمدیت کا واقعہ خود اس طرح بیان کرتے تھے کہ ایک دن اپنی والدہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سفید روشنی کندھے کے اوپر سے نکل کر کتابوں کی الماری کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی جس میں سینکڑوں کتابیں ترتیب سے پڑی ہوئی تھیں ۔ وہ روشنی ایک کتاب پر آکر رُک گئی۔ آپ نے جب اٹھا کر اس کتاب کو دیکھا تو وہ جرمن ترجمہ قرآن تھا۔ آپ قرآن کریم کو پڑھنے لگے تو کچھ حصہ پڑھنے کے ساتھ ہی آپ کو یقین ہو گیا کہ خداتعالیٰ اپنی کتاب کے ذریعے بول رہا ہے اور یہ کتاب سچی ہے اور مجھے اسے قبول کر لینا چاہئے۔ چنانچہ آپ نے اسلام قبول کر لیا اور پھر کسی مسجد کی تلاش شروع کر دی۔ ’’مسجد نور‘‘(فرینکفرٹ) کا علم ہوا جہاں مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب مبلغ سلسلہ تھے۔ انہوں نے بڑی محبت و شفقت سے آپ کو احمدیت کا تعارف کروایا تو 1969ء میں آپ بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے آپ کا نام ہدایت اللہ رکھا۔ 1970ء میں حضورؒ کے دورۂ جرمنی کے موقع پر ہیوبش صاحب کی حضورؒ سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔
مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر صاحب جرمنی بھی ہیوبش صاحب کے ذریعہ سے ہی احمدی ہوئے۔ وہ حق کی تلاش میں قادیان گئے جہاں ہیوبش صاحب سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے عبداللہ صاحب کو ساتھ لے کر سارا قادیان پھرایا اور دعوت الی اللہ کی۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ خاکسار کا تعارف مکرم ہدایت اللہ صاحب سے خلافت ثالثہ کے بابرکت دَور میں اس وقت ہوا جب آپ جلسہ سالانہ ربوہ میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ آپ چونکہ ھپی ازم کو ترک کرکے آئے تھے اور نئے احمدی تھے اس لئے اپنے اخلاص اور سادگی میں احکامِ دین کی ظاہری لفظی پابندی میں کافی سخت رویّہ اپناتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض احادیث کے ظاہری الفاظ پرنہ صرف خود نہایت سختی سے عمل پیرا ہوتے بلکہ دوسروں سے بھی اس کی خلاف ورزی برداشت نہ کرتے تھے۔ جوں جوں احمدیت کی چھاپ آپ پر گہری ہوتی چلی گئی اسلام کے محض ظاہر کی بجائے اس کے حسن باطن کا شعور آپ کو عطا ہوا اور اسلام کی سچی معرفت عطا ہوئی۔
ایک روز دفتر میں مجھے تلاوت کرتے دیکھا تو پوچھا کہ آپ نے وضو کیاہے؟ جواب نفی میں پاکر آپ نے اسے ناپسند کیا کیونکہ آپ نے

لَایَمُسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ (الواقعہ:80)

کے یہی ظاہری معنی پڑھ رکھے تھے کہ باوضوپاک لوگوں کے سوا قرآ ن کو کوئی چھو ہی نہیں سکتا۔ بعد میں تو وہ اس آیت کے حقیقی مصداق بن گئے یعنی ایسے پاک وجود جن کو قرآن کے معانی سے خاص ذوق پیدا ہوگیا تھا۔
موصوف اپنے اخلاق و عادات، ہر حرکت و سکون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا چاہتے تھے۔ ایک دفعہ سرائے فضل عمر(ربوہ) کے دروازہ سے باہر نکلتے ہوئے مجھے روک کر پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے ہوئے جو دعا پڑھتے تھے کیا آپ نے وہ دعا پڑھی ہے؟ اس بارہ میں کوئی بھی بھول چوک انہیں ناگوار ہوتی تھی۔
اسی طرح سنت نبویؐ کی اتباع میں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پاؤں اندر رکھنے اور باہر آتے ہوئے بایاں پاؤں پہلے باہر نکالنے کا بھی بشدّت اہتمام کرتے۔
محبت دینی کے باعث رفتہ رفتہ ان سے تعلق محبت بڑھا۔ 1977ء سے 1983ء تک کے جلسہ ہائے سالانہ پر بڑے اہتمام سے وہ ربوہ آتے اور براستہ قادیان واپس جرمنی روانہ ہوتے۔ پہلی بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی بھی دیار حبیب قادیان میں کی۔ جلسہ کے بابرکت روحانی ایام میں موصوف ایک عجیب نشّہ روحانی میں ہوتے تھے۔ وہ دنیوی نشّہ کو چھوڑ کراس نشّہ کے دیوانے ہوچکے تھے۔ خلافت اور خلیفۂ وقت سے محبت کا یہ عالم تھا کہ دنیا یورپین لبا س پر فریفتہ ہوتو ہو مگر اُن کے نزدیک بہترین لباس وہی تھا جوخلیفۂ وقت زیب تن فرمائیں ۔ چنانچہ انہوں نے بڑے اہتمام سے قمیص شلوار کے ساتھ شیروانی اور پگڑی و کلاہ کا انتظام کیا اور آخر دم تک اس روایت کو نباہتے رہے۔ موصوف تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر قائم تھے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہٗ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ میں آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے اسلام اور اس کی تعلیم کے بارہ میں موصوف کی درجن بھر جرمن کتب کا ذکر فرمایا تھا۔ ایک بار انہوں نے کسی کتاب کے لئے احادیث کے حوالے تلاش کرنے کے لئے مجھ سے تعاون طلب کیا۔ خاکسار نے بعض مربیان کے ذریعہ وہ حوالے نکلوا کر بھجوادئیے۔ اگلے سال جب وہ ربوہ تشریف لائے تو انہوں نے اس تعاون کے عوض کچھ رقم تحفۃً مجھے پیش کرنا چاہی۔ مَیں نے کہا کہ وہ تو ایک بھائی سے تعاون علی البرّ کے طور پر ایک بے لوث خدمت تھی۔ انہوں نے کمال سادگی اور سچائی سے فرمایا کہ دراصل جس کتاب کے لئے آپ نے مواد بہم پہنچایا تھا اس کی اشاعت کے بعد پبلشر نے مجھے کتاب کی رائیلٹی کے طور پر کچھ حق خدمت دیا تو میں نے سوچا کہ اس میں تعاون کرنے والوں کا بھی حق ہے۔ چنانچہ ان کے اصرار پر یہ تحفہ قبول کئے بغیر چارہ نہ تھا۔ چنانچہ ہم نے اس سے اپنے مربیان کے لئے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ یہ وہ نظارہ اخوّت و محبت کا تھا جو خلافت کی برکت سے آج جماعت احمدیہ کو نصیب ہے۔
ہیوبش صاحب خلافت کی غیر معمولی اطاعت کرنے والے تھے۔ایک دفعہ کچھ عرصہ تک ان کا رابطہ نہ ہوا۔ جب ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ مجھے کچھ حوالے مطلوب تھے مگر مرکز خلافت لندن سے یہ اصولی ہدایت آئی تھی کہ ربوہ میں رابطہ وکالت تبشیر لندن کے ذریعہ سے ہونا چاہئے اس لئے آپ سے بلاواسطہ رابطہ کرکے کوئی حوالہ طلب نہیں کیا۔ مَیں نے عرض کیا کہ میرے خیال میں وہ ہدایت انتظامی امور کے متعلق ہو گی۔ اپنے ذاتی تعلق کی بِنا پر آپ حسب ضرورت کوئی حوالہ وغیرہ منگوانا چاہیں تو حرج نہیں ۔ اس پر انہوں نے حوالے منگوانے کا سلسلہ دوبارہ جاری کردیا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہٗ اللہ نے آپ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ بڑے درویش صفت اور نیک اور مخلص انسان تھے۔ خدا پر توکل انتہا کا پہنچا ہوا تھا۔ بعد میں آئے لیکن توکّل اور ایمان اور یقین اور وفا اور محبت اور اخلاص میں بہتوں سے آگے بڑھ گئے۔ خلافتِ احمدیہ سے ان کو عشق تھا۔ وفا کا تعلق تھا۔ نمازوں میں انہماک انتہا کا تھا۔ تہجد گزار، نوافل پڑھنے والے۔ خدمتِ دین کی اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی توفیق عطا فرمائی ہے۔ جرمن زبان میں اسلام کے بارے میں کافی کتب لکھی ہیں ۔ میڈیا کے ساتھ ان کا بڑا گہرا تعلق تھا۔ سوال و جواب کی بہت ساری مجلسیں غیروں میں جا کے میڈیا پر کرتے تھے۔ جماعت جرمنی کے پریس سیکرٹری کے طور پر بھی آپ کو لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔ ایک صاحبِ علم شخصیت تھے۔ اور جو بھی ایک مومن میں خصوصیات ہونی چاہئیں وہ ان میں پائی جاتی تھیں ۔ MTA جرمن سٹوڈیوکے فعال رکن تھے اور جرمن پروگراموں کی یہ جان سمجھے جاتے تھے۔ جرمن زبان میں اسلام اور تربیتی لٹریچر کا ایک بڑا خزانہ انہوں نے جماعت جرمنی کے لئے چھوڑا ہے۔ جرمنی کے اخبارات اور متعدد ٹی وی چینلز پر اسلام اور احمدیت کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے کی توفیق ملی۔ اور جرمن زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ان کو عبور تھا۔ جرمن اور انگلش دونوں میں نظمیں بھی لکھا کرتے تھے۔ جامعہ احمدیہ میں جرمن زبان آج کل پڑھا رہے تھے اور بڑی محنت سے یہ فریضہ انجام دے رہے تھے۔
ان کی تصنیفات جو جماعت سے باہر کی تصنیفات ہیں ان میں ’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات‘ کے جرمن زبان میں دو ایڈیشن ہیں ۔ ’اسلام کے بارہ میں ننانوے سوالات اور ان کے جوابات‘، اس کا بھی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ پھر ہے ’اسلام میں عورت کا مقام‘۔ اسی طرح اسلام میں ’جنت اور جہنم کا تصور‘ ہے۔ اوربھی تقریباً بارہ کے قریب کتب ہیں ۔ پھر نظموں کے مجموعے ہیں ۔ باقاعدہ جماعتی میگزین میں ان کے مضامین ہوتے تھے۔ مختلف موضوعات پر کتابچے اور بروشر جو ہیں ان کی تعداد تقریباً ایک سو بیس ہے۔ … آپ کی وفات پر جرمنی کے سولہ اخبارات نے خبر دی ہے اور ان میں کئی بڑے قومی اخبارات شامل ہیں ۔ بہت سے مضامین میں آپ کو مشہور مذہبی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہیسن صوبہ کے وزیر برائے مذہبی ہم آہنگی نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ اسلام اختیار کرنے والوں میں سب سے مشہور شخصیت تھے۔ فرینکفرٹ نیو پریس نے لکھا ہے کہ آپ ایک شاعر اور مبلغ تھے، ادب کے نوبیل انعام یافتہ گنٹرکراس (Gunter Grass) نے آپ کو 1960ء کی دہائی کے عظیم مصنفین میں شمار کیا ہے۔ آخری نظم جو آپ نے لکھی تھی اس میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہایت ادب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپؐ کی بدولت مجھے سچے اور پاک دین کو قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق ملی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔ (ماخوذ)

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/dSgk0]

اپنا تبصرہ بھیجیں