’’گُل شگفت‘‘

(مطبوعہ انصارالدین مارچ اپریل 2012ء)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 28 جولائی 2017ء)

انتخاب از ’’مضامین شاکر‘‘

(فرخ سلطان محمود)

’’گُل شگفت ‘‘

خلّاقِ اعظم نے مٹی میں کچھ ایسی تاثیررکھی ہے کہ اگرہم ایک ہی جگہ میں مرچ ،کیلا، آم،چنے وغیرہ بودیں توسب کاذائقہ اورتاثیرایک دوسرے سے مختلف ہوگی۔ اسی طرح باغ میں مختلف اقسام کے پھول ہوتے ہیں۔ مگرسب کی رنگت، خوشبواورتاثیرالگ ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک گھرانے میں ایک ہی والدین کے بچے مختلف ناک، نقشہ، رنگت اورطبائع لے کر پیدا ہوتے ہیں۔
حضرت اقدس مرزاغلام احمدصاحب قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان میں بھی دوبچے ایسے پیدا ہوئے کہ ایک کی خوشبوسے زمانہ معطرہوگیااوردنیاکے ہرگوشے میں اس کے نام لیوا دن بدن بڑھتے جارہے ہیں مگردوسرے نے دنیا میں ایک نا پسندیدہ فضا پیدا کی کہ اب اس کا نام جاننے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
حضرت اقدس ؑ کے ایک چچا مرزا غلام محی الدین تھے۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ یعنی مرزا امام دین۔ مرزا نظام دین اور مرزا کمال دین۔
مرزا نظام دین میں اس قدر درشتگی تو نہ تھی جو مرزا امام دین کی طبیعت کاخاصہ تھا۔ مگر تاہم وہ مخالف اقدام میں اپنے بھائی کے شریک کار تھے۔ ان سب کے متعلق خداتعالیٰ نے بذریعہ الہام بتا دیا تھا کہ

یَنْقَطِعَ اٰباَئُکَ وَیَبْدَاء مِنْکَ

یعنی تیرے آباء کی نسل کاٹ دی جائے گی اور تجھ سے شروع ہوگی۔ مرزا نظام دین کے لڑکے مرزا گل محمد صاحب حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓکی بیعت کرکے اس الہام کی زَد سے بچ گئے اور اب ان کی اولاد موجود ہے۔
تیسرے بھائی مرزا کمال دین بالکل تارک الدنیا ہوکر قصبہ قادیان کے باہر موجودہ باغ بہشتی مقبرہ کے جانب غرب اپنے مختصر سے باغیچے میں رہا کرتے تھے وہیں پر اُن کی قبر بھی ہے۔ یہ شخص بے ضرر انسان تھا۔ طب میں اچھی مہارت تھی ان کے بعض نسخے بڑے کامیاب تھے۔ مرزا امام دین نے حضرت اقدس ؑ کے مکان کے سامنے جو دیوار بنا کر دروازہ بند کر دیا تھا اس میں مرزا کمال دین نے جج متعلقہ کو اپنی تحریر بھجوا دی تھی کہ میرا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔
(تحریر مورخہ 12؍فروری1900ء)
مرزا امام دین نے جب حضرت اقدسؑ کی طرف خلق کا رجوع دیکھا تو ان کے دل میں حسد پیدا ہوا۔ انہوں نے بھی اپنے گرد چوہڑوں کا ایک گروہ اکٹھا کر لیا اور وہ قادیان میں بالمیک کے نام کا مندر بنا کر سنکھ بجاتے۔ گھڑیال بجاتے اور ’’دید‘‘ کرتے یعنی آنکھیں بند کرکے خداکے تصّور میں مگن ہوتے۔ مرزا امام دین کی طبیعت دہریت کی طرف شدّت سے مائل تھی اور طبیعت میں بیحد استہزاء اور لغویت تھی۔ حُقّہ کے بڑے رسیا تھے۔ طبقہ جہلا سے خوب گاڑھی چھنتی تھی۔ حضرت اقدسؑ کو دکھ دینے کے لئے ہر ایذا رسانی کی سکیم میں یہ ضرور شریک ہوتے اور جو شخص بھی حضرت کے خلاف محاذ کھڑاکرتا اس کے شریک ہوجاتے تھے۔
حضرت اقدسؑ کی کتاب براہین احمدیہ کے شا ئع ہونے کے بعد آسمان سے وحی خفی کے ماتحت جب سعید طبع لوگوں نے قادیان کا رُخ کیا۔ تو مرزا امام دین نے اپنے رسالہ ’’گل شگفت ‘‘میں لکھا کہ ہم نے قادیان میں بالمیک جی کے مذہب کو فروغ دینے کیلئے مندر بنایا ہے جہاں ہر شام سنکھ بجایا جاتاہے اور دید کی جاتی ہے لوگوں کو چاہیے کہ جوق در جوق آکر شامل ہوں۔ کچھ عرصہ سے ہمارے قریبی سے رشتہ دار نے ایک دکان سجائی ہے اور من گھڑت الہام سُناتا ہے۔ اپنے مذہب کو فروغ دینے کے لئے اس نے کچھ لوگ اپنے گرد جمع کرلئے ہیں ان میں سے چار ٹھگ خاص طور پر مشہور ہیں۔ ایک جموّں سے نکالا ہوا حکیم نوردین ہے۔ دوسرا سیالکوٹ کا کریم بخش ہے۔ تیسرامحمد احسن ہے اور چوتھا بھیرہ کا فضل دین ہے۔ مرزا غلام احمد جو الہام گھڑتا ہے یہ چاروں اس پر صاد کر دیتے ہیں۔ (نوٹ۔ مولوی صاحب کا اصل نام کریم بخش تھا مگر حضرت اقدس نے تبدیل فرما کر عبدالکریم رکھا تھا۔ )
اے عوام الناس! اگر یہ شخص سچا ہوتا تو سب سے پہلے ہم اسے مانتے مگر یہ شخص مکّار ہے۔ سچ ہے:

دنیا کمائیے مکر سے روٹی کھائیے شکّر سے
لوگوں کو چاہئے کہ اس کے دام میں ہرگز نہ آئیں۔ (مفہوم)

’’گل شگفت‘‘ کے علاوہ مرزا امام دین نے ’’دین حق‘‘ اور’’دو کافروں کی کہانی‘‘ کتابچے بھی لکھے۔
جب حضرت مولانا نورالدین صاحب ؓ پہلی مرتبہ 1884ء میں قادیان تشریف لائے تو حضرت نے یکّے والے کو واپسی کے لئے کرایہ بھی ادا کردیا تھا۔ یکّے والا حضرت مولانا کو مرزاامام دین کے دیوان خانہ میں لے گیا۔ آپؓ نے دیکھا کہ ایک شخص چارپائی پربیٹھا حُقّہ پی رہا ہے۔ اور اردگرد زمین پر چند نہایت ادنیٰ قسم کے لوگ بیٹھے ہیں۔ حضرت مولانا نے لکھا ہے کہ جب میری نظر اس شخص پر پڑی تو طبیعت نے کہا کہ یہ شخص ’’براہین احمدیہ‘‘ کا مصنّف ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اتنے میں مرزا امام دین نے خود ہی پوچھ لیا کہ کیوں صاحب! آپ نے مرزاغلام احمد صاحب سے ملنا ہے؟ تو حضرت مولانا کی جان میں جان آئی۔ مرزا امام دین نے ایک آدمی کو کہا کہ ان کو مرزا صاحب کے مکان کا رستہ دکھادے۔
ایک دفعہ حضرت اقدسؑ اپنے والد کی پنشن کی رقم وصول کرنے گئے۔ تو مرزا امام دین بھی ہمراہ ہوگیا اور اس نے وہ روپیہ ادھر اُدھر خرچ کروادیا۔ (سیرۃ المہدی) ایک دفعہ مرزاامام دین نے حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو قتل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔ (سیرۃالمہدی)
جب لیکھرام نے حضورؑ کی توہین کی مہم شروع کی اور وہ آریہ سما ج کا پراپیگنڈہ شدّومد سے کرنے لگا تو مرزا امام دین نے لاہور پہنچ کر لیکھرام سے درخواست کی کہ وہ قادیان آکر وہاں پرآریہ سماج کی شاخ کھولے اور کہ مرزا صاحب خود بھی ممبر بنیں گے اور فی الواقعہ وہ ممبر بن بھی گئے۔ یہ 1885ء کا واقعہ ہے۔ (مجدّداعظم حصّہ اوّل)
مرزا امام دین نے 5؍جنوری 1900ء کو حضرت اقدس علیہ السلام کے مردانہ حصہ کے دروازہ کے سامنے ایک دیوار اس طرح سے کھنچوادی کہ مہمانو ں کو مسجد مبارک میں جانے کے لئے بہت لمبا رستہ طے کرکے ہندو بازار میں سے گزر کر آنا پڑتا تھا۔ نیز مشترکہ خاندانی کنوئیں سے پانی لینے سے بھی منع کر دیا (یہ کنؤاں مرزا امام دین کے دیوان خانے میں اب بھی موجود ہے)۔ اس پر حضور ؑ نے اپنے چند دوستوں کو مرزا امام دین کے پاس بھجوایا اور ان سب کو سخت تاکید کی کہ اس کے ساتھ گفتگو کرتے وقت نہایت تحمل اور نرمی سے گفتگو کی جائے۔ مگر وہ فوراً ہی مشتعل ہوگیا اور نہایت غصّے سے کہنے لگا کہ ’’وہ خود کیوں نہیں آیا ‘‘ اور گالیا ں دینے لگ گیا۔ وفد ناکام واپس آیا۔ انہی دنوں کمشنر لاہور ڈویژن قادیان کے ایک قریبی گائوں ہرچووالی میں نہر کے بنگلے میں ٹھہراہوا تھا، وفد اس سے بھی جاکر ملا مگر اس نے بھی ایک نہ سنی اور کہا کہ تم مجھ پر رعب ڈالنے آگئے ہو۔ وغیرہ
حضرت اقدسؑ دعائوں میں لگے رہے اور مجبوراً عدالت میں نالش کردی۔ مقدمہ جیتنے کی قطعاً امید نہ تھی کیونکہ متعلقہ زمین سرکاری کاغذات سے مرزا امام دین کی ملکیت ثابت ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ حضورؑ کے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب کی بھی یہی رائے تھی کہ کچھ روپیہ اداکر کے امام دین سے راضی نامہ کرلیا جائے۔
اب حضور کی دعاؤں نے اثر دکھلایا۔ الہام ہوا (ترجمہ) چکّی پھرے گی اورقضاو قدر نازل ہوگی یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے یہ ضرور آئے گا اورکسی کی مجال نہیں جو اس کوردّ کرسکے۔ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے اس میں کچھ فرق نہ آئے گا اور نہ یہ امر پوشید ہ رہے گا۔ اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی۔ یہ اس خدا کی مرضی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔…وہ اپنے ان بندوں کو بھُولتا نہیں جومدد کرنے کے لائق ہیں سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہوگی مگراس فیصلہ میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خد انے مقرر کر رکھی ہے۔ تُو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں …‘‘ (تذکرہ صفحہ 353،طبع دوم )
خدا کا کرنا یہ ہوا کہ سخت مایوسی کے عالم میں خواجہ صاحب نے ایک پرانی مسل دیکھی۔ جس کے انڈکس سے معلوم ہواکہ حضورؑکے والد حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب بھی اس زمین کے مشترکہ مالک تھے۔ جب یہ بات جج کے سامنے پیش کی گئی تومقدمہ کی نوعیّت ہی بدل گئی۔ اس نے انڈکس دیکھتے ہی فیصلہ دیا کہ دیوارفوراً گرائی جائے اور مرزا امام دین ایک سو روپیہ جرمانہ اور مقدمہ کے اخراجات (44 روپے) بھی ادا کرے۔
چنانچہ اسی چوہڑے نے وہ دیوار گرائی جس نے بنائی تھی۔ اتفاق سے اس دوران مرزا امام دین فوت ہوچکے تھے لہٰذا جرمانہ مع خرچہ مرزا نظام دین پر ڈالا گیا۔ حضرت اقدسؑ کے مختار حکیم فضل الدین صاحب بھیروی نے ازخود 144 روپے کی ڈگری کا اجراء بھی کرالیا۔ جب مرزا نظام الدین سے مطالبہ ہواتو وہ سخت پریشان ہوا اورکسی شخص کے ذریعہ حضرت اقدسؑ سے ملتمس ہوا کہ یہ سب رقم معاف فرمائی جائے کیونکہ وہ ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا۔ حضور کو جب علم ہواتو آپؑ حکیم صاحب پر ناراض ہوئے کہ اجازت کے بغیر کیوں ڈگری کرائی۔ آپؑ نے مرزانظام دین کو بھی کہلوا بھیجا کہ میرے علم کے بغیر یہ کارروائی ہوئی ہے مجھے معاف فرمائیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/3D20o]

اپنا تبصرہ بھیجیں