قدیم ہندوستان کامحمدیؐ المشرب نبی

(مطبوعہ انصارالدین مارچ اپریل 2012ء)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 28 جولائی 2017ء)

انتخاب از ’’مضامین شاکر‘‘

(فرخ سلطان محمود)

قدیم ہندوستان کامحمدیؐ المشرب نبی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے:

اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھاَ نَذِیْر۔

یعنی دنیاکی ہرقوم میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والاآیاہے۔ لازم تھاکہ ہندوستان میں بھی ایک نہیں بہت سارے نذیرآتے۔
ہندو قوم میں حضرت کرشن علیہ السلام کے کروڑوں آدمی نام لیوا ہیں اور اپنے وقت کا بہت بڑے خدارسیدہ بزرگ خیال کرتے ہیں۔ ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتاہے کہ آپ زمرئہ انبیاء میں سے تھے:

کَانَ فِیْ سَوَادِ الْھَنْدِ نَبِیٌ اَسْوَدَ اللَّوْنَ اِسْمُہٗ کَاھِنٌ

یعنی ہندوستان کے ملک میں ایک کالے رنگ کانبی ہواہے جس کانام کاہِن (کنہیا) تھا۔
(فردوسؔ الاخبار(دیلمی)۔ دیلمی پانچویں صدی کامحدث اورمورخ بھی ہے )
یہ تومشہورخلائق بات ہے کہ حضرت کرشنؑ کو عام طورپرکنہیاکہہ کرپکاراجاتاہے اوران کارنگ سیاہ رنگ ظاہر کیاجاتاہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا وہ کالے رنگ کے تھے پتلی ناک، کشادہ پیشانی والے ہیں‘‘۔
(تذکرہ ص 392 طبع دوم)
کہا جاتا ہے کہ حضرت کرشنؑ کالے نہ تھے مگرایک دفعہ جنگل میں سوئے ہوئے تھے کہ کسی شکاری نے ان کوشکارسمجھ کر زہر میں بُجھاہواتیر ماراجس کے اثرسے رنگت حسن ِملیح کی اعلیٰ مثال بن گئی۔
حضرت کرشن ؑ ایک نہایت محتاط اندازہ کے مطابق 3500برس قبل متھرامیں پیداہوئے۔ یہ شہر دریائے جمنا کے کنارے دہلی سے 85میل کے فاصلہ پر آباد ہے۔ نہایت سرسبزعلاقہ ہے۔ وہاں پراُس زمانہ میں حضرت کرشن ؑ کے ماموں کنس کاراج تھا یہ شخص سخت ظالم تھا۔ اورتمام رعایااس کے مظالم کے سامنے دم بخودتھی۔
حضرت کرشنؑ کے والد کا نام واسودیوؔاور والدہ کا نام دیوؔکی تھا۔ واسودیوؔ کی دس بیویاں موجود تھیں کہ کنسؔ کی ہمشیرہ سے شادی کی۔ جب واسودیوؔ اپنی نئی بیوی کو لے کر جلوس میں آ رہا تھا تو آسمان سے ایک بلند آواز آئی کہ ’’اے مورکھ !جس لڑکی کواُس کاخاوندلئے جارہاہے اُس کاآٹھواں بچہ کنس کوقتل کریگا‘‘۔ کنسؔ ڈر گیا اور پھر جب بھی اس کی ہمشیرہ کے ہاں کوئی بچہ پیداہوتاتووہ اس کوقتل کرادیتا۔ آٹھویں بچے کی پیدائش سے قبل اس نے اپنے بہنوئی اورہمشیرہ کو قید میں ڈال دیا۔ مگر جب ایک تندو تاریک طوفانی رات کرشن ؑ پیدا ہوئے تو آپؑ کے والد قیدخانہ کے افسر سے سازباز کرکے بچے کو اپنے ایک دوست نندا کے گھر لے گئے اور اُس کی نوزائیدہ بچی کو لاکر جیل میں لٹادیا۔ صبح کو کنسؔ نے ہمشیرہ کی گودمیں لڑکی دیکھی تو لڑکی کو دیوارسے پٹخ کر ہلاک کردیا۔
حضرت کرشن ؑ بچپن میں بڑے خوبصورت، ہونہار، صحتمند اور ذہین وفطین تھے۔ اُن کی معصوم اداؤں سے تمام خوردوکلاں محظوظ ہوتے تھے۔ جب وہ خاصے بڑے ہوگئے توکنسؔ کو علم ہوا کہ یہ لڑکا دراصل اس کا بھانجا ہے۔ پھر ایک میلہ میں کنس نے اُن کودھوکے سے قتل کرناچاہامگرکرشن زیادہ پھرتیلے تھے اُنہوں نے اپنے ماموں کوسب کے سامنے قتل کردیااورملک کواس ظالم اَظلم سے نجات دی۔
ازاں بعد آپؑ علم کے حصول کے لئے کاشی گئے مگر اُن کو جلد واپس لَوٹنا پڑا کیونکہ کنس کے خسرنے متھرا پر بدلہ لینے کے لئے حملہ کردیا تھا۔ متھرا کادفاع کرنے کے بعد آپؑ ہجرت کرکے کاٹھیاواڑگجرات (موجودہ ریاست جوناگڑھ ) میں چلے گئے اوروہاں اپنی ریاست میں امن وامان سے رہنے لگے۔ کوروؔ پانڈو کی جنگ مہابھارت میں آپؑ بذات خود تو اپنے بھانجوں، پانڈو، کی طرف تھے مگراپنی تمام فوج کوروؔکودیدی تھی۔
جنگ کے وقت جب آپؑ نے دیکھاکہ ارجن اپنے مدّمقابل اپنے ہی قریبی عزیزوں کوصف آراء دیکھ کردل چھوڑبیٹھا ہے اورلڑنا نہیں چاہتا تواُس وقت آپ نے جو تقریر فرمائی وہ گیتاؔ کہلاتی ہے۔ اسے ایک خطبۂ الہامیہ سمجھئے۔ یعنی مہا بھارت کے اندر ایک اورجنگ لڑی گئی جس کوباطنی جنگ کہہ سکتے ہیں۔ یہ فرائض اور جذبات کی جنگ تھی۔ ارجن رتھ پرسوارتھااوررتھ بان حضرت کرشن ؑ تھے۔ ارجن جب دیکھتا ہے کہ اس کے مدِمقابل اس کے گورو، چچا، بھائی وغیرہ ہیں تواس کے مَن کے اندر ایک جنگ شروع ہوگئی۔ اس اپدیش میں آپؑ ارجن کوسمجھاتے رہے کہ یہ راجے، مہاراجے، لشکری وغیرہ محض فریب ِنظرہیں۔ تمام کاموں کاباعث خود خدا ہے جس کو قطعاً زوال نہیں ہے۔ انسان کواپنے اعمال خداکی رضا کے لئے کرنے چاہئیں۔ ایسے وقت میں اپنے جذبات اورتعلقات سے بلندہوکر خداتعالیٰ کی رضا کو پورا کرنا چاہئے اوراپنی رتھ (مرادقوتِ عمل) کی باگ ڈور خداکے ہاتھ میں دیدے۔ جذبات کوفرائض پر غالب نہ آنے دے۔ حق کے لئے پوری کوشش کرے اورتمام کاموں کو خدا کا کام سمجھ کرپورا کرے وغیرہ۔
گو اب گیتا اپنی اصل شکل میں نہیں ملتی تاہم جو کچھ ملتا ہے اس میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جنہیں پڑھ کرمعلوم ہوتاہے کہ یہ بھی کوئی کتاب ہوتی تھی۔ ہندو قوم آج تک حضرت کرشن ؑ کی بعثت ثانیہ کی منتظرہے۔ مگر خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق جوشخص فوت ہوجائے پھروہ کبھی ا س دنیامیں واپس نہیں آسکتا۔ ہاں اس کامثیل یابروزضرورآسکتاہے۔ چنانچہ ا س زمانہ میں حضرت کرشن ؑ کے بروز جری اللہ فی حلل الانبیاء حضر ت مرزاغلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوٰ ۃ والسلام تشریف لائے ہیں۔
حضور علیہ السلام نے 2نومبر 1904ء کوبڑی تحدّی سے اعلان فرمایا: ’’اورجیساکہ خدانے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کرکے بھیجا ہے۔ ایسا ہی میں ہندوئوں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اورمیں عرصہ بیس برس سے یاکچھ زیادہ برسوں سے اس بات کوشہرت دے رہا ہوں کہ میں اُن گناہوں کے دُورکرنے کے لئے جن سے زمین پُرہوگئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے اوتاروں میں سے ایک بڑااوتارتھایایوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رُوسے وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اورقیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خداجو زمین اور آسمان کا خدا ہے اُس نے یہ میرے پرظاہرکیاہے۔ اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایاہے کہ تُوہندوئوں کے لئے کرشن اورمسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ جاہل مسلمان اس کوسُن کر فی الفور یہ کہیں گے کہ ایک کافر کا نام لے کرکفر کوصریح طور پر قبول کیا ہے لیکن یہ خدا کی وحی ہے جس کے اظہار کے بغیر میں رہ نہیں سکتا۔ اور آج یہ پہلادن ہے کہ ایسے بڑے مجمع میں اس بات کو مَیں پیش کرتا ہوں کیونکہ جو لوگ خداکی طرف سے ہوتے ہیں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ اب واضح ہوکہ راجہ کرشن جیساکہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پرخدا کی طرف سے روح القدس اُترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح منداوربااقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کوپاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کادرحقیقت نبی تھاجس کی تعلیم کوپیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پُر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتاتھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اَور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہواتھاکہ ہے۔ کرشن رودّرگوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ سو مَیں کرشن سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں اُس کا مظہر ہوں۔‘‘ (لیکچرسیالکوٹ)
مشہور بزرگ حضر ت خواجہ مظہرجان جاناں دہلویؒ کے ملفوظات کواُن کے خلیفہ حضرت غوث علی شاہؒ نے مرتب کیا ہے۔ اس کے صفحہ 26 پر ابوصالح خاں سے یہ روایت نقل ہے کہ وہ ایک دفعہ متھرا گئے۔ وہاں ان کو کچھ روپوں کی ضرورت پیش آئی۔ رات کو تہجدّ کی نماز اداکر رہے تھے کہ ایک شخص بعینہٖ کرشن کے مشہور حُلیہ میں اُن کے سامنے آئے اور بعد سلام کے 7 روپے بطورنذرانہ پیش کئے۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اُس نے کہا میرانام کرشن ہے اوریہ 7 روپے آپ کی ضیافت کے ہیں کیونکہ آپ میرے شہرمیں آئے ہیں۔ ابوصالح نے کہاکہ مَیں مسلمان محمدی المشرب ہوں مَیں مشرکوں کاہدیہ قبول نہیں کرسکتا۔ کرشن نے کہا: واہ! کیا آپ ہمیں مشرکوں میں شمارکرتے ہیں؟ ہم تو آپ ہی کے مشرب پر ہیں۔ پھر بولے کہ ہم نے تو نبی آخرالزمانؐ کی تعریف اورآپؐ کے پیروؤں کے اخلاص کا ذکر سُنا تھا اب اس سے زیادہ مشاہدہ کرلیا ہے۔
اسی طرح تیرھویں صدی کے صوفی حضرت غوث علی شاہ پانی پتی کے ملفوظات موسوم بہ ’’تذکرہ غوثیہ‘‘ میں تحریر ہے کہ ایک ہندوپنڈت کے اصرار پر انہوں نے ’’برہم گائتری منتر‘‘کا پاٹھ کیا تو جس روز ہم پاٹھ کرچکے توآخرِ شب میں یہ خوا ب دیکھا کہ عین دریائے گنگ میں ایک طرف خاتم الرسل محمدمصطفی ﷺ مع صحابہ کرام تشریف لائے ہیں اور ایک مجلس آراستہ پیراستہ ہوئی۔ دوسری جانب شری کرشن جی مہاراج بمع اپنے رفیقوں کے رونق افروز ہوئے۔ تب شری کرشن نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ان کو (جناب غوث علی شاہ کو) سمجھائیے یہ کیاکرتے ہیں؟ آنحضرتؐ نے فرمایا مہاراج تم ہی سمجھاؤ۔ پھرمہاراج نے مجھ کو بلایا اور کہا کہ برخوردار! تمہارے ہاں کیا کچھ نہیں جودوسری طرف ڈھونڈتے ہو؟ کیا تم نے دوئی سمجھی ہے؟ یہاں اوروہاں ایک ہی بات ہے۔ (صفحہ 47)
یعنی حضرت کرشن جی مہاراج نے گائتری منتر کا پاٹھ کرنے سے منع کیا۔ وجہ ظاہر ہے کہ یہ منتر خدا تعالیٰ کی تعریف میں نہیں بلکہ سورج کی تعریف میں ہے اور اسے تسخیر آفتاب کا منترخیال کیا جاتا ہے۔ ایک ہندو پنڈت نے یہی منتر اکبر بادشاہ کو سکھاکردین ِاسلام سے بدظن کردیا تھا۔ لیکن آج تک کبھی کوئی ایساشخص دیکھا نہ سُناجس کے حکم پر آفتاب چلتایاپھرتاہو۔
(نوٹ: گائتری منترکامنظوم اُردوترجمہ علامہ اقبال کی کتاب بانگ درا میں ’’آفتاب‘ ‘ کے عنوان سے شامل ہے)۔
حضرت کرشن ؑ کی عمر 125 برس تھی

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://khadimemasroor.uk/fuAB6]

اپنا تبصرہ بھیجیں