آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2009ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ آنحضورؐ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جوانی میں ہی عبادت الہٰی سے انتہائی لگاؤ تھا اور تنہائی میں خشوع وخضوع کے ساتھ خدا کو یاد کرنے میں آپؐ ایک خاص سرور ولذت محسوس کرتے۔ اس مقصد کے لئے غار حرا میں چلے جاتے۔ دین ابراہیمی اور عربوں کے دستور کے مطابق سال میں ایک ماہ اعتکاف فرماتے۔ عمر کے چالیسویں سال میں آپ رمضان کے مہینہ میں غار حرا میں اعتکاف فرمارہے تھے کہ پہلی وحی ہوئی۔
جبریل ؑ نے ابتدائی وحی کے بعد نبی کریم کو وضو کرکے دکھایا اور اس کا طریق سکھاکر آپؐ کو نماز پڑھائی پھر آنحضرتؐ نے حضرت خدیجہ کو وضو کا طریق سکھاکر نماز پڑھائی۔ جب منصب نبوت کی ذمہ داری بڑھ گئی تو ارشاد ہوا کہ ’’جب تُو دن بھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو تو رات کو اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہوجا اور اس کی محبت سے تسکین دل پایا کر‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرآغازمیں حضرت خدیجہؓ اور حضرت علیؓ ہی ایمان لائے تھے چنانچہ آپ ؐنے ان کے ساتھ نماز باجماعت کی ادائیگی کا سلسلہ شروع فرمادیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آغاز میں نماز دو دو رکعت ہوتی تھی مدینہ ہجرت کے بعد چار رکعت ہوگئی۔
مکّی دَور کے آغاز میں ہی حضرت جبریل ؑنے نبی کریم ؐ کو پانچ نمازوں کی امامت کرواکے نماز کا طریق اور اوقات سمجھادیئے تھے۔چنانچہ فرضیت نماز کے روز اوّل سے لے کر تا دم واپسیں آپ نے پنج وقت نمازوں کی ادائیگی کے حکم کی تعمیل کاحق ایسا ادا کر کے دکھایا کہ خود خدا نے گواہی دی کہ آپؐ کی ’’نمازیں، عبادتیں اور مرنا اور جینا محض اللہ کی خاطر ہوچکا ہے‘‘۔
عمر بھر سفر و حضر، بیماری و صحت ،امن وجنگ غرض کہ ہر حالتِ عُسرو یسر میں اس فریضہ کی بجا آوری میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً کفار کے فتنہ کے اندیشہ سے چھپ کربھی نماز ادا کرتے رہے۔ کبھی گھر میں پڑھ لیتے تو کبھی کسی پہاڑی گھاٹی میں۔ البتہ چاشت کی نماز علی الاعلان کعبہ میں ادا کرتے۔ کفار مکہ آپؐ کو عبادت سے روکتے اور تکالیف دیتے۔ ظالموں نے ایک دن حالتِ سجدہ میں اونٹنی کی غلیظ نجاست سے بھری ہوئی بھاری بچہ دانی آپؐ کی پشت پر ڈال دی۔
ایک بدبخت نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں چادر ڈال کر مروڑنا شروع کیا اور گردن دبوچنے لگا۔ دَم گھٹنے کو تھا کہ حضرت ابوبکرؓ نے اسے دھکا دے کر ہٹایا اور کہا ’’ کیا تم ایک شخص کو اس لئے قتل کرنا چاہتے ہوکہ وہ کہتا ہے اللہ میرا ربّ ہے‘‘۔
ہر چند کہ امّت کی سہولت کی خاطررسول اللہ نے یہ رخصت دی ہے کہ کھانا چنا جا چکا ہو تو کھانے سے فارغ ہوکر پھر نماز ادا کرلو۔ مگر اپنا یہ حال تھا کھانا کھاتے ہوئے بلالؓ کی آواز سنی کہ نماز کا وقت ہوگیا تو صرف اتنا کہا ’’ اِسے کیا ہوا اللہ اس کا بھلا کرے‘‘۔ (یعنی کھانا تو کھا لینے دیا ہوتا)۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ چھری جس سے بھنا ہوا گوشت کاٹ رہے تھے وہیں پھینک دی اور سیدھے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حضرت عائشہؓ آپؐ کا معمول یہ بیان فرماتی تھیں کہ بلال کی نماز کے لئے اطلاعی آواز پر آپؐ بلاتوقّف مستعد ہوکر اٹھتے اور نمازکے لئے تشریف لے جاتے۔ بیماری میں بھی نماز ضائع نہ ہونے دیتے۔ ایک دفعہ گھوڑے سے گرگئے اور دایاں پہلو شدیدزخمی ہوگیا۔ کھڑے ہوکر نماز ادا نہ فرماسکتے تھے تو بیٹھ کر نماز پڑھائی مگر باجماعت نماز میں ناغہ پسند نہ فرمایا۔
سفر میں بھی نماز کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔ روایات کے مطابق زندگی بھرمیں صرف دو مواقع پر دو صحابہ کو آپ کی نیابت میں نماز پڑھانے کی نوبت آئی۔
ایک اس وقت جب آپؐ بنی عمرو بن عوف میں مصالحت کے لئے تشریف لے گئے اور ہدایت فرماگئے چنانچہ تاخیر ہونے پر کچھ انتظار کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے بلالؓ کی درخواست پر نماز پڑھانی شرو ع کی۔اتنے میں آپؐ تشریف لے آئے تو حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ گئے اور آپؐ نے خود امامت کروائی۔
دوسرا واقعہ وہ ہے جب ایک سفر میں آپ قافلے سے پیچھے رہ گئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓنے قضا ہونے کے اندیشہ سے نماز فجر شروع کروائی۔ آپؐ پیچھے سے آکر شامل ہوگئے۔ آپ نے بروقت نماز ادا کرنے پر صحابہ ؓ سے اظہار خوشنودی فرمایا۔
نبی کریم ؐ نے غزوۂ بنو قریظہ کے موقع پر مدینہ سے یہود کے قلعوں کی طرف روانہ ہوتے ہوئے صحابہ کو یہ ہدف دیا کہ عصر کی نماز بنو قریظہ جاکر ادا کی جائے۔ یوں حالت سفر میں بھی حفاظتِ نماز کا پیشگی انتظام فرمادیا۔
رسول کریمؐ سفر میں جدھر سواری کا رُخ ہوتا اسی طرف منہ کر کے نفل نماز سواری پر ادا فرمالیتے تھے۔ تاہم فرض نمازیں ہمیشہ قافلہ روک کر باجماعت قصر اور جمع کر کے ادا کرتے۔ بارش کی صورت میں بعض دفعہ سواری کے اوپر بھی فرض نماز ادا کی ہے۔
ایک سفر میں رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کرتے ہوئے حضرت بلالؓ کی ڈیوٹی فجر کی نماز میں جگانے پر لگائی گئی مگر ان پر نیند غالب آگئی۔دن چڑھے سب کی آنکھ کھلی۔ فجر کی نماز میں تاخیر ہوچکی تھی۔ پریشانی کے عالم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ مزید رکنا بھی پسند نہیں فرمایا جہاں یہ واقعہ ہوا اور آگے جاکر نماز ادا کی۔
حالتِ جنگ میں بھی نماز کی حفاظت کا خاص خیال رکھتے۔ غزوۂ بدرسے پہلے اپنی جھونپڑی میں نماز کی حالت میں گریہ و زاری کرتے ہوئے تین سو تیرہ عبادت گزاروں کا واسطہ اپنے ربّ کو دیا۔
غزوۂ اُحد کی شام آپؐ زخموں سے نڈھال تھے اور ستّر صحابہ کی شہادت کا زخم اس سے کہیں بڑھ کر اعصاب شکن تھا۔ اس روز بھی آپ نماز کیلئے اسی طرح تشریف لائے جس طرح عام دنوں میں تشریف لاتے تھے۔
غزوۂ احزاب میں دشمن کے مسلسل حملہ کے باعث ظہر و عصر کی نمازیں وقت پر ادا نہ ہو سکیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔وہی رسول خدا جو طائف میں دشمن کے ہاتھوں سے لہولہان ہوکر بھی ان کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں وہ نماز کے ضائع ہونے پر بے قرار ہوکر فرماتے تھے خدا ان کو غارت کرے انہوں نے ہمیں نماز سے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو اکٹھا کیا اور نمازیں ادا کروائیں۔
جنگوں کے دوران بھی آپؐ نے نماز نہیں چھوڑی بلکہ صحابہ کواس طرح نماز پڑھائی کہ ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا اور دوسرے نے آپؐ کے ساتھ نصف نماز ادا کی۔ پھر پہلے گروہ نے آکر نماز پڑھی۔ یوں آپؐ نے سبق دیا کہ موت کے خطرے میں بھی نماز ترک نہیںکی جا سکتی البتہ یہ رخصت دیدی کہ سواری پر یا پیدل چلتے ہوئے اشارہ سے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
نماز باجماعت کا اہتمام اس قدر تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر شہر کے ایک جانب مسجد الحرام سے کافی فاصلے پر قیام تھا۔ مگر باقاعدہ تمام نماز وں کی ادائیگی کے لئے حرم تشریف لاتے رہے۔
آخری بیماری میں رسول کریمؐ تپ محرقہ کے باعث شدید بخار میں مبتلا تھے مگر فکرتھی تو نماز کی۔ گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے ،کیا نماز کا وقت ہوگیا؟ بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایاکہ میرے اُوپر پانی کے مشکیز ے ڈالو۔ تعمیل ارشادہوئی مگر پھر غشی طاری ہوگئی۔ ہوش آیا تو پھر پوچھا کہ کیا نماز ہوگئی؟ جب پتہ چلا کہ صحابہ انتظار میں ہیں تو فرمایا ’’ مجھ پر پانی ڈالو‘‘ جس کی تعمیل کی گئی۔ غسل سے بخار کچھ کم ہوا تو تیسری مرتبہ نماز پر جانے لگے مگر نقاہت کے باعث نیم غشی کی کیفیت طاری ہوگئی اور آپ مسجد تشریف نہ لے جاسکے۔ بخار میں پھر جب ذرا افاقہ ہوا تو اسی نقاہت کے عالم میں دو صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر، سہارا لے کر مسجد آگئے۔ حالت یہ تھی کہ کمزوری سے پاؤں زمین پر گھسٹتے جارہے تھے۔ حضر ت ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے۔ آپؐ نے اُن کے بائیں پہلو میں امام کی جگہ بیٹھ کر نماز پڑھائی اوریوں آخر دم تک خدا کی عبادت کا حق ادا کر کے دکھادیا۔
دنیا میں آپؐ کی آخری خوشی بھی نماز کی خوشی تھی۔ جب آپ نے سوموار کو ( جس روز وفات ہوئی) فجر کی نماز کے وقت اپنے حجرہ کا پردہ اٹھاکر دیکھا تو صحابہ محو عبادت تھے۔ اپنے غلاموں کو نماز میں دیکھ کر آپؐ کا دل سرور سے بھر گیا اور خوشی سے چہرہ پر تبسم کھلنے لگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرض نمازیں نسبتاً مختصر ہوتی تھیں تاکہ کمزور، بیمار، بچے، بوڑھے اور مسافر کے لئے بوجھ نہ ہو لیکن آپ کی تنہا نفل نمازوں کی شان توبہت نرالی تھی۔ فرماتے تھے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ بدستور اللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا اس کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں ہوجاتا ہے۔ فنافی اللہ کا یہ مقام حاصل کر کے آپؐ نے ہمیں نمونہ دیا۔
تہجد کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کی غذا تھی۔ فرماتے تھے کہ اللہ نے ہر نبی کی ایک خواہش رکھی ہوتی ہے اور میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے۔
ابتدا میں آپؐ رات کے وقت تیرہ یا گیارہ رکعتیں (بمعہ وتر)ادا فرماتے اور آخری عمر میں کمزوری کے باعث نو رکعتیں پڑھتے رہے۔ اگر کبھی رات کو اتفاقاً آنکھ نہ کھلتی تو دن کے وقت بارہ رکعتیں ادا کر کے اس کی تلافی فرماتے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر چکی ہوتی تو آپؐ بآواز بلند فرماتے ’’لوگو!خدا کو یاد کرو زلزلہ قیامت آنے والا ہے۔ اس کے پیچھے آنے والی گھڑی سر پر ہے۔ موت اپنے سامان کے ساتھ آپہنچی ہے۔موت اپنے سامان کے ساتھ آپہنچی ہے‘‘۔
رات کے وقت آپؐ کی نماز بہت لمبی ہوتی۔ نسبتاً لمبی سورتیں تلاوت کرنا پسند فرماتے۔حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کی کیفیت پوچھی گئی تو آپؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ رمضان یا اس کے علاوہ دنوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔مگر وہ اتنی لمبی، پیاری اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے متعلق مت پوچھو!۔
رسول اللہ ؐ کے عم زاد اور حضرت میمونہ ؓ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے گھر ٹھہرا۔ نصف رات یا اس سے کچھ پہلے آپؐ بیدار ہوئے۔چہرہ سے نیند زائل کی۔ آلِ عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر لٹکے ہوئے مشکیزہ سے نہایت عمدہ طریق پر وضو کیا اور نماز پڑھنے کیلئے کھڑے ہوگئے۔ مَیں جاکر دائیں پہلومیں کھڑا ہوگیا تو آپؐ نے مجھے کان سے پکڑ کر بائیں طرف کردیا۔ آپؐ نے 13 رکعات ادا کیں۔
حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے نبی کریمؐ کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق ملی۔ آپؐ نے پہلے سورۃ بقرہ پڑھی۔ آپؐ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رُک کر دعا کرتے اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرے مگر رُک کر پناہ مانگی۔ پھر قیام کے برابر آپؐ نے رکوع فرمایا جس میں تسبیح و تحمید کرتے رہے۔ پھر قیام کے برابر سجدہ کیا۔ سجدہ میں بھی یہی تسبیح دعا پڑھتے رہے۔پھر کھڑے ہوکر آل عمران پڑھی۔ پھر ہر رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے۔
اسی طرح حضرت حذیفہ بن یمانؓ (رسول اللہؐ کے رازدان صحابی) فرماتے ہیں کہ انہوں نے رمضان میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ جب نماز شروع کی تو آپؐ نے کہا:

’’اَللہُ اَکْبَرْ ذُوْالمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَاءِ وَالعَظْمَۃِ۔‘‘

یعنی اللہ بڑا ہے جو اقتدار اور سطوت کبریائی اور عظمت والا ہے۔ پھر آپؐ نے سورۃ بقرہ پڑھی، پھر رکوع فرمایا، جو قیام کے برابر تھا۔ پھر رکوع کے برابر وقت کھڑے ہوئے۔ پھر سجدہ کیا جو قیام کے برابر تھا۔ پھر دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْلِیْ۔رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہتے ہوئے اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر سجدہ کیا تھا۔ دوسری رکعتوں میں آل عمران، نساء، مائدہ، انعام وغیرہ طویل سورتیں تلاوت فرمائیں۔
اُمّ المٔومنین حضرت سودہؓ نہایت سادہ اور نیک مزاج تھیں،ایک رات انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد ادا کرنے کا ارادہ کیا اور آپؐ کے ساتھ جاکر نماز میں شامل ہوگئیں، نامعلوم کتنی نماز ساتھ ادا کر پائیں مگراپنی سادگی میں دن کو رسول کریم ؐ کے سامنے اس لمبی نماز پر جو تبصرہ کیا اس سے رسولؐ اللہ بہت محظوظ ہوئے۔کہا: ’’یا رسول اللہ ! رات آپؐ نے اتنا لمبا رکوع کروایا کہ مجھے تو لگتا تھا جھکے جھکے کہیں مجھے نکسیر ہی نہ پھوٹ پڑے‘‘۔ رسولؐ اللہ (جن کی ہر رات کی نماز ہی ایسی لمبی ہوتی تھی) یہ سن کر خوب مسکرائے۔
یہ نمازیں بھی یاد الٰہی اور اللہ کی حمد سے خوب لبریز ہوتی تھیں اور جیسا کہ آپکا نام ’’احمد‘‘ بھی تھا واقعی آپ اسم بامسمّٰی تھے۔ اللہ کی حمد و ستائش روئے زمین پر اس شان سے کب ہوئی ہوگی جو آپؐ نے کر دکھائی۔
آپؐ اپنی نفل نماز کا آغاز تسبیح و تحمید سے کرتے اور اس کے لئے ایسے الفاظ کا انتخاب فرماتے کہ جن کو سوچ کر بھی روح وجد میں آجاتی ہے۔ تسبیح وتحمید کے یہ نغمے اور ترانے جو کبھی حرا کی تنہائیوں میں الاپے اور کبھی مکہ اور مدینہ کی خلوتوں میں۔ آپؐ نے اپنے محبوب حقیقی سے سوز و گداز میں ڈوبی کیا کیا سرگوشیاں کیں،یہ تواحادیث کا ایک طویل باب ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ؐ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔ آپؐ اتنی دیر (نمازمیں) کھڑے رہے کہ مَیں نے ایک بُری بات کا ارادہ کرلیا۔پوچھا گیا کہ کیا ارادہ تھا؟ فرمایا: ’میں نے سوچا کہ رسو ل اللہ کو چھوڑ کر بیٹھ جاؤں‘۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ آپؐ قرآن کی ایک آیت ساری رات نماز میں پڑھتے رہے۔
حضرت ابو ذرؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ ایک رات نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ساری رات ایک ہی آیت قیام،رکوع اور سجود میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ پوچھنے پر بتایا کہ وہ المائدہ:199 تھی۔ یعنی خدایا! اگر تُو انہیں عذاب دینا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو انہیں بخشنا چاہے تو تُو بہت غالب اور بڑی حکمتوں والا خدا ہے۔
سبحان اللہ! خدا اور اس کے رسول ؐ کے دشمن آرام کی نیند سورہے ہیں اور خدا کا پیارا رسول ؐ بے قرار ہوکر گڑ گڑا کر بارگاہ ایزدی میں ان کی مغفرت کاملتجی ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آخری عمر میں جب رسولؐ اللہ کے بدن میں کچھ موٹاپے کے آثار ظاہر ہوئے تو بیٹھ کر تہجد ادا کرتے اور اس میں لمبی تلاوت فرماتے۔ جب سورت کی آخری 30 یا 40 آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوکر تلاوت کرتے پھر سجدہ میں جاتے۔
حضرت اُمّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے۔ پھر سوجاتے پھر اُٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میری آنکھ کھلی تو آپ کو بستر پر نہ پایا ۔سمجھی کہ آپ کسی اور بیوی کے حجرہ میں تشریف لے گئے ہیں ۔اندھیرے میں ادھر ادھر ٹٹولا تو دیکھا کہ پیشانی مبارک خاک پر ہے اور آپ سربسجود مصروفِ دعا ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے اپنے شبہ پر ندامت ہوئی اور دل میں کہا۔سبحان اللہ! میں کس خیال میںہوں اور خدا کا رسولؐ کس عالم میں ہے۔
رات کے وقت آپؐ بعض دفعہ سنسان قبرستان میں چلے جاتے اور دعا میں مصروف ہوجاتے۔ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ تجسّس کے لئے پیچھے گئیں تو آپؐ جنت البقیع میں کھڑے دعا مانگ رہے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ تم نے یہ کیوں سوچا کہ خدا کا رسول تم پر ظلم کرے گا۔ (یعنی میں آپ کی باری میں کہیں اورکیسے جاسکتا تھا) پھرفرمایا: مجھے جبریل ؑنے آکر تحریک کی کہ اہل بقیع کی بخشش کی دعا کروں اور میں نے خیال کیا تم سوگئی ہو اس لئے جگانا مناسب نہ سمجھا۔
حضرت عائشہ ؓ کی ایک اور روایت ہے کہ ایک رات میری باری میں باہر تشریف لے گئے ۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح زمین پر پڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں: ’’(اے اللہ)تیرے لئے میرے جسم و جاں سجدے میں ہیں۔میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔ اے میرے ربّ! یہ میرے دونوںہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔ اے عظیم! جس سے ہر عظیم بات کی اُمیدکی جاتی ہے عظیم گناہوں کو تُو بخش دے‘‘۔ پھر فرمایا: ’’ اے عائشہ! جبریل نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لئے کہا ہے تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو۔ جو شخص یہ کلمات پڑھے سجدے سے سر اٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے‘‘۔
رسول کریمؐ کواپنے ربّ کی عبادت ہر دوسری چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ اپنی عزیز ترین بیوی حضرت عائشہؓ کے ہاں نویں دن باری آتی تھی۔ ایک دفعہ موسم سرما کی رات اُن کے لحاف میں داخل ہوجانے کے بعد فرمایا: عائشہ! اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے ربّ کی عبادت میں گزار دوں؟ وہ بخوشی اجازت دیتی ہیں اور آپ ساری رات عبادت میں گزار دیتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے بجا طور پر آپؐ کی یہ تعریف کی کہ آپ اس وقت بستر سے الگ ہوکر رات گزار دیتے ہیں جب مشرکوں پر بستر کو چھوڑنا نیند کی وجہ سے بہت بوجھل ہوتا ہے۔
ماہ رمضان میں اور خصوصاً آخری عشرہ میں آپؐ کی عبادات میں بہت اضافہ ہوجاتا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ کمرِہمت کس لیتے، بیدار رہ کر راتوں کو زندہ کرتے، خود بھی عبادت کرتے، اہل بیت کو بھی جگاتے۔ اس عشرہ میں آپؐ اعتکاف بھی فرماتے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سارا وقت خدا کے گھر میں بیٹھ کر یاد الٰہی اور عبادت میں مصروف رہتے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ؐ کچھ بیمار تھے۔صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آج کچھ بیماری کا اثر آپؐ پر نمایاں ہے۔ فرمانے لگے: ’’اس کمزوری‘‘ کے باوجود آج رات میں نے طویل سورتیں نماز تہجد میں پڑھی ہیں۔
آپؐ اس قدر لمبی نمازیں پڑھتے اور اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپؐ کے پاؤں سوج جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے ایک بار آپ ؐ سے عرض کی کہ آپ اس قدر مشقت کیوں کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کی بخشش کا اعلان فرماکر آپ کو معصوم و بے گناہ قرار دے چکا ہے تو آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ! کیا میں (اس نعمت پر) عبادت گزار اور شکر گزار انسان نہ بنوں؟
ایک رات حضرت حفصہ ؓ نے آپؐ کے بستر کی چار تہیں کردیں تو صبح آپؐ نے فرمایا: رات تم نے کیا بچھایا تھا، اسے اکہرا کردو، اس نے مجھے نماز سے روک دیا ہے۔
آپ ؐ کی نماز میں خشوع و خضوع کا یہ عالم ہوتا تھا کہ روتے ہوئے سینے سے ہنڈیا اُبلنے کی طرح آواز آتی تھی۔
قرآن کی تلاوت بھی ایک عبادت ہے۔ نبی کریمؐ کو تلاوت کلام پاک سے بھی خاص شغف تھا۔ روزانہ سورتوں کی مقررہ تعداد عشاء کے وقت تلاوت فرماتے ، پچھلی رات بیدار ہوتے تو کلام الٰہی زبان پر جاری ہوتا۔ (عموماً آل عمران کا آخری رکوع تلاوت فرمایا کرتے)۔ رات کے وقت نماز میں نہایت وجداور ذوق و شوق سے ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: کبھی پوری رات آپ قیام فرماتے۔ سورہ بقرہ،آل عمران اور سورہ نساء تلاوت کرتے۔ جب کوئی عذاب کی آیت آتی تو خدا سے پناہ طلب کرتے اور جب کوئی رحمت کی آیت آتی تو اس کے لئے دعا کرتے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/5Wwlg]

اپنا تبصرہ بھیجیں