احمدی خواتین کی عظیم الشان قربانیاں

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے 1994ء کے جلسہ سالانہ برطانیہ اور پھر جلسہ سالانہ جرمنی کے مواقع پر خواتین سے خطاب فرماتے ہوئے ایسی احمدی خواتین کے دردناک واقعات بیان فرمائے جن کے عزیز احمدیت کی خاطر شہید کردئے گئے اور ان عورتوں نے اپنے پیاروں پر ظلم ٹوٹتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور برس ہا برس اپنے اُن بچوں کے آنسو پونچھے جنہیں احمدی ہونے کی وجہ سے اذیت ناک سزائیں دی جاتی تھیں۔ لیکن اسکے باوجود وہ نہ صرف اپنے دین پر استقلال سے قائم رہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی نظام جماعت اور نظام خلافت کا ہمیشہ وفادار رہنے اور اس راہ میں ہر مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے چلے جانے کی نصیحت کی۔ حضور انور کے خطابات روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر1998ء میں شامل اشاعت ہیں۔ حضور انور نے فرمایا:
’’میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آئندہ چند سالوں میں عظیم انقلاب رونما ہونے شروع ہو جائیں گے اور ملک کے ملک اور قوموں کی قومیں انشاء اللہ احمدیت میں داخل ہوں گی لیکن آپ یاد رکھیں کہ یہ ساری باتیں ان احمدی مظلوموں کی آہوں کا ثمرہ ہیں … یہ احمدیت کے قیمتی سرمائے ہیں۔ یہ سرمائے نہیں، سرمایہ کاری ہے جس کا ہم آج پھل کھا رہے ہیں اور کل بھی کھاتے رہیں گے۔ ساری صدی اس سرمایہ کاری کا پھل کھاتی رہے گی‘‘۔
حضور انور نے ماؤں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اپنے بچوں کو، اپنی نسلوں کو ان قربانیوں کے تذکرے، قصے سناتی رہیں۔ اُنکے دلوں میں عزم پیدا کرنے کیلئے، ڈرانے کیلئے نہیں، اس حکمت کے ساتھ اور اس پورے عزم کے ساتھ کہ آپکے تذکرے انکے دل میں خوف نہیں بلکہ قربانی کیلئے ولولے پیدا کریں۔ نئے جوش سے انکو بھر دیں اور وہ اپنے آپکو ہمیشہ اس بات پر تیار پائیں کہ خدا کی خاطر دنیا کی جو سرزمین بھی خون مانگے گی وہ اپنا خون پیش کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں گے … میں یقین رکھتا ہوں، مجھے ذرہ بھی شک نہیں کہ انشاء اللہ احمدی مائیں نسلاً بعد نسلٍ ایسی مائیں بنی رہیں گی جن کے پاؤں تلے سے انکی اولادیں جنت حاصل کرتی رہیں گی۔ اللہ ان جنتوں کو دائمی کردے۔‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں