استحکام خلافت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی گرانقدر مساعی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16 فروری 2010ء میں مکرم محمد عثمان شاہد صاحب کے قلم سے ایک مضمون میں استحکامِ خلافت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی گرانقدر مساعی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر آپؑ کے جسد مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے یہ عظیم الشان اور تاریخ ساز عہد کیا تھا کہ: ’’اے خدا میں تجھ کو حاضر ناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ تو نے نازل کیا ہے مَیں اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلاؤں گا‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے پیغام کی اشاعت اور جماعت کی ترقیات و فتوحات کے لئے خداتعالیٰ کی قدیم سنت کے موافق اپنے بعد خلافت کی پیشگوئی فرمائی تھی۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے مذکورہ عہد کی تکمیل کے لئے تمکنت و اشاعت دین کے لئے پیشگوئی کے مطابق قائم اس بنیادی ذریعہ اور ادارہ یعنی خلافت کے قیام، اس کی حفاظت اور اس کے استحکام و بقائے دوام کے لئے ہر ممکن وسیلہ اختیار فرمایا اور اپنے اقوال و افعال، خطبات و تقاریر اور مضامین و تحریرات نیز عملی منصوبوں اور اقدامات کے ذریعہ احباب جماعت کے دلوں میں یہ بات میخ کی طرح گاڑ دی کہ اب تمام تر روحانی ترقیات و فتوحات، خلافت سے وابستہ ہیں۔
خلافت اولیٰ کے انتخاب کے وقت جب بزرگان جماعت نے حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ کو خلیفہ منتخب کئے جانے کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ سے مشورہ مانگا تو آپؓ نے نہایت انشراح صدر سے فرمایا: ’’حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اور حضرت مولانا ہی خلیفہ ہونے چاہئیں ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے‘‘۔
خلافت اولیٰ کے قیام کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے خلیفۂ وقت کے ساتھ کامل وفا اور اطاعت کے وہ بے مثل نمونے دکھائے کہ بارہا حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے اس نمونے پر رشک کا اظہار فرمایا ایک موقعہ پر آپؓ نے فرمایا: ’’میرے اور میاں صاحب کے درمیان کوئی نقار نہیں۔ جو ایسا کہتا ہے وہ بھی منافق ہے۔ وہ میرے بڑے فرمانبردار ہیں انہوں نے مجھ کو فرمانبرداری کا بہتر سے بہتر نمونہ دکھایا ہے وہ میرے سامنے اونچی آواز بھی نہیں نکال سکتے انہوں نے فرمانبرداری میں کمال کیا ہے‘‘۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کو خلیفہ منتخب ہوئے ابھی پندرہ روز بھی نہ گزرے تھے کہ انجمن کے بعض سرکردہ ممبران نے خلافت کے اختیارات کے متعلق سوالات اٹھانے شروع کردیئے۔ ایک موقعہ پر محترم خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں حضرت مرزا محمود احمد صاحب سے بھی یہی سوال کیا تو آپ نے جواباً فرمایا: ’’اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جبکہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جبکہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کو سن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے‘‘۔
اگرچہ خلافت اولیٰ کے سارے عرصہ میں باغیان خلافت نے منافقانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے کبھی درپردہ اور کبھی کھل کر فتنہ گری کا بازار گرم کئے رکھا لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بارعب شخصیت اور آپؓ کے چٹان جیسے عزم کے سامنے یہ لوگ بے بس نظر آئے لیکن 1910ء میں آپؓ کی علالت کے دوران ان لوگوں کی منافقانہ چالوں میں پھر سے تیزی آگئی ۔ چنانچہ اُن دنوں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ایک بار حضرت مصلح موعودؓ کو یہ کہہ کر کہ ایک ضروری مشورہ کرنا ہے آپؓ کو اپنے ہمراہ مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر لے آئے جہاں خواجہ کمال الدین صاحب اور چند دیگر افراد بھی موجود تھے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے کہ آپ کو اس لئے یہاں بلوایا ہے کہ حضرت صاحب کی طبیعت بہت ناساز اور کمزور ہے اور چونکہ ہم لوگوں کو لاہور بھی جانا ہے اس لئے چاہتے ہیں کہ کوئی بات طے ہو جائے تا فتنہ نہ ہو اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں اور آپ کے سوا ہم خلافت کے قابل اور کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کرلیا ہے، البتہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ خلافت کا فیصلہ ہمارے لاہور سے آجانے تک نہ ہونے دیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو۔
خواجہ صاحب کی اس پیشکش کے جواب میں حضرت مرزا محمود احمدؓ نے فرمایا کہ : ’’ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق تعیین کر دینی اور فیصلہ کر دینا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہوگناہ ہے میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں‘‘۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وفات پر باغیانِ خلافت نے خلافت کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے انہیں سمجھانے کی ہرممکن کوشش کی یہاں تک کہہ دیا کہ آپ لوگ خلافت کے قیام سے انکا رنہ کریں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ لوگ جس کو بھی خلیفہ مقرر کر دیں گے ہم اسی کی بیعت کرلیں گے لیکن وہ لوگ انکار پر مُصر رہے۔ لیکن جماعت کی بڑی اکثریت نے جب حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کو خلیفہ تسلیم کرلیا تو فتنہ گروں نے آپ کو ناکام کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ کبھی یہ فتنہ پیغامیوں کی صورت میں ظاہر ہوا اور کبھی مصری فتنہ کی شکل اختیار کی، کبھی یہ فتنہ مستریوں کے لباس میں نمودار ہوا اور کبھی منان، وہاب کی صورت میں اس نے چہرہ دکھلایا۔ کبھی یہ اندرونی حملوں اور فتنوں کی صورت میں دکھائی دیا اور کبھی بیرونی یلغار کی صورت میں نظر آیا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ان تمام فتنوں کا نہایت جوانمردی سے مقابلہ کیا اور خلافت کی حفاظت واستحکام کے لئے اپنی تقریر و تحریر اور عملی منصوبوں اور اقدامات کے ذریعہ دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور کسی کی مجال نہیں جو خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو ناکام کرسکے۔ ایک موقعہ پر آپؓ نے فرمایا:
’’مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور کوئی شخص نہیں جو میرا مقابلہ کرسکے اگر تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا موجود ہے جو میرا مقابلہ کرنے کا شوق اپنے دل میں رکھتا ہو تو وہ اب میرے مقابلہ میں اٹھ کر دیکھ لے خدا اس کو ذلیل اور رسوا کرے گا بلکہ اسے ہی نہیں اگر دنیا جہان کی تمام طاقتیں مل کر بھی میری خلافت کو نابود کرنا چاہیں گی تو خدا ان کو مچھر کی طرح مسل دے گا اور ہر ایک جو میرے مقابل میں اٹھے گا گرایا جائے گا جو میرے خلاف بولے گا خاموش کرایا جائے گا اور جو مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ خود ذلیل اور رسوا ہوگا‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے خلافت کی اہمیت اور اس کے عظیم الشان مقام کو احمدیوں کے دلوں میں راسخ کردیا۔ ایک موقعہ پر آپ فرماتے ہیں:
’’تم خوب یاد رکھو کہ تمہاری ترقی خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور جس دن تم نے اس کو نہ سمجھا اور اسے قائم نہ رکھا وہی دن تمہاری ہلاکت اور تباہی کا دن ہوگا۔ لیکن اگر تم اس حقیقت کو سمجھتے رہو گے اور اسے قائم رکھو گے تو پھر اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں ہلاک کرنا چاہے گی تو نہیں کرسکے گی اور تمہارے مقابلہ میں بالکل ناکام و نامراد رہے گی۔… بیشک افراد مریں گے مشکلات آئیں گی۔ تکالیف پہنچیں گی مگر جماعت کبھی تباہ نہیں ہوگی بلکہ دن بدن بڑھے گی‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے یہ نکتہ بھی سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ جسے مقام خلافت پر سرفراز فرماتا ہے اسے اپنی بے پایاں تائیدات اور نصرت سے نوازتا ہے اور اس کے بالمقابل اٹھنے والی ہر آواز دبا دی جاتی ہے۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا:
’’جس کی آنکھیں دیکھتی ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان سنتے ہوں وہ سنے کہ کیا خدا کے فضل نے ان تمام اعتراضات کو باطل نہیں کردیا جو مجھ پر کئے جاتے تھے اور کیا اس نے اسی پچیس سالہ نوجوان کو جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ وہ جماعت کو تباہ کردے گا خلیفہ بنا کر اور اس کے ذریعہ سے جماعت کو حیرت انگیز ترقی دے کر یہ ظاہر نہیں کردیا کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا خلیفہ نہیں بلکہ میرا بنایا ہوا خلیفہ ہے اور کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کرسکے‘‘۔
استحکام خلافت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کا ایک نمایاں کام صدر انجمن احمدیہ میں ضروری انتظامی تبدیلیوں کا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’آپؓ نے کس طرح انتظامی ڈھانچے بنائے۔ صدر انجمن احمدیہ کا قیام تو پہلے ہی تھا اس میں تبدیلیاں کیں ردّوبدل کی اس کو اس طرح ڈھالا کہ انجمن اپنے آپ کو صرف انجمن ہی سمجھے اور کبھی خلافت کے لئے خطرہ نہ بن سکے‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ کا انتخاب خلافت کے لئے قواعد و ضوابط مقرر کرکے مجلس انتخاب کا تقرر بھی ایک اہم قدم ہے۔اس حوالہ سے حضورؓ نے فرمایا:
’’جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے میں اس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوگا اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہوگا وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا … جماعت احمدیہ کو خدا کی خلافت سے تعلق ہے اور وہ خدا کی خلافت کے آگے اور پیچھے لڑے گی اور دنیا میں کسی شریر کو جو کہ خلافت کے خلاف ہے خلافت کے قریب بھی نہیں آنے دے گی‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے خلافت کے مقام، اس کی اہمیت، ضرورت اور برکات کو آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی زندہ رکھنے کے لئے یومِ خلافت منانے کی بھی تحریک فرمائی۔
حضرت مصلح موعودؓ نے احباب جماعت کو قرآن و حدیث کے حوالوں اور واقعات کی روشنی میں یہ سمجھادیا کہ درحقیقت خلیفہ جانشین رسول ہوتا ہے اور کامیابی و کامرانی، فتوحات و ترقیات خلافت کے ساتھ وابستگی اور اس کی اطاعت و پیروی سے مل سکتی ہیں۔
ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقلمند اور مدبر ہو اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کرسکتے پس اگر تم خداتعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہاراا ٹھنا بیٹھنا کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے خلافت سے محبت اور وابستگی کے ضمن میں یہ بات بھی سمجھائی کہ اس محبت میں خلفاء کے مابین تفریق ہرگز ہرگز جائز نہیں اور یہ تمام تر وابستگی اس مقام اور منصب کی وجہ سے ہو جس پر کوئی بھی خلیفہ فائز ہوتا ہے یعنی منصب خلافت۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’بعض لوگ میری ذات کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے میں صاف طور پر سنائے دیتا ہوں کہ محض کسی کی ذات سے تعلق رکھنے والے عموماً ٹھوکر کھایا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تو انبیاء کی صفات بھی ان کے درجہ اور عہدہ کے لحاظ سے ہی ہوتی ہیں نہ ان کی ذات کے لحاظ سے۔ پس تمہیں درجہ کی قدر کرنا چاہئے کسی کی ذات کو نہ دیکھناچاہئے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص خلافت پر اعتراض کرتا ہے۔ میں اسے کہتا ہوں کہ اگر تم سچے اعتراض تلاش کرکے بھی میری ذات پر کرو گے تو خداتعالیٰ کی تم پر لعنت ہوگی اور تم تباہ ہو جاؤ گے کیونکہ جس درجہ پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اس کے متعلق وہ غیرت رکھتا ہے۔ دراصل اس مقام کی عزت کے لئے خداتعالیٰ اس کے مخالفین کو تباہ کر دیتا ہے‘‘۔
حضرت مصلح موعود کی استحکام خلافت کے لئے کوششوں میں ایک نمایاں کام ذیلی تنظیموں کا قیام اور ان کے عہد میں اس بات کا نمایاں ذکر فرمانا ہے کہ وہ ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہیں گے۔ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے ہر قربانی کے لئے ہر دم تیار رہیں گے۔ ہمیشہ خلافت کے مطیع اور فرمانبردار رہیں گے اور اپنی اولاد کو بھی نسل درنسل خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہیں گے۔
حضرت مصلح موعودؓ کی استحکام خلافت کے لئے ان کوششوں کے نتیجہ میں آج بلاشبہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب خلافت احمدیہ کو انشاء اللہ کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اور کوئی دشمن طاقت اس کو گزند نہ پہنچا سکے گی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ryTip]

اپنا تبصرہ بھیجیں