اصحاب احمدؑ کا صبر و استقامت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31 ؍اکتوبر 2005ء میں شامل اشاعت مکرم عطاء الوحید باجوہ صاحب نے اپنے مضمون میں حضرت مسیح موعودؑ کے بعض اصحابؓ کے صبرواستقامت کا حال قلمبند کیا ہے جن میں سے حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحبؓ کا ذکرخیر ہدیۂ قارئین ہے:
خواجہ محمد اسمٰعیل صاحب درویش کا بیان ہے کہ سیٹھ شیخ حسن صاحبؓ کو کاروبار میں اتنا شدید نقصان پہنچا تھا کہ بالعموم ایسے صدمہ کی برداشت نہ لاکر تاجر خود کشی کر لیا کرتے ہیں یا حرکت قلب بند ہو کر موت واقع ہوجاتی ہے لیکن آپ پر اس نقصان عظیم کا کوئی خاص اثر معلوم نہ ہوتا تھا۔ سیٹھ صاحب ہمیشہ فرماتے تھے کہ ہماری کچھ غلطیاں ہمارے نامہ اعمال میں ہوں گی اس لئے یہ آزمائش پیش آئی۔ آپؓ آستانہ الٰہی پر جھکے رہے اور بمطابق وعدہ آپؓ پر ملائکہ کا نزول ہوا، بشارات ملیں اور آپؓ کی طبیعت میں ایک سکون اور اطمینان ودیعت ہوا۔
جب آپ رنگون تجارت کیلئے چلے گئے اور یکدم تجارت میں لاکھوں روپے کا خسارہ ہوا۔ ان دنوں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی مالیت کے بارہ دیوانی مقدمات آپ پر دائر ہوگئے۔ گھر سے فوری واپسی کیلئے تار آیا۔ آپؓ دعائیں کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ جب جہاز مدراس کی گودی میں لنگر ڈال رہا تھا تو آپؓ کی زبان پر بار بار لَاَغْلِبَنَّ لِاَمْرِیْ کے الفاظ جاری ہوئے۔ چنانچہ آپ کو کامل اطمینان ہوگیا اور اپنے بیٹے کو بھی تسلّی دی۔
مخالفین کا کہنا تھا کہ چونکہ سیٹھ صاحبؓ نے جھوٹے سلسلہ کی خاطر مال و دولت خرچ کی اس لئے ان کا گھر برباد ہوگیا۔ چنانچہ ایک دفعہ جمعہ کے بعد آپؓ نے مسجد احمدیہ یادگیر میں کہا کہ لوگ میرے خسارہ کو دیکھ کر باتیں کرتے ہیں۔ میں مسجد میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بار بار بتایا ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ تجارت کی حالت پہلے جیسی نہ ہوجائے۔
اس ابتلاء میں آپ کے یہ اوصاف بھی اجاگر ہوئے کہ باوجود وکلاء کی تلقین کے آپ نے جھوٹ بولنے سے انکار کیا اور راستبازی و راست گفتاری کا دامن نہ چھوڑا جو بہت ہی مشکل امر تھا۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 1930ء میں آپؓ نے خسارہ کی وجہ سے دو لاکھ روپیہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ 1934ء میں آپؓ نے تحریر کیا کہ گزشتہ تین سال میں میرا تین لاکھ روپیہ کا نقصان ہوا ہے جبکہ ایک لاکھ روپیہ کاروبار میں لگا ہوا ہے اور اتنا ہی میرے ذمہ قرض ہے۔ 1936ء میں تحریر کیا کہ اب آمد دوصد روپیہ ماہوار بھی نہیں رہی۔ 1940ء میں آپؓ پرنوے ہزار روپے کے مقدمات دائر ہوئے۔ وکلاء کا خرچ علیحدہ۔ صرف ساٹھ روپے آپ گھر کے اخراجات کے لئے لیتے تھے کیونکہ گزشتہ سال کے کاروبار میں صرف دس ہزار روپیہ کی بچت ہوئی تھی جو رقوم مقدمات وغیرہ کے بالمقابل کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا۔
ایک شخص نے آپ سے ایک تیل نکالنے کی مشین (Oil Mill) کا اکیس ہزار میں سودا کر لیا۔ مشین پون لاکھ کی مالیت کی تھی۔ سودے کا علم پاکر آپ کے بہی خواہوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ ہزار سر پٹخے۔ متعدد اور قانوناً جائز راہیں بتائیں۔ گو کہ اس تباہ حالی میں مزید نقصان آپؓ کو بربادی کے اتھاہ گڑھے میں گرادینے اور آپؓ کو زندہ درگور کرنے کے مترادف تھا لیکن آپ نے پورے سکون و انشراح سے کہا کہ میں زبان کر چکا ہوں، سودا ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس کی مافی الصدور پر نظر ہوتی ہے، یہ ادا ایسی بھائی کہ اس نے اس قلیل رقم کو ہی بہت با برکت بنا دیا۔ آپ یہی قلیل رقم لے کر بہت سے مقامات پر مقدمات کرنے والوں کے پاس گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر ایسا تصرف کیا کہ انہوں نے رقومات متدعویہ سے کم رقوم لے کر مقدمات ختم کردیئے اور اس رقم سے بارہ مقدمات نپٹ گئے۔ آپ کا بارہ سالہ صبرو استقلال بے ثمر نہ رہا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے عمر دراز عطا کی اور وفات کا حادثہ اس وقت پیش آیا جبکہ نہ صرف مقدمات ختم اور قرضے بے باق ہوچکے تھے بلکہ آپ کے ورثاء کے لئے بھی پریشانی کا کوئی سامان باقی نہ رہا تھا۔ کاروبار کی حالت اچھی ہوگئی تھی۔ علاوہ ازیں آپ نے ان کے لئے کافی جائیداد ترکہ میں چھوڑی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Y1KXB]

اپنا تبصرہ بھیجیں