’’الحافظون‘‘ کی دوسری سالانہ تقریب

’’الحافظون‘‘ کی دوسری سالانہ تقریب
(رپورٹ:ناصر پاشا)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن 29 نومبر 2002ء)

سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے ارشاد فرمودہ 7؍مئی 2000ء کے تحت ستمبر 2000ء میں برطانیہ میں احمدی بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید حفظ کروانے کے لئے ایک کلاس کا آغاز کیا گیا تھا جس کا نام ’’الحافظون‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس کلاس کی دوسری سالانہ تقریب بتاریخ 29؍ستمبر 2002ء بروز اتوار مسجد بیت الفتوح مورڈن میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی مکرم نواب منصور احمد خان صاحب وکیل التبشیر تحریک جدید ربوہ تھے۔
تقریب کا آغاز مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر یو۔کے۔ کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم عطاء الرازق نے کی۔ آیات کریمہ کا ترجمہ عزیزہ کائنات راحیل سید نے پیش کیا۔ اس کے بعد الحافظون کے چھوٹے بچوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی نظم ’’نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلیٰ نکلا‘‘ ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعد ازاں کلاس کے سینئر اور جونیئر بچوں کے درمیان حفظ قرآن کا ایک دلچسپ مقابلہ ہوا جس کے لئے نصاب 29واں پارہ تھا۔
اس تقریب میں مکرم حافظ فضل ربی صاحب انچارج الحافظون نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال قبل جب اس کلاس کا آغاز کیا گیا تھا تو شریک ہونے والے بچوں نے قرآن مجید کے حفظ کا آغاز تیسویں پارہ کی چھوٹی چھوٹی سورتوں سے کیا تھا لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی بچے اپنے سکول کی کُل وقتی پڑھائی کے باوجود 60 سورتیں مکمل حفظ کرچکے ہیں جن میں قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت ’’سورۃالبقرہ‘‘ (40؍رکوع) اور سورۃ آل عمران (20؍رکوع) بھی شامل ہیں۔
حفظ کے طریق کار کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چونکہ برطانوی قانون کے مطابق سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لئے سکول جانا ضروری ہے اس لئے کُل وقتی حفظ کلاس کا اجراء ممکن نہیں تھا تاہم جُزوقتی کلاس کا آغاز Distance Learning کے طریق پر کیا گیا جس کے مطابق بچے اپنے والدین کی نگرانی میں بتائے ہوئے طریقہ کار کے مطابق اپنے اپنے گھروں میں تیاری کرتے ہیں۔ آغاز میں بچوں کی کارکردگی کا ہفتہ وار جائزہ مقررہ وقت پر بذریعہ فون لیا جاتا تھا لیکن بعد میں جدید سہولتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ستمبر 2001ء سے انٹرنیٹ پر اس کلاس کا آغاز کیا گیا جو اب ہفتہ میں دو بار باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہے۔ بچے اپنے اپنے گھروں میں اپنے والدین کی نگرانی میں مقررہ وقت پر اس کلاس میں شامل ہوجاتے ہیں اور بالکل ایک کلاس کے ماحول میں سب سے پہلے نیا
حفظ شدہ سبق سناتے ہیں اور پھر باری باری اپنی منزل سناتے ہیں۔ ساتھ ساتھ اُن کی غلطیوں کی نشاندہی کروا کر درستی کروا ئی جاتی ہے۔ بچوں اور اُن کے والدین کی آسانی کی خاطر پورے ماہ کا مکمل شیڈول شروع میں ہی میں دے دیا جاتا ہے جس سے سب کو یہ علم رہتا ہے کہ کس تاریخ کو کونسا پارہ بطور منزل سنا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک ماہوار کلاس مسجد بیت الفتوح مورڈن میں منعقد ہوتی ہے جس کا دورانیہ قریباً چھ گھنٹے ہے۔ اس میں برطانیہ میں مقیم تمام بچے اپنے والدین کے ہمراہ شامل ہوتے ہیں تاہم جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم کیلئے سہولت رکھی گئی ہے کہ وہ ہر تین ماہ بعد ماہانہ کلاس میں شامل ہوجایا کریں۔
مکرم حافظ صاحب نے مزید بتایا کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک سال کے دوران اب تک
86؍ کلاسز منعقد ہوچکی ہیں جن کا دورانیہ مجموعی طور پر 215؍ گھنٹے بنتا ہے۔ حفظ القرآن پروگرام میں والدین خصوصاً مائیں بھرپور تعاون کی وجہ سے شکریہ اور دعاؤں کی مستحق ہیں۔ اس ادارہ کا ایک نمایاں فائدہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الحافظون کے طلبہ کے والدین خصوصاً بچوں کی مائیں، کلاس انچارج کی نگرانی میں، تعلیم القرآن کی بہترین بااعتماد ٹیچر بن رہی ہیں اور تیسواں پارہ خود بھی حفظ کر رہی ہیں۔
اس کے بعد مہمان خصوصی مکرم نواب منصور احمد خان صاحب وکیل التبشیر تحریک جدید ربوہ نے بچوں میں انعامات تقسیم کئے۔
آخر میں مکرم امیر صاحب یوکے نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کی عمدہ کارکردگی پر اظہار خوشنودی فرمایا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو ہر پہلو سے دین و دنیا کی نعمتیں عطا فرمائے اور جماعت کی نمایاں خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ الحافظون کے تمام طلباء حضرت امیر المومنین خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی جاری فرمودہ تحریک وقف نو میں شامل ہیں۔
تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا جو مکرم نواب منصور احمد خانصاحب نے کروائی۔
اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ الحافظون کے بچوں اور بچیوں کے ذہنوں کو روشن فرمائے، انہیں مکمل قرآن مجید کے حفظ کرنے ، اسے قائم رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں