اندھیرا روشنی سے ڈر رہا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 11؍ اگست 2009ء میں شامل اشاعت مکرم چوہدری محمد علی صاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

اندھیرا روشنی سے ڈر رہا ہے
مگر سورج کا چرچا کر رہا ہے
مبارک ہو ہمیں الفت کا الزام
یہ سہرا بھی ہمارے سر رہا ہے
یہی زندہ رہے گا درحقیقت
جو لمحہ مسکرا کر مر رہا ہے
چھلک جائے گا وقت آنے پہ مضطرؔ!
یہ برتن قطرہ قطرہ بھر رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں