انسانی رویوں کا عکس – جدید تحقیق کی روشنی میں

انسانی رویوں کا عکس – جدید تحقیق کی روشنی میں
(محمود احمد ملک)

انسانی رویوں کا ذکر نفسیات کی کتابوں میں بڑی تفصیل سے ملتا ہے- کیونکہ ان رویوں کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں- کسی کے مخصوص رویے کو سمجھنے کے لئے اگر تھوڑا سا غور کرلیا جائے تو زیادہ آسانی سے حالات کو سنبھالا جاسکتا ہے- اس حوالے سے درج ذیل تحقیقی رپورٹس ملاحظہ فرمائیں:
٭ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے انسانی جذباتی اثرات اور کیمیائی مادے سیروٹونن کے درمیان موجود تعلق کا پتہ لگایا ہے۔ سیروٹونن ایک بائیوکیمیائی مادہ ہے جو اعصابی خلیات کے درمیان پیغام کو گزرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس طرح براہ راست انسانی فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کھانے کی کمی دماغی کیمیائی مادے سیروٹونن کی سطح کم کردیتی ہے۔ اور چونکہ یہ مادہ غفلت سے کام لینے کے انسانی رویے کو روکتا ہے چنانچہ اس کی کمی انسانی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ نتیجۃً یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد کے فیصلے بھوک کے احساس کے وقت کئے جانے والے فیصلوں سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ کیمیائی مادہ سیروٹونین کا تعلق چونکہ انسانی مزاج سے ہے اس لئے یہ جذبات کی آمد اور اُن کے اظہار میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ماہر نفسیات مولی کروکٹ اور اُن کے ساتھیوں نے اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ اگرچہ عصبی ہیجان میں سیروٹونن کا انتہائی مختصر کردار متنازعہ ہے تاہم یہ ایسی پہلی تحقیق ہے جس نے درحقیقت سیروٹونین اور جارحانہ ردّعمل میں ایک عارضی رابطے کی موجودگی کی نشاندہی کردی ہے۔ تحقیق سے اس عمل کی بھی وضاحت ملتی ہے جب بھوک کے دوران کچھ لوگ کیوں اچانک غصے اور لڑائی پر اُتر آتے ہیں۔ جس کی وجہ یہی ہے کہ جسم کو سیروٹونین بنانے کے لئے جن لازمی امینوایسڈز کی ضرورت ہوتی ہے وہ صرف خوراک لینے سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
٭ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خود پر اور اپنے جذبات پر قابو رکھنے سے متعدد بیماریوں سے نجات ملتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر ہاورڈ فریڈمین نے اپنی اس تحقیق کے دورا ن مشاہدہ کیا کہ تحمل ،بردباری، عزم اور حوصلے والے لوگوں کی زندگی بہتر، طویل اور پُرسکون ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نفسیاتی تجزیے سے انسانی عمر کے بارے میں درست پیشگوئی کی جاسکتی ہے اور صحت کے بہتر معیار میں رویے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیز شادی، روزگار اور دیگر معاملاتِ زندگی کسی فرد کی صحت کو خراب یا درست کرنے میں نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں 8 ہزار 900 افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا جن کا تعلق امریکہ، کینیڈا، جاپان، جرمنی، ناروے اور سویڈن سے تھا۔
٭ طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں جارحانہ رویے کی ایک بڑی وجہ ٹیلی ویژن دیکھنے کی عادت ہے۔ امریکہ کے 20 شہروں میں3ہزار 128 ماؤں کے بچوں کا 1998ء سے 2000ء تک ایک خاص سطح پر مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ دیر تک ٹیلی ویژن دیکھا جاتا ہے جارحانہ رویے میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/rrsLY]

اپنا تبصرہ بھیجیں