انگلستان کا پادری سمتھ پگٹ

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا مارچ و اپریل 2010ء میں انگلینڈ کے خدائی کے جھوٹے دعویدار سمتھ پگٹ (John Hugh Smyth-Pigott) کے بارہ میں مکرم طاہر اعجاز صاحب کا ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پگٹ کو اُس کے دعویٰ کی بنیاد پر 1902ء میں متنبّہ فرمایا تھا کہ وہ دروغگوئی سے باز آجائے۔
پگٹ1852ء میں پیدا ہوا۔ کچھ عرصہ ملاح اور فوجی کے طور پر زندگی بسر کرنے کے بعد وہ مذہبی تعلیمات میں دلچسپی لینے لگا اور آخرکار 1882ء میں چرچ آف انگلینڈ کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔ تاہم ایک عرصہ تک وہ اپنی پوزیشن سے مطمئن نہیں تھا اس لئے آخر چرچ کو ترک کرکے آئرلینڈ کی Salvation Army میں شامل ہوگیا۔ 1897ء میں اُس نے ایک ایسے مذہبی گروپ (Cult) میں شمولیت اختیار کرلی جو انگلینڈ کے شہر Somerset میں ایک پادری ہینری جیمز پرنس نے قائم کیا تھا اور اس کے عقائد میں عیسائیت کے عقائد کے ساتھ کچھ دیگر رسوم بھی شامل شامل تھیں۔ اس گروپ کے ارکان کی تعداد ایک سو کے قریب تھی جس میں زیادہ تعداد غیرشادی شدہ تعلیم یافتہ خواتین کی تھی۔ اس گروپ نے ایک بڑا گھر اپنے مرکز کے طور پر حاصل کیا جس کا نام Agapemone رکھا گیا۔ یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “Abode of Love”۔
پادری سمتھ پگٹ نے اس گروپ میں ہر اتوار کو خطبات دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ وہ ایک بہت اچھا مقرر تھا اور اسی وجہ سے اُس کے خطبات بے حد مقبول تھے۔ چنانچہ ایسے بھی لوگ باقاعدگی سے اُس کے خطبات سننے وہاں آیا کرتے تھے جو گروپ کے باقاعدہ رکن نہیں تھے۔ اس سے قبل 1892ء میں پادری ہینری پرنس نے لندن میں پگٹ کے لئے ایک چرچ تعمیر کروایا تھا جس کا نام Ark of the Covenant” یعنی ’’محبت کا مسکن‘‘ رکھا گیا تھا۔
اس گروپ کا ایک رواج یہ بھی تھا کہ مرد (خواہ وہ شادی شدہ ہوں) وہ ایک روحانی دلہن رکھ سکتے تھے۔ اگرچہ بعد میں یہ تعلقات بڑھ کر روحانیت سے کہیں دُور نکل جاتے۔
پادری ہینری پرنس اپنے چرچ میں مسیح کی آمد ثانی کے جلد ہی ظہور کے بارہ میں اکثر ذکر کرتے ہوئے امکان ظاہر کرتا کہ شاید مسیح اسی چرچ میں نازل ہو۔ تاہم 1899ء میں اُس کی وفات کے بعد پگٹ کے خطبوں میں یہ انداز یوں بدل گیا کہ اُس نے یہ تأثر دینا شروع کیا کہ شاید مسیح اسی چرچ میں موجود ہے۔ وہ چرچ میں آنے والوں کو اپنے آئندہ دعویٰ کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔ آخر ستمبر 1902ء میں اُس نے اُس نے مسیحیت کا دعویٰ کردیا۔ اُس نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کا وہی بیٹا اور مسیح ہے جو جنت میں بھیجا گیا تھا۔ پھر وہ ایک تخت بنواکر اُس پر بیٹھا اور بڑے تکبر سے آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ خدا وہاں نہیں ہے بلکہ (اپنی طرف اشارہ کرکے) یہاں ہے۔
اُس کے دعویٰ کو اخبارات نے بھی اچھالا جس کے نتیجہ میں ایک کثیر تعداد نے اُس کو عیسائیت کے عقائد سے بغاوت کا مجرم قرار دیا۔ اُس کے خلاف نفرت کا ایسا مظاہرہ ہوا کہ اُس کو اپنی جان بچانے کے لئے پولیس کا سہارا لینا پڑا۔ آخر اُس کو پابند کردیا گیا کہ وہ عوامی سطح پر اپنے عقائد کا اظہار نہ کرے البتہ صرف اپنے پیروکاروں کو تبلیغ کرسکتا ہے جو اُس کے مرکز واقع Somerset میں آئیں۔ انسائیکلوپیڈیا کے ایڈیشن برائے 1911ء میں لکھا ہے کہ پگٹ اپنے مرکز ’’مسکن محبت‘‘ تک محدود ہوگیا اور اُس کا انٹرویو کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔
ملفوظات سے علم ہوتا ہے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو جب پگٹ کے دعویٰ کا علم ہوا تو آپ نے اکتوبر 1902ء میں اُسے لکھا کہ کہ وہ سچے مسیح کو قبول کرلے جو انڈیا میں آچکا ہے۔ جس کے جواب میں پگٹ کی طرف سے قادیان میں کچھ لٹریچر بھی بھجوایا گیا۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پگٹ کو چیلنج دیا کہ وہ اپنے عقائد سے توبہ کرلے ورنہ اُس کی زندگی میں اُس پر خدا کی لعنت پڑے گی۔
چنانچہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈوئی کے برعکس پگٹ اپنے دعویٰ سے پھر گیا اور عملاً گویا پسپائی اختیار کرلی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈوئی کی طرح پگٹ کی موت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کی حالت میں آپؑ کی زندگی میں نہیں ہوئی۔ تاہم اُسے دنیاوی لعنتوں کا مظہر یوں بننا پڑا کہ 1905ء میں پگٹ کے ایک ناجائز بچے کا علم ہوا جس کے بعد دو مزید بچے بھی پیدا ہوئے۔ 1908ء میں ان بچوں کے سکینڈل کو بہت شہرت ملی۔ اور بدنامی کے نتیجہ میں پگٹ کے cult کے اراکین کی تعداد برائے نام رہ گئی۔ اس کی وجہ سے مالی حالات بھی بگڑ گئے اور عملاً پادری سمتھ پگٹ ایک بھولی بسری یاد کی طرح ہوگیا۔ تاہم اس cultکا آخری رکن 1950ء کی دہائی میں اس دنیا کو خیرباد کہہ گیا اور یہ cult ہمیشہ کے لئے صفحۂ ہستی سے مٹ گیا۔
پادری سمتھ پگٹ کی ایک پوتی Kate Barlow کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں مقیم ہے۔ اُس نے “Abode of Love” کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں cult کی تعلیمات اور متفرق حالات اور پھر اس کے انجام کا ذکر ہے۔ مصنفہ بھی اس cult کی باقیات کے ساتھ ہی پروان چڑھی تھی اور کتاب میں اُس نے اپنے مخصوص زاویۂ نگاہ سے اپنے احساسات کو قلمبند کیا ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ Kate Barlow کے ساتھ میرا رابطہ رہ چکا ہے اور اُسے احمدیت کے حوالہ سے پگٹ کے بارہ میں پیشگوئی اور دیگر امور بیان کئے گئے ہیں تاہم میرا خیال ہے کہ ماضی میں اپنے ذاتی تجربات کے نتیجہ وہ مذہب سے ہی دلبرداشتہ ہوچکی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X