اور مسجد تعمیر ہوگئی

ماہنامہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ اگست 2006ء میں حضرت مولوی محمد حسین صاحبؓ سبز پگڑی والے کا بیان فرمودہ ایک واقعہ (مرسلہ: مکرم انصر حسین صاحب ) شائع ہوا ہے۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ :نگلہ گھنو میں جہاں ہم نماز پڑھتے تھے وہ دُور سے چوپال ہی معلوم ہوتی تھی۔ ایک دن میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر اس کے مینار بن جائیں اور مسجد کے صحن میں کنواں اور غسل خانہ وغیرہ بن جائے تو یہ دُور ہی سے مسجد معلوم ہوگی۔ میں نے اس بارہ میں حضورؓ کی خدمت میں لکھا تو حضورؓ نے جواباً فرمایا کہ بہت جلد خرچ کا اندازہ لگا کر اطلاع دو۔ میں نے حضورؓ کو لکھا کہ میری منشاء یہ ہے کہ حضور صرف دس یا بیس روپے تبرکاً بھیج دیں، باقی جو خرچ آئے گا وہ انہیں لوگوں سے لے کر پورا کیا جائے تا کہ انہیں بعد میں اس کی مرمت اور آبادی کا خیال رہے۔ حضورؓ نے میری تجویز کو مناسب سمجھا اور بیس روپے روانہ فرما دیئے۔ میں نے دس روپے اپنی جیب سے ڈال کر سب سے پہلے مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا کنواں بنوایا اور پھر گاؤں کے احباب کو جمعہ کی نماز کے بعد اکٹھا کر کے چندہ وصول کیا۔ کسی نے پانچ روپے دیے اور کسی نے یہ کہا کہ ہم اپنی گاڑیوں پر اینٹیں لے آئیں گے اور غریبوں نے کہا کہ ہم مزدوری کریں گے۔ رئیس جان محمد نے کہا کہ میں پچیس روپے اپنے گھر کی طرف سے دون گا۔ میں نے کہا کہ آپ کے گھر سے یک صد روپیہ پورا کرنا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ پھر میں کچھ بھی نہیں دیتا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ سے یک صد روپیہ ہی وصول کرونگا ورنہ میں دوسرے دیہات کے احباب سے مسجد کے لئے مانگ لاؤں گا۔ غرضیکہ وہ روپیہ دینے سے انکاری ہوگیا اور قدرے دل سے ناراض بھی۔ مگر میں جانتا تھا کہ یہ امیر آدمی ہے زیادہ پیسے بھی دے سکتا ہے۔ ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ نصف شب کے قریب جان محمد کی اہلیہ آئیں اور دروازے پر دستک دے کر اونچی آواز سے کہنے لگیں کہ جلدی میرے ساتھ گھر چلیں، مظفر کے ابا کا سانس بند ہورہا ہے۔ میں وضو کر کے اس کے ساتھ گیا۔ دیکھا تو نبض کمزور ہے سانس رکا ہوا ہے غرضیکہ نزع کا سا عالم طاری تھا۔ میں نے کٹورے میں پانی منگوایا۔ اس وقت وہاں گاؤں کے سب لوگ جمع تھے۔ میں نے اس پانی پر دعا پڑھ کر اس پر پھونکا اور دل میں دعا کی کہ مولا کریم! تو عزیز بھی، تو حکیم بھی اور شافی بھی ہے۔ تو اگر اس پانی میں ہی شفا رکھ دے تو تیرا گھر بن جائے گا۔ میں نے چمچ سے پانی اس کے منہ میں ڈالا اور پانی خود بخود راستہ بناتا ہوا حلق سے اترگیا۔ سانس چلنے لگا۔ میں نے ایک چمچ پانی اور ڈالا وہ بھی جلد ہی حلق سے اُتر گیا۔ پھر تیسرا چمچ ڈالا وہ بھی بلا روک اتر گیا۔ اب سانس درست ہونے لگا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ پھر درود پڑھ کر دعا کی اور وہ بھی اسی چمچ سے پلایا ابھی چھٹا چمچ ہی اس کے منہ میں ڈالا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو میری طرف اشارہ کر کے کہا انہیں سو روپیہ دیدو۔ گاؤں کے سب لوگ اس بات پر حیران ہوگئے کہ خدا تعالیٰ نے صرف پانی سے ہی شفا دیدی۔ اس کی بیوی نے سو روپے گن کر میرے سامنے رکھ دیئے۔ میں نے نمبردار بھجو خان کو کہا کہ اپنے پاس رکھ لو۔ اس نے مسکرا کر روپے اٹھا لئے۔ وہاں کے تمام لوگ خوش بیٹھے تھے اور مریض نے آہستہ آہستہ باتیں کرنا شروع کردیں لیکن یہ کہہ کر کہ ابھی آرام کرو اس کو روک دیا۔ وہ مجھے اپنے پاس سے اٹھنے نہ دیتا تھا۔ میں نے دس روپے مریض کی بیوی اور پانچ روپے اس کی بہو سے بھی وصول کئے اور نمبردار کو دیدیئے۔ فجر کے وقت مسجد میں نمازی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ سب سن لو بھائی ہمارے مولوی صاحب جو بات کہا کریں مان لیا کرو۔ دیکھ لو اللہ میاں گلے سے پکڑ کر مولوی صاحب کی بات پوری کروادیتا ہے۔ بہرحال اللہ کے فضل سے ہماری مسجد مکمل ہوگئی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/UlVb6]

اپنا تبصرہ بھیجیں