آدمی کی قیمت

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ فروری 2006ء میں ایک خوبصورت حکایت بیان کی گئی ہے کہ ایک دفعہ کسی عقلمند سے ایک نوجوان نے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ عقلمند نے نوجوان کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: سچ۔ نوجوان نے معصومیت سے جواب دیا: جی ہاں۔
عقلمند نے کہا: میرا ایک دوست تاجر ہے۔ وہ انسانی آنکھوں کا خریدار ہے، تمہاری دونوں آنکھوں کے بدلہ میں بیس ہزار تو دے ہی دے گا۔ وہ ہاتھ بھی خریدتا ہے، دونوں ہاتھوں کے پندرہ ہزار تو آسانی سے مل جائیں گے۔
نوجوان نے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے انکار میں سر ہلایا تو عقلمند بولا: وہ پیر بھی خریدتا ہے، دونوں پیروں کے دس ہزار فوراً لے لو۔
نوجوان گھبراکر کھڑا ہوگیا، غصہ سے چہرہ سرخ تھا۔ وہ بولا: مجھے آپ سے ایسی امید نہ تھی۔ لیکن عقلمند نے کہا: مَیں تم سے پھر کہتا ہوں کہ اگر مالدار بننا ہے تو ایک لاکھ میں سارا جسم بیچ ڈالو، وہ تاجر ان اعضاء سے دوائیں بنائے گا اور اتنی رقم خوشی سے دیدے گا۔
نوجوان نے غصہ سے کہا: ایک لاکھ تو کیا مَیں ایک کروڑ میں بھی اپنا جسم نہیں بیچوں گا۔
عقلمند نے مسکراکر جواب دیا کہ جو شخص ایک کروڑ میں اپنا جسم نہیں بیچ سکتا، وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے!!۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/0o4ew]

اپنا تبصرہ بھیجیں