آنحضرتﷺبحیثیت ایک شفیق باپ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍ مارچ 2004ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے آنحضرتﷺ کی سیرت کے حوالہ سے آپؐ کے ایک شفیق باپ ہونے پر روشنی ڈالی ہے۔
آپؐ کی بعثت اس دَور میں ہوئی جب ہر قسم کے انسانی حقوق پامال کئے جا رہے تھے۔اگر کچھ بچے افلاس کی وجہ سے پیدائش سے قبل ہی قتل کر دئیے جاتے تھے تو بعض قبائل میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا۔ آپؐ نے اولاد کے عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق قائم کیا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’اپنی اولاد کی بھی عزت کیا کرو اور ان کی عمدہ تربیت کرو‘‘۔ نیز فرمایا کہ ’’والد کا اولاد کے لئے حسن تربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا‘‘۔
آپؐ نے کبھی تربیت کی خاطر بچوں کو سزا نہیں دی۔ بلکہ محبت اور دعا کے ذریعہ ہی ان کی تربیت کی۔قرآنی ہدایت کے مطابق اولاد کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہونے کی دعا بھی کرتے تھے اور دلی محبت کے جوش سے ان کی تربیت فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ؐاپنے بچوںکو پیار سے چوم رہے تھے کہ ایک بدوی سردار نے کہا میرے دس بچے ہیں میں نے تو کبھی کسی کو نہیں چوما۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہو تو میں کیا کرسکتا ہوں۔
ایک دفعہ ایک صحابی نے اپنے بیٹے کو کوئی قیمتی تحفہ دیا اور رسول کریمؐ کو اس پر گواہ بنانے کے لئے حاضر ہوا۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا سب بچوں کو ایسا ہی ھبہ کیا ہے۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ آپؐ نے فرمایا پھر ظلم کی اس بات پر میں گواہ نہیں بن سکتا۔ یوں آپؐ نے عدل فی الاولاد کا سبق دیا۔
رسول کریمؐ کی زندہ رہنے والی اولاد حضرت خدیجہؓ کے بطن سے چار بیٹیاں تھیں جو بالترتیب حضرت زینب ؓ، حضرت رقیہ ؓ، حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہ الزھرائؓ ہیں۔ حضرت خدیجہؓ سے بیٹے بھی ہوئے جن کے نام قاسم، طاہر، طیب، عبداللہ ہیں۔ صاحبزادہ قاسم کی نسبت سے آپؐ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے صاحبزادہ ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔ رسول کریمﷺ نے تمام اولاد کی پرورش اور اعلیٰ تربیت کے حق ادا کئے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت زینبؓ نے اپنی والدہ حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔
حضرت زینبؓ کی شادی مکہ ہی میں حضورؐ کے دعویٰ سے قبل حضرت خدیجہؓ کے بھانجے ابو العاص سے ہو گئی تھی اس لئے حضرت زینبؓ مدینہ ہجرت نہ کر سکیں۔غزوۂ بدر میں ابوالعاص کفار مکہ کی طرف سے شامل ہو کر قید ہوئے تو حضرت زینبؓ نے حضرت خدیجہؓ کا اپنی شادی پر تحفے میں ملنے والا ہار فدیہ کے طور پر بھجوایاجسے دیکھ کر آپؐ کا دل بھر آیا اور آپؐ کی خواہش پر ابوالعاص کو فدیہ لئے بغیر اس شرط پر قید سے آزاد کر دیا گیا کہ وہ حضرت زینب ؓ کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دیدیں گے۔ ابوالعاص نے تو حضرت زینبؓ کو مدینے جانے کی اجازت دیدی لیکن کفار مکہ کو پتہ چلا تو انہوں نے تعاقب کیا اور ایک مشرک ھباربن اسود نے حضرت زینبؓ کی اونٹنی پر حملہ کرکے انہیں نیچے گرا دیا جس سے ان کا حمل ساقط ہو گیا۔ اس پر رسول کریمﷺ نے حضرت زیدؓ کو اپنی ایک خاص انگوٹھی نشانی کے طور پر دے کر مکہ بھجوایا۔ حضرت زیدؓ نے چرواہے کے ذریعے وہ انگوٹھی حضرت زینبؓ تک پہنچا دی اور اسی رات حضرت زینبؓ حضرت زیدؓ کی معیت میں اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ آئیں۔ ان کے مدینہ پہنچنے پر رسول کریمﷺ نے فرمایا میری اس بیٹی نے میری وجہ سے بہت دکھ اٹھائے ہیں یہ باقی بیٹیوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
ہجرت مدینہ کے بعد نبی کریمؐ نے صاحبزادی ام کلثومؓ کو مدینہ بلوانے کیلئے حضرت زید بن حارثہؓ اور ابو رافع ؓ کو دو اونٹ اور پانچ صد درہم دے کر مکہ بھجوایا جو حضورؐ کی صاحبزادی کو مدینہ لے آئے۔
نبی کریمﷺ اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے داماد ابولعاص کے حسن سلوک کی تعریف فرماتے تھے کہ اس نے وعدہ کے مطابق میری بیٹی کو میرے پاس مدینہ بھجوا دیا۔ اسی زمانہ میں جب شام سے واپسی پر ابوالعاص کے تجارتی قافلہ پر مسلمانوں کے دستے نے حملہ کر کے ان کے مال پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے مدینہ آکر حضرت زینبؓ سے پناہ چاہی۔ ہر چند کہ ابوالعاص کے حالت شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے حضرت زینبؓ سے جدائی ہو چکی تھی لیکن ان کے احسانات کے عوض حضرت زینبؓ نے ان کی امان کا اعلان کر دیا۔ رسول کریمؐ نے (جنہوں نے کبھی کسی مسلمان عورت کی امان رد نہیں فرمائی) حضرت زینبؓ کی امان نہ صرف قبول فرمائی بلکہ ابو العاص کا سارا مال بھی انہیں واپس کر دیا۔ اس احسان کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو العاص نے مکہ جاکر قریش کی امانتیں واپس کیں اور مسلمان ہونے کا اعلان کر کے مدینہ آگئے۔
نبی کریمؐ نے ابوالعاص بن ربیع کے اسلام قبول کرنے پر حضرت زینبؓ کو چھ سال بعد سابقہ نکاح پر ہی اُن کے عقد میں دیدیا۔
دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ کا نکاح نبی کریمؐ نے اپنے بہت عزیز صحابی حضرت عثمانؓ بن عفانؓ سے فرمایااور نصیحت فرمائی کہ عثمانؓ کا خاص خیال رکھنا وہ اپنے اخلاق میں دیگر اصحاب کی نسبت میرے زیادہ مشابہ ہیں۔ نبی کریمؐ نے اپنی ایک لونڈی ام عیاش کو بطور خادمہ حضرت رقیہ ؓ کی شادی کے وقت گھریلو کام کاج میں مدد کیلئے ساتھ بھجوادیا۔
غزوہ بدر کے موقع پر رقیہ ؓ بیمار ہو گئیں تو نبی کریمؐ نے حضرت عثمانؓ کو اُن کی تیمارداری کے لئے مدینہ رہنے کی ہدایت فرمائی اور بدر میں فتح کے بعد مال غنیمت سے اُن کا حصہ بھی نکالا۔
حضرت رقیہ ؓ کی وفات 2ھ میں ہوئی۔ حضورؐ کو ا ن کی وفات کا بہت صدمہ تھا اور آپؐ ان کی قبر کے پاس بیٹھے آنسو بہا رہے تھے۔ رسول کریمؐ اپنی صاحبزادی فاطمہؓ کو لے کر بھی حضرت رقیہ ؓ کی قبر پر آئے تو فاطمہ ؓ قبر کے پاس رسول کریمؐ کے پہلومیں بیٹھ کر رونے لگیں۔ رسول اللہؐ دلاسا دیتے ہوئے اپنے دامن سے ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔
صاحبزادی رقیہ ؓ کی وفات پر رسول اللہؐ نے اپنی بیٹی ام کلثومؓ بھی حضرت عثمانؓ سے بیاہ دی۔ پھر تیسرے دن آپؐ اُم کلثومؓ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آپؐ نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ عرض کی بہترین شوہر۔ آپؐ نے فرمایا: بے شک تمارے شوہر لوگوں میں سب سے زیادہ تمہارے جد امجد ابراہیم ؑ اور تمہارے باپ محمدؐ سے مماثلت رکھتے ہیں۔
حضرت زینبؓ کی وفات 8ھ میں ہوئی۔ نبی کریمؐ نے خواتین کو ان کے غسل اور تجہیز وتکفین کے لئے خود ہدایات فرمائیں۔ اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا کہ یہ چادر اُن کو بطور زیر جامہ پہناؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنانا۔ نیز فرمایا کہ اسے دائیں پہلو سے اور وضو کی جگہوں سے غسل شروع کرنا۔
حضرت زینبؓ کی وفات پر حضورؐ ان کی قبر میں اترے آپؐ غم زدہ تھے۔ جب حضورؐ قبر سے باہر نکلے تو غم کا بوجھ کچھ ہلکا تھا۔ فرمایا میں نے زینبؓ کی کمزوری کو یاد کر کے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! اس کی قبرکی تنگی اور غم کو ہلکا کر دے، تو اللہ نے میری دعا قبول کر لی اور اس کیلئے آسانی پیدا کر دی۔
حضرت ام کلثوم ؓ 9ھ میں فوت ہوئیں حضورؐ نے تہہ بند، قمیص، اوڑھنی اور اوپر کا کپڑا عطا فرمایا۔ غسل کے وقت رسول کریمؐ دروازہ کے پاس کھڑے تھے۔ آپؐ کے پاس سارے کپڑے تھے اور آپؐ باری باری پکڑا رہے تھے۔ پھر آپؐ نے جنازہ پڑھایا اور قبر کے کنارے تشریف فرما ہو کر تدفین کروائی۔ جب لحد تیارہو گئی تو نبی کریمؐ قبر بنانے والوں کو مٹی کے ڈھیلے اٹھا کر دیتے تھے اور فرماتے تھے ان سے اینٹوں کی درمیانی درزیں بند کرو۔ پھر فرمانے لگے کہ مُردے کے لئے ایسا کرنے کی کوئی ضرورت تو نہیں لیکن اس سے زندہ لوگوں کے دل کو ایک اطمینان ضرور حاصل ہوجاتا ہے۔
حضرت فاطمہؓ جب حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں تو حضورؐ کھڑے ہو جاتے تھے، محبت سے ان کا ہاتھ لیتے اور اسے بوسہ دیتے اور اپنے پاس بٹھاتے اور جب آنحضورؐ حضرت فاطمہؓ کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی احترام میں کھڑی ہو جاتیں آپ کا ہاتھ تھام کر اسے بوسہ دیتیں اور اپنے ساتھ حضورؐ کوبٹھاتیں۔ نبی کریمؐ فرماتے تھے کہ فاطمہؓ میرے بدن کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیااس نے مجھے ناراض کیا۔
ایک دفعہ حضرت فاطمہؓ گھر کی ضرورت کے لئے خادم مانگنے آئیں۔ نبی کریمؐ گھر پر نہیں تھے ۔ جب تشریف لائے اور پتہ چلا کہ فاطمہ ؓ آئی تھیں تو سردی کے موسم میں اسی وقت حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت فاطمہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم بستر میں جاچکے تھے۔ آپؐ فرمانے لگے کہ جو خادم آئے تھے وہ تو زیادہ ضرورت مندوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ پھر تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تم لوگ جب سونے لگو تو 34 مرتبہ اللہ اکبر اور 33،33 مرتبہ سبحان اللہ اور الحمدللہ کا ورد کیا کرو۔ یہ تمہارے لئے اس سے کہیں بہتر ہے جو تم نے مانگا ہے۔
نبی کریمؐ کو اپنی اولاد کی تربیت کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ تہجد کے وقت حضرت علیؓ اور فاطمہؓ کو سوتے پایا تو جگا کر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے؟ حضرت علیؓ نے نیند کے غالب آنے کاعذر کیا توآنحضورؐ نے سورۃ کہف کی وہ آیت پڑھی جس کا مطلب ہے کہ انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔ اسی طرح نبی کریمؐ چھ ماہ تک باقاعدہ حضرت فاطمہؓ کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں صبح نماز کے لئے جگاتے اور فرماتے تھے کہ اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ تمہیں مکمل طور پر پاک وصاف کرنا چاہتا ہے۔
اپنی بیٹیوں کے بچوں سے بھی حضورؐ کو بہت محبت تھی۔ ایک بار آنحضرتﷺ نماز پڑھانے تشریف لائے تو آپؐ کی نواسی امامہ بنت ابی العاص آپ کے کندھے پر تھی۔ نماز شروع ہوئی تو وہ بچی حضورؐ کے کندھے پر ہی تھی۔ رکوع میں جاتے وقت حضورؐ نے انہیں کندھے سے اتار کر نیچے بٹھادیا۔ رکوع اور سجدہ سے فارغ ہو کر دوبارہ اٹھا کر اسے کندھے پر بٹھا لیا۔ نماز کی ہر رکعت میں ایسے ہی کیا۔
ایک بار حضرت حسنؓ کو اپنے کندھے پر سوار کرکے آپؐ فرمارہے تھے اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔
ایک دفعہ رسول کریمؐ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ حسنؓ اور حسینؓ آگئے۔وہ چلتے ہوئے ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ رسول کریمؐ منبر سے اتر آئے اور ان کو اٹھا لیا، اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لئے فتنہ ہے۔ میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے اور گرتے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اپنی بات روک کر ان کو اٹھا لایا۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں لیٹا ہوا تھا۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے پینے کے لئے کچھ مانگا۔ حضورؐاٹھے، ہمارے گھر میں ایک بکری تھی جس کا دودھ دوھا جا چکا تھا۔ آپؐ اس کا دودھ دوہنے لگے تو دوبارہ بکری کو دودھ اتر آیا۔ حسنؓ حضورؐ کے پاس آئے تو حضورؐ نے ان کو پیچھے ہٹا دیا اور اُن کی بجائے حسینؓ کو دودھ دیا۔ حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہؐ یہ آپ کو زیادہ پیارا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ پہلے اس نے مانگا ہے۔
دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حسنؓ نے پہلے مانگا اور حسینؓ پہلے لینے کی ضد کرتے ہوئے رونے لگے تو نبی کریمؐ نے پہلے حسنؓ کو دیا اور حضرت فاطمہؓ کے سوال پر کہ یہ آپ کو زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا: دونوں میرے لئے برابر ہیں۔
حضرت ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نماز پڑھتے ہوئے جب سجدہ میں جاتے تھے تو بعض دفعہ حضرت حسنؓ آپؐ کی گردن یا پشت پر چڑھ جاتے۔ حضورؐ بہت نرمی سے پکڑ کر ان کو اتارتے تاکہ گریں نہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ حضرت حسنؓ کے ساتھ آپؐ جس طرح محبت سے پیش آتے ہیں ایسا سلوک کسی اَور کے ساتھ نہیں کرتے۔ فرمایا یہ دنیا میں میری خوشبو ہے۔ میرا یہ بیٹا سردار ہے جو دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضورؐ سجدہ کی حالت میں تھے کہ حسنؓ پشت پر آکر بیٹھ گئے آپؐ نے اُن کو نہیں اتارا اور سجدہ میں رہے یہاں تک کہ وہ خود اُترے۔
حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ کو فرزند عطا فرمایا تو اس کا نام آپؐ نے اپنے جد امجد ابراہیمؑ کے نام پر رکھا۔ اس بچے کو پرورش کے لئے امّ سیف کے سپرد کیا گیا۔ نبی کریمؐ ان کے گھر گاہے بگاہے بچے سے ملاقات کرنے اور حال دریافت کرنے تشریف لے جاتے تھے۔ ابراہیمؓ کو اپنی گود میں لے کر پیار کرتے۔ اُسے چومتے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے۔ کم سنی میںاس بچے میں اعلیٰ صلاحیتوں کے جوہر دیکھ کر آپؐ خوش ہوتے تھے۔ رسول اللہؐ کا یہ جگر گوشہ 16ماہ کی عمر میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔ اس کی وفات پر اس کی خداداد صلاحیتوں کے بارہ میں فرمایا کہ ’’ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا‘‘۔ اس پیارے بیٹے کی جدائی پر آپؐ نے کمال شان صبر دکھائی۔ آپؐ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ کسی نے عرض کیا حضورؐ آپ بھی روتے ہیں۔ فرمایا یہ تو اولاد سے محبت کا جذبہ ہے کہ آنکھ آنسوبہاتی ہے دل غمگین ہے مگر ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جس سے ہمارا ربّ ناراض ہو اور اے ابراہیم سچی بات تو یہ ہے کہ تیری جدائی پر ہم بہت غمگین ہیں۔
اتفاق سے اُس وقت سورج گرہن بھی ہوا۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گہنایا ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ چاند اور سورج اللہ کے نشانات میں سے ہیں۔ کسی کی موت یا پیدائش پر ان کو گرہن نہیں لگا کرتا۔ البتہ اس نشان کو دیکھ اللہ سے ڈرتے ہوئے صدقہ وغیرہ دینا چاہئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/d2nPF]

اپنا تبصرہ بھیجیں