آنحضرتﷺ اور تعدّدازدواج

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 30 اکتوبر2020ء)

قانون فطرت اور انسان کے معاشرتی حالات کے پیش نظر تعدّد ازدواج ایک اہم ضرورت ہے۔ اسلام جو دین فطرت ہے اس نے اس انسانی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا تاہم چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت بھی عدل اور مساوات کی شرط کے ساتھ دی گئی۔
آنحضورﷺ اور تعدّد ازدواج کے حوالے سے مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا ایک مضمون ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ نومبر 2012ء کی زینت ہے۔
بائبل کے مطابق بعض انبیاء نے فطری تقاضا کے تحت ایک سے زائد بیویاں کیں چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کی تین بیویاں ثابت ہیں۔ حضرت یعقوبؑ کی بھی دو بیویاں لیاہ اور راخل تھیں۔ حضرت موسیٰؑ کی بھی دو بیویوں کا ذکر ملتا ہے۔ عہدنامہ قدیم کے مطابق حضرت داؤدؑ کی سات بیویاں تھیں۔ حضرت سلیمانؑ کے حرم میں سات سو بیویاں اور تین سو کنیزیں تھیں۔ گویا بنی اسرائیل میں تعدّد ازدواج کا تصور موجود تھا۔ نئے عہدنامہ میں بھی محض پاسبان اور کلیسا کے نگہبان کے لیے ایک بیوی کی شرط ہے جبکہ عام عیسائیوں کے لیے کسی پابندی کا صریحاً ذکر نہیں۔ یہی حال دیگر مذاہب کا ہے۔
بحیثیت ایک مذہبی رہنما کے آنحضرتﷺ کی شادیوں کی مختلف اغراض تھیں۔ مثلاً حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح کے ذریعے متبنّٰی کی رسم کا خاتمہ ہو۔ دوسرا بڑا مقصد مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت تھی۔ چونکہ آنحضورﷺ کے ذریعے ایک نئے قانون اور تہذیب و تمدّن کی بنیاد پڑنی تھی اس لیے چار بیویوں تک کی پابندی سے آپؐ کو مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ (الاحزاب:51)
اگر نبی کریمﷺ کی شادیاں نفسانی اغراض کی خاطر ہوتیں تو آپ ادھیڑعمر، بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے نکاح نہ کرتے۔ آپؐ کی شادیوں میں دیگر مصالح کے علاوہ ایک اہم مصلحت بیوگان کو سہارا مہیا کرنا تھی۔ چنانچہ آپؐ کی نو بیویاں بیوگان میں سے تھیں۔
پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ بیوہ تھیں۔
دوسری بیوی حضرت سودہؓ کے شوہر سکرانؓ ہجرت حبشہ کے دوران وفات پاگئے تھے۔
تیسری حضرت زینبؓ بنت خزیمہ کے شوہر عبیدہؓ غزوۂ بدر میں شہید ہوئے۔
چوتھی بیوی حضرت اُمّ سلمہؓ کے شوہر حضرت ابوسلمہؓ جنگ احد میں زخمی ہوکر شہید ہوئے۔ وہ خود عمر کی اُس حد کو پہنچ چکی تھیں جہاں اولاد پیدا نہیں کرسکتی تھیں۔
پانچویں بیوی حضرت حفصہؓ کے شوہر حضرت خنیسؓ بن حذافہ نے اُحد میں زخمی ہونے کے بعد مدینہ میں وفات پائی۔
چھٹی حضرت میمونہؓ تھیں جو حضرت عباسؓ کی نسبتی بہن تھیں اور اُن کی درخواست پر ہی آپؐ نے یہ رشتہ قبول فرمایا۔
حضرت اُمّ حبیبہؓ کے شوہر عبیداللہ بن جحشؓ ہجرت حبشہ کے دوران وفات پاگئے تھے۔
حضرت جویریہؓ، حضرت صفیہؓ اور حضرت ریحانہؓ بھی بیوگی کی حالت میں آپؐ کے عقد میں آئیں۔
بعض نکاحوں کی وجوہات قومی مصالح رکھتی تھیں۔ چنانچہ فتح خیبر کے موقع پر یہودی شہزادی حضرت صفیہؓ سے نکاح کے لیے صحابہؓ کا مشورہ آپؐ نے قبول فرمایا اور حضرت صفیہؓ کو آزاد کرکے اپنے حرم میں شامل فرمایا اور غلامی سے آزادی کو اُن کا حق مہر قرار دیا۔ اسی طرح سردارِمکّہ ابوسفیان کی بیٹی حضرت اُمّ حبیبہؓ اور بنومصطلق کے سردار حارث کی بیٹی حضرت جویریہؓ اور مصر کی شہزادی حضرت ماریہ قبطیہؓ کے ساتھ عقد ہوا۔ یہ دستور قدیم سے جاری تھا جیسا کہ حضرت سلیمانؑ نے بھی فرعونِ مصر کی بیٹی سے شادی کی تھی جس کے باعث اسرائیل کو مصر سے حملے کا خطرہ نہ رہا تھا۔
مذکورہ حقائق کو ایسے مستشرقین نے بھی قبول کیا ہے جو اعتراض کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ چنانچہ مسٹر مارگولیس اپنی کتاب ’’محمد‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’محمدؐ کی بہت سی شادیاں بیشتر یورپین مصنفین کی نظر میں نفسانی خواہشات پر مبنی قرار دی گئی ہیں لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ تر اس جذبے پر مبنی نہیں تھیں۔ محمدؐ کی بہت سی شادیاں قومی اور سیاسی اغراض کے ماتحت تھیں کیونکہ محمدؐ یہ چاہتے تھے کہ اپنے خاص خاص صحابیوں کو شادیوں کے ذریعے سے اپنی ذات کے ساتھ محبت کے تعلقات میں زیادہ پیوست کرلیں۔ ابوبکر و عمر کی لڑکیوں کی شادیاں یقیناً اسی خیال کے ماتحت کی گئی تھیں۔ اسی طرح سربرآوردہ دشمنوں اور مفتوح رئیسوں کی لڑکیوں کے ساتھ بھی محمدؐ کی شادیاں سیاسی اغراض کے ماتحت وقوع میں آئی تھیں۔ ‘‘ (مارگولیس صفحہ176-177)
سابق عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ لکھتی ہیں:
اگر تعدّد ازدواج کو اس کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ ہرگز لڑکوں کی تسکین جنس کے سامان کے طور پر ایجاد نہیں کی گئی تھی بلکہ یہ معاشرتی قانون سازی کا ایک حصّہ تھا۔ یتیم لڑکیوں کا مسئلہ آنحضرتﷺ کو آغاز سے ہی درپیش تھا لیکن جنگ اُحد میں کئی مسلمانوں کی شہادت نے اس میں اضافہ کردیا تھا۔ شہداء نے محض بیوگان ہی پیچھے نہیں چھوڑیں بلکہ بیٹیاں، بہنیں اور دیگر رشتہ دار بھی تھے جو نئے سہاروں کے متقاضی تھے کیونکہ نئے نگران اُن یتامیٰ کی جائیدادوں کے انتظام و انصرام کے قابل نہ تھے۔ بعض جائیداد روکنے کی خاطر ان لڑکیوں کی شادی اس لیے نہ کرتے تھے اور ایک مرد کے لیے اپنے زیرکفالت عورتوں سے شادی کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہ تھی جس کے ذریعے وہ ان کی جائیداد بھی اپنے قبضے میں کرلیں۔
(Muhammad A Biography of Prophet p.180)
اطالوی مستشرقہ ڈاکٹر لاراولیسیا ولیری لکھتی ہیں:
’’دشمنانِ اسلام نے آپؐ کی شادیوں سے آپؐ میں ایک کمزور کردار اور اپنے مشن سے غیرمخلص ثابت کرنے کی کوشش کرکے آپؐ کو ایک عیاش طبع اور آوارہ آدمی کی صورت میں پیش کرنے کے لیے پورا زور لگایا۔ انہوں نے اس حقیقت کو مدّنظر نہ رکھا کہ آپؐ نے زندگی کے اس دَور میں جبکہ قدرتی طور پر جنسی خواہشات زورآور ہوتی ہیں صرف ایک ہی عورت سے شادی کی، باوجود یہ کہ آپؐ عربوں کے اُس معاشرے کے مکین تھے جہاں نظام ازدواجیت نہ ہونے کے برابر تھا۔ جہاں تعدّد ازدواج ایک رواج تھا اور جہاں علیحدگی نہایت آسان تھی۔ خدیجہ جو خود آپؐ سے کافی عمر رسیدہ تھیں اور آپؐ پچیس سال تک اُن کے وفاشعار اور محبوب رفیق حیات رہے۔ صرف اُس وقت جب خدیجہؓ کی وفات ہوگئی اور آپؐ پچاس سال کے ہوگئے تو آپؐ نے دوبارہ کئی شادیاں کیں۔ ہر شادی کسی معاشرتی یا سیاسی مقصد کے لیے تھی۔ آپ اپنی ازواج کے ذریعے سے پرہیزگار عورتوں کو عزت دینا چاہتے تھے یا دوسرے قبائل سے شادیوں کے ذریعے سے تعلقات استوار کرنا چاہتے تھے تاکہ اسلام کی تبلیغ میں زیادہ سے زیادہ راہ ہموار ہو۔ سوائے حضرت عائشہؓ کے آپؐ نے ایسی عورتوں سے نکاح کیا جو نہ تو کنواری تھیں، نہ جوان اور نہ ہی غیرمعمولی خوبصورت۔ کیا یہی عیاشی ہوتی ہے؟‘‘
(An Interpretation of Islam p.67-68)
سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
رسول اللہﷺ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُن کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپؐ کا یہ فعل نعوذباللہ من ذالک عیّاشی پر مبنی تھا۔ مگر جب ہم اُس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپؐ کی بیویوں کو آپؐ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ یہ تعلق ایسا پاکیزہ، ایسا بیلوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔ اگر آپؐ کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے تھا کہ اُن بیویوں کے دل کسی روحانی جذبے سے متأثر نہ ہوتے۔ مگر آپؐ کی بیویوں کے دل میں آپؐ کی جو محبت تھی اور آپؐ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھا وہ بہت سے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً میمونہؓ پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمے میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کی گئیں۔ وہ آپؐ کی وفات کے بعد 50سال زندہ رہیں اور 80 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔ اگر آپؐ کا اُن سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا اور آپؐ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہؓ نے یہ خواہش کیوں کی ہوتی کہ میری قبر مکّہ سے باہر وہاں بنائی جائے جہاں رسول کریمﷺ کا خیمہ تھا اور جہاں مجھے پہلی دفعہ آپؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا۔ دنیا کے سچے نوادر اور قصّے کہانیوں میں سے بھی کیا کوئی واقعہ اس گہری محبت سے زیادہ پُرتاثیر پیش کیا جاسکتا ہے؟
(ماخوذ از دیباچہ تفسیرالقرآن صفحہ 205-206)

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LTF5r]

اپنا تبصرہ بھیجیں