آنحضورﷺ کا حلیہ مبارک

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 23اکتوبر2020ء)

رسول کریم ﷺ کے حلیہ مبارک کے بارے میں مکرم نوید احمد سعید صاحب کا ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ نومبرو دسمبر 2012ء میں شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اوائل جوانی میں ایک رات (رؤیا میں) دیکھا کہ … جب مَیں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچا تو بہت خوش ہوئے اور آپؐ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔ آپؐ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپؐ کی پُرشفقت و پُرمحبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتی۔ آپؐ کی محبت نے مجھے فریفتہ کرلیا اور آپؐ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا۔…اور مَیں ذوق اور وجد سے آپؐ کے چہرۂ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ … ایک رات مَیں کچھ لکھ رہا تھا کہ اسی اثناء میں مجھے نیند آگئی اور مَیں سوگیا۔ اس وقت مَیں نے آنحضرت ﷺکو دیکھا۔ آپؐ کا چہرہ بدرتام کی طرح درخشاں تھا۔‘‘
(روحانی خزائن جلد پنجم)
آنحضورﷺ کے صحابہؓ نے بھی آپؐ کا چہرہ اس طرح ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ حسنِ ظاہری و باطنی کا کامل مجموعہ نظر آتا ہے۔ حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کو چاندنی رات میں دیکھا۔ آپ سرخ جوڑے میں ملبوس تھے۔ مَیں کبھی آپؐ کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف دیکھتا۔ آپ میرے نزدیک چاند سے زیادہ حسین تھے۔ حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ سرخ رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے تھے۔ مَیں نے آپؐ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا۔ اُن سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ تلوار کی طرح تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا۔ حضرت براءؓ سے روایت ہے کہ مَیں نیکوئی زلفوں والا سرخ جوڑے میں رسول اللہﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا، آپؐ کے بال کندھوں پر پڑتے تھے۔ دونوں شانوں کے درمیان فاصلہ تھا (یعنی سینہ چوڑا تھا)، نہ آپؐ پستہ قد کے تھے نہ ہی لمبے تھے۔
حضرت ابوالطفیلؓ کہتے ہیں کہ آنحضورﷺ سفید رنگ کے تھے، خوبصورت اور معتدل القامت تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سفید رنگ کے تھے گویا کہ آپ کو چاندی سے بنایا گیا ہے۔ بال قدرے خمدار تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ میانہ قد کے تھے، نہ تو آپؐ بہت لمبے تھے نہ چھوٹے قد کے تھے۔ آپؐ خوبصورت جسم والے تھے۔ آپؐ کے بال نہ گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے، آپؐ گندمی رنگ کے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کے سرمبارک اور ریش مبارک میں چودہ سے زائد سفید بال شمار نہیں کیے۔
حضرت ہندؓ بن ہالہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔ چہرۂ مبارک یوں چمکتا تھا جیسے چودھویں کا چاند۔ آپؐ میانہ قد سے کسی قدر دراز اور طویل القامت سے کسی قدر چھوٹے تھے۔ بال خمدار۔ اگر مانگ سہولت سے نکل آتی تو نکال لیتے ورنہ نہ نکالتے۔پھول سا رنگ،کشادہ پیشانی، ابرو لمبے باریک اور بھرے ہوئے جو باہم ملے ہوئے نہیں تھے، ان کے درمیان ایک رگ تھی جو جلال میں نمایاں ہوجاتی۔ ناک ستواں جس پر نُور جھلکتا تھا، سرسری دیکھنے والے کو اُٹھی ہوئی نظرآتی تھی۔ ریش مبارک گھنی، رخسار نرم، دہن کشادہ، دانت ریخدار، آنکھوں کے کوئے باریک، گردن خوبصورت اور لمبی صراحی دار جس پر سرخی جھلکتی تھی۔ صفائی میں چاندی کی مانند، اعضاء متوازن، بدن کچھ بھاری مگر نہایت موزوں اور مضبوط، شکم و سینہ ہموار، چوڑے سینے والے، جوڑ مضبوط اور بھرے ہوئے، جسم چمکتا ہوا اور بالوں سے خالی۔ سینہ اور پیٹ بالوں سے صاف، صرف ایک باریک دھاری جو سینے سے ناف تک باریک خط کی طرح جاتی تھی۔ دونوں بازوؤں اور کندھوں اور سینے کے بالائی حصے پر بال تھے۔ کلائیاں دراز، ہتھیلی چوڑی، ہاتھ اور پاؤں گوشت سے پُر اور نرم، انگلیاں دراز، تلوے قدرے گہرے۔ جب چلتے تو قوّت سے قدم اٹھاتے۔ قدرے آگے جھکتے ہوئے قدم اٹھاتے جیسے بلندی سے اُتر رہے ہوں۔ جب کسی کی طرف رُخ فرماتے تو پوری طرح فرماتے، نظر جھکائے رکھتے، اکثر آپؐ کی نظریں نیم وا ہوتیں۔
اُمّ معبدؓ کا تعلق قوم خزاعہ سے تھا۔ اُسے پہلے آنحضورﷺ سے کوئی تعارف نہ تھا۔ سفر ہجرت کے دوران آپؐ اپنے رفیق حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ اس عورت کے خیمہ میں گئے تو اُس کی ایک مریل سی بھوکی بکری نے اتنا دودھ دیا کہ سب نے سیر ہوکر پیا اور پھر بھی بچ گیا۔ شام کو اُس کا شوہر گھر آیا تو اُمّ معبدؓ نے اُس کے سامنے حضورﷺ کی ذات بابرکات کا نقشہ یوں کھینچا: پاکیزہ رُو، کشادہ چہرہ، پسندیدہ خُو، نہ پیٹ باہر نکلا ہوا نہ سر کے بال گرے ہوئے۔ زیبا، صاحب جمال، آنکھیں سیاہ و فراخ، بال لمبے اور گھنے، آواز میں بھاری پن، بلند گردن، آنکھیں جیسے سُرمہ لگا ہو، باریک و پیوستہ ابرو، خاموش باوقار، دُور سے دیکھنے میں دلفریب، قریب سے نہایت شیریں و کمال حسین، شیریں کلام، واضح الفاظ، تمام گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی، میانہ قد۔ رفیق ایسے کہ ہر وقت اُس کے گردوپیش رہتے ہیں۔ جب وہ کچھ کہتا ہے تو چپ چاپ سنتے ہیں جب حکم دیتا ہے تو تعمیل کے لیے جھپٹتے ہیں۔ مخدوم، مطاع، نہ کوتاہ سخن نہ فضول گو۔
آنحضرتﷺ کی مدینہ آمد پر آپؐ کی زیارت کے لیے یہودیوں کے ایک بڑے عالم حصینؔ آئے اور اسلام قبول کرلیا۔ اُن کا اسلامی نام عبداللہ بن سلام ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے جونہی حضورﷺ کو دیکھا تو فوراً سمجھ لیا کہ یہ چہرہ جھوٹے آدمی کا نہیں ہوسکتا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/F44Hc]

اپنا تبصرہ بھیجیں