آنحضورﷺ کا پاکیزہ بچپن اور جوانی

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 23اکتوبر2020ء)

قرآن کریم میں انبیائے کرام کی بعثت سے پہلے کی زندگی کو اُن کی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے پاکیزہ بچپن اور جوانی کے بارے میں مکرم مصباح الدین محمود صاحب کا مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ نومبر و دسمبر 2012ء میں شائع ہوا ہے۔
زمانۂ رضاعت میں آنحضورﷺ اپنی رضاعی والدہ کے پاس مکّہ سے باہر رہے اور بنوسعد کے بچوں میں کھیل کود کر بڑے ہوئے۔ چار سال کی عمر میں شق صدر کا واقعہ پیش آیا جب دو سفیدپوش آدمی آئے اور آپؐ کو پکڑ کر زمین پر لٹادیا، پھر آپؐ کا سینہ چاک کیا تو یہ نظارہ دیکھ کر آپؐ کیرضاعی بھائی عبداللہ بن حارث نے فوراً گھر جاکر ماں باپ کو اطلاع دی۔ حارث اور حلیمہ یہ سن کر بھاگے آئے۔ حلیمہ نے آگے بڑھ کر آپؐ کو گلے سے لگایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟آنحضرتﷺ نے سارا ماجرا بتایا کہ انہوں نے میرے سینے میں کوئی چیز تلاش کرکے نکالی اور باہر پھینک دی۔ حلیمہ خوفزدہ ہوکر آپؐ کو آپؐ کی والدہ حضرت آمنہ کے پاس لے آئیں تو انہوں نے فرمایا: پریشان نہ ہوں، میرا بیٹا بڑی شان والا ہے۔ جب یہ حمل میں تھا تو مَیں نے دیکھا تھا کہ میرے اندر سے ایک نُور نکلا ہے جو دُوردراز ملکوں تک پھیل گیا ہے۔
والدین کی وفات کے بعد آپؐ پہلے اپنے دادا اور پھر اُن کی وفات کے بعد اپنے چچا کے زیرکفالت رہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ ابوطالب نے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ آپؐ کی پرورش کی مگر آپؐ کی زندگی کا ایک واقعہ ایسا ہے جو ہمیشہ ہی میرے قلب کو مضطرب کردیتا ہے کہ گھر میں جب کھانا تقسیم ہوتا تھا تو آپؐ کبھی بڑھ کر مانگا نہیں کرتے تھے۔ باقی بچے لڑجھگڑ کر مانگتے مگر آپؐ ایک طرف خاموش کھڑے رہتے اور جب چچی کچھ دیتی تو لے لیتے۔ بالعموم اس واقعہ کو رسول کریمﷺ کے وقار اور متانت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر وہ آپؐ کی نبوت کا زمانہ نہیں تھا۔ آپؐ آٹھ نو سال کے تھے اور اس عمر کے بچے کے متعلق یہ ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا کہ وہ بڑا باوقار تھا۔ حدیث ہے کہ بچہ بچہ ہی ہے خواہ آئندہ زمانہ میں وہ نبی بننے والا ہو۔ پس آپؐ اُس عمر میں اپنی ذہانت کی وجہ سے یہ محسوس کرتے تھے کہ مَیں اس گھر سے بطور حق کے کچھ نہیں مانگ سکتا۔ جو بچے ذہین نہیں ہوتے وہ چچی اور ماں کا فرق زیادہ نہیں سمجھتے اور چچی سے بھی اسی طرح لڑجھگڑ کر چیزیں مانگ لیتے ہیں جس طرح ماں سے مانگی جاتی ہیں۔ یہ محبت کا نہیں بلکہ عقل کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پس کبھی بھی آپؐ کے اس واقعہ کو پڑھتے ہوئے مَیں بغیر اس کے کہ رقّت مجھ پر غلبہ نہ پائے، آگے نہیں گزر سکتا اور ہمیشہ سوچتا ہوں کہ اُس وقت آپؐ کے دل میں کیا جذبات پیدا ہوتے ہوں گے۔

آنحضورﷺ بارہ سال کی عمر میں ابوطالب کے ساتھ شام کے ایک تجارتی سفر پر گئے تو بُصریٰ کے مقام پر رہنے والے عیسائی راہب بحیرا کی خانقاہ کے قریب جب قریش کا یہ قافلہ پہنچا تو بحیرا نے کشفی نظارہ دیکھا کہ تمام پتھر اور درخت وغیرہ سجدہ میں گرگئے۔ اُسے معلوم تھا کہ الٰہی نوشتوں کی رُو سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے اس لیے اُس نے اپنی فراست سے سمجھ لیا کہ اس قافلے میں وہ نبی موجود ہے اور اپنے قیافہ سے آنحضورﷺکو پہچان لیا۔
نوجوانی کے زمانے میں آنحضورﷺ نے بعض نوجوانوں کے ساتھ مل کر حلف الفضول معاہدے میں شرکت فرمائی جس کا مقصد غرباء اور مظلوموں کی مدد کرنا تھا۔زمانۂ نبوت میں آپؐ نے فرمایا: اس معاہدے کے مقابلے میں اگر مجھ کو سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تو مَیں اس سے نہ پھرتا اور آج بھی ایسے معاہدے کے لیے کوئی بلائے تو حاضر ہوں۔
آنحضورﷺ نوجوانی کے عالم میں تھے تو اُس وقت بھی اہل مکّہ آپؐ کی صداقت اور امانت کے قائل تھے۔ کعبہ کی تعمیرنَو کے وقت جب حجراسود کو اُس کی جگہ پر رکھنے کا جھگڑا سردارانِ قریش کے درمیان پیدا ہوا اور رات گئے بحث کے نتیجے میں کوئی فیصلہ نہ کیا جاسکا تو ابوامیہ بن مغیرہ نے کہا کہ اس نزاع کے تصفیہ کو اُس شخص کے حوالے کردو جو کل صبح سب سے پہلے یہاں آئے۔ سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ اتفاقاً آنحضورﷺ ہی علی الصبح سب سے پہلے وہاں تشریف لائے تو تمام قریش نے متفقہ طورپرآپؐ سے تصفیہ کرنے کی درخواست کی۔ آپؐ نے ایک کپڑا بچھاکر اپنے ہاتھ سے اُس پر حجر اسود رکھا۔ پھر سردارانِ قریش سے کہا کہ وہ چادر کونوں سے اٹھاکر اسے حجراسود رکھنے کے مقام تک لے آئیں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو آپؐ نے اپنے ہاتھ سے حجراسود اٹھاکر اُسے اُس کی جگہ پر رکھ دیا۔
عنفوانِ شباب میں آنحضورﷺ نے اپنی رفیقہ حیات کے انتخاب میں خاندانی شرافت اور حضرت سیّدہ خدیجہؓ کی ذاتی سیرت کو پیش نظر رکھا اور پھر نہ صرف تمام عمر اس کو نبھایا بلکہ اُن کی وفات کے بعد بھی اُن سے وفا کا تعلق قائم رکھا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/NGmG3]

اپنا تبصرہ بھیجیں