ایک بزرگ اور اپاہج کا واقعہ

ماہنامہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ ربوہ نومبر2006ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کا بیان فرمودہ ایک نہایت پُراثر واقعہ درج ہے ۔
حضورؓ فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ کی طرف ایک دفعہ سرکاری سمن آیا کہ بعض لوگوں کی طرف سے لگائے جانے والے ایک الزام کی جوابدہی کے لئے فوراَ حکومت کے سامنے حاضر ہوں۔ وہ حیران رہ گئے کیونکہ وہ تو ہمیشہ ذکر الہٰی میں مشغول رہتے تھے۔ مگر چونکہ سرکاری سمن تھااس لئے چل پڑے۔ دس بیس میل گئے تھے کہ آندھی آئی اور بارش شروع ہوگئی۔ وہ اس وقت جنگل میں تھے اور صرف چند جھونپڑیاں وہاں نظر آئیں۔ وہ ایک جھونپڑی کے قریب پہنچے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اجازت ملنے پر اندر گئے تو دیکھا کہ ایک شخص چارپائی پر پڑا ہے۔ اس نے محبت اور پیار کے ساتھ انہیں اپنے پاس بٹھا لیا اور نام وغیرہ پوچھا: انہوں نے اپنا نام بتایااور کہا کہ بادشاہ کی طرف سے مجھے ایک سمن پہنچا ہے جس کی تعمیل کے لئے میں جارہاہوں اور میں حیران ہوں کہ مجھے یہ سمن کیوں آیا، کیونکہ میں نے کبھی دنیوی جھگڑوں میں دخل نہیں دیا۔ وہ یہ واقعہ سن کر کہنے لگا کہ آپ گھبرائیں نہیں، یہ سامان اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے پاس پہنچانے کے لئے کیا ہے۔ میں اپاہج ہوں لیکن آپ کی بزرگی کی شہرت میرے کانوں تک پہنچی تو میں ہمیشہ دعائیں کیا کرتا تھا کہ یااللہ قسمت والے تو وہاں چلے جاتے ہیں، میں اس بزرگ کے قدموں تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں،تو ایسے سامان پیدا فرما کہ میری ان سے ملاقات ہو جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سمن کے بہانے اللہ تعالیٰ آپ کو محض میرے لئے یہاں لایا ہے۔ ابھی وہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ باہر سے کسی نے بارش کی وجہ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ جب وہ اندر آیا تو معلوم ہوا کہ وہ سرکاری پیادہ تھا۔ وہ کہنے لگا بادشاہ کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے کہ میں فلاں بزرگ کے پاس جاؤں اور ان سے کہوں کہ دراصل وہ سمن کسی اَور کے نام تھا مگر نام میں مشابہت کی وجہ سے وہ آپ کے نام جاری ہو گیا، اس لئے آپ کے آنے ضرورت نہیں۔
یہی بات اللہ تعالیٰ نے بھی بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ ہم میں ہو کر اور ہم سے مدد مانگتے ہوئے اپنے مقاصد کیلئے جدوجہد کرتے ہیں ہم اس مقصد کے حصول کیلئے ان پر دروازے کھول دیتے ہیں۔ (سیرروحانی)

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/tONVO]

اپنا تبصرہ بھیجیں