اے آفتابِ حُسن ترے حُسن کے بغیر – نظم

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 21؍ تا 31مئی 2021ء)

روزنامہ ‘‘الفضل’’ ربوہ یکم اپریل 2013ء میں مکرم ظفر محمد ظفرؔ صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

اے آفتابِ حُسن ترے حُسن کے بغیر
دُنیائے مہر و عشق نہایت اُداس ہے
ربوہ کی سر زمیں میں وہ رونق نہیں رہی
معبد اُداس قصرِ خلافت اُداس ہے
منبر پہ تیرے جلوۂِ دیدار کے لئے
وہ گردنوں کے اٹھنے کی عادت اُداس ہے
کتنی کسی خطیب کی تقریر ہو عجیب
تیرے بغیر ذوقِ سماعت اُداس ہے
باقی نہیں نماز میں بھی وہ سرور و ذوق
محراب بے قرار امامت اُداس ہے
اے چشمۂِ مسرتِ ارواحِ قدسیاں
تیرے بغیر رُوحِ جماعت اُداس ہے
مجھ کو قسم ہے لذّت ایّامِ وصل کی
اب صابروں کے صبر کی طاقت اُداس ہے
جز وصلِ یار چین میسر نہیں ظفرؔ
اس زندگی کی جو بھی ہے ساعت اُداس ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں