Monday, 14th September, 2026
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

بات سنتے نہ بات کرتے ہو – نظم

February 28, 2020 10 مناظر الفضل ڈائجسٹ

ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ مئی 2012ء میں محترم چودھری محمد علی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔

چودھری محمد علی صاحب

اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

بات سنتے نہ بات کرتے ہو
کس قدر احتیاط کرتے ہو
سچ کہو! انتظار کس کا ہے
صبح کرتے نہ رات کرتے ہو
عقل کے بھی ہو زر خرید غلام
عشق بھی ساتھ ساتھ کرتے ہو
ہاتھ جاناں کے ہاتھ میں دے کر
کیوں غمِ پُلِ صراط کرتے ہو
پہلے اس کا جواز ڈھونڈتے ہو
پھر کوئی واردات کرتے ہو
جب بھی کرتے ہو قتل مضطرؔ کا
سرِ نہرِ فرات کرتے ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *