براہین احمدیہ کی طباعت و اشاعت

براہین احمدیہ کی طباعت کے وقت حضرت مسیح موعودؑ کے سامنے بہت سی مشکلات تھیں۔ ایک گمنام بستی میں آپؑ رہائش پذیر تھے، اشاعتی کاموں کا کوئی تجربہ نہ تھا اور سرمایہ بھی پاس نہ تھا۔ ان ظاہری ناموافق حالات میں آپ نے دعا کی تو الہام ہوا کہ کھجور کا تنا اپنی طرف ہلا کہ تجھ پر تازہ بتازہ کھجوریں گرائے گی۔ اس خدائی بشارت پر آپ نے عوام اور امراء کو اس دینی خدمت سے وابستہ کرنے کے لئے تحریک و تحریص کا حق ادا کردیا۔ چنانچہ بہت سے احباب نے حضورؑ کی آواز پر لبیک کہا۔
حضور علیہ السلام اپریل 1879ء تک براہین احمدیہ تصنیف فرما چکے تھے اور مسودات کا حجم دو اڑہائی ہزار صفحات تک پہنچ گیا تھا۔ جب حضورؑ ایک مسودہ تحریر فرماتے تو اس کو صاف لکھنے کیلئے میاں شمس الدین صاحب آف قادیان کو دے دیتے اور یہ صاف کاپی منشی امام الدین صاحب کاتب امرتسری کو دے دی جاتی جو امرتسر سے قادیان آکر حضورؑ کی زیر نگرانی کام کرتے تھے۔ نظرثانی اور تصحیح فرمانے کے بعد حضورؑ خود پریس میں پہنچانے کے لئے امرتسر تشریف لے جاتے اور پروف پڑھنے کے لئے بعض اوقات حکیم محمد شریف صاحب کلانوری کے ہاں قیام فرماتے۔ اس دوران لالہ ملاوامل اور لالہ شرمپت بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ کبھی لالہ ملاوامل کو ہی کاپیاں دے کر بھجوادیا جاتا۔ حصہ چہارم کی طباعت کے زمانہ میں پروف وغیرہ بذریعہ ڈاک بھی بھجوائے جاتے رہے۔
حضرت اقدسؑ کی خواہش تھی کہ کتاب کی کتابت و طباعت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چنانچہ آپؑ نے کتاب کو پادری رجب علی کے مطبع سفیر ہند امرتسر سے چھپوانے کا فیصلہ فرمایا۔ پادری صاحب نے اجرت زیادہ وصول کی اور کتاب کی طباعت میں غیرمعمولی تاخیر کی۔ بہرحال کتاب کا حصہ اول شیخ نور احمد صاحب کی زیر نگرانی چھپا جو فن طباعت میں ماہر تھے اور جنہیں پادری صاحب نے مرادآباد سے خاص طور پر بلایا تھا۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے اپنا مطبع ریاض ہند قائم کرلیا تو پادری صاحب نے کتاب کا حصہ دوم و سوم کچھ اجرت پر شیخ صاحب کو دیدیا۔ چنانچہ یہ حصے طبع تو ’’ریاض ہند‘‘ میں ہوئے لیکن ان پر نام ’’سفیر ہند‘‘ ہی درج کیا گیا۔ اسی دوران پادری صاحب کے بار بار تنگ کرنے کی وجہ سے حضورؑ خود رقم لے کر پادری صاحب کو ملنے امرتسر تشریف لے گئے اور غلطی سے شیخ صاحب کے پریس میں جا پہنچے جہاں حضورؑ کی کتب زیر طبع تھیں۔ حضرت شیخ صاحب کو اطلاع ملی تو وہ حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اُن سے واقف نہ تھے چنانچہ پوچھا کہ کیا یہ پریس رجب علی صاحب کا ہے؟ شیخ صاحب نے عرض کیا کہ آپ ہی کا ہے۔ پھر حضورؑ کے دریافت فرمانے پر شیخ صاحب نے ساری صورتحال عرض کی تو حضورؑ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ آئندہ طباعت کا سارا کام ’’ریاض ہند‘‘ میں ہی کیا جائے۔ حضرت شیخ صاحب نے نہایت مسرت سے حضورؑ کی ساری شرائط کو قبول کرتے ہوئے آمادگی ظاہر کی اور بعد میں رجب علی سے نصف خرچ یا اس سے بھی کم پر کتاب چھاپ دی۔
براہین احمدیہ کے پہلے دو حصے 1880ء میں چھپے اور تیسرا حصہ 1882ء اور چوتھا 1884ء میں شائع ہوا۔ چوتھے حصہ کے آخر پر حضورؑ نے یہ اطلاع شائع کی کہ ’’ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس کے … ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔سو اب اس کتاب کا متولّی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے‘‘۔ چنانچہ الٰہی منشاء کے تحت 23 برس تک براہین احمدیہ معرض التواء میں رہی اور آخر 1905ء میں اس کا پانچواں اور آخری حصہ تصنیف ہوکر اکتوبر 1908ء میں شائع ہوا۔
’’براہین احمدیہ‘‘ ہی وہ تصنیف تھی جو حضرت شیخ نور احمد صاحبؓ کی ہدایت کا باعث بنی۔ آپؓ کا نام حضرت اقدسؑ کے صحابہ 313 کی فہرست میں 59 نمبر پر درج ہے۔ کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کی طباعت کے وقت آپؓ حضور علیہ السلام کے ارشاد پر اپنا پریس قادیان لے آئے جسے گول کمرہ میں نصب کیا گیا۔ آپؓ کو حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی کا بھی شرف حاصل رہا اور دسمبر 1893ء میں جب حضورؑ امرتسر سے لاہور تشریف لائے تو آپؓ ہی کے ہاں فروکش ہوئے۔ آپؓ نے ’’نور احمد‘‘ کے نام سے اپنا ایک رسالہ بھی جاری فرمایا۔ 8؍جون 1928ء کو 89 سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔
مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب کے قلم سے یہ تاریخی مضمون خصوصی اشاعت میں شامل ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/HTXIN]

اپنا تبصرہ بھیجیں