تعارف کتاب: ’’زندہ درخت‘‘

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 19 ؍مارچ 2021ء)
(’فرخ سلطان محمود‘)

ہر مخلوق کے لیے فنا اور وجود میں آنے والی زندگی کے لیے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے عبادالرحمٰن جو اپنی زندگیوں کا مقصد حاصل کرنے کی سعی میں اپنی ساری زندگی بسر کردیتے ہیں، وہ نہ صرف اپنے خالق و مالک کے حضور روحانی طور پر حیات جاودانی پالیتے ہیں بلکہ تاریخ کے اوراق میں بھی اُن کا اسم گرامی ہمیشہ کے لیے سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔
آج ہمارے پیش نظر کتاب ’’زندہ درخت‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جو ایسے پاکیزہ وجودوں سے معنون ہے جنہوں نے مسیح الزمانؑ سے براہِ راست فیض پانے کی سعادت پائی اور جنہیں ایسے روحانی ماحول میں اپنی زندگیاں بسر کرنے کی توفیق ملی جو احمدیت کی برکت سے خشک دنیاداری سے کوسوں دُور اور حسبِ استعداد انفرادی روحانی ترقیات کا ضامن تھا۔
صد سالہ جشن تشکر جماعت احمدیہ کے حوالہ سے طبع کی جانے والی یہ ضخیم کتاب شعبہ اشاعت لجنہ اماء اللہ ضلع کراچی کی پیشکش ہے جسے مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ نے مرتب کیا ہے۔A5سائز کے363صفحات پر مشتمل اس کتاب کا سرورق بھی ایک انفرادیت کا حامل ہے۔ ’’زندہ درخت‘‘ کی وجہ تسمیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر ہے جسے سرورق کی زینت بنایا گیا ہے:

جتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے
پھل اس قدر پڑا کہ وہ میووں سے لد گئے

ہلکے سبزرنگ کے اس کتاب کے دیدہ زیب سرورق پر حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ ہرسیاں والے، محترم میاں عبدالرحیم صاحب درویش قادیان اور حضرت حکیم اللہ بخش صاحبؓ مدرس کی تصاویر شائع کی گئی ہیں جبکہ کتاب کے اندر بھی چند تصاویر شامل اشاعت ہیں۔ تینوں بزرگوں کے حوالہ سے کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تینوں بزرگوں کی سیرت پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے علاوہ ان کی نسلوں کا مختصر تعارف اور اُن پر ہونے والے خدائی افضال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس کتاب کے صرف ایسے منتخب حصے پیش کیے جارہے ہیں جن کا تعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت طیبہ سے ہے۔ تاہم اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اس کتاب میں بیان شدہ سیرت کے تمام واقعات اتنے دلچسپ اور ایمان افروز ہیں کہ ان میں سے انتخاب خاصا مشکل مرحلہ تھا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوّت قدسیہ کے طفیل یہ اصحابِ احمدؑ نہ صرف اپنی ذات میں فرشتوں کی سی خُوبُو کے حامل تھے بلکہ صداقتِ احمدیت کی ایک منہ بولتی تصویر تھے، اور نہ صرف ان کی زندگیاں بلکہ ان کی موت بھی حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی صداقت پر گواہ ٹھہرتی ہے۔
چنانچہ 1895ء میں بذریعہ خط حضرت مسیح موعودؑ کی غلامی میں آنے والے حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ کو 1897ء میں زیارت کا شرف عطا ہوا۔ حضورؑ نے 1898ء میں ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں 316 منتخب اصحاب کے نام درج فرمائے ان میں 299 نمبر پر آپؓ کا نام تحریر ہے۔ آپؓ کو جہلم کے سفر میں حضرت مسیح موعودؑ کی معیت کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ آپؓ 1866ء میں پیدا ہوئے تھے اور 90 سال کی عمر پاکر 7؍ نومبر 1956ء کو وفات پائی۔ 21؍مئی 1906ء کو آپؓ نظام وصیت میں شامل ہوئے۔ آپؓ کا وصیت نمبر 102 ہے۔ اسی طرح تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں آپ کا نمبر 526 ہے۔ آپؓ کا جنازہ حضرت مصلح موعودؓ نے پڑھایا اور 9؍نومبر 1956ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’میاں فضل محمد صاحب … کے ایک لڑکے نے بتایا کہ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ مَیں نے جس وقت بیعت کی اس کے قریب زمانہ میں ہی مَیں نے ایک خواب دیکھا جس میں مجھے اپنی عمر 45 سال بتائی گئی۔ مَیں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور رو پڑا اور مَیں نے کہا حضور! بیعت کے بعد تو میرا خیال تھا کہ حضور کے الہاموں اور پیشگوئیوں کے مطابق احمدیت کو جو ترقیات نصیب ہونے والی ہیں انہیں دیکھوں گا مگر مجھے تو خواب آئی ہے کہ میری عمر صرف 45سال ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے طریق نرالے ہوتے ہیں شاید وہ 45کو90 کردے۔ چنانچہ کل جو وہ فوت ہوئے تو اُن کی عمر پورے 90 سال کی تھی۔ اس طرح احمدیت کو جو ترقیات ملیں وہ بھی انہوں نے دیکھیں اور 61 جلسے بھی دیکھے۔ ان کے چار بچے ہیں جو دین کی خدمت کررہے ہیں۔ ایک قادیان میں درویش ہوکر بیٹھا ہے۔ ایک افریقہ میں مبلغ ہے۔ ایک یہاں مبلغ کا کام کرتا ہے اور چوتھا لڑکا مبلغ تو نہیں مگر وہ اب ربوہ آگیا ہے اور یہیں کام کرتا ہے۔ پہلے قادیان میں کام کرتا تھا۔ لیکن اگر کوئی شخص مرکز میں رہے اور اس کی ترقی کا موجب ہو تو وہ بھی ایک رنگ میں خدمتِ دین ہی کرتا ہے۔‘‘
٭… مذکورہ بالا خواب اور واقعہ جس کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے اس بارے میں حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ کی روایت یوں ہے۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے خواب میں فرمایا کہ آپ کے گھر تین بیٹے ہوں گے۔ پہلے کا نام عبدالغنی دوسرے کا نام ملک غنی اور تیسرے کا نام پتال غنی رکھنا اور آپ کی عمر 45 سال کی ہوگی۔ جب مَیں جمعے کے روز قادیان آیا تو شام کے بعد حضورؑ مسجد کے اوپر، گرمیوں میں جیسا کہ ہمیشہ بیٹھا کرتے تھے، بیٹھے۔ چند اَور اصحاب بھی وہاں بیٹھے تھے۔ مَیں نے اپنی خواب عرض کی تو مولوی عبدالکریم صاحبؓ ہنس کر بولے کہ پھر بتلاؤ کہ پہلے کا نام کیا ہے اور دوسرے کا نام کیا۔ جب مَیں نے دوبارہ بتلایا تو وہ پھر بولے کہ پھر بتلاؤ۔ تو مَیں نے عرض کی کہ حضور! مولوی صاحب تمسخر کرتے ہیں اور مجھے بڑا غم لگا ہوا ہے۔ حضورؑ مسکراکر بولے کہ آپ کو کیا غم ہے۔ تو مَیں نے عرض کی کہ حضور میری عمر اس وقت تقریباً تیس سال کی ہے اور تھوڑی باقی رہ گئی ہے۔ ابھی مَیں نے حضورؑ کا زمانہ دیکھنا ہے۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ دوگنی کردیا کرتا ہے۔
حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ کی بیان فرمودہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پہلی بیعت اُس وقت اتفاقاً ہوگئی تھی جب آپ کے ایک دوست نے بیعت عام کے وقت آپ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کردیا تھا۔ لیکن چند روز بعد اس سوچ کے نتیجے میں آپ نے ایک جوش کے ساتھ دوبارہ قادیان جاکر بیعت کرلی کہ قادیان میں جو کچھ بھی دیکھا یا سنا وہ سب عین اسلام ہے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کی اہلیہ محترمہ نے بھی ایک خواب کے نتیجہ میں قادیان جاکر بیعت کی سعادت پائی۔
ذیل میں حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ کی بیان فرمودہ چند ایمان افروز روایات ہدیۂ قارئین ہیں:
٭…آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر میرے گاؤں کی مسجد کے دروازے (فسادیوں کی طرف سے) احمدیوں کے لیے بند کردیے گئے اور ہم نے اپنی حویلی میں نماز ادا کی۔ پھر جب حسب عادت جمعہ پڑھنے کے لیے قادیان آیا تو یہ حالات حضرت مسیح موعودؑ کے گوش گزار کیے۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ صبر کرو یہ سب مسجدیں تمہاری ہی ہیں۔ چنانچہ اب وہ مسجد احمدیوں کے پاس ہے۔
٭…حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر سے واپس تشریف لائے اور گھر میں داخل ہونے لگے تو مَیں نے آگے ہوکر عرض کی کہ حضور! مَیں نے سنا ہے کہ پہلے زمانہ میں بزرگ، اگر کسی کو کچھ تکلیف ہوتی تھی تو اس پر وہ اپنے منہ کی لعاب لگادیا کرتے تھے تو اس کو شفا ہوجاتی تھی۔ میری آنکھوں پر ہمیشہ پھنسیاں نکلتی رہتی ہیں۔ اس پر حضورؑ مسکراپڑے اور کچھ پڑھ کر آنکھوں پر دَم کیا۔ اس روز سے آج تک تقریباً 35 برس گزرگئے ہیں، میری آنکھ پر کبھی پھنسی نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی دکھنے ہی نہیں آئیں۔
٭… آپؓ مزید فرماتے ہیں کہ ایک بار حضورؑ سیر کرنے باغ کی طرف تشریف لے گئے تو مالی نے دو تین ٹوکریوں میں شہتوت ڈال کر ہمارے آگے رکھ دیے۔ مَیں حضورؑ کے بالکل ساتھ بیٹھا تھا اور حجاب کی وجہ سے کھاتا نہ تھا۔ یہ دیکھ کر حضورؑ نے فرمایا: فضل محمد! تم کھاتے کیوں نہیں؟ اس وقت مجھے اَور تو کوئی بات نہ سوجھی جھٹ منہ سے نکلا کہ حضور یہ گرم ہیں اس واسطے میری طبیعت کے موافق نہیں۔ جس پر حضورؑ نے فرمایا: نہیں میاں! یہ گرم نہیں ہیں یہ تو قبض کشا ہیں۔
جب مَیں نے دیکھا کہ حضورؑ میری طرف متوجہ ہیں تو مَیں نے عرض کی کہ حضور! میری بائیں ران پر ایک گلٹی ہے اور وہ بہت مدّت سے ہے مجھے ڈر ہے کہ یہ کسی وقت تکلیف نہ دے۔ اُس وقت حضورؑ کی زبان مبارک سے نکلا تکلیف نہیں دے گی آرام آجائے گا۔ اور ایک دوائی کا نام لیا جو مجھے یاد نہ رہا۔ کچھ دن بعد اس گلٹی میں درد ہونی شروع ہوئی۔ تب مجھے خیال آیا کہ حضورؑ نے جو دوائی بتلائی تھی اس کا نام میں بھول گیا ہوں۔ حیران تھا کہ کیا کروں۔ اتنے میں دو تین دن کے بعد وہ گلٹی اوپر سے کھل گئی اور پھٹ کر باہر نکل آئی اور دو تین دن کے بعد زخم صاف ہوگیا۔
اسی طرح ایک پھوڑا تھا جو مجھے سخت تکلیف دے رہا تھا۔ مَیں نے اس کی شکایت حضورؑ سے کی۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اچھا ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ خودبخود بغیر علاج کے اچھا ہوگیا۔
٭…آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے اور میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے باہم مل کر یہ ارادہ کیا کہ قادیان میں ایک دکان کھولیں اور اس کے لیے پہلے حضورؑ سے اجازت لی جائے۔ چنانچہ جب ہم نے حضورؑ کی خدمت میں یہ عرض کیا تو فرمایا کہ پہلے استخارہ کرلو۔ مَیں نے عرض کی کہ حضور استخارہ تو ایک ہفتہ تک کرنا پڑے گا۔ تب حضورؑ نے فرمایا کہ استخارہ دعا ہی ہوتی ہے۔ ہر نماز میں دعا کرو۔ ایک دن میں بھی استخارہ ہوسکتا ہے۔ … اس کے بعد ہمارا خیال دکان کرنے کا بالکل جاتا رہا۔
٭… ایک دفعہ حضورؑ نے فرمایا کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ سیاہ رنگ کے پودے لگارہے ہیں۔ مَیں نے اُن سے پوچھا کہ یہ کیسے پودے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے پودے ہیں۔ تو پھر مَیں نے پوچھا کہ کب؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جاڑے کے موسم میں۔ تب حضورؑ نے جماعت کو فرمایا کہ مَیں نے رؤیا دیکھا ہے۔ اب دنیا میں طاعون کا عذاب آنے والا ہے۔ بہت بہت توبہ کرو صدقہ کرو اور اپنی اصلاح کرو۔
ہمارے گاؤں میں جب طاعون کے آغاز میں چوہے مرنے شروع ہوئے تو مَیں نے اس بارہ میں حضورؑ سے ذکر کیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ فوراً باہر کھلی ہوا میں چلے جاؤ۔ ایسے خطرہ کے وقت اس جگہ کو چھوڑنا ہی سنت ہے۔ چنانچہ مَیں حضورؑ کے حکم کے ماتحت باہر چلا گیا اور سب لوگ بھی میرے سبب باہر چلے گئے مگر ایک چچازاد بھائی باہر نہ گیا اور چند دن بعد وہ طاعون سے مرگیا۔
٭…ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ ایک مقدمہ کی پیشی کے لیے حضورؑ کو موضع دھاریوال جانا پڑا۔ گرمی کا موسم اور رمضان کا مہینہ تھا۔ بہت سے دوست اردگرد سے وہاں گئے۔ بہتوں نے روزے رکھے ہوئے تھے۔ وہاں ایک سردارنی نے دعوت کا پیغام بھیجا۔ حضورؑ نے دعوت منظور فرمائی۔ سردارنی نے میٹھے چاول وغیرہ کی دعوت کی۔ بعض دوستوں نے حضورؑ سے روزہ کے متعلق عرض کی۔ حضورؑ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ اُسی وقت دوستوں نے روزے توڑ دیے۔
٭… ایک دفعہ حضورؑ سیر کے واسطے موضع بھینی کی طرف تشریف لے گئے۔ راستے میں جو بڑ کا درخت تھا، حضورؑ اس کے نیچے کھڑے ہوگئے اور وہاں موجود ڈھاب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اس جوہڑ کا پانی اچھا نہیں ہے، اس سے وضو کرکے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
٭… ایک دفعہ دعا کے متعلق سوال ہوا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ دعا ہی مومن کا ہتھیار ہے۔ دعا کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ دعا سے تھکنا نہیں چاہئے۔ لوگوں کی یہ عادت ہے کہ کچھ دن دعا کرتے ہیں اور پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ دعا کی مثال حضورؑ نے کنویں سے دی کہ انسان کنواں کھودتا ہے۔ جب پانی کے قریب پہنچتا ہے تو تھک کر چھوڑ دیتا ہے اور نااُمید ہوجاتا ہے۔ اگر ایک دو بالشت اَور کھودتا تو نیچے سے پانی نکل آتا اور کامیاب ہوجاتا۔ اسی طرح دعا کا کام ہے کہ انسان کچھ دن دعا کرتا ہے اور پھر چھوڑ دیتا ہے اور ناکام رہتا ہے۔
٭… میرا بیٹا عبدالغفور ابھی چھوٹا ہی تھا کہ اس کی نانی اپنی پوتی کا رشتہ اس سے کرنیکے لیے مجھے زور دینے لگی مگر مَیں منظور نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن موقع پاکر وہ حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بتایا کہ اُس کی پوتی کا رشتہ مَیں اپنے بیٹے کے لیے پسند نہیں کرتا۔ حضورؑ نے مجھے بلاکر وجہ پوچھی تو مَیں نے عرض کی کہ یہ لوگ مخالف ہیں اور سخت گوئی کرتے ہیں۔ حضورؑ نے فرمایا:مخالفوں کی لڑکی لے لو اور مخالفوں کو دو نہ۔
٭… ایک بار مَیں نے حضورؑ سے پوچھا کہ عشاء کی نماز کے بعد اگر وتر نہ پڑھے جائیں اور پچھلے پہر بھی کسی وجہ سے نہ پڑھ سکیں تو پھر ان کو کس وقت پڑھا جائے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ پہلے ہی پہر پڑھ لیے جائیں۔ یعنی نماز عشاء کے بعد ہی۔
٭… حافظ حامد علی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے افریقہ بھیجا۔ جب مَیں جہاز میں سوار ہوا تو وہ آگے جاکر خطرے میں پڑگیا یہاں تک کہ لوگ چیخ و پکار کرنے لگے۔ حتیٰ کہ میرے دل میں بھی کچھ خیال پیدا ہوا مگر میرے دل میں پھر یہ خیال پیدا ہوا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے نبی کا بھیجا ہوا ہوں اور مَیں نے اس کا کام کرنا ہے اس لیے یہ جہاز کس طرح ڈوب سکتا ہے۔ مَیں نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لوگو! گھبراؤ مت، یہ جہاز ہرگز نہیں ڈوبے گا کیونکہ مَیں ایک نبی کا بھیجا ہوا اس جہاز میں سوار ہوں اس واسطے یہ جہاز ہرگز نہیں ڈوبے گا۔ آخرکار ہم ساحل پر جاپہنچے کہ جس جگہ مَیں نے اترنا تھا۔ چنانچہ مَیں وہاں سے اُتر کر آگے اپنی منزل کی طرف چلاگیا۔ مگر وہ جہاز اُس جگہ سے روانہ ہوکر کچھ فاصلے پر جاکر ڈوب گیا۔ جب اس جہاز کے ڈوبنے کی خبر پھیلی تو میرے گھر والوں نے بھی سنا کہ فلاں جہاز، فلاں تاریخ کو ڈوب گیا ہے۔ میرے گھر کے لوگ روتے پیٹتے ہوئے حضرت صاحبؑ کے پاس پہنچے اور رو رو کر کہنے لگے کہ حضور! سنا ہے کہ فلاں جہاز جس پر حامد علی صاحب سوار تھے ڈوب گیا ہے۔ حضرت صاحبؑ نے ان کی چیخ وپکار سن کر فرمایا: ہاں مَیں نے بھی سنا ہے کہ فلاں جہاز ڈوب گیا ہے اور اس میں حامدعلی بھی تھے۔ مگر پھر تھوڑی دیر خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ چند منٹوں بعد بلند آواز سے فرمایا کہ صبر کرو، حامد علی صاحب اللہ کے فضل سے زندہ ہے۔ وہ ہمارا کام جس کے واسطے گیا ہے، کر رہا ہے۔
٭…ایک دفعہ جب ہم قادیان میں عید کی نماز ادا کرچکے تو مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے حضرتؑ کے حضور عرض کی کہ حضورؑ نے فرمایا تھا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کرے گا اور آج عید کا دن ہے۔ حضورؑ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ تب سب لوگ مسجد میں بیٹھ گئے اور حضورؑ نے کرسی پر بیٹھ کر عربی زبان میں خطبہ شروع کردیا۔ بہت سے دوستوں نے لکھنا شروع کیا اور جب کوئی لفظ کسی لکھنے والے کی سمجھ میں نہ آتا تو حضورؑ پوچھنے پر لفظ مع تلفظ بتلادیتے۔ اس وقت حضورؑ اس طرح زبان مبارک سے الفاظ نکالتے تھے کہ گویا کتاب آگے رکھی ہوئی ہے جس سے دیکھ دیکھ کر پڑھتے ہیں۔ حضورؑ کا رنگ اُس وقت سرسوں کے پھول کی مانند تھا۔ آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے اور کبھی کبھی کھول بھی لیتے تھے۔
٭… حضورؑ کے اخلاق نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ تھے۔ حضورؑ کا ہر ایک شخص سے ایسا طریق تھا کہ ہر شخص خیال کرنے لگتا تھا کہ مَیں ہی حضورؑ کا ایک خاص خادم ہوں اور جیسی محبت مجھ سے ہے اَور کسی سے نہیں ہے۔ حضورؑ کبھی کسی خادم سے گفتگو کرتے وقت اپنے چہرۂ مبارک پر کسی قسم کی کوئی ایسی علامت ظاہر ہونے نہیں دیتے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حضورؑ اس گفتگو یا اس بات کو سننا پسند نہیں کرتے یا حضورؑ کی توجہ کسی اَور کی طرف لگی ہوئی ہے۔ باوجود اس کے کہ حضورؑ کے اوقات بہت گرامی اور عزیز تھے مگر حضورؑ کے اخلاق کریمہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کو بھی اپنا یکساں ممنون بنائے رکھتے تھے۔ ایک دفعہ حضورؑ مسجد مبارک میں نماز پڑھ کر مکان کے اندر تشریف لے جانے لگے۔ جب حضورؑ کھڑکی سے گزر گئے تو مَیں نے بھی جرأت کی اور حضورؑ کے پیچھے اندر داخل ہوکر عرض کی کہ حضورؑ مَیں نے کچھ عرض کرنی ہے۔ حضورؑ وہاں ایک چارپائی پر بیٹھ گئے اور مَیں بھی حضورؑ کے پاس بیٹھ گیا۔ مَیں نے وہاں بیٹھ کر حضورؑ سے باتیں کرنی شروع کردیں۔ میری وہ گفتگو بعض دنیاوی امور کے متعلق تھی جن سے حضورؑ کو کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر حضورؑ پوری توجہ سے سنتے رہے۔ مَیں نے کچھ خوابیں بھی سنائیں۔ اس گفتگو میں کافی عرصہ لگ گیا۔ میرا دل یہی چاہتا تھا کہ مَیں حضورؑ کے پاس بیٹھا رہوں۔ مگر حضورؑ نے اس عرصے میں کوئی بات ناپسندیدگی کی نہ فرمائی اور نہ ہی یہ فرمایا کہ میاں چھوڑو بہت دیر ہوگئی۔ آخر مجھے خود ہی خیال آیا کہ حضورؑ کا وقت بہت قیمتی ہے مَیں اسے کیوں ضائع کررہا ہوں۔ اس خیال کے آتے ہی مَیں نے حضورؑ سے اجازت لے لی۔ آج مجھے جب اس کا تصور آتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہوں اور ساتھ ہی حضورؑ کے اخلاق عالیہ کی بلندی پر غور کرتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں۔
٭… حضورؑ کا اپنے مہمانوں سے بالکل ایسا تعلق تھا جو ایک شفیق باپ کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ ایک دفعہ مسجد مبارک میں کچھ دوست کھانا کھانے بیٹھے۔ حضورؑ اندر سے تشریف لائے اور مہمانوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضورؑ چھوٹا سا ٹکڑا لیتے تھے اور اس سے ذرا سا سالن لگاکر اسے کھاتے تھے۔ اپنے سامنے سے بوٹیاں اٹھا اٹھاکر دوسروں کے برتنوں میں رکھتے جاتے تھے۔
٭… حضورؑ کبھی اور کسی مرحلہ پر مایوس نہیں ہوتے تھے۔ میاں محمد اکبر صاحب مرحوم ایک دفعہ سخت بیمار ہوگئے۔ حضرت خلیفہ اوّل علاج فرماتے تھے۔ بہت علاج کیا مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ آخر مولوی صاحب نے علاج بند کردیا۔ کسی نے حضرت اقدسؑ کو بھی اطلاع کردی۔ آپؑ حضرت مولوی صاحبؓ سے فرمانے لگے: ’’کیا آپ مایوس ہوگئے ہیں؟‘‘ انہوں نے فرمایا کہ حضورؑ! ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں اس لیے علاج بند کردیا ہے۔ حضورؑ یہ سن کر فرمانے لگے: ’’اچھا اب آپ علاج نہ کریں ہم علاج کریں گے۔‘‘ چنانچہ حضورؑ نے علاج شروع کر دیا اور میاں محمد اکبر صاحب اس مرض سے اچھے ہوگئے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مریض کا علاج ایک ماہر طبیب مایوس ہوکر چھوڑ دیتا تھا، حضورؑ اس کے متعلق بھی اپنے مولیٰ سے یقین رکھتے تھے کہ خداتعالیٰ اس کو شفا دے سکتا ہے۔
٭…حضور علیہ السلام کے کمالِ تقویٰ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورؑ سیر کو جارہے تھے۔ راستہ میں ایک کیکر کا درخت گرا ہوا تھا۔ لوگ اس سے مسواکیں بنانے لگے۔ جب حضورؑ واپس تشریف لائے تو لوگوں کو مسواکیں بناتے دیکھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ آپ لوگ کس کی اجازت سے مسواکیں بنارہے ہیں؟ سب نے اُسی وقت مسواکیں پھینک دیں۔ یہ حالت تھی تقویٰ کی اور یہ وہ رنگ تھا جو حضورؑ جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے کہ ایک گرے ہوئے درخت کی مسواک اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر لینا بھی حضورؑ جائز نہیں سمجھتے تھے۔
٭… حضورؑ اپنے دشمنوں سے بھی حسنِ سلوک کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین جو سخت طبیعت کے آدمی تھے انہوں نے دیکھا کہ مسجد مبارک کے سامنے ایک چبوترے پر اونٹ بیٹھے ہیں جو لنگرخانے کے لیے آٹے کی بوریاں لائے تھے اور بوریاں وہاں اتاری گئی تھیں۔ مرزا صاحب نے اپنے چوکیداروں کو بلاکر کہا کہ ان اونٹوں کو مارکر ہٹادو۔ چوکیداروں نے بڑی سختی کی جس سے بعض دوستوں کو رنج پہنچا۔ کسی نے اس واقعے کا ذکر حضورؑ سے کیا تو آپؑ نے فرمایا: اُن کو کچھ نہ کہو اور یہاں سے سامان اٹھالو۔
٭… حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ کی اہلیہ حضرت برکت بی بی صاحبہؓ کا تعلق دیالگڑھ کے ایک متعصب گھرانہ سے تھا لیکن اپنے خاوند کی بیعت کے فوراً بعد ہی قادیان آکر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ دراصل آپؓ کی رہنمائی خوابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی کرچکا تھا۔ چنانچہ پہلی دفعہ جب آپؓ قادیان پہنچیں تو میاں صاحب سے کہا کہ اب آپ مجھے راستہ نہ بتائیں بلکہ میرے ساتھ ساتھ آئیں، مَیں اُس راستے سے جاؤں گی جو خوابوں میں دیکھا کرتی ہوں۔ چنانچہ آپؓ خود چلتی ہوئی دارالمسیح تک پہنچ گئیں۔ اور پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رُخ انور پر نظر پڑی تو پہچان گئیں کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کو خواب میں دیکھا تھا اور فوراً بیعت کرلی۔ پھر اپنے شوہر سے فرمائش کی کہ مَیں آپ سے کچھ نہیں مانگتی، صرف یہ وعدہ کریں کہ مجھے قادیان جانے سے نہیں روکیں گے۔
حضرت برکت بی بی صاحبہؓ قادیان آتیں تو حضرت اماں جانؓ کے پاس ہی قیام ہوتا۔ آپؓ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتیں۔ کھانے پکانے میں کافی مہارت تھی۔ پہلی بار کھانا پکایا تو حضورؑ نے پسند فرمایا اور پوچھا کہ کس نے کھانا پکایا ہے؟ حضرت امّ المومنینؓ نے ان کے بارہ میں بتایا تو حضورؑ نے ازراہ شفقت ارشاد فرمایا کہ اب یہ جب بھی آئیں کھانا یہی پکایا کریں۔ اس طرح آپؓ کو ایک بابرکت خدمت کی توفیق ملنے لگی۔ آپؓ قادیان آتیں تو کئی کئی دن ٹھہر جاتیں۔
آپؓ اکثر اپنی بڑی بچی رحیم بی بی کو بھی ہمراہ لے آتیں۔ اس بچی کی ایک بھولپن کی فرمائش کا دلچسپ واقعہ یوں ہے کہ حضورؑ کسی تصنیف میں مصروف تھے۔ بچی حضرت صاحب کو پنکھا کررہی تھی۔ خدا جانے اس بچی کے دل میں کیا آیا کہ وہ ایک کھڑکی پر چڑھ کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی: حضرت جی! آپ یہاں آجائیں تو مَیں آپ کو پنکھا کروں۔ اور حضورؑ بچی کی دلجوئی کی خاطر کام چھوڑ کر کھڑکی کے پاس تشریف لے آئے۔
حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ کے بارہ میں مکرم نذر حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپؓ کی دودھ دہی، سوڈاواٹر اور رس و بسکٹ وغیرہ کی دکان تھی۔ ہاتھوں سے دودھ کو ہلانے کا کام لیتے اور ہونٹ تسبیح و تحمید میں ہلتے رہتے یوں آپؓ دست بکار اور دل بایار کا عملی نمونہ تھے۔ آپؓ خاموش طبع انسان تھے۔ چہرہ پر ہمیشہ طمانیت کے آثار موجود ہوتے۔ دکان کے طاقچہ پر ایک لوہے کی میخ کے ساتھ ایک کاپی اور ایک پنسل بندھی ہوتی تھی جس پر ادھار لینے والوں کا حساب درج ہوا کرتاتھا۔ لیکن آپؓ کا یہ حال تھا کہ کبھی حساب لکھنے والے کی جانچ پڑتال نہ کی۔ جو کچھ کوئی لکھ جاتا اُس کو ہی صحیح سمجھ لیا جاتا۔ کئی ناعاقبت اندیش طلباء آپؓ کی اس سادہ دلی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے مگر آپؓ کے ماتھے پر شکن تک نہ پڑتی۔ ہاں آپؓ اصولوں پر قائم رہتے۔ یہی طلباء اگر کبھی سر سے ننگے آپؓ کی دکان سے سودا لینے جاتے تو آپؓ واپس لَوٹادیتے کہ سر پر ٹوپی رکھ کر آؤ۔
آپؓ کے ایک نواسے مکرم چودھری فاروق احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ نانا جان کی دکان کے عقب میں ایک کمرہ تھا جس میں ہم رہتے تھے۔ روزانہ آپؓ ہمارے صحن سے گزر کر دکان پر جاتے اور شام کو دکان بند کرکے پھر صحن سے گزر کر اپنے گھر جاتے۔ ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپؓ کو اطلاع دی جاتی تو آپؓ فرماتے کہ گُڑ لاؤ۔ پھر اس گُڑ کی گولی بناتے۔ اس پر کچھ پڑھتے اور وہ گولی بیمار کو کھلادیتے۔ یہ میرا حیران کُن تجربہ ہے کہ ہر قسم کی بیماری اُن کی اُس گولی سے ٹھیک ہوجاتی۔
جب بھی کوئی جنازہ آپؓ کی دکان کے سامنے سے گزرتا تو آپؓ سب کام چھوڑ کر ساتھ ہوجاتے اور نماز جنازہ پڑھ کر تدفین کے بعد واپس آتے خواہ مرحوم کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔
آپؓ کی دکان کے آگے سے سردار صاحبان اپنی بیل گاڑیوں پر بہت زیادہ سامان لاد کر گزرتے اور جانوروں کو بڑی بے دردی سے مارتے۔ آپؓ اُن کو روک کر اُن سے وعدہ لیتے کہ آئندہ وہ جانور پر ظلم نہیں کریں گے۔ اس بات کا اُن لوگوں میں اتنا چرچا ہوا کہ وہ آپؓ کی دکان سے کچھ فاصلہ پہلے ہی جانوروں کو مارنا بند کردیتے اور کافی آگے جاکر جانور کو کچھ کہتے۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں