جدید عجائباتِ عالم: بطرا (Petra)

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل جنوری تا مارچ 2014ء)

جدید عجائباتِ عالم: بطرا (Petra)
(ناصر محمود پاشا)

اردن میں واقع قدیم شہر بطرا اپنی بلند و بالا پتھریلی عمارات کے باعث بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ یہ وادی عربہ کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ یہ وادی بحر مردار سے لے کر خلیج عقبہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ شہر کی بیشتر عمارات پہاڑوں میں پتھر تراش کر بنائی گئی ہیں۔
یہ انسانی آبادی وقت کی دھول میں گم ہوگئی تھی۔ سوئٹزرلینڈ کے مہم جو، جوہانن لڈوگ برک ہارڈت نے اسے 1812ء میں دریافت کیا۔ تاہم دوسری جنگ عظیم تک مسلح پہریداروں کی معیت ہی میں یورپی اسے دیکھنے جاتے رہے کیونکہ عرب بدّو اُن پر حملہ کر دیتے تھے۔ 1985ء میں بطرا کو یونیسکو نے ورلڈ ہیریٹیج سائٹ قرار دے دیا اور ماہرین نے اِسے ’’انسان کے ثقافتی ورثے میں ایک قیمتی موتی‘‘ کا خطاب دیا۔

بطرا کا قدیم نام رقیم ہے۔ بحر مردار سے ملنے والی قدیم الواح میں اس کا تذکرہ ملا ہے۔ قدیم مؤرخین نے مختلف حوالوں سے اپنی کتب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وادی عربہ کی غاروں میں سب سے پہلے حورتی (Horites) آباد ہوئے جو خانہ بدوش قسم کے لوگ تھے۔ یہ تقریباً 2000 قبل مسیح کی بات ہے۔ بعدازاں علاقے میں ادومی آباد ہوئے اور علاقہ ادوم کہلانے لگا۔ ادومیوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں تاہم وہ اپنی دانش اور لکھنے کی صلاحیت کے باعث مشہور تھے۔ 312 قبل مسیح میں عرب قبیلے نبطی کے باشندوں نے ادومیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ نبطیوں کے دور ہی میں بطرا کو عروج حاصل ہوا اور یہ مسالحوں تجارت کا اہم مرکز بن گیا جو پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلی ہوئی تھی۔ اسی زمانے میں یہاں مقیم فنکاروں نے پہاڑوں میں پتھر تراش کر دیوہیکل عبادت گاہیں اور مقابر بنائے۔ 63ء میں جنرل پومپئی کی قیادت میں رومیوں نے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ شروع میں بطرا کو آزاد رکھا گیا تاہم شہنشاہ ٹراجن نے 106ء میں اسے صوبہ ’’عرب بطرا‘‘ کا حصہ بنا دیا جس کا صدر مقام بطرا تھا۔ رومی دور میں بھی بطرا پھلتا پھولتا رہا اور یہاں کئی عمارتیں تعمیر ہوئیں۔

بطرا کے مغرب میں غزہ ہے اور شمال میں بصرہ اور دمشق، یوں کئی تجارتی قافلے یہاں آنے جانے لگے۔ پھر پہاڑوں اور ندی نالوں نے اسے قدرتی قلعے کی شکل دیدی۔ نبطیوں کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے نالوں کا پانی استعمال کرتے ہوئے اردگرد کئی مصنوعی نخلستان بنالئے۔ یوں بطرا کو پھلنے پھولنے میں مدد ملی اور کئی عرب بدو یہاں بس گئے۔ تاریخی حقائق سے پتہ چلاہے کہ نبطی بند بھی بناتے تھے تاکہ بارشوں کے موسم میں آنے والے سیلابوں کا مقابلہ ہوسکے۔ مزیدبرآں قحط کی صورت میں جمع شدہ پانی کام آتا تھا۔
قدیم نبطی مختلف دیوی، دیوتاؤں کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا دیوتا دسہارا تھا۔ 313ء تک رومیوں کے زیر اثر علاقے میں عیسائیت نے قدم جمالئے۔ 363ء میں ایک خوفناک زلزلے نے بطرا کو بہت نقصان پہنچایا اور اس کا خصوصاً آبی نظام تباہ ہوگیا۔ یوں رسول اکرم ﷺ کی پیدائش سے قبل ہی بطرا کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔
آج ہر سال چار لاکھ سیاح بطرا کے کھنڈر دیکھنے آتے ہیں۔ اس کی شہرت پھیلانے میں ہالی وڈ کی فلموں نے بھی خاص کردار ادا کیا۔ سند باد اینڈ دی آئی آف ٹائیگر، انڈیانا جونز اینڈ دی لاسٹ کروز اور دی ممی ریٹرنز وغیرہ میں بطرا کے طویل سین فلمائے گئے ہیں۔
اردنی حکومت نے بطرا کو عجائبات میں شامل کرنے کے لئے بڑی منظم مہم چلائی تھی اور اسے کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ بیس لاکھ ووٹ اس کے حق میں ڈالے گئے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SXl1F]

اپنا تبصرہ بھیجیں