جدید عجائباتِ عالم: ماچو پکچو

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2014ء)

جدید عجائباتِ عالم: ماچو پکچو
(ناصر محمود پاشا)

ایک تاریخی شہر جو اَنکا باشندوں نے ماچو پکچو پہاڑ پر بسایا تھا۔ یہ پیرو کی وادی اروبامبا میں واقع ہے۔ اسے ’’گمشدہ شہر‘‘ (Lost City) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کئی صدیوں تک بیرون ملک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہا تاہم مقامی باشندے اس سے واقف تھے۔ 1911ء میں امریکی ماہر آثار قدیم، ہیرام بنگھم (1875ء تا 1956ئ) نے اسے دریافت کیا اور ماچو پکچو پر ایک کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب کے ذریعے جدید دنیا اس قیمتی اثریاتی شہر سے واقف ہوئی۔ تاہم بنگھم شہر سے ملنے والے کئی ہزار آرٹ کے بیش قیمت نمونے اپنے ساتھ امریکہ لے گیا جنہیں واپس حاصل کرنے کے لئے پیرو کی حکومت قانونی چارہ جوئی کررہی ہے۔
انکا لوگوں کا اصل وطن پیرو ہے۔ انہوں نے تیرہویں صدی کے اوائل میں زور پکڑا۔ 1438ء تا 1533ء کے دوران انہوں نے حملے کرکے یا پُرامن پیغام رسانی کے ذریعے جنوبی امریکہ کے مغربی حصوں پر اپنی سلطنت قائم کرلی۔ اپنے دور عروج میں یہ سلطنت ایکواڈور، پیرو، مغربی اور وسطی بولیویا، شمالی ارجنٹائن، شمالی چلی اور جنوبی کولمبیا تک پھیلی ہوئی تھی۔
ماچوپکچو تقریباً 1450ء میں آباد ہوا جب انکا سلطنت پھل پھول چکی تھی۔ یہ بستی صرف ایک سو سال بعد زوال پذیر ہوگئی کیونکہ ہسپانوی مہم جوؤں نے انکا سلطنت تباہ و برباد کرڈالی۔ یہ بستی انکاؤں کے صدر مقام کسکو سے صرف پچاس میل دور واقع تھی۔ چونکہ ظالم ہسپانویوں نے وہاں آباد تمام باشندوں کو قتل کردیا، اس لئے وہ بستی بھی گوشہ گمنامی میں چلی گئی۔ رفتہ رفتہ وہاں جنگل نے جنم لے لیا، یوں اس کے رہے سہے نشان بھی عنقا ہوگئے۔
بنگھم اور اس کے ساتھی ماہرین نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں انکاؤں کے آباو اجداد نے جنم لیا۔ تاہم اب بیشتر مؤرخین کا خیال ہے کہ انکا بادشاہ یہاں تفریح منانے کی غرض سے آیا کرتے تھے۔
اَنکا حکمرانوں نے یقینا اپنی منفرد جگہ اور اراضی خصوصیات کی بنا پر ماچوپکچو میں بستی بسائی۔ یہ بڑا پُرفضا مقام ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بستی کے پچھواڑے واقع پہاڑی سلسلے کا انسانی چہرے سے ملتا جلتا خاکہ اس انکا کی نمائندگی کرتا ہے جو آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے جبکہ سب سے بڑا پہاڑ اس چہرے کی ناک ہے۔ 1913ء میں جب ’’نیشنل جیوگرافک‘‘ نے اپنے ایک شمارے میں ماچوپکچو سے متعلق مضامین شائع کئے تو اس بستی کو صحیح معنوں میں شہرت ملی۔ 1983ء میں یونیسکو نے اسے ورلڈ ہیریٹیج سائٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’انکا فن تعمیر کا شاہکار اور ایک منفرد اثریاتی مقام ہے‘‘۔
یہ بستی انکاؤں کے لئے دفاعی قلعے کی حیثیت بھی رکھتی تھی کیونکہ ان گنت پہاڑوں، دریاؤں اور جنگلوں کی وجہ سے اس تک پہنچنا جان جوکھوں کا کام تھا۔
یہ کھنڈر بستی سطح سمندر سے 2350 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ اسی کے باعث بیشتر سیاح پیرو آتے ہیں۔ اندازاً ہرسال تقریباً چار لاکھ سیاح ماچو پیکچو دیکھنے آتے ہیں۔ پیرو کی حکومت یہاں جدید ہوٹل اور تجارتی پلازہ تعمیر کرنا چاہتی ہے مگر ماہرین اور مقامی باشندے اس منصوبے کے مخالف ہیں کیونکہ اس طرح کھنڈرات کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہ کھنڈر رہائشی عمارات، معبدوں، کنوؤں، دفاعی چوکیوں وغیرہ پر مشتمل ہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/WDwbB]

اپنا تبصرہ بھیجیں