جدید عجائباتِ عالم: چیچن اٹزا

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2014ء)

جدید عجائباتِ عالم: چیچن اٹزا
(ناصر محمود پاشا)

دنیا کے نئے عجائبات میں شامل یہ اثریاتی مقام میکسیکو کی مایا تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ نما یوکاتان کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ 600ء تا 1200ء مایاؤں کا اہم تجارتی مرکز رہا۔ علاقے کی تعمیرات میں میکسیکن فن تعمیر کے کئی سٹائل ملے جلے نظر آتے ہیں۔ اثریاتی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ دشمنوں نے چیچن اٹزا کی عمارتیں جلا کر خاک کر ڈالیں اور یوں اس شہر کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم آج بھی وہاں مایاؤں کے کچھ مندر اور اہرام عظمت رفتہ کی یاد دلاتے ہیں۔
تاریخ انسانی کے صفحات پر مایا 2600 قبل مسیح میں نمودار ہوئے۔ ان لوگوں نے میکسیکو کے جنگلوں میں زبردست کارہائے نمایاں انجام دیئے اور دوسروں پر اپنی ذہانت کی دھاک بٹھا دی۔ انہوں نے اس وقت شمالی و جنوبی امریکہ میں تحریر کا نظام وضع کیا جب یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے جنگل صاف کرکے وسیع شہر بنائے اور وہاں خوبصورت عمارتیں تعمیر کیں۔ ان کی تعمیر کردہ پتھریلی عمارتیں آج بھی چیچن اٹزا، کوپان، تیکال وغیرہ کے کھنڈرات میں سیاحوں کو مسحور کر دیتی ہیں۔
مایاؤں کو صحیح معنوں میں عروج 250ء میں ملا۔ میکسیکو کے علاوہ گوئٹے مالا، شمالی بیلیز اور مغربی ہونڈرس میں بھی ان کے اثرات نظر آتے ہیں۔ مایا ماہر تعمیرات نے ان علاقوں میں اوزاروں کے بغیر نفیس اور خوبصورت عمارات بنائیں جن میں اہرام نما معبد، محل اور رصدگاہیں شامل ہیں۔
مایا سلطنت دراصل کئی چھوٹی بڑی آزاد ریاستوں کا مجموعہ تھی۔ ہر ایک نے اپنی تہذیب و ثقافت کو ترقی دی۔ 900ء کے قریب اچانک جنوبی علاقوں کے مایا اپنے شہر چھوڑ گئے۔ ماہرین آج تک نہیں جان سکے کہ مایاؤں نے اپنے شہر کیوں چھوڑے؟ جلد ہی شمالی علاقوں کے مایا نئی ابھرتی تہذیب، ٹولٹیک میں جذب ہو گئے۔ اس طرح 1200 ء تک مایاؤں کا نام و نشان مٹ گیا۔ اگرچہ ان کے کچھ مراکز سولہویں صدی کے اوائل تک برقرار رہے۔ جب ہسپانویوں نے ان پر قبضہ کرلیا۔
مایاؤں نے جب جزیرہ نما یوکاتان کے شمال میں تین بڑے تالاب دیکھے تو وہاں 200ء کے قریب اپنی بستی بسالی۔ یہی بستی بڑھتے بڑھتے 600ء میں شہر بن گئی جو چیچن اٹزا کے نام سے مشہور ہوا۔ مایا زبان میں اس لفظ کے معنی ہیں کنویں کے منہ پر واقع۔ رفتہ رفتہ یہ شہر شمالی مایاؤں کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور نظریاتی زندگی کا مرکز بن گیا۔
چیچن اٹزا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس پر کوئی ایک بادشاہ حکمران نہیں تھا بلکہ نظم و نسق ایک کونسل چلاتی تھی۔ شہر کی معزز شخصیات اس کونسل کی رکن تھیں۔ چونکہ یہ تجارتی راستے پر واقع تھا لہٰذا اس خوبی نے بھی شہر کو فروغ دیا۔
مایا تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 1221ء میں چیچن اٹزا خانہ جنگی کا شکار ہوگیا جس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ نتیجتاً شہر میں لکڑی کی ساری عمارتیں جل گئیں۔ اس کے بعد چیچن اٹزا زوال کا شکار ہوگیا۔ تاہم جدید سائنسی طریقوں سے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ شہر میں خانہ جنگی 1000ء میں ہوئی تھی۔ بہرحال اپنی تباہی کے بعد وہ ویران ہوتا گیا یہاں تک کہ 1531ء میں ہسپانوی مہم جو فرانسسکو ڈی مونتیجو نے اس پر قبضہ کرلیا۔
چیچن اٹزا میں آج پتھر سے بنی کئی عمارتیں محفوظ ہیں۔ ان میں معبد، محل، چبوترے، مارکیٹیں، غسل خانے اور کھیلوں کی جگہیں شامل ہیں۔ ان میں سے سب سے نمایاں ’’ال کاستیو کا معبد‘‘ ہے۔ یہ عمارت شکل میں ہرم جیسی ہے اور اس کے اوپر معبد واقع ہے۔ یہ 24 میٹر بلند ہے اور اس پر چڑھنے کے لئے چاروں کونوں پر 91 سیڑھیاں موجود ہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/QKkyB]

اپنا تبصرہ بھیجیں