جدید عجائباتِ عالم: کلوسیم

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2014ء)

جدید عجائباتِ عالم: کلوسیم
(ناصر محمود پاشا)

ایک دیوہیکل ایمفی تھیٹر جو اطالوی دارالحکومت روم کے قلب میں واقع ہے۔ (ایمفی تھیٹر سے مراد وہ گول میدان ہے جس کے چاروں طرف بیٹھنے کیلئے نشستیں ہوں) اس میں پچاس ہزار تماشائی بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ دیگر تھیٹروں کی طرح اس میں بھی کھیلوں کے مقابلے، میلے اور ڈرامے منعقد ہوتے تھے۔
کلوسیم کی تعمیر 70ء تا 72ء کے درمیانی عرصے میں رومی بادشاہ، ویسپاسین نے شروع کروائی تھی۔ یہ 80ء میں مکمل ہوا جب ٹائٹس حکومت کررہا تھا۔ بعدازاں رومی بادشاہ، دومتائن نے بھی اس میں اضافے کروائے۔ کلوسیم تقریباً پانچ سو برس تک رومیوں کے زیر استعمال رہا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہاں چھٹی صدی عیسوی میں آخری بار کھیلوں کے مقابلے ہوئے حالانکہ رومی سلطنت 476ء میں ختم ہوگئی تھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ نئے حکمرانوں نے بھی کلوسیم کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔
یہ تھیٹرگلیڈی ایٹر مقابلوں کے سلسلے میں زیادہ مشہور تھا۔ یہ وہ پیشہ ور
تیغ زن تھے جو لوگوں کو تفریح پہنچانے کے لئے غلاموں، قیدیوں یا جانوروں کے ساتھ مرنے مارنے تک لڑتے رہتے تھے۔ مزیدبرآں یہاں مصنوعی جنگیں بھی لڑی جاتی تھیں۔ کلاسیکل دیومالا کے ڈرامے بھی کھیلے جاتے۔ قرون وسطیٰ کے ابتدائی دور میں کلوسیم تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، اسے پھر بطور رہائش، ورکشاپ، قلعہ یا عیسائی یادگار استعمال کیا جانے لگا۔
گو آج زلزلوں اور پتھر چوروں کی وجہ سے کلوسیم ٹوٹ پھوٹ چکا ہے تاہم یہ کئی سو برس تک رومی سلطنت کا شاہی نشان رہا ہے۔ نیز اسے رومی فن تعمیر کا بہترین نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ سیاسی نقطہ نگاہ سے یہ روم کے ممتاز مقامات میں سے ایک ہے۔ رومن کیتھولک چرچ میں بھی کلوسیم خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ہرگڈفرائڈے کے موقع پر مشعل برداروں کا ایک جلوس ایمفی تھیٹر کی طرف جاتا ہے جس کے آگے آگے پوپ ہوتا ہے۔
دوسری صدی قبل مسیح میں اس علاقے میں اچھی خاصی آبادی تھی جہاں آج کلوسیم قائم ہے۔ 64ء میں علاقے کی عمارات آگ لگنے سے تباہ ہوگئیں۔ پھر نیرو نے یہاں اپنا محل بنوالیا جس کے سامنے اس نے ایک مصنوعی جھیل بنوائی۔ تاہم ویسپا سین اور دیگر رومی حکمرانوں کے دور اقتدار میں محل جھیل وغیرہ نابود ہو گئے اور ان کی جگہ کئی تعمیرات بن گئیں۔
مؤرخین کا کہنا ہے کہ جب 70ء میں رومیوں نے یہودیوں پر عظیم فتح پائی تو ویسپاسین نے کلوسیم کو اس جیت کی یادگار کے طور پر تعمیر کرایا۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ مصنوعی جھیل کی جگہ ایمفی تھیٹر بنایا جائے، اس سے ظاہر ہے کہ ویسپا سین عوام دو ست حکمران تھا۔ کیونکہ نیرو نے عام لوگوں کو علاقے سے دور کررکھا تھا۔ کلوسیم کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اسے شہر کے قلب میں بنایا گیا، دوسرے ایمفی تھیٹر بیرون علاقوں میں واقع تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب کلوسیم کا افتتاح ہوا تو وہاں اتنے وسیع پیمانے پر کھیل کھیلے گئے کہ ان میں آٹھ ہزار جانور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 217ء میں آسمانی بجلی سے کلوسیم کو سخت نقصان پہنچا۔ 240ء میں جا کر اس کی مرمت مکمل ہوئی۔ پھر وقفے وقفے سے اس کی مرمت ہوتی رہی کیونکہ اسے سال میں کئی بار استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں 435ء تک گلیڈی ایٹر مقابلے ہوتے رہے۔ شیروں اور دیگر شکاری جانوروں کے مابین 523ء تک مقابلے دکھائے گئے۔
جب روم پر عیسائی حکمرانوں کا قبضہ ہوا تو کئی بار کلوسیم کی ہیئت بدل گئی۔ اس کی بغل میں ایک گرجا بنا دیا گیا۔ 1200ء میں فرنگی پانی خاندان نے اسے اپنا قلعہ بنالیا۔ 1349ء میں آنے والے زلزلے نے اسے بڑا نقصان پہنچایا اور جنوبی دیوار گرگئی۔ عیسائیوں نے ملبہ عمارات، گرجاؤں اور ہسپتالوں کی تعمیر میں استعمال کرلیا۔ بعدازاں چور ایمفی تھیٹر کی مختلف اشیاء اکھاڑ کر لے جاتے رہے۔ چونکہ اس کی حفاظت کا کوئی اہتمام نہ تھا لہٰذا جلد ہی وہ کھنڈر کی موجودہ شکل اختیار کر گیا۔
روم کے باشندے تو اپنی اس یادگار کو عالمی شہرت ملنے پر خوش ہوئے تاہم رومن کیتھولک چرچ نے شکایت کی کہ سات نئے عجائبات میں کوئی چرچ شامل نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے استنبول کی مسجد آیا صوفیہ کی مثال دی ہے جو پہلے گرجا تھا۔ مگر اس طرح تو مسلمان بھی کہہ سکتے ہیں کہ نئے عجائبات میں کوئی تاریخی یا خوبصورت مسجد شامل نہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Tvo1d]

اپنا تبصرہ بھیجیں