جلسہ سالانہ برطانیہ 2006ء میں دوسرے روز سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب

2005-2006ء کے دوران جماعت احمدیہ عالمگیر پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کا مختصر تذکرہ
اس وقت تک دنیا کے 185ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکاہے۔ امسال چار نئے ممالک برمودہ،اسٹونیا ،بولیویا اور انٹیگوا میں احمدیت کا پیغام پہنچا۔ 1984ء سے اب تک 94نئے ممالک میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ دوران سال 171نئی مساجد کی تعمیر ہوئی جبکہ 188بنی بنائی مساجد جماعت کو ملیں۔ گزشتہ 21سالو ں میں جہاں پاکستان میں چند احمدی مساجد کوشہید کیا گیا اوراب بھی یہ کوششیں جاری ہیں اس کے بالمقابل اللہ کے فضل وکرم سے جماعت کو 14135 مساجد حاصل ہوئیں۔
مختلف ممالک میں نئی بیعتوں اور نومبائعین سے رابطے ،مشن ہائوسز کی تعدادمیں 96کا اضافہ، قرآن کریم کے تراجم و دیگر لٹریچر کی اشاعت۔عربی، فرنچ، بنگلہ اورچینی ڈیسک۔ ایم ٹی اے ، رقیم پریس ، نصرت جہاں سکیم، پریس اینڈ پبلیکیشن،تحریک وقف نو،ہیومینٹی فرسٹ ،احمدی آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز ایسوسی ایشن وغیرہ جماعتی اداروں کی کارکردگی اور دوران سال اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے بے پایاں فضلوںاورنصرت وتائید کے نشانات کا ایمان افروز تذکرہ ۔
(حدیقۃالمہدی (آلٹن) میں منعقد ہونے والے جماعت احمدیہ برطانیہ کے
46ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر 29 جولائی 2006ء کوبعد دوپہر کے اجلاس میں
امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا روح پرور خطاب

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تَُحْصُوْھَا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡم۔ (النحل:19)

آج کے دن اس وقت کی تقریر میں اللہ تعالیٰ کے پورے سال میں جو جماعت پر فضل ہیں اور اِن فضلوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بارش ہوئی ہے اُس کا کچھ حد تک ذکر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیونکہ ان کا پورا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں ہے۔اور اس کے لئے بھی جو مواد اکٹھا کیا ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ کافی وقت لگ جائے گا۔ پہلے ہی کافی وقت ہوگیا ہے۔ اور آپ لوگ میرا خیال ہے تھکنا بھی شروع ہو جائیں گے۔کیونکہ جو اعداد و شمار ہیں اِس میں ایک خاصی بڑی تعداد ہے جس کی دلچسپی ذرا کم ہوتی ہے۔ اِس لئے مَیں بیچ بیچ میں کچھ واقعات بھی سناتا جاؤں گا۔
نئے ممالک میں احمدیت کا نفوذ
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دنیا کے 185ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ الحمدللہ۔ 1984ء کے آرڈنینس کے بعد سے اب تک 94نئے ممالک احمدیت میں شامل ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے سعید روحوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔
اس سال 4ممالک شامل ہوئے ہیں۔ مجھے تو ویسے بڑی فکر تھی کہ شاید اس دفعہ ایک آدھ ملک شامل ہو۔ لیکن میں نے پھر بھی وکیل التبشیر صاحب کو کہا تھاکہ جہاں جہاں سے نئے ممالک کی طرف توجہ دی جارہی ہے ان ملکوں کو کہیں کہ کوشش کریں۔ ایک آدھ بھی ملک شامل ہو جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بے شمار فضل فرماتے ہوئے چار ملکوں میں احمدیت کا پودا لگا دیا۔ الحمدللہ۔ ان میں Estonia, Antigua, Bermuda اور Bolivia شامل ہیں۔
Estonia جرمنی کے سپرد تھا۔ وہاں کے مبلغ منیرمنور صاحب گئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے 9افراد پر مشتمل جماعت قائم ہو گئی۔
Antigua میں جو غرب الہند کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ ٹرینیڈاڈ کے سپرد تھا۔ ابراہیم بن یعقوب صاحب جو وہاں کے ہمارے مشنری ہیں اور گھانا سے جن کا تعلق ہے انہوں نے وہاں جا کر تبلیغ کی۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو عیسائی خواتین اور ایک فلسطینی فیملی احمدی ہو گئی۔
پھر Bermuda اور Bolivia میں بھی جماعت کا نفوذ ہوا ہے۔ یہ کینیڈا کے سپرد تھا اور یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں ملی ہیں۔ اور یہاں مزید تبلیغ کی انشاء اللہ تعالیٰ کوشش کی جائے گی۔
نومبائعین سے رابطہ
جو پرانے رابطے تھے جو کمزور ہو چکے تھے ان کے بارے میں کوشش ہو رہی تھی۔ Hungry میں جہاں پر کوئی رابطہ نہیں تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں رابطے بحال ہوئے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے باقاعدہ رجسٹریشن کی کارروائی مکمل ہوئی ہے۔ مالٹا میں، رومانیہ میں، میسیڈونیا میں، ترکی میں۔ پھر Finland میں جماعت ہے۔ وہاں رجسٹریشن کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کمال یوسف صاحب جو ہمارے Scandaneviaکے پرانے مبلغ ہیں وہ آج کل وہاں ہیں۔ اپنے طور پر ان کو بھیجا گیا تھا۔ ویسے تو وہ باقاعدہ سروس میں نہیں ہیں۔
اسی طرح نمیبیا ، روانڈا، کیمرون، چاڈ اور ایکوٹوریل گنی، یہ سب ممالک ایسے ہیں جہاں رابطے بہت کمزور تھے اور جماعتیں منظم نہیں تھیں۔ اللہ کے فضل سے ا س سال کافی حد تک منظم کر دی گئی ہیں۔
ملک وار نئی جماعتوں کا جہاں قیام ہوا ہے ان کی تعداد945ہے اور ان نو سو پینتالیس جماعتوں کے علاوہ 589 نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 1534نئے علاقوں میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔ ان میں ہندوستان سر فہرست ہے۔ جہاں 186نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔
نو مبائعین سے بیعتیں کروانے کے بعد انتظامی کمزوری کی وجہ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ان کو مَیں نے کہا تھا کہ رابطے بحال کروائیں ۔نئے سرے سے رابطے کریں۔ ان میں جائیں دیکھیں کہ کس حد تک وہ لوگ ابھی تک اپنے آپ کو احمدیت سے منسلک کئے ہوئے ہیں اور اس حق کو جو انہوں نے پہچانا ہے اس پہ قائم ہیں؟ تو اس رابطے کی مہم میں گھانا سرفہرست ہے۔ انہوں نے 317دیہات کے دو لاکھ سات ہزار نومبائعین سے رابطہ بحال کیا ہے اور تقریباً دو تہائی حصہ میں باقاعدہ جماعتیں قائم ہو کر فعّال نظام شروع کر دیا گیا ہے۔
پھر بورکینافاسو ہے۔ اِن کے ہاں بھی دیہاتوں میں دوردراز علاقوں میں جہاں جانا مشکل ہوتا ہے بیعتوں کے بعد پھر رابطے کمزور ہو گئے تھے۔ تو انہوں نے ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار سے رابطے بحال کئے۔
پھر نائیجیریا ہے۔ انہوں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار رابطے بحال کئے۔
اور پھر آئیوریکوسٹ ہے۔ اس طرح پھر بنگلہ دیش ہے، سیرالیون ہے۔ کافی سارے ممالک ہیں۔ بینن ہے۔ تنزانیہ ہے۔ کینیا ہے۔ ایتھوپیا ہے۔ مالی ہے۔
اِن رابطوں کے سلسلے میں گوائٹے مالا کے قریشی قمرالحق صاحب جو ہمارے مبلغ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بہت ساری بیعتیں یہاں ہوئی تھیں لیکن ان احباب سے رابطہ نہیں رہا تھا۔ ہمارے پاس رابطے کے لئے اُن کے صرف ایڈریس تھے۔ لیکن ان میں سے بھی اکثر وبیشتر تبدیل ہو گئے تھے۔ تو انہوں نے ایک مقامی دوست کی مدد سے پروگرام بنایا کہ ان کو تلاش کیا جائے اور ایک مہم شروع کی۔ کہتے ہیں کہ ایک فیملی کا پتہ لے کر تلاش کرنے کے لئے نکلے اور جب ان کے گھر پہنچے تو پتہ لگا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ سات افراد کا سارا خاندان باقاعدہ احمدیت پر قائم ہے اور گھر میں نمازیں باجماعت اد ا کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی تصویر وہاں نمایا ں تھی اور اُن کی وفات کا اُن کو پتہ بھی نہیں تھا۔ اور سپینش ترجمہ قرآن بھی وہاں پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم تین سال پہلے خود رابطہ کرتے ہوئے مشن میں گئے تھے۔ لیکن مشن بند تھا۔ تو ہم سمجھے کہ مشن بند ہو گیا ہے یا سینٹر بند ہو گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ کل رات مجھے خواب آئی کہ کل صبح کچھ مہمان آئیں گے۔ جس دن ہمارے مبلغ اور وفد نے جانا تھا۔ ان کی نشانی یہ بتائی گئی کہ نہ تم ان کو جانتے ہو نہ وہ تمہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ کہتے ہیں صبح اٹھ کر انہوں نے اپنی اہلیہ کو کہا کہ ذرا جلدی کام ختم کرلو کیونکہ مجھے خواب آئی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ مہمان آجائیں۔ کہتے ہیں ہم صبح گیارہ بجے ان کے گھر پہنچ گئے۔ تو وہ کہتے ہیں دیکھو میری خواب کس طرح پوری ہوئی۔ ہمارا اس طرح رابطہ بحال ہوا۔ یہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ شاید مسجد بند ہوگئی ہے ۔ اس لئے انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ اب ہم اپنے علاقے میں ایک اور احمدیہ مسجد بنالیں گے۔ اب بھی ان کی یہی سوچ ہے انشاء اللہ بنا لیں گے۔ اب ان کے باقاعدہ پروگرام ہوتے ہیں اور کچھ رابطے بحال ہوئے ہیں۔
نئی مساجد کی تعمیر اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد
دورانِ سال اللہ تعالیٰ نے جماعت کو توفیق دی کہ 359 نئی مساجد ملی ہیں جن میں سے 171 مساجد نئی تعمیر ہوئی ہیں ۔ اور 188 بنی بنائی ملی ہیں۔
مختلف ممالک میں یور پ میں بھی ،امریکہ میں بھی ،کینیڈا میں بھی، افریقہ میں بھی مساجد کی تعمیر ہوئی ہیں ۔اسی طرح بنگلہ دیش میں، انڈونیشیا میں، مشرقی بعید کے ممالک میں بھی اور نائیجیریا وغیرہ میں بھی۔ گھانا میں، نائیجیریا وغیرہ میں مخیر احباب نے خود اپنے طور پر، ذاتی طور پر مساجد بنوائی ہیں۔ کیمرون، سوازی لینڈ، لیسوتھو اور ایتھوپیا میں جماعت کو اپنی پہلی مساجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی ہے۔ مالی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی پہلی مسجد زیرِ تعمیر ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہاں 53 بنی بنائی مساجد جماعت کو عطا ہوئی ہیں۔ بینن میں اس سال 21نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ اور اب اللہ کے فضل سے کُل 251تعداد ہو گئی ہے۔ نائیجر میں بھی امسال مزید دو مساجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔ (ان اعدادوشمار میں بھی کبھی کبھی نعرہ لگا دیں تاکہ لوگ نہ سوئیں )۔ بہرحال ایک لمبی فہرست ہے جس کومَیں چھوڑتا ہوں۔
گزشتہ21سالوں میں جہاں پاکستان میں چند مساجد کو شہید کیا گیا تھا اور اب بھی کوشش ہوتی رہتی ہے۔ اب بھی چند دن پہلے یا مہینہ پہلے بھی سیالکوٹ میں ایک مسجد شہید کی گئی یا تالے لگائے اور اپنے خیال میں ان لوگوں نے اسلام کی خدمت کے لئے بہت اہم کام سرانجام دیا۔ تو ان چند مساجد کے عوض اللہ تعالیٰ نے جماعت کو 14135 مسجدیں بنانے کی توفیق عطا فرمائی یا بنی بنائی مسجدیں ملیں۔
نئے مشن ہاؤسز یا تبلیغی مراکز کا قیام
اسی طرح مشن ہاؤسز ہیں ان میں بھی اس سال 96کا اضافہ ہوا ہے جن میں یورپ، امریکہ،کینیڈا، افریقہ،ایشیا وغیرہ کے ممالک شامل ہیں جو قابلِ ذکر ہیں۔ جہاں مسجدیں تو بن رہی تھیں اور ایک سکیم کے تحت بن رہی ہیں۔ جیسے جرمنی وغیرہ میں ہر جگہ۔ افریقن ممالک میں بھی۔ سوئٹزرلینڈ میں بڑے عرصہ سے خاموشی تھی۔ جب مَیں دورہ پہ گیا ہوں تو اس وقت اُن کاخیال تھا کہ یہاں بڑا وسیع رقبہ ملنا بڑا مشکل ہے اور بڑا مہنگا ہوگا۔لیکن بہرحال ان کو میں ساتھ لے کر ارد گرد علاقوں میں نکلا۔ میں نے کہا جگہیں دیکھتے ہیں۔ مختلف جگہیں دیکھیں۔ اُن کو بھی ذرا تھوڑی سی توجہ دلائی۔ تو بہرحال اُن کو احساس پیدا ہوا کہ اب ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔ کیونکہ زیورک میں جو موجودہ مسجد ہے وہ چھوٹی سی ہے۔ جو اس کا مشن ہاؤس ہے اُس کے کمرے بھی اتنے چھوٹے چھوٹے ہیں کہ ایک پلنگ آجائے تو کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ہوتی۔ اللہ کے فضل سے اب وہاں جماعت بڑھ رہی ہے۔ تو وہاں اب اللہ تعالیٰ نے جماعت کو زیورک کے ذرا سا باہر تقریباً سات ہزار مربع میٹرپر مشتمل ایک قطعہ زمین خریدنے کی توفیق دی ہے جس میں پندرہ کمروں اور دو ہال پر مشتمل ایک بلڈنگ بھی بنی ہوئی ہے۔ اورایک ہال اُس کا قبلہ رُخ ہے جس میں اڑھائی سو کے قریب نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ موجودہ مسجد میں تیس، پینتیس نمازی نما زپڑھ سکتے ہیں۔ اس میں بہت ساری روکیں بھی راستے میں آئیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی نصرت فرماتے ہوئے ساری روکوں کو دُور کر دیا۔ بلکہ مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ایک پادری نے ہمارے حق میں کونسل کو خط لکھے اور اس علاقے میں جاکر لوگوں کے ایک اجتماع میں ہمارے حق میں بیان دیا کہ مَیں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ اس جماعت سے آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔کونسل ایک اجلاس بلاتی ہے وہاں ووٹ لیتے ہیں لوگوں سے پوچھتے ہیں، رائے لیتے ہیں، تو پھر جو لوگ موجود تھے اُن میں سے بھی کئی لوگوں نے ہمارے حق میں تقاریر کیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں جگہ مل گئی۔ گزشتہ سال ستمبر 2005ء میں جب زمین جماعت کے نام ہو گئی تو عمارت کی مرمت کا کام ایک فرم کو دیا گیا جس کا مالک ایک البانین مسلمان ہے۔ غیر احمدی مولویوںنے (جوہرجگہ، ’’نیک کام‘‘ کرنے کے لئے پہنچتے ہیںناں)اس پر دباؤ ڈالاکہ احمدیوں کی مسجد تعمیر نہ کرو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ تم تو جہنم میں چلے جاؤ گے۔ اس نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ مَیں جانتا ہوں کہ احمدی مسلمان ہیں اورلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پر ان کا ایمان ہے۔
جماعت احمدیہ یوکے (UK) کو بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال شیفیلڈ میں ایک بلڈنگ خریدنے کی توفیق ملی۔ جس کی ہمارے خیال میںجوقیمت تھی اس سے تین حصہ کم قیمت پر یہ جگہ مل گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص تائید لگتی ہے۔ جماعت کا خیال تھا کہ اتنی قیمت میں نہیں مل سکتی مگر ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ جماعت نے جو بولی دی تھی اُس سے کوئی بڑھا ہی نہیں۔
اسی طرح جامعہ احمدیہ کے قیام کے لئے اس سال میں ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ خرچ کر کے ایک بلڈنگ خریدی گئی جہاں اب جامعہ احمدیہ قائم ہے۔ اور پھر یہ جلسہ گاہ خریدی گئی تھی۔ خرید تو لی گئی تھی لیکن فکر یہ تھی کہ یہاں علاقے کے لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے جلسہ شاید کچھ سال نہ ہو سکے۔ تو امیر صاحب نے پچھلے سال مجھ سے پوچھا کہ اس سال جلسہ وہاں کریں یا نہ۔ یا پہلے کچھ سال دیکھا جائے، جائزہ لیا جائے، پھر کریں گے۔ تو میں نے اُن کو کہا کہ اللہ کا نام لے کر 2006ئکے جلسہ کی یہاں تیاری کریں تا کہ جو بھی مخالفت ہونی ہے حالات سامنے آجائیںاور جوبلی کا جوجلسہ ہو اُس میں آپ کو سارے حالات کا علم ہو۔ اس کے مطابق پھر آپ نے علاقے کے لوگوں کو جس طرح بھی قائل کرنا ہے کرنے کا موقع مل جائے ۔ بہرحال کوششیں کی گئیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس جگہ کے جو پہلے سابقہ مالکM r Kieth ہیں۔ انہوںنے اس جلسہ گاہ کو اس حالت میں لانے میں ایک تو ہماری مدد کی ہے۔ ہمارے خدام الاحمدیہ کی طرح ہی پورے خاندان نے وقارِ عمل کیا ہے ۔ دوسرے علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل ملا کر کونسل کے ساتھ رابطے کر کے ہمارے حق میں بہت راہ ہموار کی اور ابھی تک وہ ہماری مدد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے پورے خاندان کو بھی جزا دے۔ آجکل بھی جلسے کے دنوں میں پورا خاندان اسی طرح ڈیوٹی دے رہا ہے جس طرح ہمارے احمدی کارکن۔
تراجم قرآنِ کریم
امسال تھائی لینڈ کی زبان تھائی میں ترجمۂ قرآنِ کریم کی دوسری جلد جو گیارہویں پارہ سے بیسویں پارہ پر مشتمل ہے، طبع کی گئی ہے۔ یہ ترجمہ ہمارے مبلغ اوننگ کرنیا صاحب (اگر میں صحیح تلفظ بول رہا ہوں) کر رہے ہیں۔ ترجمہ کی چیکنگ میں جمعہ خان صاحب اُن کی مدد کرتے رہے۔
اس وقت تک جو تراجم قرآنِ کریم مکمل ہو چکے ہیں اور چیکنگ یا عربی متن کی پیسٹنگ اور طباعت کی تیاری وغیرہ کے مراحل میں ہیں۔ گزشتہ سال ان کی تعداد21تھی۔ اس سال ان میں قرغیز ترجمہ کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح تعداد22 ہوگئی ہے۔ مختلف براعظموں کی مختلف زبانوں میں جو ترجمے ابھی تیار کروائے جا رہے ہیں اُن کی تعداد 12 ہے۔
دیگر کتب
دوسری کتب اور فولڈرز جو ہیں یہ بھی مختلف زبانوں میں 74کے قریب تیار کروائے گئے۔ اور اس طرح کچھ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ یہ سامنے پڑی ہیں۔ سٹالوں پر موجود ہوں گی۔ دورانِ سال بورکینافاسو کی زبان مورےؔ میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا بھی ترجمہ ہوا۔ اسی طرح رسالہ الوصیت کا نیپالی زبان میں ترجمہ ہوا۔ اور اب تک رسالہ الوصیت 11زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپ چکا ہے۔
تفسیرِ کبیر عربی جلد ششم اس سال شائع ہوئی ہے۔ اس کا ترجمہ عبد المومن طاہر صاحب نے کیا ہے ۔ اور ان کے کافی ساتھی ان کے مدد گار تھے۔
پھر قرآنِ کریم کے مشکل الفاظ کی ایک انگلش ڈکشنری جو ملک غلام فرید صاحب کے Five Volume Commentories میں سے لے کر مرتب کی گئی ہے وہ بھی چھپ گئی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے اقتباسات کی تین جلدیں Essence of Islamکے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ اس سال چوتھی جلد شائع ہو ئی ہے۔ اور مواھب الرحمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتا ب ہے یہ شائع کی گئی ہے۔ ’آسمانی فیصلہ‘ کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ ’تذکرۃ الشہادتین‘ کا فرانسیسی ترجمہ ہوگیا ہے۔ پھر ’فتح اسلام ‘کا بوسنین زبان میں ترجمہ کروایا گیا ہے۔ ’توضیح مرام‘ کاجرمن زبان میں ترجمہ کروایا گیا ہے۔ ’گورنمنٹ انگریزی اور جہاد‘ کا انگریزی ترجمہ طبع ہوا ہے۔ ’تجلیاتِ الٰہیہ‘ Divine Manifestationکے نام سے طبع ہو گئی ہے۔ ’القصیدہ‘ کا یوروبا میں ترجمہ شائع ہوا ہے۔ تحریکِ جدید قادیان کی طرف سے ’ہماری تعلیم‘ کا نیپالی میں ترجمہ شائع کروایا گیا ہے۔اس کے علاوہ بہت ساری کتابیں ہیں۔ ’النبوۃ والخلافۃ‘ (عربی)، ’حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ‘ (انگریزی)۔ ’شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں‘ اردو اور انگریزی میں۔ اس میں کچھ ایڈیشن کی گئی ہے۔اور ’اسوۂ رسول اور خاکوں کی حقیقت‘ (اردو و انگریزی) ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی کتاب ’خودکاشتہ پودے کی حقیقت‘۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے تین خطبات کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔
Thr true Islamic concept of Jihad,
The national security of Indian muslims and the decisive role of Ahmadiyya Muslim Jama’at,
Ahmadiyya Muslim Jama’at and the Palestinian Muslims.
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دو لیکچرز ہیں ۔Message of love and brotherhood to Africa اور A message of peace and a word of warning یہ شائع ہوئے ہیں۔ وقفِ نو کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات شائع کروائے گئے۔ خطباتِ طاہر جو عیدین کے ہیں طاہر فاؤنڈیشن نے شائع کروائے ہیں۔ جماعت کا مشاورتی نظام شائع ہوا۔ فضلِ عمر فاؤنڈیشن کے تحت انوار العلوم کی جلد نمبر 16شائع ہوئی۔ خدام الاحمدیہ نے خلفاء کے اقتباسات پر مشتمل مشعلِ راہ کی پانچویں جلد شائع کی ہے۔ سیرت حضرت اماں جانؓ شائع ہوئی۔ اور بہت سی کتب طبع ہوئی ہیں۔
نمائشیں
دنیا میں جو مختلف نمائشیں لگتی ہیں۔ 267نمائشوں کے ذریعہ سے دو لاکھ اکہتر ہزار تک پیغام پہنچایا گیا۔ نائیجیریا میں جماعت کی نمائش کا visit کرتے ہوئے ایک صاحب نے لکھا کہ اگر چہ قبلہ کے والی عرب ہیں لیکن صحیح قرآن اور اسلام پیش کرنے کی ضامن جماعتِ احمدیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت دے اور آپ کی مدد فرمائے۔
ایک ڈاکٹر جو فلاسفی میں پی۔ ایچ۔ ڈی ہیں انہوں نے کہا کہ اگرچہ میں عیسائی ہوں۔ لیکن آپ کی کتب دیکھ کر معلوم ہوا ہے کہ اسلام کے متعلق صحیح معلومات آپ کی جماعت کے ذریعہ ہی مل سکتی ہیں۔ اسلامی اصول کی فلاسفی جاننے کے لئے میں آپ کی مزید کتب پڑھنا چاہتا ہوں۔
ایک نمائش کے موقع پر ایک عیسائی پادری نے جب ‘Review of Religions’ کا 1902ء میں جو پہلا ایڈیشن تھا، دیکھا تو کہنے لگا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ یہ رسالہ بانیِ سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں شروع ہوا اور اب تک محفوظ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس امر کی ضرورت ہے کہ اس علمی خزانے کو آئندہ آنے والے لوگوں کے لئے محفوظ رکھا جائے۔اگر یہ خزانے نظر نہیں آتے تو مولویوں کو نظر نہیں آتے۔
بکسٹالز
دنیا میں بے تحاشہ بک سٹالز ، بک فیئرز لگے۔ 2422بکسٹالز اور 63 بک فیئرز میں شمولیت کے ذریعہ لاکھوں افراد تک جماعت کا پیغام پہنچا۔
رقیم پریس و افریقن ممالک کے پریس
رقیم پریس جو یہاں کام کر رہا ہے ۔ اس کے تحت افریقہ کے چھ ممالک گھانا، نائیجیریا، تنزانیہ، سیرالیون، آئیوری کوسٹ اور گیمبیا میں ہمارے پریس کام کر رہے ہیں۔ جن میں بے تحاشا کام ہو رہا ہے۔ دو نئے پریس بھی اس سال لگانے کے لئے یہاں سے مشینیں بھجوا دی گئی ہیں۔ جن میں سے ایک بورکینافاسو میں، جہاں پہ فرنچ زبان بولی جاتی ہے۔ اور دوسرا کینیا میں۔ انشا ء اللہ یہ بھی جلد کام شروع کر دیں گے۔ اس طرح یہ جو اشاعتِ لٹریچر کا کام ہے جو مسیح ومہدی کا ایک اہم کام ہے۔ اس کے تحت اب یہ آٹھ چھاپہ خانے یا پریس ہو جائیں گے۔ اورانشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی لگیں گے۔ گھانا میں پریس کی ایک نئی بلڈنگ بن رہی ہے۔ اسی طرح تنزانیہ، گیمبیا وغیرہ میں بھی۔
ڈیسکس
عربک ڈیسک کے انچارج مومن طاہر صاحب ہیں۔ امسال ان کو اللہ کے فضل سے چھ مزید کتب شائع کرنے کی توفیق ملی۔ مواھب الرحمان ۔ تفسیرِ کبیر کی چھٹی جلد کاعربی زبان میں ترجمہ۔دیباچہ تفسیر القرآن کا عربی ترجمہ، السیرۃ المطھرۃ، النبوۃ والخلافۃ، الموامرۃ الکبریٰ۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری کتابیں ہیں۔جن کا مصطفی ثابت صاحب اور حسین قزق صاحب ،منیر ادلبی صاحب وغیرہ ترجمہ کر رہے ہیںاور کچھ ہوچکے ہیں۔
ایک عیسائی پادری نے ایک عربی چینل پر اسلام اور آنحضرت ﷺ پر اعتراضات پر مبنی ایک پروگرام پیش کیا اور چیلنج دیا کہ کسی کے پاس اس کا جواب ہو تو سامنے آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مصطفی ثابت صاحب کو اس چیلنج کا منہ توڑ جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی ۔ اور ان کے جواب کی ریکارڈنگ کروائی گئی۔ جو ایم ٹی اے پر ایک سے زائد دفعہ نشر ہوچکی ہے۔ یہ جواب جو ہے اَجْوِبَۃ عَنِ الْاِیْمَان کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے الأزھر والوں کو جو مصر میں بہت بڑی اسلامی یونیورسٹی ہے۔ ان اعتراضات کا جواب لکھنے کے لئے دوسرے مسلمانوں نے جو عرب ملکوں کے رہنے والے ہیں، بہت زور دیا کہ اس کا جواب دیں۔ لیکن انہوں نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اب جبکہ مصطفی ثابت صاحب نے یہ ردّ لکھا ہے تو الازھر والوںنے اسے اپنی طرف سے رسمی جواب کے طور پر لے لیا ہے اور اپنے اخبار میں قسط وار شائع کرا رہے ہیں۔ بہرحال انٹرنیٹ پر بھی آگیا ہے۔
عیسائیت کے حملے کے جواب کے follow up کے طور پر عیسائی عقائد اور خیالات کو ردّ کرنے کے لئے عربی زبان میں ہر ماہ تین روز ایم ٹی اے پر ایک Liveپروگرام پیش کیا جاتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا اثر قائم ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں emailsآرہی ہیں۔لوگ جذباتی رنگ میں جماعت کے اس اقدام کو سراہتے ہیں اور ریکارڈ کر کر کے پروگرام دے رہے ہیں۔ یہ پروگرام اَلْحِوَارُ الْمُبَاشِرْ کے نام سے آتا ہے۔ ایک غیر از جماعت دوست ناصر علی صالح صاحب ہیں۔ انہوںنے مجھے خط لکھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے کہ آپ نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور دفاع کیا ہے اور عیسائی ضَآلِّیْن اور مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ اور صَابِئِیْن کے جواب میں ہمارے پیارے دین کی صحیح وضاحت کی ہے۔ ایسے پروگرام مزید بھی پیش کریں۔ ایم ٹی اے پر کچھ مزید گھنٹے مخصوص کردیں۔ یہ کام جلدی کردیں تا اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی سچائی دنیا پر ثابت ہو سکے۔
سعودی عرب سے ایک غیر از جماعت خاتون نے اس پروگرام کے دوران فون پر کہا کہ میں روزانہ تہجد میں رو رو کر دعا کیا کرتی تھی کہ اے خدا! ٹھیک ہے ہم کمزور ہیں، ہم بے عمل ہیں، لیکن مسئلہ تیرے نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا ہے۔ کیا عالمِ اسلام میں کوئی ایک بھی عالم ایسا نہیں رہا جو اس پادری کا منہ بند کرے۔ آج اَلْحِوَارُ الْمُبَاشِرْ میں جواب سن کرمیری عجیب کیفیت ہے۔ یقینا میرے خدا نے میری تہجد کی دعائیں سن لی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔
دبئی کے ایک شخص نے اس پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ عیسائیوں نے اسلام پر حملہ کر کے یہ سمجھا تھا کہ کوئی عربی چینل اس کے جواب کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن ان کی توقع کے خلاف ایم ٹی اے میدان میں آگیا۔
کہتے ہیں بہت سے مسلمانوں نے لکھا کہ یہ پروگرام دیکھ کر ان کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے۔ کسی نے کہا کہ خدا کی قسم آپ ہماری مدد کو آئے ہیں۔ اللہ آپ کی مدد اور راہنمائی فرمائے ۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
کسی نے لکھا ہے کہ ہمیں آپ کا قرآنِ کریم کی تفسیر کرنے کا انداز بہت پسند آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ذریعہ سے عرب دنیا میں احمدیت کا بہت تعارف ہوا ہے۔ اُس عیسائی کی اس کوشش سے جو اسلام کو بدنام کرنے کے لئے تھی اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کے راستے کھول دیئے ہیں۔
عبدالسلام محمد جو بائبل کے علوم کے ماہر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مَیں اس کامیاب پروگرام پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پروگرام بہت کامیاب، گفتگو نہایت اعلیٰ پائے کی، اندازِ بیان نہایت مہذب ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوشیاں دکھائے اور بہت عزت دے۔ کیونکہ آپ نے دینِ اسلام کے خلاف شبہات کا رد کر کے ہمارے دلوں کو خوش کر دیا ہے۔ ہمارے بچے بچیاں خوشی اور فخر سے ایک بار پھر مسکرانے لگے ہیں۔
لکھتے ہیں کہ افسوس کہ دوسرے عربی چینل نہایت علمی اور فکری پستی کا شکار ہیں۔ رسوائی اور خوف نے انہیں گھیرا ہوا ہے۔ ان کا سارا اسلام فروعی اسلام، داڑھی اور نقاب وغیرہ میں اور جن بھوت اور ٹونے ٹوٹکے جیسے موضوعات میں رہ گیاہے۔ اس بارے میں یہ لوگ ایک دوسرے کے مؤقف کے برعکس فتوے دیتے اور امّت کو مزید بانٹتے ہیں۔
پھر الجزائر سے ایک دوست نے لکھا: مَیں ان پروگراموں کو خود ریکارڈ کر کے آگے لوگوں میں پھیلاتا ہوں تاکہ وہ بھی عیسائیت کے مقابلہ کے لئے اسلحہ سے لیس ہو جائیں۔
ایک بڑی عمر کے غیر از جماعت دوست نے پروگرام میں فون پر کہا: مَیں نے آپ کے خلاف بہت پڑھا ہے۔ لیکن آج میں سب کے سامنے کہتا ہوں کہ دنیا جو مرضی کہتی پھرے لیکن اسلام یہی اسلام ہے اور اصل مسلمان یہی جماعت ہے۔
آئر لینڈ سے ایک عراقی دوست نے کہا: میری بیوی آئرلینڈ کی ہے۔ اس کی ماں راہبہ ہے۔ ایک دن اس پروگرام کا میں ترجمہ کر کے ساتھ ساتھ ان کو سنا رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں مسلمان تو نہیں ہوں گی۔ لیکن آج کے بعد میں ایمان لاتی ہوں کہ اللہ ایک ہے۔
اِس پروگرام میں مصر کے ایک بہت مشہور پادری عبد المسیح کے ساتھ کئی دن تک مناظرے کی شکل میں ہر بار گھنٹے سے بھی زیادہ مسلسل گفتگو کی گئی۔ اس پادری کی کئی ایک تصانیف بھی ہیں ۔ اور مصر میں عیسائیت پھیلانے کے لحاظ سے بھی کافی مشہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس پر بھی اتمامِ حجت کرنے کی توفیق بخشی جس کی وجہ سے کئی عیسائیوں نے بھی جوش میں آکر فون کئے۔ اور بعض نے کہا کہ اس پادری کوجواب دینے کا طریق نہیں آتاوغیرہ۔ آخر لاجواب ہو گیا اور راہِ فرار اختیار کی کہ میں آئندہ آپ سے گفتگو نہیں کروں گا۔ لیکن اس کے باوجود عیسائیوں کی اس پروگرا م میں شرکت جاری ہے۔
عربی کی ویب سائٹ بھی اللہ کے فضل سے تیار ہو گئی ہے اور کام کر رہی ہے۔
فرنچ ڈیسک میں عبدالغنی جہانگیر صاحب کام کرتے ہیں۔ اِن کا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترجمانی کا کام جاری ہے۔ اور قرآنِ کریم کا اور مختلف کتابوں کافرنچ زبان میں ترجمہ کا کام کر رہے ہیں۔
بنگلہ ڈیسک میں فیروز عالَم صاحب کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ساٹھ مجالسِ سوال و جواب کے ترجمے کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی ریکارڈ کرتے ہیں۔ میرے خطبوں کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ ٹھیک کر کے دیا جاتا ہے۔ اور بنگلہ دیش میں جب مخالف حالات پیدا ہوئے ہیںتواس بارے میں بھی انہوں نے لوگوں سے رابطے کئے ہیں۔
چینی ڈیسک ہے جس کے انچارج عثمان چینی صاحب ہیں۔ انہوں نے چینی ترجمۂ قرآن کے علاوہ جو مختلف کتابیں شائع کی ہیں۔ اُن کی تعداد14ہو گئی ہے۔ احمدیت کے تعارف میں انہوں نے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے اور ایک چینی زبان کی کیٹلاگ بنائی ہے۔
مجلس نصرت جہاں سکیم
مجلس نصرت جہاں سکیم کے تحت اس وقت افریقہ کے 12ممالک میں 34ہسپتال اور کلینک کام کر رہے ہیں جن میں ہمارے باہر سے گئے ہوئے 33ڈاکٹر خدمت میں مصروف ہیں۔اِس کے علاوہ11ممالک میں 494ہائیر سیکنڈری سکول ، جونیئر سیکنڈری سکول، پرائمری سکول اور نرسری سکول کام کررہے ہیں۔ اور اس سال کینیا میں شیانڈا کے مقام پر نئے ہسپتال کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ فرنچ ممالک میں ڈسپنسریوں کی منظور ی دی گئی تھی۔ وہاں بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ Beninوغیرہ میں اور ایسٹ افریقہ میں کینیا میں بھی کچھ پرائمری سکولوں کا پروگرام بن چکا ہے۔ انشاء اللہ شروع ہو جائیں گے۔ زیمبیا میں پہلے سیکنڈری سکول کا قیام عمل میں آیا ہے۔
اِن ہسپتالوں کے بارے میں مریضوں کے تاثر یا یاعلاج کس طرح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کس طرح نصرت فرماتا ہے ۔ اورہمارے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا رکھتا ہے۔ اس بارہ میں کینیا سے ڈاکٹر محمد اکرام لکھتے ہیں کہ ہمارے کلینک پر ایک ایسے مریض کو لایا گیا جسے ہرنیا کی تکلیف تھی۔ اِس کا علاج صرف اپریشن ہے۔ خاکسار کے پاس اپریشن تھیٹر کی سہولت تو موجود نہیں ہے۔ عام ٹیوب لائٹ کی روشنی میں اس کا آپریشن کیا اور آپریشن کامیاب ہو گیا جس کی وجہ سے کلینک کی بہت مشہوری ہوئی۔ یہ بوہرہ کمیونٹی کا مریض تھا۔ اب بوہرہ کمیونٹی کی بہت ساری فیملیاں یہیں سے علاج کرواتی ہیں۔
پھر یہ لکھتے ہیں کہ ایک بچی جو تقریباً چھ ماہ کی تھی اور ذہنی طور پر معذور پیدا ہوئی تھی۔ ہر وقت روتی رہتی تھی۔ بچی کے والدین نے مختلفs child specialist کو دکھایا ۔ وہ نیندآور دوائیاں دے دیتے تھے تاکہ سوئی رہے۔ اور اُس کے بعد پھر بچی اُسی طرح شور مچاتی تھی۔ کہتے ہیں کہ بچی کے والدین اُس کو میرے کلینک میں لائے۔ اُن کو میں نے ہومیوپیتھی دوائی دی۔ تو اللہ کے فضل سے پندرہ دن میں بچی بالکل ٹھیک ہو گئی اور اس کا علاقے میں بڑا اثر ہے۔
ڈاکٹر ندیم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک مریضہ کی ٹانگ پر آٹھ سال سے زخم تھا ۔ ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ انگلینڈ سے امریکہ سے بھی علاج کروایا تھا لیکن آرام نہیں آتاتھا۔ ہومیوپیتھی کے ساتھ ایلوپیتھی دوائی بھی دی۔ اور کہتے ہیں کہ مَیں نے اللہ کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں میں وہ زخم ٹھیک کر دیا اور پھر مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا۔
طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ۔فضلِ عمر ہسپتال ربوہ
اللہ کے فضل سے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ فضلِ عمر ہسپتال ربوہ کی نئی عمارت بن گئی ہے۔ اور باقاعدہ تمام نئی سہولیات پوری طرح اُس میں میسر ہوں گی۔ اُس کے علاوہ اِس کے بنانے میں جماعتِ احمدیہ امریکہ نے بڑی مالی معاونت کی ہے۔ جو لوگ بھی اِس میں شامل ہوئے اللہ تعالیٰ اُن سب کو جزا دے ۔ کہتے ہیں کہ اس کے لئے جماعت میں ہم نے تحریک کی۔ اُس میں 97 فیصداحباب نے حصہ لیا۔ کسی جگہ پچانوے فیصد احباب نے حصہ لیا۔ کسی نے کہا کہ باقی جو کمی رہ گئی ہے وہ مَیں پوری کر دوں گا۔ کسی نے یہ کہا کہ فی کس جتنا حصہ آتا ہے مَیں دوں گا۔ وہ گئے اور اپنے بیوی بچوں سمیت اُس حساب سے چیک کاٹ کر لے آئے۔ ایک جگہ دوست لینے گئے تو انہوں نے ایک ہزار ڈالر کا چیک کاٹا ۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک صفر کا اور اضافہ کر دیں۔ تو انہوںنے بغیر کسی حیل وحجت کے دوسرا چیک نو ہزار کا فوری طور پر کاٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ اِن سب کو جزا دے جنہوں نے اس مالی قربانی میں حصہ لیا ہے۔
پریس اینڈ پبلیکیشن سیل
پریس اینڈ پبلیکیشن کے انچارج آجکل سید محمد عارف ناصر ہیں۔ بیس،اکیس سال تک مرحوم چوہدری رشید احمد صاحب نے اس میں کام کیا ہے اور اللہ کے فضل سے خوب نبھایا۔ اور اس کے علاوہ بچوں کی کتابیں لکھنے کا بھی کام کرتے رہے۔ رابطے بھی اُن کے بڑے وسیع تھے۔ اُن کی وفات پریہاں بھی مختلف اخباروں نے اور ہندوستان میں بھی اخباروں نے لکھا۔ اُن کی خدمات اللہ تعالیٰ کے فضل سے قابلِ ذکر ہیں جو اِس عرصے میں انہوں نے کیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے۔ اب یہ کام ناصر صاحب کر رہے ہیں اور اُن کے ساتھ سات افراد کی ٹیم ہے۔
ایم ٹی اے انٹرنیشنل
ایم ٹی اے انٹرنیشنل کا اب جو ایک سیٹلائٹ کا نیا معاہدہ ہوا ہے اس میں اب افریقہ وغیرہ کے ممالک میں بہت چھوٹی ڈش سے ایم ٹی اے سنا جا سکتا ہے۔ پہلے دوسیٹلائٹس کے ساتھ معاہدہ تھا اب ایک کے ذریعہ سے ہو گیا ہے اور اچھی کوریج ہو گئی ہے اور شرائط بھی بہتر ہیں۔
اسی طرح ایم ٹی اے کی ڈیجیٹل ٹرانسمیشن کا آغا زبھی ہو گیاہے۔ اور آٹھ زبانوں میں بیک وقت نشریات کی سہولت موجود ہے۔ نیوزی لینڈ سے تو بڑی اچھی responseآئی ہے کہ ہمیں اِس کا بڑا فائدہ ہو رہا ہے۔ پہلے ڈیجیٹل ٹرانسمیشن تو شروع ہو گئی تھی لیکن اب ایم ٹی اے انٹرنیٹ پر بھی آنے لگ گیا ہے اور اِس کا بڑا فائدہ ہو رہاہے۔ بعض ایسی جگہوں پر جہاں ڈش نہیں لگ سکتی وہاں یہ سنا جا رہا ہے۔
اِسی طرح اِس سال قادیان سمیت دنیا کے تقریباً پانچ، چھ ممالک سے میرے دورے کے دوران ایم ٹی اے کی براہِ راست نشریات خطبہ جمعہ کے دوران سنی گئیں۔ یہ بھی جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل اوراحسان ہے۔
پاکستان سے ایک مربی صاحب لکھتے ہیں کہ پچھلے دنوں خاکسار کو اپنے دو مربی ساتھیوں کے ساتھ تربیتِ نومبائعین کے سلسلہ میں وادیِ سوات میں مینگورا اور بشام جانے کا موقع ملا۔ کہتے ہیں رات کو ایک ہوٹل میں رہنا پڑا۔ ہوٹل کے ملازم نے چینل تبدیل کیا تو ایم ٹی اے آگیا۔ ہم نے کہا کہ یہ لگا رہنے دو۔ ہوٹل والا کہنے لگا کہ ہم تمام ہوٹل والے اس چینل کو روزانہ دیکھتے ہیں اور ہمیں یہ بہت پسند ہے۔اس طرح الیوری میں ایک اور صاحب جو سابق ڈی ایس پی ہیں۔ اُن کا بیٹا ہے وہ ملے۔ وہ کہنے لگے کہ میں اپنے دوستوں کو خطبہ جمعہ ضرور سنواتا ہوں۔ تو ایسے علاقوں میں جہاں مخالفت بھی ہے اور ہمارا پیغام صحیح طرح پہنچ نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے پیغام پہنچوا رہا ہے۔
اِس سال ایم ٹی اے کے علاوہ جو دیگرٹیلی ویژن اور ریڈیو پروگرام ہیں اُن کے ذریعہ سے مختلف ممالک میں ایک ہزار دو سو تینتالیس (1243) ٹی وی پروگرام دکھائے گئے جو پانچ سو آٹھ (508) گھنٹے پر مشتمل تھے۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ سات کروڑ افراد تک اُن کو سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ اس طرح سات کروڑ افراد تک پیغام پہنچانے کا موقع ملا۔
اور ریڈیو پروگرام بھی بارہ ہزاردو سو انچاس (12249) گھنٹے پر مشتمل ہیں۔ اور اِس کے ذریعہ سے بھی جماعت کو پانچ کروڑ افراد تک پیغامِ حق پہنچانے کا موقع ملا۔
بورکینافاسو میں تو باقاعدہ انتظام ہے۔ ہمارا ریڈیو چلتا ہے۔ بڑا اچھا سنا جاتا ہے۔
ایک خاتون جو احمدی نہیں ہیں لیکن اسلام سے بڑی سچی محبت رکھتی ہیں۔ پڑھنا لکھنا نہیں جانتیں۔ انہوںنے نماز وغیرہ ہمارے احمدیہ ریڈیو کے ذریعہ سے سیکھی۔ ایک دن ہمارے ریڈیو سٹیشن پر آئیں اور کہنے لگیں کہ پہلے تو مجھے کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ نہ نماز، نہ قرآن۔مگر ایک سال مسلسل ریڈیو سننے کے بعد اب میں نے نماز بھی سیکھ لی ہے اور قرآن کی کئی سورتیںبھی یاد کر لی ہیں۔
پھر سَوَادَوْ غَوْ اِدْرِیْس صاحب نو احمدی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ریڈیو سٹیشن کی نشریات تو یوں اُن کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں جیسا کہ وہ سانس لیتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں۔ کہنے لگے کہ بیعت سے پہلے وہ بہت سے دوسرے مُلّاؤں کی کیسٹس خرید کر سنا کرتے تھے۔ مگر جب سے ریڈیو کے ذریعہ مجھے حقیقی روشنی نصیب ہوئی ہے مَیں نے تمام کیسٹوں کو خیرباد کہہ دیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون جو احمدی تو نہیں لیکن ایک دن وہ ہمارے ریڈیو سٹیشن آئیں اور کہنے لگیں کہ بوبوؔ جو شہر ہے جہاں ریڈیو سٹیشن ہے۔ اس کے علاوہ ساتھ ایک دوسرا شہر ’بنفورا‘ (Banfora) ہے کیا وہاں بھی ریڈیو اسلامک احمدیہ کی آواز پہنچتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو بہت دُور ہے۔ وہاں اس کی نشریات نہیں جا رہیں۔ یہ اُس علاقے کو coverنہیں کرتا۔ تو کہنے لگیں کہ میرا ارادہ اُس جگہ جا کر آباد ہونے کاتھا۔ لیکن اگر آپ کا ریڈیو وہاں تک نہیں جاتا تو مَیں پھر اپنا پروگرام ملتوی کرتی ہوں اور اب مَیں یہیںرہوں گی تاکہ مجھے ریڈیو اسلامک احمدیہ سننے کا موقع ملتا رہے۔
ڈنمارک کے اخبار میں جب توہین آمیزکارٹونوں کی اشاعت ہوئی اور جب مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت پر خطبات کا سلسلہ شروع کیا تھا تو امیر صاحب بورکینافاسو کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کے یہ خطبات لوکل زبان میں ترجمہ کر کے اپنے ریڈیو پر نشر کئے۔ ان خطبات کو سن کر ایک عیسائی شخص نے کہا کہ اگرچہ مذہباً عیسائی ہوں۔ لیکن جس عمدہ انداز سے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سننے کو ملا ہے اِس سے میرا دل اسلام سے قریب ہوا ہے۔ اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر آج مجھے دکھائی گئی ہے اگر یہ واقعی سچ ہے تو خدا کی قسم اسلام جیسا مذہب دنیا میں کوئی نہیں۔ کہتے ہیں اِن کے گرد بہت سے مسلمان بیٹھے تھے۔ اس عیسائی نے کہا کہ آج اگر مَیں عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہوتا ہوں تو سوائے احمدیت کے مَیں کہیں اَور نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب بھی اِن کا پیغام سنا ہے دل ہمیشہ مطمئن ہوا ہے۔ مولویوں نے اُن کو اتنا پکا کیا ہوا ہے کہ جو مسلمان اُن کے قریب بیٹھے تھے انہوں نے کہا احمدیت تو عیسیٰ علیہ السلام کو مارتی ہے آپ کیسے اُن کو سچا مان رہے ہیں؟ اُس نے کہا کہ جوکچھ آج مَیں نے سن لیا ہے اِس نے میرے دل کو پھیرا ہے۔ اِس سے قبل مَیںحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بھی سننا پسند نہیں کرتا تھا اور ہمیشہ اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو terroristسمجھتا تھا۔آج کے پروگرام نے مجھے حقیقی چہرہ دکھایا ہے اور میرا دل بدل دیا ہے۔
پھر بورکینا فاسو سے ایک معلم زارح الیاس صاحب لکھتے ہیں۔ ایک دن ریڈیو کے ڈائریکٹر نے اُن کو کہا کہ بہت سے لوگ آکر آپ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کیونکہ آپ کا پروگرام مستقل چل رہا ہے اور لوگ بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں اور بعض لوگ احمدیت میں داخل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ اس پر معلم صاحب نے کہا کہ میں اِ س وقت ریڈیو اسٹیشن پہ ہوں۔ جو بھی مجھے ملنا چاہتا ہے وہ ریڈیو اسٹیشن آجائے۔ تو سب سے پہلے ایک بڑی فیملی کے سربراہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے آپ کا پروگرام سن رہا ہوں۔ میرا دل مطمئن ہے اور بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ اِس کے علاوہ بعد میں پھر اور آدمیوں نے رابطہ کیا۔
اِس کے علاوہ دوسرے ملکوں کے جو مختلف اخبارات ہیں ان میں بھی جماعت کے متعلق خبریں آتی رہتی ہیں۔ اور جماعت کے انٹر فیتھ وغیرہ کے بارے میں جو مختلف پروگرام ہوتے ہیںاور بین المذاہب کی جو کانفرنس وغیرہ ہوتی ہے، اُس کی خبریں یہ اخبار شائع کرتے ہیں جس سے احمدیت کا اس علاقے میں اِن ملکوں میں کافی حد تک تعارف ہو جاتا ہے۔
احمدیہ ویب سائٹ
پھر alislamکے نام سے احمدیہ ویب سائٹ جو ہے اُس میں بھی سارے خطبات ہیں۔ہر ہفتے نشر کئے جاتے ہیں۔ 170کتابیں آن لائن آ گئی ہیں۔ تفسیرِ کبیر، تفسیرِ صغیر، حقائق الفرقان اور تعلیم فہم القرآن وغیرہ اُن میں شامل ہیں۔ حضرت مصلح موعود کے خطبات ،انوارالعلوم اور اس طرح بہت ساری دوسری کتابیں، دیباچہ تفسیر القرآن ، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ترجمۃ القرآن کلاسز اور جو مختلف جماعتی رسائل ہیں، یہ ساری چیزیں ویب سائٹ پہ موجود ہیں۔
تحریک وقفِ نَو
تحریک وقفِ نو جو ایک عظیم تحریک تھی اور ہے اور جس کے پکے پھل انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ چند سالوں میں جماعت کو نظر آئیں گے اور اُن کے نتائج بھی انشاء اللہ نظر آئیں گے۔اللہ کے فضل سے اس سال واقفینِ نو کی تعداد میں تین ہزار ایک سو اسّی (3180) کا اضافہ ہوا ہے۔ اوراب واقفینِ نو کی تعداد تینتیس ہزار ایک سو نوے (33190) ہوگئی ہے۔ لڑکوں کی تعداد اکیس ہزار چھ سو بیاسی (21682) اور لڑکیوں کی تعداد گیارہ ہزار پانچ سو آٹھ (11508)۔ اِس طرح یہ جو دو اور ایک کی نسبت ہے وہ ابھی تک تقریباًقائم ہے۔ اِس میں سے زیادہ تعداد پاکستان کے واقفینِ نو کی ہے جو بیس ہزار دو سو ستر (20,270) ہے۔ اور ان میں بھی پاکستان میں ربوہ میں سب سے زیادہ چھ ہزار ایک سو سینتالیس(6147) ہیں۔ جبکہ بیرونِ پاکستان بارہ ہزار نو سو بیس (12920) ہے اُس کے علاوہ دوسرے نمبر پر پھر انڈیا ہے۔ پھر کینیڈا ہے۔ انگلستان ہے۔ انڈونیشیا ہے۔
ہومیو پیتھی کے ذریعہ خدمتِ خلق
اللہ تعالیٰ ہومیوپیتھی کے ذریعہ خدمتِ خلق کا جو موقع جماعت کودے رہا ہے۔ اِس میں بھی اِس سال یوکے میں 31 ڈسپنسریز سے 37,412 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ یہ تعداد توبہرحال مجھے کم لگتی ہے۔پوری طرح رپورٹس نہیں آئیں۔ اللہ کے فضل سے اِس سے بہت زیادہ کام ہو رہا ہے۔ ربوہ میں ڈاکٹر وقار بسرا صاحب کی نگرانی میںجو طاہر ہومیوپیتھک ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے اِس کے مطابق کل ایک لاکھ اکیس ہزار تین سو نوے (1,21,390) مریضوں کا علاج کیا گیا جس میں اکتالیس ہزارپانچ سو ساٹھ(41560) غیر ازجماعت لوگوں کا علاج کیا گیا۔ اور اِن میں مختلف جگہوں کے اور مختلف طبقات کے پڑھے لکھے لوگ بھی تھے۔
ہومیوپیتھی کے علاج کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ شفا کے عجیب عجیب نظارے دکھاتا ہے۔ مبلغ انچارج سپین لکھتے ہیں کہ پیدرو آباد جماعت کی ایک خاتون پر شدید برین ہیمرج کا حملہ ہوا اور سارا جسم مفلوج ہو گیا۔ ڈاکٹر ز علاج کر رہے تھے۔ لیکن بہتری کی بجائے حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔ تیسرے دن ڈاکٹروں نے تقریباًجواب دے دیا تو انہوںنے یہاںفون کیا ۔ اور ہماری ہومیو پیتھی ڈسپنسری سے دوائی لی۔ تو کہتے ہیں کہ ایک خوراک ہی کھلائی تھی کہ صبح ہونے تک پہلے ٹانگوں میں حرکت پیدا ہوئی ۔ ڈاکٹرز چیک کر کے حیران رہ گئے۔ اور پھر استعمال سے اللہ کے فضل سے مریضہ خود چلنے کے قابل ہو گئی ہیں۔
پھر اولاد کی نعمت سے محروم بعض لوگوں کو اِس سے بڑا فائدہ ہوا۔ اور اِس طرح اللہ کے فضل سے اس سے بھی جماعت کا نام دنیا میں متعارف ہو رہا ہے۔
نادار، ضرورتمندوں اوریتیموں کی امداد
جماعت اللہ کے فضل سے نادار، ضرورتمندوں اوریتیموں کی امداد میں بھی کافی کام کر رہی ہے۔ اور مختلف جگہوں پر ہسپتالوں کے ذریعہ سے بھی اور کیمپوں کے ذریعہ سے بھی کام ہو رہا ہے۔ بورکینا فاسو میں آنکھوں کے آپریشن کے لئے کیمپ لگایا گیا۔ انہوں نے پہلے ایک مہینے میں 100 کی اجازت لی تھی۔ لیکن اللہ کے فضل سے بڑا کامیاب رہا اور موتیا کے 205 مریضوں کے آپریشن کئے گئے۔ کہتے ہیں کہ جو مریض آپریشن کروا کے جاتے ہیں اُن کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔ ایک معمر آدمی جس کی تقریباً پندرہ ، بیس سال سے نظر بند تھی۔ آپریشن کے بعد جب اُس کی نظر بحال ہوئی تو ہر ایک سے کہہ رہا تھا کہ اُس کا خیال تھا کہ اب موت تک وہ اِس طرح اندھا رہے گا۔ لیکن اب آپریشن کے بعدوہ دیکھ سکتا ہے،ہر رنگ دیکھ سکتا ہے۔ وہ لوگوں کو بلا بلا کے کہہ رہا تھا کہ دیکھو یہ فلاں رنگ ہے، فلاںرنگ ہے اور اُس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔
Leo regionکے ایک گاؤں Firdo میں ایک پندرہ سالہ لڑکا بینائی سے محروم تھا۔جب آپریشن کے بعد یہ Leo شہر پہنچا تو رات کا وقت تھا۔ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔اور ضد یہ تھی کہ ابھی میں اپنے گاؤں واپس جاؤں گا۔
پھر Dori regionکی ایک لڑکی کا آپریشن ہوا۔ تھوڑا تھوڑا جب اُس کو نظر آنے لگا تو اُس نے پوری آنکھیں کھولیں اور خوشی سے کانپتے ہوئے اپنے باپ کو بتایا کہ دیکھیں اب میں صاف دیکھ سکتی ہوں۔
ہیومینٹی فرسٹ
Humanity first کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمتِ انسانیت کا کام ہو رہا ہے۔ اور دنیا کے 19 ممالک میں رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔ حال ہی میں UNO نے بھی اِس کو اپنے اداروں میں رجسٹرڈ کرلیا ہے۔ اِس سال جو زلزلہ پاکستان میں آیا تھا۔ اُس میں ہیومینٹی فرسٹ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام کیا ہے۔ کینیڈا، امریکہ، جرمنی، یوکے، ہالینڈ وغیرہ سے ڈاکٹروںاور رضاکاروں وغیرہ کی ٹیمیں گئی ہیں اور وہاں کام کرتی رہی ہیں۔ اور انہوں نے چھ مہینے سے زائد عرصہ تک مسلسل کام کیا ہے۔ UNOنے اصل میں تو اسی کام کو دیکھتے ہوئے ہماری اس تنظیم کو رجسٹر کیا ہے۔ وہاں پاکستان میں پچہتر ہزار (75000) زخمیوں اور مریضوں کو ہمارے ڈاکٹروں نے دیکھا ۔ پانچ لاکھ بیس ہزار کلو گرام امدادی سامان خوراک اور دوسری چیزیں دی گئیں۔ انتالیس ہزار متاثرین کو عارضی رہائشگاہ کی سہولت دی گئی جن میں ٹینٹ اور جستی چادروں کے شیلٹر وغیرہ شامل تھے۔ ہیومینٹی فرسٹ نے اسلام آباد میں ایک میڈیکل ریلیف سینٹر قائم کیا جہاں شدید زخمیوں، متاثرین اور اُن کے خاندانوں کو 132 دن رکھا گیا اور ہر ممکن دیکھ بھال کی گئی۔ ایک سو پچیس شدید زخمی اور اُن کے آٹھ سو پچاس افرادِ خاندان کو جب رکھا گیا تو ساتھ کھانا بھی مہیا کیا گیا۔ چوبیس گھنٹے سہولتیں فراہم تھیں۔ تین لاکھ چھپن ہزار چار سو سے زائد کو کھانے مہیا کئے گئے۔ ہیومینٹی فرسٹ کے رضاکاروں نے کُل چار لاکھ اکاسی ہزار ایک سو بانوے مین آورز (Main hours) فیلڈ آپریشن میں خرچ کئے۔ اب یہ انسانیت کا کام تھا جو ہم نے کرنا تھا۔ قطع نظر اِس کے کہ ہمیں وہاں کیا سمجھا جاتا ہے اور کیا کہا جاتا ہے۔
افریقہ میں بھی اِس کے تحت کام ہو رہا ہے۔ آئی ٹی سینٹرز، کمپیوٹر سینٹرز کھل رہے ہیں۔ گیمبیا میں ایک ستائیس ایکڑ زمین پر مختلف پروجیکٹس کا کام ہو رہا ہے۔ اس میں سیکنڈری سکول بھی شامل ہے۔مالی میں، نائیجر میں، اِسی طرح مختلف ملکوں میں نلکے اور طبی سہولتوں کو مہیا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انڈونیشیا میں جو سونامی آیا تھا اُس میں مدد کی گئی ہے۔ اور اب جو پچھلے دنوں جاوا میں آیا ہے اُس میں بھی سب سے پہلے جو ٹیم پہنچی وہ ہماری ہیومینٹی فرسٹ کی تھی۔
احمدیہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز
احمدیہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز کے ذمہ مَیں نے کام لگایا تھا کہ افریقہ میں کم قیمت پر بجلی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع تلاش کرنا۔غریب ممالک میں پینے کے لئے صاف پانی مہیا کرنا۔ عمارات کی تعمیراور ڈیزائن کے لئے جو انجینئرز ہیں وقفِ عارضی کریں اور ڈیزائن کرکے دیں۔ چنانچہ ان ہدایات کی روشنی میں یورپین چیپٹر نے کافی کام کیا ہے۔ سولر سیل (Solar Cell) کی ٹیکنالوجی اور وِنڈ ٹربائن (Wind Turbine) جو ہیں اس ٹیکنالوجی کے گھانا میں تین پائلٹ پروجیکٹ (Pilot Project) لگائے ہیں۔ چائنا (China) جاکر اس ٹیکنالوجی کی مزید معلومات حاصل کی گئیں۔ اور اسی طرح تیس عدد سولر اور وِنڈ (Wind) سسٹم چائنا سے خریدے گئے۔ کافی تعداد میں سولر لائٹس خریدی گئیں۔اِس کے لئے آسٹریلیا سے معلومات لی گئیں۔ وہاں بھی وفد گیا۔افریقہ میں پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے گئے۔ غانا میںڈرِلنگ اور جیو فزیکل(Geo Physical) ٹیسٹنگ وغیرہ کے کام کئے۔ اور بورکینا فاسو میں ہینڈ پمپ (Hand Pump) ، ہینڈ وَیل (Hand Wel) وغیرہ لگائے گئے۔ جو پرانے بند ہو گئے تھے اُن کو دوبارہ چالو حالت میں کیا گیا۔ اور کچھ نئے بھی لگائے گئے۔ کینیڈا کی انجینئرز ٹیم بھی اس میں شامل ہوئی تھی۔ پھر ہالینڈ، سپین، سوئٹزرلینڈ، سویڈن، پرتگال، ناروے وغیرہ کی جو مساجد وغیرہ کی جماعتی تعمیرات ہیں اِن میں اِنہوںنے کافی کام کیا۔ اِس کے علاوہ گیمبیا، آئیوری کوسٹ کے پروجیکٹ میں بھی کام کیا۔قادیان کے بہشتی مقبرہ کے تعلق میں بھی کام کر رہے ہیں۔اسی طرح مینارۃ المسیح کے محفوظ رکھنے کے لئے بھی یہاں کے انجینئرز کام کر رہے ہیں۔
بیعتیں
اِس سال جماعت نائیجیریا کو مجموعی طور پر ایک لاکھ پندرہ ہزار چھہتر(1,15,076) بیعتیں حاصل کرنے کی توفیق ملی ۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ اِس میں اکتالیس (41) اماموں نے احمدیت قبول کی۔ اور اٹھہتر (78) مقامات پر پہلی بارجماعت کا نفوز ہوا۔ جماعت نائیجیریا کو ہمسایہ ملک Cameroon اور Chad ، Equatorial Guinea میں بھی نمایاں کامیابیاں ملیں۔
امسال ملک کے دارالحکومت Abujaمیں انہوں نے ایک لاکھ پاؤنڈ کے اخراجات سے 81 ایکڑ زمین خریدی ہے۔
مبلغ انچارج صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک نومبائع داعی الی اللہ علی ہارون صاحب تبلیغ کے لئے بہت جوش رکھتے ہیں۔ انکپا شہر کے رہنے والے ہیں۔ انہیں پورے شہر میں جماعت کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اپریل میں جب اس شہراور اسٹیٹ کے امیر ملک سے باہر گئے ہوئے تھے تو یہاں کے مختلف علماء نے موقع پا کر جماعت کی مخالفت شروع کردی۔ جماعت کے معلم صاحب کو ڈرایا دھمکایا کہ یہ علاقہ چھوڑ جائیں اور سب معززین اور علماء اکٹھے ہوئے اور انہوںنے ایک دن اُن کو پکڑ لیا کہ یا تو اعلان کرو کہ تم ہمارے ساتھ ہو یا جماعتِ احمدیہ کے ساتھ ہو۔آج فیصلہ ہوگا۔ تو علی ہارون صاحب چند لمحے خاموش رہے۔پھر سب کے سامنے تشہد اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اعلان کیا کہ جماعت احمدیہ سچی جماعت ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام خدا کی طرف سے ہیں۔ اور مَیں جماعتِ احمدیہ کے ساتھ ہوں اور رہوں گا۔ یہ بات سن کر،پتہ نہیںاللہ میاں کاایسا تصرف ہواکہ مولویوں کا جوجوش تھا وہ سب وہیں ٹھنڈا ہوگیا۔ اور اُس کے بعد اللہ کے فضل سے وہاں ہزاروں کی تعداد میں بیعتیں ہوئی ہیں۔
پھر یہاں نائیجیریا میں ہی اَزارے (Azare) شہر سے د وکلو میٹر دُور ایک گاؤںپٹارا (Patara)ہے۔ وہاں چیف سمیت لوگوں نے احمدیت قبول کر لی۔ گاؤں کے چیف نے امام صاحب کو سمجھایا۔لیکن جب وہ نہ مانے تو چیف نے احمدی نائب امام کو اپنا امام بنادیا۔ اس پر امام صاحب نے باہر کے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب گاؤں میں کسی نے ساتھ نہ دیا تو خاموش رہ گئے۔ اس گاؤں کی مسجد بہت خوبصورت ہے اور شہر کے ایک امیر آدمی نے گاؤں کیلئے بنائی تھی۔ یہ آدمی خود تیجانیہ فرقہ کا ہے۔ وہاں تیجانیہ فرقہ کافی ہے۔ تو اِس مخالف نے نومبائعین سے کہہ دیا کہ اگر آپ احمدی ہو گئے تو آپ اس مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ یہ مسجد تیجانیہ فرقہ کے لئے بنوائی گئی ہے۔ اس پر نومبائعین نے صاف جواب دے دیا کہ ہم تو احمدی ہو چکے ہیں۔ تم نے ہمیں نماز نہیں پڑھنے دینی تو اپنی مسجد اٹھا کر لے جاؤ۔ اس پر اُس آدمی نے جماعت سے درخواست کی کہ مجھ سے مسجد خرید لیں۔چنانچہ ایک احمدی دوست نے پیسے دے کر وہ مسجد خرید لی۔
اِس سال جماعتِ احمدیہ غانا کو ایک لاکھ تین ہزار آٹھ سو(103800) بیعتیں کروانے کی توفیق ملی ہے۔ گزشتہ سال یہ تعداد صرف گیارہ ہزار چھ سو تہتّر تھی۔ اس دفعہ انہوں نے دس گناکا jump لیا ہے۔ اور 51 نئے مقامات پر احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔ دو پیراماؤنٹ چیف، آٹھ چیفس اور چھیالیس امام احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔ اور اِن کا مختلف قوموں سے تعلق ہے۔اِس سال غانا میں جلسہ گاہ کے لئے اور باقی مختلف پراجیکٹس کے لئے چار سو ساٹھ ایکڑ زمین خریدی گئی ہے۔ ہائی وے (Highway) پہ بڑی باموقع اورایک شہر کے تقریباً ساتھ ہی ہے تو اللہ تعالیٰ ملکوں کی زمینیں بھی عطا فرما رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے امید کی جا سکتی ہے۔کہ انشاء اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ یہ تمام زمینیں احمدیت کی آغوش میں آنے والی ہیں۔
غانا میں غیر احمدیوں کے ایک استاد جلسہ سالانہ لندن میں شریک ہوئے۔ جب واپس آئے تو حافظ جبرائیل صاحب کہتے ہیں کہ اُن کے ایک بھتیجے نے پوچھا کہ لندن سے کیا تحفہ لائے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک کتاب ہے ’’القول الصریح‘‘۔ بھتیجا ایک عالمِ دین تھا۔ انہوں نے کتاب لی اور پڑھ کر کہنے لگے کہ کتاب سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ احمدیت سچی ہے اور اِس میں شامل ہونا ضروری ہے۔ اِس پر امام صاحب نے کہا کہ بے شک شامل ہو جاؤ۔ اُس بھتیجے نے احمدیت قبول کر لی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب چلے گئے۔ حج کے موقع پہ غانا کے کچھ احمدی بھی سعودی عرب گئے تھے۔ یہ صاحب احمدیوں سے ملے۔وہ اُن احمدی احباب کو پہلے نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ احمدی ہیں؟ تو احمدی جو غانا سے گئے ہوئے تھے انہوں نے اُس سے بڑا حیران ہوکر پوچھا کہ آپ کو کس طرح پتہ چلا کہ ہم احمدی ہیں۔ تو وہ دوست کہنے لگے کہ احمدی اپنی نمازوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ پس یہ احمدی کا طُرّۂ امتیاز ہے جو ہرجگہ اور ہر وقت ہوناچاہئے۔
Benin میں بھی ہزاروں میں بیعتیں ہوئی ہیں۔ Beninکے امیر صاحب کہتے ہیں کہ بینن کے نیشنل چیف آف ملٹری پولیس گزشتہ کچھ ماہ سے زیرِ تبلیغ تھے۔مجھے لکھا کہ مَیں آپ کو بھی دعا کے لئے لکھتا رہا، خود بھی دعا میں مصروف رہا۔ اُن کو 9جولائی کو مشن ہاؤس میں آنے کی دعوت دی۔اُن کے لئے مَیں تیاری کر رہا تھا اور ایم ٹی اے روٹین کے مطابق چل رہا تھا۔ مَیں یہ دعاکر رہا تھا کہ کوئی ایسا موقع پیدا ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اُن کا سینہ ایمان کے لئے کھول دے۔ کہتے ہیں کہ اچانک مَیں نے دیکھا کہ ایم ٹی اے پر انڈونیشین سروس میں سرکاری اہلکار جماعت کے کلمہ والا بورڈ اکھاڑ رہے ہیں اور آریوں سے کاٹ رہے ہیں۔ اُس کے بعد خدام کا جوش اور غم وغصہ کاscene۔اور پھر ایک عہدیدار کا اونچی آواز میں اُن کو اپنی طرف بلا کر انڈونیشین میں مختصر خطاب۔ اور پھر اُن کے ہاتھ دعا کے لئے بلند ہوئے تو ہر روح خدا کے حضور تڑپنے لگی ۔ چیخوں اور سسکیوں کے درمیان آمین، آمین کی آواز بلند ہونے لگی۔ کہتے ہیں یہ سِین مَیں نے ریکارڈ کر لیا۔ جب آرمی چیف آئے تو انہوں نے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا اور پھر مجھے کہنے لگے کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جو احمدیت نے طرّۂ امتیاز کے طور پرآپ کو دی ہو اور ہم مسلمانوں کے پاس نہ ہو۔ تو مَیں نے کہا ٹھیک ہے مَیں آپ کو وہ بتاتا ہوں بلکہ آپ کو دکھاتا ہوں۔ یہ خدائی تقدیر ہے کہ آپ کے آنے سے آدھ گھنٹے پہلے ہی پروگرام آرہا تھا۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے وہ پروگرام جو ریکارڈ کیا تھا اُن کو دکھایا تو انہوں نے یہ سارا منظر دیکھا۔ جب دعا کا سِین آیا تو اُن کی آنکھیں پُرنَم ہو گئیں۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ یہ ہے ہمارا طُرّۂ امتیاز جو ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ اور خلافت کی برکت سے ملا ہے کہ ہم ہر حال میں اپنی غمی اورخوشی میں خدا کے وفادار ہیں اور کبھی ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے اور ہمیشہ نظامِ جماعت کے ماتحت چلتے ہیں۔ اطاعت،فرمانبرداری اور قربانی کے سنہری اصولوں پر ہمیشہ کاربند رہتے ہیں۔ اور یہ باتیں خلافت کے دامن سے بندھے بغیر ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا اگر یہ سب امام مہدی اور خلافت کی برکت ہے تو میں کیوں نہ اپنے دامن میں بھروں۔ اور فوراً بیعت فارم طلب کیا اور sign کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔ الحمدللہ
تو Burkina Fasoسے ہی ایک مبلغ فاروق صاحب لکھتے ہیں کہ ڈوری ریجن کی ایک جماعت کوریا کے ایک انتہائی ضعیف داعی الی اللہ ہیں۔ اُن کی طرف سے ایک دن ایک آدمی آیا کہ سخت بیمار ہیں اور انہوں نے اپنے بھتیجے کو بلایا ہے جو ڈوری مشن ہاؤس میں ملازم ہے۔ ہمارے مبلغ بھی عیادت کرنے کے لئے معلم کے ساتھ چلے گئے۔ وہاں پہنچے تو اُس بزرگ نے اپنے بھتیجے کے گلے لگ کر زاروقطار رونا شروع کر دیا اور اُسے تاکیداً کہا کہ رات مجھے خواب میں بتایا گیا کہ آج صرف جماعت احمدیہ ہی ایک سچی جماعت ہے اور اِسی کے ساتھ چمٹنے میں بھلائی ہے اور خیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس لئے فوری بلایا ہے کہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ میری تمہیں نصیحت ہے کہ اِس جماعت سے ہمیشہ وفا کرنا اور کبھی بھی اِس سے اپنا تعلق نہیں توڑنا۔
پھر سیرالیون ہے۔ وہاں بھی اِس سال اللہ کے فضل سے اچھی بیعتیں ہوئی ہیں۔ اِس سال گزشتہ سے پچھلے جمعہ اُن کے ملک کے صدر صاحب بھی یہاں آئے تھے۔وہ اپنے سرکاری دورے پر آئے ہوئے تھے لیکن جمعہ پڑھنے ہماری مسجد میں آئے۔وہاں جب بھی سرکاری تقریبات ہوتی ہیںتو جماعت کو خاص طور پر دعوت دی جاتی ہے اور سرکاری حلقوں میں جماعت کا اللہ کے فضل سے اچھا اثر ہے۔
وہاں کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک علاقے میں دو فرقوں کے آپس میں عرصہ دس سال سے اندرونی اختلافات تھے۔ دو مساجد بنائی گئی تھیں اور باوجود انتہائی کوشش کے دونوں فرقوں کے اختلافات ختم نہیں ہوتے تھے۔ تو یہ مبلغ کہتے ہیں کہ میں نے گاؤں کے سرکردہ افراد سے بات چیت کی اور احمدیت کی تبلیغ کی۔ اُس کے نتیجہ میں افراد نے فیصلہ کیا کہ ہم احمدیت قبول کرتے ہیں اور اِس جھگڑے کے سلسلہ میں جماعتِ احمدیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ انہیں قبول ہو گا۔ تو بات چیت کے بعد اُن کے جو بڑے افراد تھے، لیڈر تھے اُن کو سمجھایا گیا۔ سب جھگڑا ختم کرنے میں متفق ہو گئے۔ چنانچہ اُن سب کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا کہ کیونکہ اِن مساجد کی وجہ سے جھگڑا پیدا ہورہا ہے۔ اِس لئے دونوں مسجدوں کو گرا دیا جائے اور اُس کے سامان کے ذریعہ سے ایک نئی مسجد تعمیر کی جائے جو احمدیہ مسجد ہو گی۔ چنانچہ اِ ن دونوں مساجد کو گرا کر اَب علاقے میں احمدیہ مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔ اِس طرح اِس علاقے میں احمدیت کے پھیلنے سے یہ جھگڑا جو کئی سال کا تھا ختم ہو گیا۔
ہندوستان سے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ گاؤں چولا کرلائی میں گزشتہ سال احمدیت کا پیغام پہنچایا جس کے نتیجہ میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ عورت اپنی فیملی سمیت احمدی ہو گئی۔ اِن کے گھر ایک دن معاندِ احمدیت پیر بھی آیا اور کہا کہ تم لوگوں نے قادیانی جماعت میں داخل ہو کر کفرکا طریق اختیار کیا ہے۔ (ہندو سے احمدی ہوئی ہے۔ اُس کو کہہ رہے ہیں کہ کفر اختیار کیا ہے) اُسے چھوڑ کر اسلام قبول کرو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ یہ کہہ کر اُس نے جماعت کو سخت گالیاں دیں۔ اُس نواحمدی خاتون اور اُس کے بچوں نے اِس پِیر کو گھر سے نکال دیا۔ مگر اِس کے الفاظ سے ان کے دل میں وساوس پیدا ہوئے کہ نہ جانے اب کیا ہو گا۔کیونکہ ایک لمبے عرصے سے ہندو تھے۔ بہرحال ہندو توہم پرست بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر بھی احمدیت کے قبول کرنے کی وجہ سے ایمان میں کچھ مضبوطی آرہی تھی لیکن ساتھ وسوسے بھی چل رہے تھے۔ تو کہتے ہیں کہ وسوسہ تو پیدا ہو گیا اور فکر بھی ہوئی۔لیکن یہ پیر صاحب گاؤں سے نکل کے جب main road پرگئے تو جاتے ہی ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور اتنا خوفناک ایکسیڈنٹ تھا کہ اُن کی لاش پہچانی نہیں جاتی تھی۔ اِس وجہ سے وہ عورت جو تھی اپنے ایمان میں اللہ کے فضل سے پختہ ہو گئی۔
کینیا میں بھی اللہ کے فضل سے اِس سال بیعتیں ہوئی ہیں۔ تعداد ہزاروں میں ہی ہے۔ پھر یورپین ممالک میں بھی، انڈونیشیا ، بوسنیا، بنگلہ دیش وغیرہ میں بیعتیں ہوئی ہیں۔
اللہ کے فضل سے اِ س سال بیعتوں کی جو کُل تعداد ہے وہ دولاکھ ترانوے ہزارآٹھ سو اکیاسی(2,93,881) ہے۔ اور ایک سو دو (102) ممالک سے دوسوستر (270) قومیں احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔
رؤیائے صادقہ کے ذریعہ قبول احمدیت
اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی رؤیا ئے صادقہ کے ذریعہ سے لوگوں کو حق دکھاتا ہے اور احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ فرانس سے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ الجزائر کے ایک دوست Bauhas Chebab احمدیت قبول کرنے سے قبل اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ خواب میں مَیں نے محسوس کیا کہ میں ہوا میں اڑ رہا ہوں۔ بلندی سے نیچے دیکھا کہ کسی جگہ بہت سے لوگ جمع ہیں۔ انہوں نے پاکستانی لباس سیاہ اچکن اور سفید شلوار قمیص اور جناح ٹوپیاں پہنی ہوئی ہیں۔ پھر مجھے کمرے میں لے جایا گیا جہاں یہ لوگ موجود تھے اور اُن کے درمیان ایک باریش شخص تھا۔ جس نے مختلف رنگ کا لباس اور سبز رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ سب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور رو رہے تھے۔ مَیں نے سوال کیا کہ یہ سب کیوں رو رہے ہیں؟ مجھے جواب ملا کہ حضور کی وفات کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ اِس پر ایک آواز آئی کہ اُس شخص کی طرف دیکھو جو درمیان میں ہے۔ یہ پانچویں خلیفہ ہیں اور صرف یہی سبز رنگ کا کوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ مَیں نے کہا کہ یہ کس طرح ہوا؟ تو آواز آئی کہ تمہیں یقین نہیں آرہا تو سبز کوٹ کو دیکھو، سبز کوٹ کو دیکھو، سبز کوٹ کو دیکھو۔یہ آواز مجھے تین دفعہ سنائی دی۔ جمعہ کے دن جب مَیں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے ایک احمدی دوست کے گھر گیا تو وہاں سب لوگ ایم ٹی اے دیکھ رہے تھے۔ جب میں نے ٹی وی کی طرف دیکھا تو مجھے وہی کچھ نظارہ نظر آیا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔کہتے ہیں کہ پہلے مَیںاحمدی نہیں تھا، احمدیت کے بارے میںشکوک وشبہات تھے۔ یہ دیکھ کر میرے تمام شکوک وشبہات دور ہو گئے اور احمدیت کی صداقت پر یقین ہو گیا۔
فرانس کے اسی نوجوان کی والدہ نے بھی اپناخواب بیان کیا۔ا نہوں نے بتایا کہ مَیںخواب میں نماز ادا کر رہی ہوں تو دیکھا کہ میرے آگے ایک باریش شخص کھڑا ہے اور وہ کچھ نہیں کہتا۔ یہ خواب پانچ،چھ سال قبل کا ہے۔ ایک سال قبل میں اپنے بیٹے کے ساتھ جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوئی۔ وہاں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی۔ مجھے علم نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ یہی وہ بزرگ تھے جن کو میں نے پانچ،چھ سال قبل خواب میں دیکھا۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ اِس پر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جلسے کے پروگرام دیکھے تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اب مجھے احمدی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
جرمنی کے ایک صدر جماعت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک تبلیغی سٹینڈ لگایا تو ایک کُرد مسلمان قاسم دَال اپنی جرمن بیوی اور تین بیٹیوں کے ساتھ وہاں تشریف لائے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر سے بات شروع ہوئی۔ اور خوب غصہ سے بولے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کون آسکتا ہے۔ تقریباً پندرہ منٹ کی بحث کے بعد ہمارے سیکرٹری تبلیغ نے اُن کا فون نمبر لے لیا اور وہ چل دیئے۔ اگلے ہی دن انہیں کھانے پر بلایا گیا اور تین گھنٹے کی تبلیغی نشست ہوئی۔ انہیں کتابیں دی گئیں۔ پھر دو دن بعد اُن کا فون آیا کہ جوکتابیں آپ نے مجھے دی تھیں وہ میں نے جلا دی ہیںکیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے اور میں رابطہ نہیں رکھنا چاہتا۔ ہمارے سیکرٹری صاحب تبلیغ نے کہا کہ ہماری دوستی تو اب نہیں ٹوٹ سکتی۔ اس لئے آپ آج بے شک نہ آئیں لیکن جمعرات کو تشریف لائیں آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ تو اس دوران وہ جماعت کے متعلق اتنے بددل ہو چکے تھے کہ وہ آئے تو سہی لیکن روزہ رکھ کر آئے کیونکہ وہ احمدیوں کے گھر کھانا پینا بھی نہیں چاہتے تھے۔ بہرحال تبلیغی بحث جب لمبی ہو گئی تو افطاری کا وقت ہوگیا۔ اُن کو آخر مجبور ہوکے روزہ افطار کرنا پڑا۔ پھر سیکرٹری تبلیغ نے اُن کو کہا کہ ایک وعدہ کریں کہ مولوی کی بات ایک طرف اور خدا تعالیٰ کے وعدے ایک طرف۔ آپ ایسا کریں کہ چالیس روز پاک دل ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور مسیح پاک علیہ السلام کی سچائی کے بارے میں دردِ دل سے دعا کریں اور کسی تعصب کو جگہ نہ دیں۔ انہوں نے وعدہ کیا۔ کہتے ہیں کہ تیسرے دن اُن کا ٹیلیفون آیا اور وہ اپنے کام کی جگہ پر تھے کہ تمہارے پاس موجودہ خلیفہ کا کوئی فوٹو ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہے۔ جواب دیا کہ میں ابھی کام چھوڑ کر آرہا ہوں۔ سیکرٹری تبلیغ نے وجہ پوچھی تو کہا کہ مجھے غائبانہ آواز آئی ہے کہ ثبوت کیا مانگتے ہو۔ ثبوت تو ہم تمہیں دکھا چکے ہیں۔ اور ساتھ ہی اُن کو وہ خواب یاد دلائی گئی جس میں خلیفۃ المسیح الخامس کو کمانڈر انچیف کے طور پر کھڑا دیکھا تھا۔ جن کے اوپر نور کا سایہ تھا اور ایک فوج سامنے کھڑی تھی۔ اور وہ فرشتوںکی جماعت کے طور پر دکھائے گئے۔ لمبی خواب ہے۔ بہرحال جونہی وہ سیکرٹری تبلیغ کے گھر پہنچے تو تصویر دیکھ کر کہنے لگے کہ یہی مَیں نے تصویر دیکھی تھی۔ پچھلے سال انہوں نے لندن کے جلسے میں شرکت کی اور اُس کے بعد احمدیت قبول کر لی۔
پچھلے سال بیعت میں ایک چیز جو انہوں نے خواہش کی وہ بعد میں انہوں نے اب لکھی کہ میری خواہش تھی کہ مَیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کروں۔ اور اُن کو بتایا گیاکہ نظام کے تحت بیعت ہوتی ہے۔ آپ پتہ نہیں سامنے آئیں گے کہ نہیں۔ لیکن گزشتہ سال مَیں نے کہا کہ جو نومبائعین ہیں وہ سامنے آکر بیٹھیں۔ تو اتفاق سے جرمنی سے اُنہی کا نمبر آیا اور وہ بیٹھے اور اس طرح اُن کی خواہش پوری ہو گئی۔ اُس پہ وہ مزید بڑے خوش تھے۔
محمد اشرف صاحب بلغاریہ سے لکھتے ہیں۔ ایک دوست Olekصاحب زیرِ تبلیغ تھے۔ عیسائی تھے۔اُن کو بھی اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ گزشتہ سال جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوئے تھے لیکن بیعت نہ کی۔ ایک دن سینٹر میں آئے اور کہنے لگے کہ مَیں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے میرا کہا کہ وہ مجھے خواب میں آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ تم میرے پاس اگر نہیں آتے تو مَیں تمہارے پاس آجاتا ہوں۔ اس پر کہتے ہیں کہ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی اورمَیں جماعت میں شامل ہونے کے لئے آگیا ہوں۔ سعید فطرت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق عطا فرمائی۔
اسی طرح ایک عیسائی عورت ہیں۔ وہ بھی اپنی خواب کے ذریعہ سے احمدی ہوئیں۔
صوبہ جموں کے ضلع اودھم پور میں ایک قصبہ چسانہ ہے۔ وہاں کی آبادی زیادہ تر ہندوؤں کی ہے۔ کہتے ہیں کہ وہاں ایک شخص درشن سنگھ نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ اُس نے اپنی ایک خواب سنائی کہ ایک رات غالباً تین بجے کا وقت تھا۔ مَیں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ میرے دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند ہے اور میرے سامنے ایک سفید داڑھی والے بزرگ ہیں جن کے چہرے پر بکثرت آسمان کے ستارے نور کی شکل میں جگمگا رہے ہیں۔ اُن ستاروں کی وجہ سے اُن بزرگ کا چہرہ نورانی دکھائی دیتا ہے۔ وہ بزرگ میری پیٹھ تھپتھپا کرفرما رہے ہیں کہ تمہارے چلّو بھر پانی کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ نہیں ہے۔ تم مت گھبراؤ۔ تمہارا فیصلہ درست ہے۔ یہ صاحب جلسہ سالانہ 2005ء میں شامل ہوئے تھے اور میرے سے ملاقات بھی کی تھی۔ آخری روز بیعت کرنے کی سعادت بھی اُن کو مل گئی۔ واقعہ بیان کرنے والے دوست لکھتے ہیں کہ جب وہ مجھے ملنے آئے تو دیوار پر خلفاء کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ اُن تصاویر کو دیکھ کر وہ ایک دم حیران ہوگئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تصویر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ مجھے خواب میں جو بزرگ دکھائے گئے تھے وہ یہی بزرگ تھے یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ۔
خوابوں کی تو بڑی لمبی فہرست ہے۔
اسی طرح قبولیتِ دعا کے واقعات ہیں۔ ایک دو کا ذکر کر دیتا ہوں۔ ایتھوپیا سے ایک معلم علی نور داوے صاحب کہتے ہیں کہ ایک سنی لیڈر احمد گوراچا، حسین مُسافہ اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر کی وجہ سے مجھے جیل جانا پڑا اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب یہاں کوئی بھی احمدیت کا نام نہیں لے گا۔ کہتے ہیں میں چودہ دن بعد جیل سے رہا ہوا تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس رنگ میں ظاہر ہوئی کہ بس کے ایک حادثے میں احمد گوراچا ہلاک ہو گیا۔ اور جو پولیس افسر تھا وہ بھی شدید زخمی ہوااور اس کے علاوہ پولیس افسر پر رشوت لینے کا الزام بھی ثابت ہوا۔ اور اسے چار سال کی قید ہو گئی۔ اِن تینوں نے کہا تھا کہ اب یہاںاحمدیت کا کوئی نام نہیں لے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ا س سال آٹھ جماعتیں قائم ہوئی ہیں اور پندرہ مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔ اور سولہ سوپینسٹھ(1665) بیعتیں ہوئی ہیں۔
Burkina Fasoسے کمباری محمد فادا صاحب لکھتے ہیں کہ ایک وہابی مخالفِ احمدیت کی بیوی کافی عرصہ سے بیمار تھی۔ الٹیاں وغیرہ نہیں رکتی تھیں۔ جو کچھ کھاتی قے آجاتی۔ ایک دن اُس کی بیمار پرسی کے لئے اُن کے گھر گئے تو دیکھا کہ ساری فیملی اب اس انتظار میں بیٹھی ہے کہ یہ صرف چند دن کی مہمان ہے۔ اِس کا بچنا بہت مشکل ہے اور مولوی صاحب جو تھے وہ احمدیوں سے بہت کتراتے تھے۔ جب دیکھتے راستہ بدل جاتے۔ کہتے ہیں ایک دن مجھے روک کر کہنے لگے کہ احمدی کافر ہیں تم اُن کو چھوڑ دو۔میں نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ کی بیوی بہت بیمار ہے۔ آپ سب اُس کی زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں۔ مَیں کہتا ہوں کہ امام مہدی علیہ السلام جن کو میں نے مانا ہے اگر وہ سچے ہیں تو مَیں یقین سے کہتا ہوں کہ میرے پاس ایک دوائی ہے یہ دوائی اپنی بیوی کو دو۔ سورج نہیں ڈھلے گا کہ وہ انشاء اللہ شفا پا جائے گی۔یہ ایک دیسی دوائی تھی۔ یہ دوائی لے کر مَیں اُس کے گھر گیااور اُس کو تھوڑی تھوڑی کر کے چٹانا شروع کی۔ اور اُسے کہا کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے چاٹتی رہو۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں اُس کو شفا دی اور جوں جوں وہ دوائی لیتی گئی اُس میں زندگی کے آثار نمایا ں ہوتے گئے اور بالکل صحتیاب ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کی لاج رکھ کر آپؑ کی صداقت اُس پر ثابت کر دی اور مولوی نے مخالفت چھوڑ دی۔ شریف مولوی تھا۔
غانا سے ایک داعی الی اللہ عبداللہ ابراہیم لکھتے ہیں کہ ہمیں مارچ میں تُلوِے کے علاقے میں تبلیغ کے لئے بھجوا یا گیا۔ ان دنوں یام کی کاشت کی تیاری کی جارہی تھی۔ بارش نہیں ہو رہی تھی۔ عام لوگ اِس وجہ سے پریشان تھے۔ سلاگا سے بعض علماء کو اور معلمین کو بلایا گیا کہ وہ دعا کریں۔ مَعلَم اُن کے ہوتے ہیں۔ لیکن اُن کی دعا کا کوئی اثر نہ ہوا۔ کہتے ہیں جب ہم وہاں پہنچے تو چیف نے درخواست کی کہ دعا کریں کہ بارش ہو۔ ہماری ٹیم نے سب لوگوں کے ساتھ مل کر دعا کی۔ اُس کے بعد ہم وہاں سے اگلی منزل کو روانہ ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ دو دن کے بعد تُلوِے کے چیف نے ایک آدمی کے ذریعہ پیغام بھجوایا کہ اللہ نے آپ کی دعا سن لی ہے جبکہ دوسرے علماء کی دعا نہ سنی گئی۔ سارے علاقے میں اللہ کے فضل سے بارش ہوئی اور کسان خوشحال ہو گئے۔
عبد الرحمن تراورے صاحب معلم Kolangeba لکھتے ہیں کہ ہم نے شہر میں مدرسے کے ذریعہ احمدیت کا تعارف کروایا تو شہر کے ایک مولوی عثمان سنگارنے جو سعودی عرب سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہے اور شہر کا بڑا امام ہے احمدیت کی مخالفت شروع کر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر لوگوں کو دکھاتا اور کہتا کہ احمدی اس آدمی کو نبی مانتے ہیں اور احمدی کافر ہیں۔ شہر کے گورنر نے دونوں فریقوں کو بلایا تو خاکسار نے قرآن وحدیث کے حوالے سے ختمِ نبوت اور جماعت کی صداقت پر بات کی۔ اُن کے مولوی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ تو گورنر نے کہا کہ آپ لوگ حق پر ہیں۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ اِس طرح مولوی کو ذلّت دیکھنی پڑی اور اللہ کے فضل سے جماعتی مدرسہ حکومتی طور پر بطور عربی سکول کے رجسٹرڈ ہو گیا اور بچے احمدیہ سکول میں آنے لگے۔
بعض لوگوں کا عبرتناک انجام
بشارت احمد صاحب مبلغ کینیا لکھتے ہیں کہ Eldoret سے تقریباً پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا ٹاؤن مٹونڈا (Matonda) ہے۔ وہاں غیر احمدیوں نے ہمارے معلم علی جمعہ کو تبلیغ کی گفتگو کے لئے اپنی مسجد میں بلوایا۔ جب غیر احمدی کوئی دلیل نہ دے سکے تو اِس معلم کو مارنا شروع کر دیا اور دھکے دے کر مسجدسے نکال دیا۔ اس واقعہ پر معلم صاحب کو اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑنے اور صبر اور دعا کی تلقین کی گئی۔ چند دنوں بعد اللہ کی تقدیر اس طرح ظاہر ہوئی کہ مارنے والوں میں جو سرغنے تھے اُن میں سے ایک رات کو سوتے میں قتل ہو گیا۔اور قاتلوں کا کوئی پتہ نہ چلا اور دوسرا سادہ لوح طلباء کو جہاد کے نام پر اکسانے اور لڑانے کی وجہ سے جیل میں بند ہو گیا۔
گیمبیا سے امیر صاحب کہتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام عثمان ٹنکارا تھا بڑا شرارتی بلکہ شرارتیوں کا سرغنہ تھا اور کہا کرتا تھا کہ احمدیوں کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ عمارت جس کو تم لوگ مسجد کہتے ہو اِس کا اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ صرف مونگ پھلی اور چارہ رکھنے کا ایک سٹور ہے۔ اور مسجد میںآ کر اُس نے زبردستی بیٹھ کر سگریٹ پینا شروع کر دیا۔ جماعت کے لوگوں نے اُسے ایسا کرنے سے روکا لیکن اُس نے کوئی بات نہیں مانی اور کہا کہ احمدیہ مسجد پر خدا کی لعنت ہے۔ اُس کی بات سن کر ایک احمدی دوست نے اُسے کہا کہ اُسے یہ یقین ہے کہ یہ سگریٹ جو تم نے مسجد میں پیا ہے یہ تمہارا آخری سگریٹ ہو گا۔ اَب یہ سگریٹ کبھی باہر بھی نہیں پی سکے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں اگلے ہی دن صبح جب وہ نیند سے بیدار ہوا تو اُس کا منہ سوجا ہوا تھا اور شدید درد تھا اور منہ پر دانے نکلے ہوئے تھے اور گلا خراب تھا۔ کہتے ہیں کہ اس بات کو پانچ مہینے ہو گئے ہیں اور اُس تکلیف کیلئے کوئی علاج کارگر نہیں ہو رہا۔ پھر اُس کو اور بیماریاں بھی لگ گئیں۔ اور انتہائی تکلیف کی حالت میں پڑا ہوا ہے اور عبرت کا نشان بنا ہوا ہے۔
عالمگیر جماعت کی مالی قربانی
اس کے واقعات تو بہت ہیں۔
مالی قربانیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت پہلے سے بہت بڑھ رہی ہے، ترقی کر رہی ہے۔ اور یہ جو وصیت کا نظام شروع ہوا ہے اِس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی بجٹ میں بہت فرق پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو قربانی کی توفیق عطا فرما رہا ہے اور اِس کے علاوہ دوسری قربانیاں بھی ہیں۔
مراکش کے ایک دوست کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُن کا چھ ماہ سے زائد کا بقایا تھا۔ جب مَیں نے چندوں کے بارے میں اور شوریٰ کے سلسلہ میں خطبہ دیا تواُ ن کو توجہ پیدا ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ چندہ لے کر امیر صاحب کے پاس آگئے۔ امیر صاحب نے کہاتمہارے حالات تو ایسے نہیں ہیں۔ رقم کہاں سے آئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بس خطبہ سننے کے بعد اور آپ کے توجہ دلانے کے بعد میرے سے رہا نہیں گیا اور مَیںنے اپنی گاڑی فروخت کر کے ساری کی ساری رقم چندے میں ادا کر دی ہے۔
احمد جبرائیل صاحب گھانا سے کہتے ہیں کہ چیری پونی میں ائمہ کی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ جس کے بعد سوائے چند ایک کے اکثر دوستوں نے اپنا چندہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ چندہ نہ دینے والوں میں ایک شخص تھا۔اُس سے پوچھا گیا کہ وہ چندہ کیوں نہیں دیتا جبکہ باقی دے رہے ہیں۔ کہنے لگا کہ میں چندہ کیسے دوں جبکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے فصل نہیں ہوئی۔ اُس پر اُسے کہا گیا کہ تم چندہ ادا کرو باقی سب اللہ پر چھوڑ دو۔ اُس نے فوراً دو سو سیڈی ادا کر دیئے۔ اِس کے دو گھنٹے کے بعد صاف آسمان پر گہرے بادل آئے اور ساری رات بارش ہوتی رہی۔ اور یہ ایسی بارش تھی جو کسانوں کے لئے بہت مفید تھی۔ اگلی صبح اِس شخص کے پاس الفاظ نہیں تھے جن سے وہ اپنا مدعا بیان کر سکے۔ اور اُس کے بعد کہتا ہے مَیں نے قسم کھائی کہ آئندہ کبھی بقایا نہیں رہے گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’وہ دن آتے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے روشن نشانوں کے ساتھ تمام پردے اٹھاتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ایسا ہی ایک دو زبردست ہاتھ دکھا دے گا تو پھر کہاں تک لوگ برداشت کرسکیں گے۔ آخر اُن کو ماننا پڑے گا کہ حق اِسی میں ہے جو ہم کہتے ہیں۔ہمارے مخالف جو ہمارے ساتھ لڑائی کرتے ہیں دراصل ہمارے ساتھ لڑائی نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ لڑائی کرتے ہیں۔ اور کون ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ لڑائی میں کامیاب ہو‘‘۔
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 215 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
فرمایا: ’’یہ لوگ یاد رکھیں کہ اُن کی عداوت سے اسلام کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ کیڑوں کی طرح خود ہی مرجائیں گے۔ مگر اسلام کا نور دن بدن ترقی کرے گا۔ خداتعالیٰ نے چاہا ہے کہ اسلام کا نور دنیا میں پھیلا دے۔اسلام کی برکتیں اب اِن مگس طینت مولویوں کی بک بک سے رک نہیں سکتیں ۔خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے صاف لفظوں میں فرمایا ہے میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈھیں گے۔ اب اے مولویو! اے بخل کی سرشت والو! اگر طاقت ہے تو خدا تعالیٰ کی اِن پیشگوئیوں کو ٹال کردکھاؤ۔ ہر یک قسم کے فریب کام میں لاؤاور کوئی فریب اٹھا نہ رکھو۔ پھر دیکھو کہ آخر خدا تعالیٰ کا ہاتھ غالب رہتا ہے یا تمہارا۔‘‘ (تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ 92)
مَیں جو مواد لے کر آیا تھا اُس کا میرا خیال ہے یہ تیسر احصہ ہے جو آپ کو بتایا ہے۔ اور یہ بھی اُس میں سے کچھ تھوڑا سا selectکیا گیا تھا پھر بھی وقت اتنا لگ گیاہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائیدات کے اتنے عظیم نظارے ہیں جو اللہ تعالیٰ جماعت کو دکھا رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اِن باتوں پر یقین اور ایمان اَور بڑھتا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ ایمان بڑھتا جائے گا۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن دُور نہیں جب کُل دنیا پر، کُل عالَم پر اسلام اور احمدیت کا غلبہ ہو گا ۔انشاء اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/nloDV]

اپنا تبصرہ بھیجیں