جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ء کے دوسرے روز سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب

2006-2007ء میں جماعت احمدیہ عالمگیرپر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کا ایمان افروز تذکرہ
1984ء کے بعد سے 2007ء تک کے 23سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 98نئے مما لک میں جماعت احمدیہ کا نفوذ ہوا
اس سال چار نئے ممالک گوادے لوپ،سینٹ مارٹن ،فرنچ گنی اور ہیٹی میں جماعت کا پودا لگا۔ پاکستان کے علاوہ 653نئی جماعتوں کا قیام ہوا۔
پرانے رابطوں کی بحالی ،نئی جماعتوں کاقیام، نومبائعین سے رابطہ کے سلسلہ میں مختلف مساعی کا تذکرہ
امسال جماعت کو 299نئی مساجد عطاہوئیں۔ ان میں سے 169نئی تعمیر ہوئیں اور 130بنی بنائی ملیں۔دوران سال 186مشن ہاؤسزکا اضافہ ہوا
تراجم قرآن کریم ودیگر لٹریچر کی اشاعت، رقیم پریس اور مختلف زبانوں کے مرکزی ڈیسکس کی کارکردگی کامختصر تذکرہ
اس سال نمائشوں ،دو ہزار 161بکسٹالز اور 55بک فیئرز کے ذریعہ لاکھوں افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا
اس سال ایم ٹی اے العربیہ کا آغاز کیا گیا۔ ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ذریعہ سے بیعتوں کے ایمان افروز واقعات
ایم ٹی اے کے علاوہ مختلف ممالک میں اس سال 1398ٹی وی پروگراموں میں کُل813گھنٹے 45منٹ کا وقت ملا اور اس طرح قریباً آٹھ کروڑ افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا یا گیا۔ مختلف ممالک کے ریڈیو سٹیشنز پر1873گھنٹے پر مشتمل 6664پروگرام نشر ہوئے۔
پریس اینڈ پبلی کیشنز،احمدیہ انجینئرزاینڈ آرکیٹیکٹس ایسوسی ایشن ، تحریک وقف نَو، ہیومینیٹی فرسٹ،مجلس نصرت جہاں ،
ہومیو پیتھی ،نورالعین دائرۃ الخدمۃالانسانیہ ،الاسلام ویب سائٹ وغیرہ مختلف شعبوں کی مساعی کا بیان
اس سا ل کُل دو لاکھ 60ہزار 839نئی بیعتیں ہوئیں۔
جماعت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی نصرت وتائید اور دعوت الی اللہ کی راہ میں روکیں ڈالنے والوں کے عبرتناک انجام کے واقعات
نظام وصیت میں شامل ہونے والوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جماعت مالی قربانیوں میں بھی آگے بڑھ رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے فیصلہ کیا ہے کہ عرب میں انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت نے نفوذ کرناہے اور جلد تمام مسلمان دنیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں لے لیناہے۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام تمام دنیا تک پھیلتا ہوا دیکھیں
اور تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آیا ہوا دیکھیں
(جماعت احمدیہ برطانیہ کے 41ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر حدیقۃالمہدی (آلٹن) میں 28 جولائی 2007ء کو
بعد دوپہر کے اجلاس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ النحل:19)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہوتو اسے احاطہ میں نہ لا سکوگے۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بار باررحم کرنے والا ہے۔
آج کے دن کے اس خطاب میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی دورانِ سال جو بارش ہوتی ہے اس کا کچھ حد تک ذکر کیا جا تا ہے۔ مختلف شعبہ جات کے جو کام ہیں ان کی رپورٹ سامنے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے نظارے جو مختلف طریقہ سے اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے ان کا ذکر ہوتا ہے۔ تو اس لحاظ سے اب مَیں آپ کے سامنے کچھ بیان کروں گا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دنیا کے 189 ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ اور1984ء کے بعد سے اب تک 23سالوں میں جب جماعت احمدیہ کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کیے گئے تھے اور ہر کوشش کی گئی تھی، ہر حربہ استعمال کیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے 98 نئے ممالک جماعت احمدیہ کو عطا فرمائے ہیں۔
نئے ممالک میں جماعت کا نفوذ
اور اس سال بھی چار نئے ممالک شامل ہوئے ہیں۔ جن میں گوادے لَوپ (Guadeloupe) اور سینٹ مارٹن(Saint Martin) اور فرنچ گنی(French Guiana) (غالباً ملک کا نام فرنچ گیانا ہے کیوں کہ آگے بھی اسی کا ذکر ہے۔) اور ہیٹی (Haiti) شامل ہیں۔ یہ جو اکثر ممالک ہیں یہاں جماعت فرانس کو جماعت پھیلانے کی توفیق ملی۔
گوادے لوپ جو ہے یہ کریبین سی(Caribbean Sea) میں واقع ہے۔ ہمارے مبلغ سلسلہ حافظ احسان سکندر صاحب اورنیشنل سیکرٹری کو یہاں بھجوایا گیا تھا اور یہ بالکل ایسی جگہ گئے تھے جہاں کوئی ان کو جانتا نہ تھا ،یہ کسی کو جانتے نہیں تھے۔ یہ جب وہاں پہنچے ہیں تو ایک مسجد میں چلے گئے اور وہاں جا کر تعارف کرایا کہ میں مشنری ہوں۔ اس پر لوگوں نے ان سے کہا ان کا امام نہیں آیا ہوا۔ آپ نماز پڑھائیں۔ تو بسم اللہ یہیں سے ہوگئی کہ پہلے جاتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو امامت کی توفیق عطا فرمادی۔ پھر نماز کے بعد سوال وجواب شروع ہوئے۔ مجلس لگ گئی۔ اور ایک دوست عیسیٰ احمدصاحب نے بیعت کرلی۔ پھر نمازِ جمعہ بھی اس مسجد میں ادا کی۔ پھر سوال جواب کی مجلس لگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانچ مزید بیعتیں عطا فرمادیں اور چند روز کے بعد اسی طرح مجالس لگتی رہیں ۱ور سات افراد نے بیعت کی۔ اس طرح یہاں کُل تیرہ افراد پر مشتمل جماعت قائم ہوگئی۔ کرایہ پر مکان لے لیا گیا ہے اور مشن ہاؤس اور سینٹر قائم کر دیا گیا ہے۔ جب پتہ لگا تو اخباروں نے بھی ہمارے وفد کے انٹر ویو لئے، ریڈیو اور ٹی وی نے بھی تعارف کروایا۔
اسی طرح سینٹ مارٹن جو ہے یہ بھی غرب الہند کا جزیرہ ہے۔ جس کی آبادی تقریباً ستّر ہزار ہے۔ چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ یہاں بھی جماعت فرانس کے ذریعہ سے جماعت کا نفوذ ہوا اور اِن کو جاننے والا کوئی بھی یہاں نہیں تھا۔ پہلا ہفتہ پمفلٹ تقسیم کرتے گزرا۔ ان کے خط بھی مسلسل آتے رہے کہ کوئی سننے والا نہیں۔ لوگ آتے ہیں لٹریچر لے جاتے ہیں ، لا تعلق سے ہیں۔ دعا کرتے رہیں۔ خود بھی مربی صاحب نے دعا کی۔ کہتے ہیں کہ جب واپسی کے تین دن رہ گئے تو اللہ تعالیٰ کے حضور بڑی بے چینی سے دعا کی کہ یہاں تو کوئی پیغامِ حق سننے والا نہیں ہے، کسی کو تُو بھیج دے۔ کہتے ہیں ابھی مَیں دعا کر رہا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس سے گفتگو شروع ہوگئی اور اتنا متأ ثّر ہوا کہ وہ تین دن مربی صاحب کے ساتھ رہا اور اس نے اپنے گھر کھانے پر بلایا اورپھر پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان احمدیت میں داخل ہو گیا۔ اس طرح اللہ کے فضل سے اس ملک میں بھی احمدیت کا پودا لگ گیا۔
تیسرا ملک فرنچ گیا نا (French Guiana)ہے۔ اس ملک کی سرحد ایک طرف سرینام اور دوسری طرف برازیل سے لگتی ہے۔ اس ملک میں بھی جماعت کے قیام کی سعادت جماعت فرانس کو ملی ہے۔ جب فرانس سے وفد یہاں پہنچا ہے تو گوادے لوپ(Guadeloupe) کے ایک احمدی دوست بھی یہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنے دوست کو ہمارے مبلغ کا تعارف کرایا جو حکومت میں مذہبی امور کے وزیر تھے اور اہم عہدہ پر فائز تھے۔ ان کے ساتھ تبلیغی گفتگو ہوتی رہی۔ اور انہوں نے بتایا کہ وہ سرینام میں جماعت کے مشن میں جا چکے ہیں اور آپ لوگ یقینا سچے مسلمان ہیں اور دوسرے مسلمانوں نے آپ کے بارہ میں غلط فہمیاں پھیلائی ہوئی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے گھر بلایا اور دوستوں اور عزیزوں کو اکٹھا کر لیا۔ تبلیغی نشست ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیس افراد بیعت کرکے جماعت میں داخل ہوگئے۔
پھر ہیٹی (Haiti) اس سال کا احمدیت میں شامل ہونے والا چوتھا ملک ہے۔ یہ ملک کیوبا (Cuba) اور ڈومینیکن ریپبلک (Dominican Republic) کے درمیان واقع ہے۔ یہاں بھی احمدیت کا نفوذ جماعت فرانس کے تحت ہوا۔ جب مارچ میں ہمارا یہ وفد گیا۔ پمفلٹ تقسیم کیے۔ سوال وجواب کے پروگرام بھی ہوئے تو تبلیغ کا سلسلہ جاری ہوگیا اور چھ افراد بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ چلتا رہا اور اس طرح مجموعی طور پر پچیس افراد نے احمدیت قبول کی۔ یہاں بھی باقاعدہ جماعت قائم ہوگئی ہے اور جماعت کی رجسٹریشن کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہاں ایک عیسائی دوست جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں ، انہوں نے بیعت کی تو مبلغ کو بتایا کہ آپ نے نماز پڑھائی تو مجھے بہت لطف آیا۔ میں نے گھر جا کر بیوی کو بتایا اور کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘‘لے لی تھی وہ بھی پڑھ لی ہے اور میں اپنی فیملی کے ساتھ احمدیت کو قبول کرتا ہوں۔
پرانے رابطوں کی بحالی
دورانِ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے33 ایسے ممالک میں بھی جہاں ہمارے مبلغین نہیں تھے اور وہاں رابطے کمزور تھے، وفود بھجوا کر وہ رابطے زندہ کیے گئے اور تعلیمی تربیتی پروگرام بنائے گئے، احباب کو منظم کیا گیا اور بعض ایسے ممالک میں مبلغین کا تقرربھی عمل میں آیا۔ ان میں سے ایک ملک ہنگری(Hungary) ہے۔ یہاں سے بھی جرمنی کے مبلغ حیدر علی صاحب اور عبدالغفار صاحب اور سیکرٹری تبلیغ وغیرہ گئے۔وقفِ عارضی کیا۔ تو جہاں انہوں نے پُرانے رابطے بحال کیے وہاں ان کی تربیت کے کام بھی کیے۔ ہنگری میں دوسری جنگِ عظیم سے قبل جماعت کے مبلغ ہوتے تھے۔ مشن ہاؤس تھا۔ حاجی ایاز خان صاحب کا تقرر ہوا تھا۔ اب دوبارہ حالات سازگار ہونے پر قریباً ستّر سال کے بعد ہمارے ایک مبلغ کا وہاں تقرر ہوا ہے۔ اور اب وہ وہاں مقامی زبان سیکھ رہے ہیں۔
دوسرا ملک مالٹا (Malta) ہے۔ یہاں بھی جرمنی سے ڈاکٹر عبدالغفار صاحب نے دورہ کیا تھا۔ اور یہاں بھی ہمارا باقاعدہ مشن قائم ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ ماہ جون میں ہمارے پہلے مبلغ بھی پہنچ چکے ہیں۔
تیسرا ملک رومانیہ (Romania)ہے۔ یہ بھی جرمنی کے تحت ہے۔ یہاں بھی مبلغ انچارج جرمنی نے اپنے وفد کے ساتھ دورہ کیا۔ اللہ کے فضل سے پاکستان سے ہمارے پہلے مبلغ یہاں پہنچ چکے ہیں اور رومانین زبان سیکھ رہے ہیں۔
میسی ڈونیا (Macedonia) بھی جرمنی کے ماتحت ہے۔ یہاں کے لئے بھی ہمارے مبلغ کا تقرر ہو چکا ہے۔ اور اس وقت ہمسایہ ملک کوسووو میں میسی ڈونیا کی زبان سیکھ رہے ہیں۔ جبرالٹر کا بھی عبدالغفار صاحب نے دورہ کیا جو جرمنی کے مبلغ ہیں۔ کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں بھی جماعت کی رجسٹریشن ہو جائے۔
ساؤتھ افریقہ سے وہاں کے مبلغ نے اپنے ہمسایہ ملک سوازی لینڈ(Swaziland) اور لیسوتھو (Lesotho) کے دورے کیے، جماعتوں کا جائزہ لیا اور کام منظّم کیا۔ ان دونوں ممالک میں غانا سے آئے ہوئے معلّمین کام کر رہے ہیں۔ یہ دونوں نئے ممالک ہیں جہاں گزشتہ سالوں میں احمدیت داخل ہوئی تھی۔ سوازی لینڈ میں تو اس وقت پانچ جماعتیں بن چکی ہیں۔ جبکہ لیسوتھو میں چھ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ اور دونوں ممالک میں جماعت کی پہلی مساجد بھی تعمیر ہو چکی ہیں۔
امسال یوگنڈا نے اپنے ایک معلم کو روانڈا بھجوایا تھا۔ یہاں احمدیوں سے رابطے بحال کیے گئے ہیں اور نہ صرف رابطے بحال ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسّی (80) نئی بیعتیں بھی ہوئیں۔ اور ایک جگہ کرایہ پر لے کر نماز سینٹر قائم کر دیا گیا ہے۔ یہاں پہلی بار جماعتی نظام قائم کیا گیا ہے۔ مجلسِ عاملہ کا تقرر کیا گیا ہے۔ اور روانڈا سے دو وفود دورانِ سال یوگنڈا پہنچے۔ وہاں جماعت کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔
نائیجیریا سے جماعتی وفود نے دورانِ سال تین ممالک کیمرون (Cameroon)، چاڈ (Chad) اور ایکیٹوریل گنی (Equatorial Guinea) کے دورے کیے۔ اور یہاں جماعتوں کو منظم کیا۔ کیمرون میں چار جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ دو طلباء جامعہ احمدیہ نائیجیریا میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں ایک سو چھبیس (126) بیعتیں ہوئیں۔ چاڈ میں اللہ کے فضل سے پانچ جماعتیں بن چکی ہیں۔ اس سال مزید دو سو بیس (220) بیعتیں ہوئیں۔ تیسرا ملک ایکیٹوریل گنی ہے جہاں نائیجیرین وفود نے دورے کیے، جماعت کو منظم کیا، بہتّر (72)بیعتیں یہاں عطا ہوئیں۔ خدام الاحمدیہ کی تنظیم بھی یہاں قائم کردی گئی ہے۔ یہاں کا ایک طالبعلم جامعہ احمدیہ نائیجیریا میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
ماریشس سے جماعتی وفود نے جزائر کموروز (Comoros Islands)، مایوٹی آئی لینڈ (Mayotte) ،اور ری یونین آئی لینڈ Island) (Réunion کا دورہ کیا۔ احمدیوں سے رابطے کیے اور جماعت کو منظم کیا۔ ان جماعتوں میں بھی باقاعدہ عاملہ بنا کر جماعتی نظام شروع ہو گیا ہے۔
بوٹسوانہ (Botswana) میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت رجسٹرڈ ہوگئی ہے۔
اٹلی میں دورانِ سال جماعت کو منظم کیا گیا اور باقاعدہ جماعت آرگنائز ہو گئی ہے۔ اب جگہ بھی تقریباً لے لی گئی ہے۔ بات ہو رہی ہے انشاء اللہ تعالیٰ جلد ہی وہاں پہلی مسجد بھی بن جائے گی۔
آسٹریا میں بھی مبلغین کو بھجوا کر آرگنائز کیا گیا ہے۔
صومالیہ میں بھی دو معلم کینیا سے گئے تھے۔ یہ دونوں صومالین معلم ہیں۔ اور نیروبی میں تعلیم حاصل کر کے گئے ہیں۔ پہلے یہاں تین جماعتیں تھیں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکیس (21) جماعتیں بنی ہیں اور بڑا اچھا کام ہوا ہے۔ دو ہزارپانچ سو (2500) بیعتیں ہوئی ہیں۔
ایتھوپیا میں بھی کینیا سے تین معلمین کام کر رہے ہیں۔ یہاں کے ایک ریجن میں جماعت رجسٹر ہو گئی ہے۔ یہاں بھی چار ہزار آٹھ سو (4800) کے قریب بیعتیں ہوئی ہیں۔ بیس (20) نئی جماعتیں بنی ہیں اور ایک مسجد اور دو معلم ہاؤس تعمیر کیے گئے ہیں۔
اسی طرح امریکہ سے ہمارے ایک مبلغ ساؤتھ پیسفک کے جزائر مارشل آئی لینڈ (Marshall Islands) اور مائیکرونیشا (Micronesia) کے دورہ پر گئے تھے۔ دورہ کے دوران انہوں نے پرانے رابطے زندہ کیے، فرداً فرداً ہر احمدی سے ملے۔ ان کے لئے تربیتی پروگرام بنائے۔ اور اب یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت منظم ہو گئی ہے اور سات نئی بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔
سپین کے سپرد پرتگال ہے۔ وہاں سے مبلغین باری باری پرتگال جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں جماعت منظم ہے۔
فجی نے جزیرہ وانوآتو (Vanuatu) میں اپنا وفد بھیجا۔ مبلغ کے ویزے کی کارروائی ہو رہی ہے۔ مشن ہاؤس اور مسجد کے لئے جگہ دیکھی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بھی جماعت رجسٹر ہوگئی ہے۔
کیری باتی (Kiribati) میں بھی نمائندہ بھجوایا گیا۔ یہاں بھی رجسٹریشن کی کارروائی مکمل ہوگئی ہے۔ اٹھارہ سال کی کوششوں کے بعد بڑی مشکل سے یہ رجسٹر ہوئی ہے۔ گزشتہ سال جب میں وہاں گیا تھا تو خاص طور پر ہدایت کر کے آیا تھا۔ وہاں کے رہنے والے ایک ڈاکٹر صاحب ہیں انہوں نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔
جماعت آسٹریلیا نے اس سال سالومن آئی لینڈ میں بڑا مضبوط رابطہ کیا ہے اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے منظم ومستحکم ہے۔ یہاں باقاعدہ جماعتی نظام قائم ہے۔ جماعت کی اپنی ایک عمارت ہے جہاں سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
ایسٹو نیا (Estonia) میں گزشتہ سال احمدیت کا نفوذ ہوا تھا۔ یہاں بھی اس سال رابطے کیے گئے ہیں ، نئے تبلیغی رابطے بھی بنے ہیں اور آئندہ مزید راہ ہموار ہوئی ہے۔
لیٹویا (Latvia) کا دورہ بھی کیا گیا۔ اس ملک میں جماعت قائم نہیں ہے۔ یہاں مختلف افراد سے چھیالیس میٹنگز ہوئیں۔ اس طرح مختلف جگہوں پر حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا ،احمدیت کا پیغام بھی پہنچایا گیا۔
پھر مبلغ انچارج بوسنیا نے سربیا (Serbia) میں دورہ کیا اور بیس افراد سے رابطہ ہواجو احمدی ہوئے تھے لیکن لمبے عرصہ سے ان سے رابطہ نہیں تھا۔ اب یہاں بھی تبلیغی مہم شروع ہو گئی ہے۔ رابطے اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم ہو گئے ہیں۔
فرانس سے ایک وفد جزیرہ مارٹینیک (Martinique) کے دورہ کے لئے گیا تھا۔ یہاں کی جماعت کا قیام 2004ء میں ہوا تھا۔ وفد نے یہاں نَو احمدیوں سے رابطہ کیا۔ مقامی ریڈیو پر ان کا لائیو پروگرام نشر ہوا۔ جماعت کا مکمل تعارف کرایاگیا۔ مزید دو بیعتیں یہاں ملیں۔
وینزویلا میں بھی جماعت سے رابطہ قائم کیا۔ اور اسے آرگنائز کیا۔ اسی طرح مراکش میں بھی رابطے کیے گئے اور تربیتی پروگرام کیے گئے۔ یہاں بھی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے فعّال ہے۔
بولیویا (Bolivia) میں بھی 8بیعتیں ہوئیں۔ کینیڈا سے جماعت کے ایک دوست جمیکا میں گئے تھے۔ اور وہاں جماعت کوآرگنائز کیا اور ان کی کوششوں سے اس سال وہاں بھی 10بیعتیں ہوئیں۔ اب وہاں بھی جماعت کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔
لکسمبرگ میں بھی مزید دو بیعتیں ہوئیں۔
نئی جماعتوں کا قیام
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 653ہے اور ان 653جماعتوں کے علاوہ 631نئے مقامات پر پہلی دفعہ جماعت کا پودا لگا ہے۔
نئی جماعتوں کے قیام میں ہندوستان سرِ فہرست ہے۔ ہندوستان میں 154 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ دوسرے نمبر پر بینن ہے یہاں 97مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ تیسرے نمبر پر نائیجیریا ہے یہاں 71مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ پھر گیمبیا ہے یہاں 50 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ آئیوری کوسٹ میں 34 جماعتیں نئی بنی ہیں۔ سیرالیون اور بورکینا فاسو میں 28،28جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اور صومالیہ اور مالی میں 21،21 جماعتیں بنی ہیں۔ ان علاقوں میں جماعتوں کا بننا بھی آسان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا ہے۔ ایتھوپیا میں 20 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ غانا اور مڈغاسکرمیں 16،16 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ کونگو میں 13،انڈونیشیا میں 11۔ اسی طرح 15 اَور دوسرے ممالک ہیں جہاں تھوڑی تعداد میں جماعتیں ایک ایک دو دو کی شکل میں قائم ہوئی ہیں۔
نئی جماعتوں کے قیام کے دوران ایمان افروز واقعات
نئی جماعتوں کے قیام میں ایمان افروز واقعات کے سلسلہ میں امیر صاحب بینن لکھتے ہیں کہ مونواورکونفوکے علاقے مشرکین کا گڑھ ہیں۔ اس ایریا میں ایک شہر ویدا (Vida) ہے جس میں مشرکین کا سالانہ تہوار ہوتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں جماعت نے کئی بار تبلیغ کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی بلکہ ایک مرتبہ تو مار پیٹ تک نوبت پہنچ گئی۔ 2005ء میں جب مَیں نے وہاں دورہ کیا تو کہتے ہیں کہ وہاں اس علاقہ میں دورہ سے پہلے صرف 3جماعتیں تھیں اور دورہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ بہت سارے آئے ،ملے اور ٹیلی ویژن اوراخباروں نے بھی خبریں دیں۔ چنانچہ دوبارہ اس کے بعد جب انہوں نے تبلیغی رابطے شروع کیے تو کہتے ہیں کہ ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ لوگوں کے گاؤں کے گاؤں احمدیت کی آغوش میں آنے شروع ہوگئے اور 57نئی جماعتیں قائم ہو گئیں اور ان کی اکثریت مشرکین میں سے احمدی ہو نے والوں کی ہے۔ اب یہ خدائے واحد کا نام لینے لگ گئے ہیں۔ جو مسلمان شامل ہوئے ہیں وہ بھی اپنے اماموں اورمساجد کے سمیت شامل ہوئے ہیں۔
پھر مبلغ انچارج صاحب نائیجیریا لکھتے ہیں کہ نَومبائعین کے علاقہ کے ریفریشر کورس کے دوران وہاں کے چیف بھی تشریف لائے۔ انہوں نے جماعت کے پروگرام کو سراہا اور ہمارے مبلغ اور معلمین کو اپنے ہال میں بلایا۔ دوسرے دن جب ہمارے مبلغ اپنے معلم سمیت ہال میں پہنچے تو انہوں نے سب کے سامنے کہا کہ اگر میں جماعت احمدیہ کے پروگرام میں نہ جاتا تو ایسے اچھے پروگرام سے محروم رہتا اور سب کے سامنے بیعت فارم پُر کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی اور اپنے علاقہ میں جماعت کی تبلیغ کی اجازت دی۔ اللہ کے فضل سے وہاں دس گاؤں احمدی ہو چکے ہیں۔
پھر گیمبیا کی ایک رپورٹ ہے۔ سعید الحسن صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دیہاتی علاقہ کو چُنا گیا۔ وفد کے ساتھ میں وہاں گیا۔ لوگوں نے تبلیغ کو دلچسپی سے سُنا اور سوال وجواب کے اختتام پر 12افراد نے بیعت کی۔ اور تین دفعہ وہاں جانے کے نتیجہ میں تین مزید گاؤں میں احمدیت کا پودا لگ گیا ہے اور 70افراد جماعت میں شامل ہوئے۔ وہاں جب یہ باتیں کر رہے تھے تو ایک شخص آیا۔ کہنے لگا کہ آپ سچّے لوگ ہیں۔ باقی لوگ حیران ہوگئے کہ تمہیں کیسے پتہ لگ گیا کہ یہ سچّے لوگ ہیں۔ کہنے لگا کہ ان کے چہرے اور طرح کے ہیں جو گواہی دے رہے ہیں کہ سچّے لوگ ہیں اور ان کا پیغام بھی سچّا ہے۔ اس لئے بیعت کرلو۔
نومبائعین سے رابطہ
گزشتہ سالوں میں جو نو مبائعین ہوئے تھے ان سے رابطے بڑے کمزور تھے۔ باوجود اس کے کہ بے شمار بیعتیں ہوئی تھیں۔ جماعتوں نے ان سے تعلق نہیں رکھا، رابطے قائم نہیں رکھے۔ اسی لئے میں نے کہا تھا کہ 2008ء تک اپنے 70فیصد جو رابطے ہیں وہ بحال کریں۔ جماعتوں میں بھی جائیں۔ اور ان کو آرگنائز کریں۔ ان کی تربیت کریں۔ بیعتیں کروا لینا اصل کام نہیں۔ اصل میں اس کے بعد بہت بڑا کام تربیت ہے۔ اس کی طرف جماعتوں نے توجہ نہیں دی اور پھر لوگ ضائع ہوگئے۔
اس رابطے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے غانا نے بڑا اچھا کام کیا ہے۔ اس سال انہوں نے 98,000 نومبائعین سے رابطے کیے۔ اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ تین سالوں میں جب سے میں نے ان کو کہا۔ 6لاکھ 4ہزار نو مبائعین سے رابطے بحال ہو گئے ہیں اور باقاعدہ آرگنائزڈ جماعتیں بن چکی ہیں۔
نائیجیریا نے اس سال ایک لاکھ 40ہزار نو مبائعین سے را بطے کیے۔ 71نئی جماعتیں قائم کر کے وہاں نظام جماعت قائم کیا۔ ان میں سے کچھ نے چندہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔ اس طرح کُل دو لاکھ 68ہزار نو مبائعین سے رابطہ بحال ہو چکا ہے۔ ابھی بھی ہر جگہ جماعت کا بہت بڑا کام ہے جو کرنے والا ہے۔
پھر بورکینا فاسو ہے۔ یہاں بھی گیارہ ہزار پانچ سو افراد سے رابطے بحال ہوئے۔ تجنید مکمل کر رہے ہیں۔ بجٹ بن رہے ہیں۔ اور اللہ کے فضل سے ایک لاکھ 80ہزار نو مبائعین سے رابطے بحال ہو چکے ہیں۔
آئیوری کوسٹ نے بھی رابطے بحال کیے ہیں۔ سول وار (civil war) کے بعد وہاں تعلق ختم ہو گیا تھا۔ 64ہزار نَومبائعین سے رابطے کر چکے ہیں۔
سیرا لیون میں 31ہزار 9سو نومبائعین سے رابطے ہوئے ہیں۔ اور ان میں سے بڑی تعدادچندہ کے نظام میں شامل ہو چکی ہے۔ اور جب احمدی چندہ کے نظام میں شامل ہو جائے تو پھر اس کی یہ تسلّی ہوتی ہے کہ اب یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضائع ہونے والا نہیں۔ ہندوستان میں دوران ِسال جو رابطے ہوئے ان کی تعداد 27ہزار ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
بنگلہ دیش میں بھی یہ بڑے ڈر رہے تھے اور ان کے رابطے بڑے کمزور تھے۔ گزشتہ سال مَیں نے ان کو خاص طور پر کہا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے 6 ہزار سے زائد نو مبائعین سے رابطہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بڑے مضبوط احمدی ہیں۔
کینیا نے 240گاؤں کے 33ہزار 6سو نو مبائعین سے رابطے بحال کیے ہیں۔
ایتھوپیا میں بھی جاکر رابطے بحال کیے۔ 35تربیتی کلاسز یہاں منعقد کی گئیں۔ اور اس طرح 25 دیہات سے 7 ہزار 2سو نو مبائعین سے انہوں نے رابطے بحال کیے۔
بینن نے 51 دیہاتوں میں 26ہزار نئے رابطے قائم کیے۔ تنزانیہ نے 4ہزار6سو نو مبائعین سے رابطے کیے جو پہلے بالکل تعلق ختم ہو چکا تھا۔
جماعت لائبیریا نے دورانِ سال 3ہزار نو مبائعین سے رابطے قائم کیے۔
مالی میں 9دیہات کے ایک ہزار 5سو (افراد سے) نئے رابطے بحال ہوئے۔
بورکینا فاسو کے مبلغ محب اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کے ساتھ کایا (Kaya) شہر سے ڈیڑھ صد کلومیٹر دور جنگل میں واقع ایک گاؤں میں گئے۔ گاؤں کے سب لوگ ہمیں دیکھ کر جمع ہوگئے تو ہمیں خوشی ہوئی کہ اب خوب تبلیغ کا موقع ملے گا۔ لوگ جمع ہوئے ہیں تو چلو تبلیغ کریں گے۔ مگر جب ہم نے انہیں بتایا کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں اور امام مہدی کا پیغام لے کر آئے ہیں تو کہنے لگے کہ آج سے گیارہ سال پہلے مربی طارق محمود صاحب آئے تھے اور ہم نے پیغام قبول کر لیا تھا اور ہم تو احمدی ہیں۔ تم لوگ کہیں غائب ہو گئے تھے اور آئندہ تمہارے سے درخواست ہے کہ اپنے رابطے منقطع نہ کرنا۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے رابطہ قائم ہوا۔ جماعت قائم ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تربیت بحال ہوگئی۔ تو یہ بھی ان کے ایمان کی مضبوطی ہے کہ گیارہ سال تک وہاں کوئی احمدی مبلغ یا معلّم نہیں گیا لیکن وہ لوگ اس پیغام پر قائم رہے جو انہوں نے قبول کیا تھا۔
دورانِ سال جماعت کو عطا ہو نے والی نئی مساجد
اس سال جماعت کو عطا ہونے والی جو نئی مساجد ہیں ان کی مجموعی تعداد 299ہے۔ جن میں سے 169نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں ، 130 بنی بنائی ملی ہیں۔ اسی طرح امریکہ میں مختلف شہروں میں مساجد بن رہی ہیں۔
اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی مساجد کی طرف بڑی توجہ ہو گئی ہے اور ہر ملک میں مسجدیں بن رہی ہیں۔ اور اگر یہ مسجدیں اسی طرح بنتی رہیں تو یہی جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہو گا۔
انڈونیشیا میں بھی باوجود مخالفت کے ان کو 3مساجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی ہے۔
بنگلہ دیش میں 6مساجد کی تعمیر ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کا تو آپ ایم ٹی اے پر بھی دیکھتے ہیں جہاں ایک نظم کے clipمیں وہ دکھاتے ہیں کہ بے تحاشا مولوی ڈنڈے لے کر آرہے ہیں ، پتھر بھی مار رہے ہیں اور مسجدوں کے شیشے بھی توڑ دئیے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے وہاں کی جماعت کے ایمانوں میں مضبوطی بخشی ہوئی ہے اور وہ مسجدیں بناتے چلے جارہے ہیں۔
نائیجیریا میں بھی 28نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ اسی طرح ساؤتھ افریقہ کے ہمسایہ ملک سوازی لینڈ اور لیسوتھو میں جماعت کومسجد کی تعمیر کی توفیق ملی اور ایتھوپیا میں بھی۔ سیرا لیون میں 24نئی مساجد کا اضافہ ہوا۔ سینیگال میں تین مساجد کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح گیمبیا میں بھی۔ بہرحال مساجد کی تو اب یہ بے تحاشا لمبی لسٹ ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے مبلغ انچارج صداقت صاحب لکھتے ہیں کہ آج کل سوئٹزرلینڈ میں میناروں کی تعمیر کی بہت مخالفت ہورہی ہے۔ یورپ میں عمو ماً مسجد کے مینار سے یہ لوگ بڑا ڈرتے ہیں۔ اور دو بڑی سیاسی پارٹیاں تو خاص طور پربڑی مخالفت کر رہی ہیں۔ اور اس موضوع پر ریفرنڈم کروانے کا پروگرام ہے۔ میڈیا کے مختلف نمائندوں نے اپنے طور پر ہمسایوں سے اور اردگرد کے دکانداروں سے اور وہاں بالکل سامنے جو ٹرام چلتی ہے، اس کے سٹاپ پہ جو لوگ کھڑے تھے ان سے ایک سروے کیا۔ اسی طرح اس کے بالکل سامنے سڑک پہ ایک چرچ ہے، ان چرچ کے لوگوں سے پوچھا اور مختلف سوالات کیے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب نے متفقہ طور پر یہی کہا کہ ’’ہمیں اس مسجد سے اور اس کے مینارے سے کسی قسم کاکوئی مسئلہ نہیں اور اس مسجد میں آنے والے لوگ بہت ہی پُر امن ہیں کیوں کہ حقیقی اسلام کے علمبردار ہیں۔ ‘‘
اکبر احمد صاحب نائیجر سے لکھتے ہیں : بُوپُو (Boupo) نامی گاؤں میں ایک مسجد کی تعمیر شروع کی۔ جب مسجد کی چھت ڈالی جا چکی تھی تو وہاں کے ایک شریر مولوی نے (ان کو بھی اپنی روٹی کا خطرہ رہتا ہے) مسجد کی تعمیر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ زمین اس کی ہے اور عدالت کے حکم پر Stay Order مل گیا۔ مسجد روکنی پڑی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ اسی علاقہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو 4نئی مساجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور ان زمینوں کا کُل رقبہ جو مسجدوں کے لئے ہبہ ہوا ہے 47ہزار مربع میٹر سے اوپر ہے۔
مشن ہاؤسز۔ تبلیغی مراکز
مشن ہاؤسز میں بھی 186کا نیا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سالوں کو شامل کر کے 97نئے ممالک میں تبلیغی مراکز کی، مشن ہاؤسز کی کُل تعداد 1869ہو چکی ہے۔ اور اللہ کے فضل سے ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی جماعت اس میں سرِ فہرست ہے جہاں دورانِ سال 82 تبلیغی مراکز کا اضافہ ہوا ہے۔ اور ان کے تبلیغی مراکز کی تعداد 504ہو چکی ہے۔ اسی طرح بہت سے دوسرے ممالک ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشن ہاؤس اورنماز سینٹر بن رہے ہیں۔
رقیم پریس
رقیم پریس یہاں بھی ہے اور افریقن ممالک میں بھی اسی نام سے چل رہا ہے۔ 8ممالک میں یہ پریس اب قائم ہوچکا ہے اور یوکے کے پریس کی نگرانی میں چلتے ہیں۔ غانا ،نائیجیریا،تنزانیہ ،سیرالیون ،آئیوری کوسٹ ،کینیا،گیمبیا اوربورکینا فاسو۔ اس جگہ ابھی بن رہا ہے باقی جگہ شروع ہے۔ اور اللہ کے فضل سے جماعتی کتب اور لٹریچر شائع کر رہے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ’’لوگ بھی چھاپے خانوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان کے اغراض دنیوی اور ناپائیدار ہیں۔ برخلاف اس کے ہمارے معاملات دینی ہیں۔ اس واسطے یہ چھاپے خانے جو اس زمانہ کے عجائبات ہیں دراصل ہمارے ہی خادم ہیں ‘‘۔ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 366مطبوعہ انگلستان)۔
تو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ ہمارے چھاپہ خانے جو مختلف جگہ چل رہے ہیں اور بورکینا فاسو میں نیا شروع ہوا ہے۔ اس کا نام نورالاسلام پرنٹنگ پریس رکھاگیا ہے۔ وہاں کا معیار اتنا اعلیٰ ہے کہ بعض دوسری کمپنیوں نے پرائیویٹ طور پر بھی کام کروانا شروع کردیا ہے۔ ایئر فرانس (Air Frace) جو فرانس کی Airline کمپنی ہے اس کی کمپنی کے ڈائریکٹر نے جماعت کے نام ایک خط میں تحریر کیا کہ اگر بورکینافاسو میں اس معیار کی طباعت ہو سکتی ہے تو ہمیں آئندہ سے اپنے طباعت کے کاموں کے لئے پیرس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اب اللہ کے فضل سے وہ اپنے کام جماعت کے پریس سے کروا رہے ہیں اور اس سے پھر مزید رابطے بھی بڑھتے ہیں۔ التقویٰ اور Review Of Religions بھی فرنچ میں وہاں سے شائع ہورہا ہے۔
گھانا پرنٹنگ پریس کی نئی عمارت وہاں بن گئی ہے اور نئی مشینری لگ گئی ہے۔ گیمبیا میں پریس کام کر رہا ہے۔ سیرا لیون میں پریس ہے جیسا کہ میں نے بتایا۔ یونیسیف) (UNICEFنے وہاں سیرا لیون میں بچوں کی بہت ساری کتابیں ہمارے پریس سے چھپوائی ہیں۔ آئیوری کوسٹ کا پریس بھی ماشاء اللہ باوجود ملکی حالات کے بڑی عمدگی سے چل رہا ہے۔ ریویو آف ریلیجنز فرنچ میں وہاں بھی شائع ہوتا ہے۔
آبی جان کا ایک بڑا دلچسپ واقعہ ہے کہ ایک بڑے نجی پرنٹنگ پریس کے مالک جو عیسائی ہیں ، Mr. Lamtheirno ان کا نام ہے۔ (اگر میں صحیح پڑھ رہا ہوں۔ بہر حال۔) اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ہمارے پریس میں آئے۔ اس وقت ہمارے پریس میں کتاب Where did Jesus die?کا فرنچ ترجمہ چھپ رہا تھا۔ اس کا ابتدائی کام ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس مضمون پر سرسری نظر ڈالی اور پھر مسودہ کا مطالعہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور پورا پڑھا۔ پھر کہنے لگے آپ جو کاغذ استعمال کر رہے ہیں صرف اس کا خرچ دیں ، باقی سارا خرچ مَیں دیتا ہوں۔ اور اپنی خوشی سے یہ کہا کہ مَیں پانچ ہزار کی تعداد میں اپنی طرف سے یہ شائع کروانا چاہتا ہوں اور اپنے دوستوں میں ، عیسائیوں میں یہ بانٹنا چاہتا ہوں۔
نائیجیریا کے پریس میں بھی ترقی ہوئی ہے۔
تراجم قرآن کریم
شعبۂ تصنیف کے تحت دورانِ سال بورکینا فاسو کی مَوْرے زبان میں اور اسی طرح گیمبیا کی تین زبانوں وولف، فولا اور میڈینکا میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا ترجمہ چھپوانے کی توفیق دی ہے۔ اس طرح تراجم ِ قرآن کریم کی کل تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے 64 ہو گئی ہے۔
اور مَوْرے زبان میں سب سے پہلا ترجمۂ قرآن ہے۔ اس ترجمہ کو مکمل ہونے میں دس بارہ سال کا عرصہ لگا ہے۔ بورکینا فاسو کے ایک بڑے پڑھے لکھے ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل ہیں ، انہوں نے اس میں بڑی معاونت کی ہے۔ اسی طرح اس کی نظرثانی کرنے والوں میں وِدْراگوکریم صاحب، الحاج ودراگو جبریل صاحب، زَوْنُوسلَف صاحب، سَوْنڈو سعیدو صاحب، عبدالرزاق صاحب اور الحاج قاسم سانفو صاحب شامل ہیں۔ ان سب نے اس ترجمہ میں بڑا کام کیا ہے۔
انڈونیشیا کی زبان جاوانیز (Javanese) میں پہلے دس پاروں کا ترجمہ پہلی جلد کے طور پر اورتھائی لینڈ کی زبان تھائی میں پہلے بیس پاروں کا ترجمہ دو جلدوں میں چھپ چکا ہے۔ میانمار (Myanmar) کی زبان برمی (Burmese) میں پہلے دس پاروں کا ترجمہ پہلی جلد کے طور پر چھپ چکا ہے۔
اس کے علاوہ 18زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ مختلف مراحل سے گزر رہا ہے۔ بعض پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔عربی متن وغیرہ paste ہو رہے ہیں۔ بہرحال انشاء اللہ جلد شائع ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں 11 مختلف تراجم قرآن زیرِ ترجمہ ہیں۔
دورانِ سال روسی (Russian)ترجمہ قرآن بھی ازسرِ نو چھپوایا گیا تھا۔ یہ پہلے بھی چھاپا گیا تھا لیکن اب اس کے ترجمہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ترجمہ قرآن سے بھی کچھ مدد لی گئی ہے۔ اور ہمارے روسی معلم رستم حماد ولی صاحب اور راویل بخاری صاحب اس میں راناخالد صاحب مبلغ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
دیگرلٹریچر کی اشاعت
اسی طرح مختلف زبانوں میں لٹریچر اور فولڈر شائع کیے گئے۔
رسالہ الوصیت کا نارویجین اور برمی زبان میں ترجمہ کر کے شائع کیا گیا۔ رسالہ الوصیت کے اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے 14 زبانوں میں تراجم طبع ہو چکے ہیں۔
’شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں ‘ جو خطبات اور تقاریر پر مشتمل میری کتاب تھی۔ اس کے عربی، انگریزی، فرنچ اور جرمن میں ترجمے طبع ہو چکے ہیں۔
ڈینش اخبارات کی جو بیہودہ گوئی تھی یا خاکے شائع کیے تھے اس پہ بھی میرے خطبات تھے۔ ان کے بھی عربی ،فرانسیسی اور فارسی میں ترجمے کیے گئے ہیں۔
اور دیگر کتابیں جو شائع ہوئی ہیں ان میں Essence of Islam جلد نمبر 5 ہے۔ یہ اس کا ترجمہ کیا گیا ہے جو ’’حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اپنی تحریرات کی رُو سے‘‘ حضرت میر داؤد احمد صاحب نے مرتّب کی تھی۔ اس جلد میں معجزات، نشانات اور پیشگوئیوں وغیرہ کے بارہ میں اقتباسات دئیے گئے ہیں۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ ڈاکٹر سلیم الرحمن صاحب نے کیا ہے اور چوہدری محمد علی صاحب کی زیرِ نگرانی اس کی نظرِ ثانی کی گئی ہے اور اب شائع ہو گئی ہے۔
’’لیکچر سیالکوٹ‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس لیکچر کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے جو نومبر 1904ء کو سیالکوٹ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک مجمع میں پڑھا گیا تھا۔ اس لیکچر میں اسلام کا دوسرے مذاہب سے موازنہ کیا گیا تھا۔
’’ضرورۃ الامام ‘‘حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی کتاب ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ The Need for the Imam شائع ہو گیا ہے۔
پھر ’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘ کا انگریزی ترجمہ طبع ہو گیا ہے۔ ’’معیار المذاہب‘‘کا انگریزی ترجمہ طبع ہو گیا ہے۔ ’’برکات الدعا ‘‘کا انگریزی ترجمہ طبع ہو گیا ہے۔ A Message of Peace ’’پیغامِ صلح‘‘ کا ازسرِ نو ترجمہ کیا گیا ہے۔ Islam’s response to contemporary issuesکا ایڈیشن بڑا خوبصورت شائع کیا گیا ہے۔ یہ ساری کتابیں پڑی ہیں جو اس سال شائع ہوئی ہیں۔
قرطاسِ ابیض جو شائع کیا تھا اس میں جماعت احمدیہ پر لگائے گئے بے بنیادالزامات کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو خطبات دیئے تھے ان کا انگریزی ترجمہ کروایا جا رہا ہے۔ کچھ چھپ چکے ہیں۔ مزید 4خطبات کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ جن میں ایک ہے :
Ahmadiyya Muslim Jama’at and the Muslims of India.
Ahmadiyya Muslim Jama’at and independence of Kashmir & Palestine.
The Founder of the Ahmadiyya Muslim Jama’at.
اور Their Ulama۔
پھر اردو میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ جو تھی اس کا انگریزی ترجمہ “Our God” کیا گیا ہے۔ گو اتنا معیاری نہیں لیکن شائع کر دیا گیا ہے۔ Revise ہو رہا ہے۔ جب ٹھیک ہو جائے گا تو دوبارہ بھی شائع ہو جائے گا، انشاء اللہ۔ اس میں ہستی باری تعالیٰ کے حق میں اور دہریت کے ردّ میں عام فہم دلائل دئیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کے لئے بڑی مفید چیز ہے۔
پھر سلمان رشدی کی جو کتاب Satanic verses تھی اس کے جواب میں Rushdi haunted by his unholy ghosts ارشد احمدی صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ہدایات دے کر لکھوائی تھی اس میں ایک chapter کا اضافہ کرکے شائع کیا گیا ہے۔
پھر غیر مسلموں کی طرف سے اعتراضات پر مشتمل جو مختلف کتابیں لکھی گئی ہیں ، ارشاد مانجی بھی ان میں شامل ہے کہ نعوذباللہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، اس کا جواب انصر رضا صاحب نے لکھا ہے: Manji – Another Pawn Advanced۔ اسی طرح باقی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔
Revelation, Rationality, Knowledge and Truth جو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتاب تھی اس کا اردو ترجمہ ’’الہام ،عقل ،علم اور سچائی ‘‘کے نام سے شائع ہو گیا ہے۔ یہ بھی بڑی پڑھنے والی کتاب ہے۔
’’ہمارا خدا‘‘ اردو میں بھی out of print تھی اس کو دوبارہ شائع کروایا گیا ہے۔
پھر حضرت مصلح موعودؓ کے تحریک ِجدید کی بابت جو ارشادات ہیں۔ ’’تحریکِ جدید ایک الٰہی تحریک ‘‘ اس کو بھی شائع کرنے کا پروگرام ہے۔ جلد اول شائع ہو گئی ہے۔ بقیہ جلد یں شائع ہو جائیں گی۔
پھر اسی طرح طاہر فاؤنڈیشن نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے خطبات اور خطابات شائع کیے ہیں۔
اسی طرح فضلِ عمر فاؤنڈیشن نے ’’نظام ِ نو ‘‘، ’’ہستی باری تعالیٰ ‘‘ ، ’’اسوۂ حسنہ‘‘، ’’خلافتِ حقہ اسلامیہ‘‘ اور متعدد دوسری کتب انوار العلوم کی جلدمیں شائع کی ہیں۔ خطباتِ محمود کی سترھویں جلد اور اٹھارھویں جلد جو 1936ء اور 1937ء کے خطبات پر مشتمل ہیں۔
سلمان رُشدی کے بارہ میں ارشد احمدی صاحب کی جو کتاب ہے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع کیا گیا ہے۔ اور یہ کتا ب چھپ گئی ہے۔
پھر چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا’ ایک عزیز کے نام خط‘ ہے۔ یہ بھی اچھی کتاب ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے خطبات شائع کیے گئے ہیں۔
شرح صحیح بخاری شریف کی تیسری جلد بھی نظارت اشاعت کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔ نیز قرآن کریم کی سورتوں کا تعارف بھی علیحدہ طور پر طبع کروایا گیا ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے اردوترجمہ قرآن سے لیا گیا تھا۔
ہندی کتب میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام ،نبیوں کا سردار ،ہمارامؤقف،درثمین، سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسلوبِ جہاد شائع ہوئی ہیں۔
فرانسیسی کتب میں ’’شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں ‘‘ یہ (جیسا کہ پہلے بتایا) شائع ہو چکی ہے۔ نماز کی کتاب ’’صلوٰۃ ‘‘ کا فرنچ ڈیسک نے ترجمہ کیا ہے۔
رشید صاحب کی لکھی ہوئی The true story of Jesus چلڈرن بک کمیٹی کی طرف سے فرنچ میں شائع کی گئی ہے۔
راویل بخاری صاحب کی تقریر تھی Blessings of Khilafat اس کا بھی فرنچ ترجمہ طبع کیا گیا ہے۔
جرمن زبان میں بھی بچوں کی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ اور میرے مختلف خطبات اوربعض تقریروں سے اقتباس لے کر بھی شائع کیے گئے ہیں۔
تفسیر ِ کبیر جلد نمبر 7 کے عربی ترجمہ کے علاوہ جو کتب عربی زبان میں شائع کی گئی ہیں ان میں یہ (کتب شامل) ہیں :
’’حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول ‘‘۔ یہ حضرت چودھری ظفراللہ خان صاحب نے حیاتِ نور کے خلاصہ کے طور پر تحریر فرمائی تھی۔ اس کا ترجمہ بھی طبع کروایا گیا ہے۔ یہ مصطفی ثابت صاحب نے کیا ہے۔ ’’ہو میو پیتھی ‘‘جو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی کتاب ہے اس کا عربی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ ’’سرّ الخلافۃ ‘‘ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی عربی کی کتاب ہے یہ شائع کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈپٹی عبداللہ آتھم کی وفات پر جو 27 جولائی 1896ء کو ہوئی تھی، کتاب ’’انجامِ آتھم‘‘ تحریر فرمائی تھی۔ اس کا ایک عربی حصہ بھی تھا، وہ ’’مکتوب احمد‘‘ کے نام سے طبع کروایا گیا ہے۔
پھر چینی کتب شائع کی گئی ہیں۔ انڈونیشین نے کچھ تھوڑا سا اپنا لٹریچر شائع کیاہے۔ اسی طرح اور مختلف زبانوں میں لٹریچر شائع ہوا ہے۔
اسلامی اصول کی فلاسفی کے بارہ میں بعض علماء کے تبصرے
مراکش کے ایک ڈاکٹر عبدو صاحب ہیں وہ امیر صاحب کبابیر کے نام لکھتے ہیں کہ ’’مجھے آپ کی طرف سے مرسلہ کتابیں ملی ہیں۔ مَیں نے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ ساری کی ساری پڑھ لی ہے۔ یہ بہت ہی گہری ،غیر معمولی فائدہ بخش اور نہایت اعلیٰ پایہ کی کتاب ہے۔ بلکہ علم المقاصد کے موضوع پر میں نے اسے نہایت خوبصورت اور عظیم ترین پایا ہے۔ کیونکہ اس میں مؤلّف نے شرعی احکام کے مقاصد اور ان کی علّت کے بارہ میں بعض ایسے نکات بیان فرمائے ہیں جو صرف انہی کا حصہ ہیں اور یہ کتاب مجبور کرتی ہے کہ میں مؤلّف کا شمار ان عظیم علماء میں کروں جنہوں نے شریعتِ اسلام کو ایک ملہم من اللہ کی نظر سے دیکھا ہے ،نہ کہ ایک مقلّد کی نظر سے۔ اور کہتے ہیں کہ ’’وہ ایک عارف باللہ کے دل کے ساتھ شریعت اسلامیہ کی گہرائیوں تک پہنچے ہیں نہ کہ ایک ایسے دل کے ساتھ جو شریعت کے مقاصد کو سمجھنے سے عاری ہو۔ میں آپ سے یہ سچ کہنے سے نہیں رُک سکتا کہ اگر احکامِ شریعت کے فن سے بے بہرہ لوگوں کے فتنہ کا ڈر نہ ہو، یعنی ان لوگوں کے فتنہ سے جو اس شخص کی قدرو منزلت سے بے خبر ہیں تومیں اس کتاب کو یو نیورسٹی میں مقاصدِ شریعہ کے طلباء کے نصاب کے طور پر مقرر کردوں ‘‘۔
مالی کے ایک معلم لکھتے ہیں کہ مالی کے ایک دوست عربی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے جماعت کا لٹریچر لینے سے انکار کردیا۔ ایک دن خاکسار ان کے مدرسہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ چھوڑ آیا۔ چند دن کے بعد میں دوبارہ مدرسہ گیا تو اس نے کہا کہ اس کتاب کے ایک حصہ نے مجھے احمدیت کی طرف مائل کر دیا ہے۔ پھر اس نے کئی اور کتب مطالعہ کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہو گیا۔
ڈینش کارٹونوں پہ جو میرے خطبات تھے اس کے بارہ میں مبلغ نائیجیریا لکھتے ہیں کہ اس کا انگریزی ترجمہ دوستوں کو پڑھنے کے لئے دیا تو ایک دوست ڈاکٹر مشہود کوجب کتاب ملی تو اس نے (اسے) پڑھنا شروع کر دیا۔ (چھوٹی سی کتاب ہے پانچ خطبات ہیں۔) اور کہتے ہیں کہ ختم کر کے مجھے فون کیا کہ مَیں نے ساری کتاب پڑھ لی ہے۔ ان پانچ خطبات نے گہرا اثر چھوڑاہے۔ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایسی کتاب مَیں نے پہلے نہیں دیکھی۔ جو قرآن ،حدیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ ہر مسلمان کو یہ کتاب پڑھنی چاہئے اور ہر غیر مسلم تک یہ کتاب پہنچنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کتابیں مانگیں کہ میں دوسروں کو دوں گا اور الورین (Ilorin) کا ایک مقامی اخبار ہے، اس میں شائع کروانے کی کوشش کروں گا۔ نائیجیریا کے اخبار New Age نے قسط وار اسے شائع بھی کرنا شروع کردیا اور تین قسطیں شائع بھی ہو چکی ہیں۔
نمائشیں اور بُک فیئرز
نمائشو ں کے ذریعہ سے، بُک سٹالز کے ذریعہ سے لٹریچر اور قرآن کریم کی تقسیم ہوئی۔ 273نمائشوں کے ذریعہ 3لاکھ سے زائد لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔ 2ہزار 161 بُک سٹالز اور 55بُک فیئرز میں شمولیت کے ذریعہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد تک پیغام پہنچایا گیا۔ دنیا کی آبادی کے لحاظ سے گو کہ یہ بہت تھوڑا ہے لیکن بہر حال آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا پیغام مختلف ذریعوں سے پہنچ رہاہے۔
نسیم باجوہ صاحب کہتے ہیں کہ یہاں Message of Peace کے نام سے جو میرا ایک لیکچر تھا۔ بیت الفتوح میں مہمانوں کو بلایا تھا اور وہاں وہ خطاب کیا تھا۔ ایک پادری نے اسے پڑھا اور اس قدر متأثر ہواکہ اس نے مجھے تحریراً اطلاع دی کہ اس سے متأثر ہو کر مَیں نے کالج کی اسمبلی کے لیے ایک لیکچر تیار کیا ہے جس میں طلباء کو بتایا ہے کہ ایک وہ اسلام ہے جس کا تصور میڈیا کی خبروں سے ابھرتا ہے جو بہت خوفناک اور قابلِ نفرت ہے۔ لیکن ایک یہ اسلام ہے جو محبت اور امن اور دوستی کا پیغام دیتا ہے۔ میرا جو خطاب تھا اس کے فقرے اس نے اس لیکچر میں لفظ بہ لفظ نقل کیے ہیں اور وہی پڑھ کے سنا دئیے اور یہ مشرقی ساحلِ سمندر کی طرف خالصۃً انگریزوں کا علاقہ ہے۔ اسی طرح Hull یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے ایک نمائش دیکھ کر مجھے لکھا کہ آپ کی نمائش دیکھ کر بہت متأثر ہوئی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ آپ ہماری Inter-Faithمیٹنگ میں آکر اسلام اور امن کے موضوع پر خطاب کریں اور سامعین کے سوالات کے جواب دیں۔
نسیم باجوہ صاحب پھر لکھتے ہیں کہ سکول کی ایک ٹیچر ہماری نمائش دیکھ کر اس قدر متأثر ہوئی کہ اب تک تین دفعہ اپنے سکول میں ہمیں لیکچر کے لئے بُلا چکی ہے۔
ایک انجینئر Wale Bajomoنے کہا کہ جماعت احمدیہ بہترین جماعت ہے۔ میری خواہش ہے کہ باقی مسلمان جماعتیں بھی جماعت احمدیہ کے نقشِ قدم پر چلیں۔
اسی طرح اَور بہت سارے ہیں۔ ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’میں نے جماعتی کتب اور نمائش دیکھی۔ گو سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لیکن جماعت احمدیہ نے روحانی اور علمی طور پر دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرنے کا جو کام تھا وہ جماعت احمدیہ نے ہی کرنا تھا اور مسیح و مہدی کے ذریعہ ہی ہونا تھا۔
ڈیسکس(Desks)
اسی طرح یہاں جماعت کے مختلف ڈیسک، عربی ڈیسک اور بنگلہ دیشی ڈیسک، فرنچ ڈیسک اور چینی ڈیسک ہے۔ یہ مختلف کتابوں کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ،خطبات کے ترجمے بھی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف مجالسِ سوال و جواب اور تقریریں بھی ترجمہ ہو رہی ہیں۔
ایم ٹی اے(MTA) انٹرنیشنل
ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے 14ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے 114مرد اور 42خواتین 24گھنٹے خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
اور اسی سال ایم ٹی اے 3العربیۃ کا آغاز کیا گیا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے چوبیس گھنٹے عربی پروگراموں پر مشتمل ہے۔ پہلے اس کی بڑی مخالفت ہوئی تھی لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری شرائط پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔ پہلے بھی مَیں اس کا ذکر کر چکا ہوں۔ انٹر نیٹ پر بھی ایم ٹی اے کے دوسرے آڈیوچینل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس سال انگریزی آڈیو چینل کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ انگریزی میں بھی اب اس کی نشریات دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں۔ جہاں جہاں پہلے سگنل نہیں آتے تھے مثلاً ماریشس کا ایک دور دراز کا علاقہ روڈرگ (Rodrigues) جزیرہ ہے۔ امیر صاحب ماریشس نے لکھا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں بھی ایم ٹی اے کا سگنل آنا شروع ہو گیا ہے۔
مالی سے جعفر بُوآرے صاحب بیان کرتے ہیں کہ جماعت Zeia میں Solar systemکے ذریعہ سے ایم ٹی اے کی سہولت میسر ہے۔ یہ سولر سسٹم بھی ہمارے احمدی انجینئرز نے افریقہ میں مختلف جگہوں پر لگائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی جزا دے۔ اب تمام لوگ خطبات سنتے ہیں ، بچوں کی کلاسیں دیکھتے ہیں ، لقاء مع العرب، الحوارالمباشر باقاعد گی سے دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’پہلے بچے نیشنل ٹی وی پر فلمیں دیکھتے تھے۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کی بدولت ہر روز مغرب کے بعد ایم ٹی اے دیکھتے ہیں اور بچوں کی کلاسز جو ہیں ان کو دیکھ کر لڑکیوں نے سر ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔ ‘‘
ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بیعتیں
ہالینڈ میں 7افراد پر مشتمل ایک مراکش کی فیملی نے ایم ٹی اے دیکھ کر بیعت کی۔
ٍ ایک ایرانی فیملی نے سویڈن میں ایم ٹی اے دیکھا تو بہت حیران ہوئے اور کہا کہ باقاعدگی سے بچوں کی کلاس ہم دیکھتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بچوں کی کلاس بعض لو گوں کو بڑی اچھی لگتی ہے۔ ایران سے ایک صاحب آئے تھے وہ مجھے بتا رہے تھے کہ ان کا ایک ایرانی دوست ہے وہ کہتا ہے کہ ’’ہم بچوں کی کلاس دیکھتے ہیں اور ہمیں جو چیز اس میں عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ وہاں جو مولانا صاحب بچوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں وہ ہنستے ہیں۔ اور ہمارے مولوی تو ہنستے ہی نہیں۔ ‘‘
پھر اسی طرح فرانس کا ایک واقعہ امیر صاحب نے لکھا ہے کہ امام حبیب حیدرا صاحب کے استاد امام سعد نے اپنے گھر دعوت پر بلایا اور امام یحییٰ صاحب وہاں آئے ہوئے تھے۔ سب سے حیرانی کی بات یہ تھی کہ ان کے گھر ایم ٹی اے لگا ہوا تھا۔ اور ان کے بچے اور بیوی دیکھ رہے تھے۔ امام صاحب نے کہا کہ میرے بچے اور بیوی ایم ٹی اے بڑے شوق سے دیکھتے ہیں خاص طور پر بچوں کی جو کلاس ہے اور اسی طرح خطبات بھی بڑی باقاعدگی سے سنتے ہیں۔
ایم ٹی اے تھری کا عیسائیت کے جواب میں جو follow up تھا (اس سے) اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ اس کا ردّ کرے اور اب عیسائی وہاں سے میدان چھوڑ کے دوڑگئے ہیں۔
الحوار المباشر کا پروگرام بڑے شوق سے لوگ دیکھتے ہیں۔ ابراہیم خلیل صاحب نے لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ میں اس قدر اہتمام کرتا ہوں کہ ہر مہینہ کی پہلی جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کے دن اپنے کام چھوڑ کر اس شاندار پروگرام کا بڑی دلچسپی سے مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔
پھر یوسف دغمش صاحب سیریا سے لکھتے ہیں مَیں امّت مسلمہ کی دینی حالت کو دیکھ کر مایوس ہو چکا تھا۔ اور یہ بھی سنا کرتا تھا کہ امتِ محمدیہ کو بچانے کے لئے ایک مصلح موعود آئے گا۔ چنانچہ ایک دن اچانک ٹیلی ویژن پر جماعت احمدیہ کا چینل نظر آیا۔ اس میں الحوار المباشر چل رہا تھا۔ اس وقت سے مَیں اس چینل کو دیکھ رہا ہوں یہاں تک کہ مجھے پوری تسلّی ہو گئی ہے کہ یہی جماعت حق پر ہے اور مَیں اس جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ مجھے بتائیں کہ مَیں کیا کروں۔
عبدالوہاب محمد حسین صاحب مصر سے لکھتے ہیں کہ لمبے انتظار کے بعد اس چینل کے شروع ہونے سے ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے اور آپ جیسے لوگ بکثرت پیدا کرے۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے نجات عطا فرمائی ہے جو گمراہی اور ضلالت سے بھرپور نت نئے حملے کر رہے تھے۔ اللہ آپ کو عزت دے اور آپ کے مخالفین کے مقابل پر وہ خودآپ کی مدد فرمائے۔ خصوصاً پادری زکریا پطرس کے خطرناک حملے کے بالمقابل جس کا آپ نے خاص طور پر بڑی ہمت اور قوت اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
عبدالوہاب صاحب مصر سے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ خدا کی قسم آپ لوگ خدا کے وہ مخلص سپاہی ہیں جو خدا کی خاطرکسی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ ہمارے علماء آپ لوگوں کو دین کی حمایت میں پادری زکریا جیسے خطرناک اژدہے اور مسیح الدجال کا مقابلہ کر تے دیکھ رہے ہیں مگر وہ خود اس فاجر کو جواب دینے سے قاصر ہیں اور بے جا بہانے بناتے ہیں۔ ان پر افسوس ہے۔ کاش کہ وہ لوگ اسلام کی حمایت میں آپ کے نقشِ قدم پر چلتے اور آپ کی تکفیر میں وقت ضائع کرنے کی بجائے دشمن کا مقابلہ کرتے۔ خاص طور پر جب کہ آپ لوگ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے قائل ہیں اورحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی تعلیم کو مانتے ہیں۔
مکرم سامرا سلامبولی صاحب لکھتے ہیں کہ عربی چینل شروع ہونے کے ساتھ دنیا کے مشرق اور مغرب میں بسنے والے مسلمانوں کو ایک فتحِ مبین اور عظیم الشان نصرت نصیب ہوئی ہے۔ احمدیت جس کی نہایت غلط تصویر بعض حکمرانوں کے تنخواہ دار فقہاء ایک عرصہ سے پیش کرتے چلے آرہے ہیں اسلام دشمن چینل کے منہ پر ایساپتھر بن گئی ہے جسے نہ وہ نگل سکتا ہے نہ اگل سکتا ہے۔ آپ نے وہ کام کر دکھایا ہے جس کے کرنے سے بیسیوں مفکرین اور سینکڑوں کتب اور تحقیقات قاصررہیں۔ آپ ہر گھر میں داخل ہو چکے ہیں اور ہر فیملی کاایک فرد بن گئے ہیں۔ اور آپ نے ہر کاذب اور مفتری کی آنکھ پھوڑدی ہے۔ آپ نے مسلمانوں کی امیدیں بحال کی ہیں اور قرآنِ کریم کے ساتھ اپنے محکم تعلق کی بنا پر ایک پُر اعتماد دینی و علمی محاذ قائم کیا ہے۔
پھر ابن عمر صاحب الجزائر سے لکھتے ہیں آپ کا پروگرام دیکھنے اور آپ کی بعض کتب پڑھنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے میری راہنمائی فرمائی ہے اور اب میں بیعت کرکے جماعت احمدیہ میں شامل ہوناچاہتا ہوں۔
پھر بکر حسین صاحب العموش اردن سے کہتے ہیں کہ میری تجویز ہے کہ اردن میں بھی جماعت احمدیہ کے مبلغین ہونے چاہئیں۔ غالباً وہاں اس وقت مبلغ نہیں ہیں۔ اگر موجود ہیں تو مجھے اطلاع فرمائیں۔ بصورتِ دیگر اگر آپ پسند فرمائیں تو میں اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کی طرف سے بطور مبلغ پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کیوں کہ میں آپ کے پروگرام باقاعدہ دیکھتا ہوں اور آپ کے نظریات اور علمِ کلام پر کافی اطلاع پائی ہے۔
پھر عراق سے مکرم حسین محمد حسن محمد النعیمی صاحب لکھتے ہیں کہ میں 40سالہ سنّی عراقی مسلمان ہوں۔ گو مجھے اس قسم کے فرقہ وارانہ ناموں سے نفرت ہے۔ 20سال سے حق کی تلاش میں لگاہوا ہوں اور اب آپ کے چینل کو دیکھ کر تسکین ِ قلب حاصل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک چینل کو مجھ جیسوں کے لیے علم وہدایت کا مینار بنائے۔ مَیں بہت سے مسلمانوں سے بعض فقہی اور عقائدی امور میں اختلاف رکھتا ہوں حتّیٰ کہ بعض امورِ عبادت میں بھی ان سے اختلاف ہے۔ لہٰذا آج کل مساجد میں نہیں جاتا بلکہ گھر میں ہی نماز پڑھتا ہوں۔ اب آپ کے چینل کو دیکھ کر مصطفی ثابت صاحب اور ہانی طاہر صاحب کے پروگراموں کو سنا ہے تو اب وہ چیز مل گئی ہے جس کی مجھے تلاش تھی اور دل کو تسلّی ہوئی ہے۔ امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے بھی اس جماعت میں قبول فرمائیں گے۔ مَیں اس جماعت کی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے خدمت کروں گا۔ ازراہِ کرم مجھے جماعت کے بارہ میں مزید معلومات اور کتب مہیا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ مرزا غلام احمد صاحب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور سب کو اسلام کی صحیح اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔
پھر ابو خمیس صاحب لکھتے ہیں کہ آپ کے دینی فہم وفراست ،طریقِ تبلیغ ،غیر اسلامی کتب پر طرزِ تنقید اور ان میں تحریف ثابت کرنے کا طریق اوراسلام کی تبلیغ کا انداز بالکل منفرد ہے۔ میرے دینی بھائیو! مَیں بھی اس جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔
اس طرح کے بے شمار خطوط ہیں اگر پڑھنے لگوں تو اس وقت میں ممکن نہیں۔
عبدالمنعم الاسلامبولی صاحب مصر سے کہتے ہیں کہ میں جامعۃ الازھر میں اسلامی شریعت کا طالب علم ہوں اور یہاں احمدی (قادیانی) فرقہ کے بارہ میں بھیstudyکر رہا ہوں جسے ہمارے اساتذہ گمراہ فرقہ کہتے ہیں۔ اس کے بارہ میں کئی کتب کا مطالعہ کیا ہے مگر ابھی تک تسلّی نہیں ہوئی کیوں کہ ایک طرف یہ سب کچھ پڑھتا ہوں مگر دوسری طرف اسی جماعت کو ایم ٹی اے کے ذریعہ اسلام کا دفاع کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ کیا یہ مدافعین ِ اسلام حقیقتاً جماعت احمدیہ کے ہی افراد ہیں۔
آگے انہوں نے اپنے کچھ سوالات ارسال کیے تھے ان کے جواب عربی سیکشن دے دے گا۔
محمد عبدالرؤف محمد ناظم بلدیہ العریش مصر نے اپنی بچی کی ایک خواب لکھی ہے کہ میری بیٹی نے ایک روز ایک مولوی کو احمدیوں کو کافر کہتے ہوئے سنا باوجود اس کے کہ وہ کلمہ طیبہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت اور دیگر انبیاء پر بھی ایمان لا تے ہیں۔ اور بعث بعد الموت اور جنت اور دوزخ کے بھی قائل ہیں۔ چنانچہ مولوی کے فتویٰ پر میری بیٹی کو بہت تعجب ہوا۔ میری بیٹی نے پروگرام الحوار المباشر دیکھنا شروع کیا جو اسے بہت پسند آیا اور اسے یقین ہو گیا کہ یہ لوگ حق پر ہیں۔ اور میری بیٹی رورو کر دعائیں کرتی تھی کہ اے اللہ! مجھے حق دکھا دے۔ یہ لوگ اس طرح اسلام کا دفاع کرتے ہیں اور ان کی قرآن کی تفسیر عقل اور منطق کے عین مطابق اور حکمت اور سادگی سے پُر ہے۔ اسی حالت میں دعا کرتے تقریباً دس پندرہ دن گزر گئے۔ میں اس سے پوچھا کرتا تھا کہ ان کے بارہ میں اگر تمہیں کوئی خواب آئی ہے تو بتاؤ۔ وہ یہی کہا کرتی تھی کہ میرے دل میں ان کے لیے بہت محبت ہے۔ ایک روز جبکہ مَیں ایک احمدی دوست سے قاہرہ میں ملنے جارہا تھا کہ میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ میں نے جماعت کے بارہ میں ایک خواب دیکھی ہے۔ اور مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میری بیٹی جھوٹ نہیں بولتی۔ اُس نے کہا کہ اس نے گزشتہ تمام رات دعاؤں میں گزاری کہ اے اللہ تعالیٰ مجھ پر حقیقت آشکار کر دے۔ پھر نمازِ فجر کے بعد جب سوئی تو خواب میں دیکھا کہ مَیں دریا میں ڈوب رہی ہوں۔ اسی اثناء میں کچھ کشتی سواروں کو اپنی جانب آتے دیکھا اور دعا کی کہ اے اللہ !اگر یہ جماعت احمدیہ سچّی ہے تو مجھے ڈوبنے سے بچا لے۔ پھر مَیں پانی کے اوپر ٹھہر گئی اور میرے نیچے سے پانی حرکت کرتا ہوا مجھے کشتی کے پاس لے گیا اور مَیں کشتی میں سوار ہوگئی۔ تو میں نے بچی سے کہا کہ الحمدللہ۔ ان لوگوں نے بہت تکلیف اٹھائی ہے۔ اپنے عقائد کی وجہ سے انہیں گالیاں بھی دی گئی ہیں لیکن صرف انہی کو گالیاں نہیں دی گئیں بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی گالیاں دی گئی ہیں۔
عبد الوہاب صاحب کا مصر سے ایک لمبا پیغام ہے لیکن ایک فقرہ پڑھ دیتا ہوں کہ میرے بھائیو!اور روئے زمین پر سب سے اچھی اور خوبصورت گفتگو اور پروگرام چلانے والو!اللہ آپ کو لمبی عمر دے اور آپ کی راہ نمائی فرمائے اور دشمنوں کے مقابلہ پر آپ کی نصرت فرمائے۔
ایک بدیع ربع صاحب عراق سے لکھتے ہیں کہ ہم عراق کا ایک گروہ ہیں۔ ایم ٹی اے دیکھنے سے قبل آپ کے بارہ میں یا آپ کی جماعت کے بارہ میں کچھ معلوم نہ تھا۔ پھر ہم اس چینل کی طرف کھنچے چلے گئے۔ اس سے قبل ہم نے کبھی ایسی باتیں نہ سنی تھیں۔ بہت سے عراقیوں نے ہماری مخالفت کی اور ہمیں مرتد اور کافر قرار دیا۔ اب ہمارے پاس نہ گھر ہے، نہ خوراک۔ حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے والے ہم لوگوں کی تعداد 110 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اللہ میاں اب خود ہی وہاں جماعت بنا رہا ہے۔
عبدالغنی مہدی صاحب یمن سے لکھتے ہیں مجھے ایم ٹی اے اور احمدیت سے بہت لگاؤ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت ہے۔ آپ کی جماعت کا مزید تعارف حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
لیبیا سے ایک شخص نے فون کرکے کہا کہ میں ایم ٹی اے 3کے اجراء پربہت خوش ہوں اور مَیں اس چینل میں چندہ دینا چاہتا ہوں۔کافی لمبا پیغام ہے لیکن مَیں نے مختصر ذکر کر دیا ہے۔
تمیم ابو دقّہ صاحب اردن سے لکھتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل اردن کی دو مسجدوں کے اماموں نے جماعت سے رابطہ کیا۔ ان میں سے ایک امام صاحب کی ریڑھ کی ہڈی کے کچھ مہرے ہل گئے تھے۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا تھا۔ وہ چل پھر نہ سکتے تھے۔ سارا دن چارپائی پر لیٹے ٹی وی دیکھتے رہتے تھے یا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ اتفاق سے انہیں ہمارا چینل مل گیا جس کے پروگرام سے یہ بہت متاثر ہوئے۔ استخارہ کیا اور خدا تعالیٰ سے یہ علامت مانگی کہ اگر یہ جماعت سچی ہے تو انہیں کامل شفا مل جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب وہ آسانی سے چل پھر سکتے ہیں اور انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے انہوں نے جماعت سے رابطہ کر کے کتابیں بھی لی ہیں۔ آخرکار اب بیعت کر لی۔ اور اب آخری جمعہ کے خطبہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عربی کتاب حمامۃ البشریٰ کا کچھ حصہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا ہے۔
تمیم صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اردن کے ہی ایک مولوی صاحب کو اتفاق سے ہمارا چینل مل گیا بہت پسند آیا اور انہوں نے خطباتِ جمعہ میں جماعتی عقائد خصوصاً وفاتِ مسیح کا مسئلہ بیان کرنا شروع کر دیا اور اپنے کچھ عزیزوں سے جماعتی عقائد سے پسندیدگی کا اظہار بھی کر دیا۔ اس وجہ سے ان کے خلاف محاذکھڑا ہو گیا اور ان کو اس مسجد کی امامت سے برطرف کر دیا گیا جو انہوں نے خود بنائی تھی۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں ،جواب طلبی کی گئی۔ کیونکہ اس وقت تک انہوں نے بیعت نہ کی تھی اس لئے انہوں نے احمدی ہونے سے انکار کردیا۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے بیعت کر لی اور حق قبول کر لیا اوراس پر بڑے خوش ہیں۔
تمیم صاحب نے لکھا ہے۔ ایک اور شخص نے جو ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں اردن میں جماعت سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بیس سال قبل جب کہ ان کی عمر 28 سال تھی ان کو پولیس کے وفد کے ساتھ حج کی سعادت ملی۔ وہاں انہوں نے ایک خواب دیکھی جو ابھی تک ان کے دل پر نقش ہے اور بھولی نہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ میں اس حجرہ میں ہوں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ہے۔ مَیں قبر سے غلاف اٹھا کراندر دیکھنا چاہتا ہوں کہ اچانک قدموں کی طرف سے قبر کھلتی ہے اور میں اندر چلا جاتا ہوں۔ اندر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں کہ آپ سو رہے ہیں۔ اسی طرح مَیں نے ایک شخص کے ساتھ کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پاس کچھ برتن ہیں۔ وہ مجھے تعجب سے دیکھتے ہیں اور ان کا انچارج مجھے کہتا ہے کہ تم یہاں کیا کر رہے تھے؟ (یہ بیس سال پہلے کی خواب ہے۔) وہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا کہ یہ شخص ایک دفعہ سال میں عید الاضحیٰ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیتا ہے۔ یہ خواب ان صاحب کے دل پر نقش ہوگئی۔ پھر اچانک انہوں نے ایم ٹی اے دیکھا اور اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو فوراً پہچان لیا کہ یہی وہ شخص ہے جو ہر سال ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیتا ہے۔ اب خدا کے فضل سے انہوں نے بیعت کر لی ہے۔
ابھی مجھے آتے ہوئے شریف عودہ صاحب کا خط ملا۔ کل کی تقریر پر جو پہلی تقریر تھی انہوں نے کچھ لکھا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ آج (یعنی کل ہی) احمدیت کے مخالف ایک وہابی چینل ’’الحکمۃ‘‘نے دوگھنٹے احمدیت کے خلاف زہر اگلا ہے اور لائیو کالز بھی لی ہیں اور پروگرام میں خوب بکواس کی ہے ،خوب جھوٹ اور افتراء کا بازار گرم کر دیا ہے۔ اس پروگرام کی تاریخ کا اعلان کئی دن پہلے سے کر دیا گیا تھا۔ جس کی قسطیں آئندہ بھی نشر ہوں گی، بہرحال یہ عجیب خدا تعالیٰ کا نشان ہے اور ایک توارد ہی سمجھنا چاہئے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خطاب کے جن حصوں کو کل مَیں نے پیش کیا ہے اس میں ان لوگوں کے کافی اعتراضات کا کافی و شافی جواب موجود ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ کل اس نے اعتراض کیے اور کل ہی ایم ٹی اے تھری پر تقریر بھی نشر ہورہی تھی۔ تو وہا ں اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے الفاظ میں جواب بھی ملتے گئے۔
دیگر ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ تبلیغ
ایم ٹی اے کے علاوہ دیگر ٹی وی پروگرامز پربھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو موقع مل رہا ہے۔ اس سال ایک ہزار تین سو اٹھانوے (1398) ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ آٹھ سو تیرہ (813) گھنٹے اور 45منٹ وقت ملا۔ اور آٹھ کروڑ افراد تک اس ذریعہ سے پیغام پہنچا۔
ریڈیو کے ذریعہ تبلیغ
مختلف ممالک کے ریڈیو سٹیشنز پر گیارہ ہزار آٹھ سو تہتّر (11873) گھنٹے پر مشتمل چھ ہزار چھ سو چونسٹھ (6664) پروگرام نشر ہوئے۔ اور محتاط اندازہ کے مطابق ریڈیو کے ذریعہ سے بھی چھ کروڑ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔
پھر بہت ساری جگہوں پر گھانا وغیرہ میں ریڈیو کے ذریعہ سے بھی کوریج مل رہی ہے۔ کینیڈا میں بھی 22ٹی وی سٹیشنز اور 21 ریڈیو چینلز اور چونسٹھ (64) اخبارات نے ہمارے پروگراموں کو کوریج دی۔ بورکینا فاسو میں 2نئے ریڈیو سٹیشنز لگانے کی جماعت کو اجازت ملی ہے۔ پہلے ایک بوبو جلاسو میں تھا۔ اب بورکینا فاسو میں دو اور جگہ ڈوری(Dori) اور لیو (Leo) میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ریڈیو سٹیشن لگائے جارہے ہیں۔ یہ بڑا اچھا تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ ریڈیو اسلامک پر دعاؤں کے مختلف پروگرام صد سالہ تقریبات کے ضمن میں لگائے جاتے ہیں۔ اس کا لوکل زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے کا نشر ہوتا ہے۔ ایک خاتون نے بیعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریڈیو کی برکت ہے کہ اس نے احمدیت قبول کی ہے۔ پھر اس نے وہ ساری دعائیں جو ہم نشر کرتے ہیں زبانی سنائیں اور کہنے لگی کہ مَیں تو ایک عرصہ سے روزانہ اس تعداد میں پڑھتی ہوں جو آپ نے بتائی ہیں۔ تو احمدی ہونے سے پہلے ہی وہ خلافت کے لیے دعائیں کر رہی ہے۔
سیرالیون میں بھی ریڈیو سٹیشن شروع ہو گیا ہے۔
پریس اینڈ پبلی کیشن
پریس اینڈ پبلی کیشن کے ذریعہ بھی کام ہورہا ہے۔ اخبارات سے رابطے ہیں۔ مختلف آرٹیکلز دئیے گئے ہیں۔
احمدیہ انجینئرز اینڈ آرکیٹیکٹس ایسوسی ایشن
احمدی انجینئرز اینڈ آرکیٹیکٹس کو مَیں نے کہا تھا کہ کم قیمت میں بجلی پیدا کرنے کے ذرائع استعمال کریں اور متبادل ذرائع پیدا کریں۔ غریب ممالک میں پینے کے لیے صاف پانی مہیا کرنے کا انتظام کریں اور عمارات کی تعمیر اورڈیزائن کے لیے ایسوسی ایشن کے یورپین چیپٹر کے یہ تین کام ان کے سپرد کیے تھے۔ تو بہرحال انہوں نے سولرانرجی کے لیے چائنا جا کر کافی تحقیق کر کے پھر وہاں سے انتظام کیا اور مختلف ملکوں میں سولر سیٹ لگائے گئے ہیں۔ 12سولر سیٹ مالی میں ،بورکینا فاسو میں بھی 12 سولر سسٹم لگائے گئے ہیں۔ گیمبیا اور ٹوگو کے لیے چالیس سسٹم کا آرڈر دیا گیا ہے۔ انشاء اللہ لگ جائیں گے۔ خلافت جوبلی تک 100سسٹم لگائے جائیں گے۔ اس سال بقایا عرصہ میں انشاء اللہ مزید 100 سسٹم لگانے کا ان کا ارادہ ہے۔ پھر بورکینا فاسو میں نلکے (ہینڈ پمپ) لگانے کا اور پانی نکالنے کے لیے انہوں نے 8کنویں کھودے اور ڈوری (Dori)،کایا (Kaya) اور واگاڈوگو(Ouagadougou) اور وِدگو ریجن میں پانی نکالا۔
یو این او کی ایک ایجنسی کی طرف سے اڑتالیس ہینڈپمپ لگائے گئے تھے لیکن خراب پڑے تھے اور اب جا کر انہوں نے کئی سالوں کے بعد ان کو دوبارہ بحال کیا ہے۔ گیمبیا میں 13 پمپ لگائے۔
اسی طرح مختلف جگہوں پر مساجد کے نقشے وغیرہ پر بھی یہ کام کر رہے ہیں۔
امیر صاحب بورکینا فاسو لکھتے ہیں کہ وہ نلکے جو کئی سال سے بند پڑے تھے اور لوگوں کو پانی لانے کے لیے انتہائی مشقت سے کئی کئی کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔ لندن سے آنے والے ہمارے احمدی انجینئرز نے ان نلکوں سے دوبارہ پانی جاری کردیا ہے۔ پانی ملنے پر لوگوں کے جذبات الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ ان علاقوں کی انتظامیہ نے جماعت کے نام شکریہ کے خط لکھے۔ بعض علاقوں میں کام کے دوران علاقہ کے میئر اور دیگر افسران نے بھی سارا وقت ساتھ گزارا اور انتہائی حیرت سے وہ سوال کرتے تھے کہ آپ نے ہم سے ایک فرانک بھی نہیں مانگا۔ کسی بھی قسم کا مطالبہ کئے بغیر آپ یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ سیا ست دان آتے ہیں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ، وعدے کر کے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آتا جبکہ احمدیت صرف کام کرکے دکھاتی ہے اور کوئی مطالبہ نہیں کرتی۔
اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ علاقہ میں سولر سسٹم کے ذریعہ بجلی مہیا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس منصوبہ کے تحت انجینئرز کی ایک ٹیم کے ساتھ ایک گاؤں گیا۔ مغرب کے وقت جب کام مکمل ہوگیا تو پہلی بار ٹی وی لگا کر ایم ٹی اے دیکھا گیا۔ اس وقت ایم ٹی اے پر لقاء مع العرب جاری تھا۔ اس گاؤں کے الحاج قاسم صاحب گاؤں کے ابتدائی احمدی ہیں۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں اس روحانی مائدہ کو اترتے دیکھا تو جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور سجدہ میں گر گئے۔ جب مزید کچھ اندھیرا ہوا اور اندر کی ٹیوب لائٹس جل گئیں تو احمدیوں کا خوشی سے برا حال تھا جو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اور اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
تحریکِ وقفِ نو
اللہ تعالیٰ کے فضل سے واقفینِ نو کی تعداد میں اس سال ایک ہزار چھ سو اکیس (1621) کا اضافہ ہوا ہے اور کُل تعداد 34,811ہو گئی ہے۔ لڑکوں کی تعداد 22,577اور لڑکیوں کی تعداد 12,234ہے۔ اور اس میں پاکستان کا نمبر پہلا ہی ہے۔ اور اس میں بھی ربوہ کا نمبر ایک ہے۔ اور دنیا میں پاکستان کے بعد جرمنی میں سب سے زیادہ واقفینِ نو ہیں۔ پھر انڈیا ،پھر کینیڈا اور چوتھے نمبر پر انگلستان اور پانچویں نمبر پر انڈونیشیا ہے۔
ہیومینٹی فرسٹHumanity First) (
ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ بھی بڑا غیر معمو لی کام ہورہا ہے اور اب تو ہیو مینٹی فرسٹ یو این او کے ساتھ بھی رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بھی اس نے کشمیر کے زلزلہ زدگان کے لیے غیر معمولی خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے یہاں سے 26ہزار کلوگرام وزن پر مشتمل سامان بھیجا۔ ایمبولینس بھیجی ، ان کے سپیئر پارٹس بھیجے ،گرم کپڑے بھیجے، خیموں کی ایک بستی اسلام آباد میں H-11سیکٹر میں لگائی ،دوائیاں دی گئیں اور اس کے علاوہ مظفرآباد کے ہسپتال کے لیے ساڑھے چھ لاکھ پاؤنڈ کی مالیت سے ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے ایک جدید ترین نیورو سرجری کا بھی یونٹ بنا کر ان کو دیا ہے۔
افریقہ میں جو خدمات ہیں ان میں 6ممالک بورکینا فاسو،گیمبیا،سیرالیون،بینن ،لائبیریا اور گھانا میں ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ 15 آئی ٹی سینٹرز ہیومینٹی فرسٹ یوکے، جرمنی اور یو ایس اے کے تحت بہت ہی کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ آئندہ مزید توسیع کا پروگرام ہے۔
گیمبیا میں ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ 27 ایکڑزمین بھی مختلف پراجیکٹس کے لیے مہیا کی گئی ہے۔ اس وقت 530طلباء اس میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اسی طرح افریقہ کے 4ممالک بورکینا فاسو ،سیرالیون ،گیمبیا اور یوگنڈا میں ایک لاکھ اکیس ہزار پچاسی کلو گرام وزن پر مشتمل مختلف کنٹینرز،کمپیوٹر کا سامان اورمیڈیکل کے آلات وغیرہ بھیجے گئے۔
اسی طرح مختلف ملکوں میں نادار اور ضرورتمند مریضوں کے لئے کام ہوتا ہے۔ مڈغاسکر میں جب طوفان آیا تو ہیومینٹی فرسٹ نے وہاں جا کر کافی بڑی تعداد میں کام کیا ہے۔ میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مریض شفا پا رہے ہیں۔
مجلس نصرت جہاں
مجلس نصرت جہاں کے تحت 12ممالک 36ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔ اور 11ممالک میں 505ہائر سکینڈری سکول ،سیکنڈری سکول، جونیئر سکول ، پرائمری سکول اور نرسری سکول کام کر رہے ہیں۔ کینیا میں ایک نیا ہسپتال شیانڈا (Shianda) میں بن رہا ہے۔ اسی طرح زیمبیا میں پچھلے سال سکول تعمیر کیا گیا تھا جہاں اس سال باقاعدہ کلاسیں شروع ہوگئی ہیں۔
شیانڈا (کینیا) میں جس ہسپتال کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اس کے بارہ میں ڈاکٹر اقبال صاحب لکھتے ہیں کہ ’’شیانڈا ہسپتال کی تعمیر کے بعد جون کے وسط میں مریض داخل کرنے شروع کیے جب کہ ضروریات کی چیزیں ابھی موجود نہیں تھیں۔ گزشتہ ہفتہ 4عدد مریض ایسے آئے جنہوں نے زہر کھایا ہوا تھا۔ حالت نازک تھی۔ دو دن سے مکمل مُردوں کی طرح بیہوش تھے۔ ان کے وارثوں کو کہا گیا کہ ابھی ہمارے پاس اتنے وسائل و آلات نہیں ہیں کہ انہیں بچایا جاسکے۔ اس لئے انہیں کسی دوسرے ہسپتال میں لے جائیں۔ لیکن مریضوں کے ورثاء نے کہا کہ دو دن سے یہ بے ہوش ہیں۔ ہماری طرف سے یہ مُردہ ہیں۔ آپ کوشش کرلیں۔ اگر یہ بچ جائیں تو ٹھیک ہے۔ ان کا ایک ساتھی اس شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جایا جاچکا ہے۔ ‘‘ کُل پانچ افراد نے اکٹھا زہر کھایا تھا۔ کہتے ہیں ’’اللہ پر بھروسہ کر کے دعا کر کے ان چاروں مریضوں کا علاج شروع کیا اور ان کو ہوش آگیا اور صحت یاب ہوگئے اور اللہ کے فضل سے تین دن بعد مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے۔ جب کہ دوسرے ہسپتال میں جو گیا تھا وہ مریض فوت ہوگیا۔ تو اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ بڑے ہسپتالوں کو چھوڑو اور ہمارے ہسپتال میں آؤ۔ اور گورنمنٹ کے افسران بھی آئے اور انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو گیا ؟ آپ کے پاس تو کچھ ہے نہیں لیکن مریض شفا پا رہے ہیں ‘‘۔
اصل چیز تو دعا ہے جو وہاں ڈاکٹروں کو کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ مریض بھی دیکھتے ہیں۔ مجھے بھی دعاکے لیے خط لکھتے ہیں۔
بورکینا فاسو میں کیمپ لگایا گیا۔کافی بڑی تعداد میں مریضوں کی آنکھوں کے آپریشن کیے گئے اور اللہ کے فضل سے صحت یاب ہوئے۔
ہومیو پیتھی
پاکستان میں بھی اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی ہومیو پیتھی کے ذریعہ خدمت ِ خلق کا بڑاکام ہو رہا ہے۔۔
نورالعین۔ دائرۃ الخدمۃ الانسانیۃ
’’نورالعین۔ دائرۃ الخدمۃ الانسانیۃ ‘‘۔ یہ ادارہ پاکستان میں آنکھوں کے آپریشن کے لیے اور خون کے عطیہ کے لیے ہے اور بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔
الاسلام۔ ویب سائٹ
ویب سائٹس کی رپورٹ ہے۔ اس پر آن لائن 200کتابیں ہیں۔ خطباتِ نور ،خطباتِ محمود ،خطباتِ ناصر ،خطباتِ طاہر، حیاتِ قدسی ،حیاتِ نور ، حدیقۃ الصالحین Gardens of the righteous،Dictionary of the Holy Quran،فقہ احمدیہ حصہ (اول،دوم)،تذکرہ( اردو،انگریزی)،Islam – a Peaceful Religion, ، Response to pope’s remarks about Islam،اور خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے سوال وجواب ،ترجمۃ القرآن، خلافت جوبلی کے سلسلہ میں خلافت Page موجود ہے ،Jesus Page موجود ہے۔ میرے سارے خطبات مختلف زبانوں کے ترجموں کے ساتھ اس میں ڈالے ہوئے ہیں۔
امسال عطا ہونے والی بیعتیں
امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو بیعتیں ہوئی ہیں ان کی کل تعداد 2لاکھ 60ہزار839ہے۔ اورایک سو چھیالیس (146) ممالک میں سے 365قومیں احمدیت میں شامل ہوئی ہیں۔ کل انشاء اللہ عالمی بیعت بھی ہو گی۔
جماعت نائیجیریا کی امسال بیعتوں کی مجموعی تعدادایک لاکھ انچاس ہزارچار سو اٹھانوے (149498) ہے۔ اور اس سال تیس (30) اماموں نے احمدیت قبول کی۔ 67مقامات پر پہلی بار احمدیت کا نفوذ ہوا۔ کیمرون ،چاڈ اور ایکیٹوریل گنی میں بھی کا میابیاں ملیں۔ جماعت نے وہاں اکیس(21) ایکڑ زمین بھی خرید لی ہے۔
نائیجیریا کے ہمارے ایک معلم محمد نظیفی صاحب چاڈ سے نائیجیریا آرہے تھے۔ کہتے ہیں دورانِ سفر میرے ساتھ بیٹھا ہوا ایک شخص مجھے نصیحت کرنے لگا کہ آپ مجھے مذہبی آدمی لگتے ہیں لیکن قادیانیوں سے بچ کے رہیں اور جماعت کے خلاف الزامات اور اعتراضات کرتے رہے۔ معلم صاحب خاموشی سے ان کی یہ ساری باتیں سنتے رہے، کچھ نہیں کہا۔ اس شخص کا نام الحاجی محمد مصطفی ہے۔ جب دونوں نائیجیریا کے بارڈر پر پہنچے تو معلم صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃوالسلام کے اقتباس پر مشتمل ایک پمفلٹ ان کو ہاؤسا (Hausa)زبان میں پڑھنے کو دیا۔ وہ پڑھتے گئے۔ جوں جوں پڑھتے گئے خیالات بدلتے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد بجائے اس کے کہ قادیانیوں کو برا بھلا کہتے اپنے علماء کو برا بھلا کہنے لگ گئے۔ یہ پمفلٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں تھا۔ مختلف اقتباسات تھے۔ اور کہتے ہیں کہ وہ کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعریف میں نے پوری زندگی نہیں سنی۔ اور یہ بھی اور اس کے ماننے والے بھی کس طرح غیر مسلم ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد اپنے بیوی بچوں اور دوستوں سمیت بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوگئے۔ کُل 147افراد ان کے ساتھ شامل ہوئے۔
امسال گھانا میں 21,300بیعتیں ہوئی ہیں۔ بینن کو 15,917بیعتوں کی توفیق ملی۔ بورکینا فاسو میں 14,000بیعتیں ہوئیں۔ سیرالیون میں 7,000بیعتیں ہوئیں۔ ہندوستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 14,929بیعتیں ہوئی ہیں۔
اب

یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاء

کے تحت کچھ واقعات بیان کرتا ہوں۔
ماسکو سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ رشین دوست عزت اللہ صاحب 27مئی کے روز مشن آئے اور بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ آج ضرور میری بیعت لے لیں کیوں کہ رات میری خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے ہیں اور اس کے بعد میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا۔ کافی جذباتی رہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بس میں سوار ایک غیر ہموار راستہ پر سفر کر رہا ہوں اور مَیں بس کے پچھلے حصہ میں کھڑا ہوں۔ یکدم بس کی رفتار تیز ہوگئی اور وہ راستہ سے لڑھک گئی اور پچھلا حصہ نیچے ایک کھائی کی طرف ہو گیا۔ میں اوپر جانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن پہنچ نہیں سکتا کہ اچانک کہیں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی شبیہ نمودار ہوئی اور اپنا دایاں ہاتھ میری طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ’’ میرے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑلو، تم ہلاک نہ ہو گے۔ ‘‘میں کہتا ہوں ’’کیسے پکڑوں میرے میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ ‘‘ پھر آپ خود میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہیں اور میں ہموار راستہ پر آنے میں کامیاب ہو جاتا ہوں۔ اس خواب کے رعب اور خوف سے جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو پسینہ میں شرابور پایا اور میرے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ اب سوال ہی نہیں کہ میں لیٹ کروں۔
محمد اشرف صاحب بلغاریہ سے لکھتے ہیں کہ ایک زیرِ تبلیغ فیملی سے ہمارے داعیان کا مسلسل رابطہ تھا۔ لیکن وہ ہماری بات سمجھنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے تھے۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی۔ شادی کو چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا تھا۔ اس خاتون نے خواب میں دیکھا کہ انہیں کوئی عورت کہتی ہے کہ ’’آپ رفعت کے پاس جائیں آپ کو اولاد بھی ملے گی اور برکتیں بھی۔ ‘‘ رفعت ان کی صدر لجنہ کانام ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہمارے سینٹر آنا شروع کر دیا اور دعائیہ خطوط مجھے لکھنے شروع کیے۔ کہتے ہیں میری طرف سے جواب گیا کہ ’’چیک اَپ کروائیں ‘‘۔ چیک اَپ کروایا گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ حاملہ ہیں۔ اس پر موصوفہ نے بیعت کر لی۔
بورکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ تیجانی فرقہ کے ایک عالم اسحٰق ثناء صاحب کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ انہوں نے اپنی بیعت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ بارہ،تیرہ سال کی عمر میں ایک دفعہ بچوں کے ساتھ دوڑکا مقابلہ کرتے ہوئے مجھے آواز آئی کہ ’’امام مہدی کی طرف آؤ۔ ‘‘بچپن کی عمر ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ یہ آواز کیسی تھی۔ اب میری عمر 26سال ہے تو ایک رات مجھے آواز آئی کہ ’’امام مہدی آگیا ہے اس کی طرف جاؤ۔ ‘‘میں نے اٹھ کر دیکھا تو کوئی نہ تھا۔ میں پھر سو گیا۔ خواب میں پھر دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ’’امام مہدی آگیا ہے اس کی طرف جاؤ۔ ‘‘تیسری دفعہ پھر مجھے یوں لگا کہ میرے کان کے پاس آکر کسی نے پھر یہی کہا ہے کہ ’’امام مہدی آگیا ہے اس کی طرف جاؤ۔ ‘‘اگلے روز میں ایک امام کے پاس گیا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا واقعی امام مہدی آگیا ہے؟امام نے کوئی مناسب جواب نہ دیا۔ میں ڈوری شہر میں آیا۔ ایک دن ریڈیو سنتے ہوئے احمدیت کی تبلیغ سننے کا موقعہ ملا جس میں امام مہدی کا بار بار ذکر آیا۔ لیکن میری تسلّی نہ ہوئی۔ میں بوبو جلاسو چلا آیا جہاں جماعت کا ریڈیو سٹیشن ہے۔ جماعت کے پروگرام سنتا رہا اور ایک دن ریڈیو سٹیشن آگیا۔ وہاں معلم صاحب سے بعض سوالات کیے جن کے مجھے اطمینان بخش جواب ملے اور کچھ دیر احمدیہ مشن میں رہنے کے بعد میرا سینہ صاف ہو گیا اور میں نے محسوس کیا کہ میری تلاش مجھے مل گئی ہے اور میں بیعت کر کے امام مہدی کے ماننے والوں میں شامل ہو گیا۔
فرانس کی ’’گوادے لوپ‘‘ جو جگہ ہے جہاں احمدیت نئی قائم ہوئی ہے۔ ایک دوست حبیب حیدر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بیعت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پیرس آؤں گا تو پھر ملاقات میں دیکھیں گے۔ جب یہاں آئے اور تبلیغی بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ 1992ء میں مَیں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ آپ یہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی طرح کا وہی ماحول دیکھا مگر اس وقت یہاں پر ایک تصویر لگی ہوئی تھی وہ یہاں نظر نہیں آرہی۔ تو ہم ان کو لائبریری میں لے گئے جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصویریں موجود تھیں۔ اس وقت ان کے ساتھ امام سعد بھی تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ باری باری تمام تصویریں دیکھتے رہے۔ آخر میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصویر کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ 1992 ء میں یہ میری رؤیا میں آئے تھے اور پھر وہ اپنے استاد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ’’مَیں بار بار جس شخص اور رؤیا کا ذکر کرتا تھا وہ خدا تعالیٰ کی قسم یہ ہے‘‘۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔
اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں۔ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے چھوڑتا ہوں۔
تائید ِ الٰہی کے واقعات
منصور احمد زاہد صاحب ایسٹر ن گھانا سے لکھتے ہیں کہ ایک آدمی کی چار ماہ کی بچی ہے۔ جب سے پیدا ہوئی ہے رات کو نہیں سوتی ،روتی رہتی ہے۔ بہت پریشان تھے کہ اس بچی کو لے کر بہت سے چرچوں میں گیا مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ غیراحمدیوں کے امام کے پاس گیا لیکن بچی کو آرام نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ دعا کریں۔ یہ بچی ٹھیک ہوگئی تو مَیں احمدی ہو جاؤں گا۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے ضرور دعا کریں گے۔ اللہ کی مرضی ہے تو قبول کرے گا۔ کہتے ہیں خاکسار نے جا کر ساری فیملی کو بلایا اور سب نے مل کر دعا کی اور انہیں تسلّی دی اور اگلے روز فجر کی نماز کے بعد ہم اس کے گھر معلوم کرنے گئے کہ بچی کی رات کیسی گزری ؟آدمی اور اس کی بیوی بہت خوش نظر آئے اور بتایا کہ رات پہلی بار بچی سکون سے سوئی ہے اور اس وجہ سے وہ سارے احمدی ہو گئے۔
دعوت الی اللہ میں روکیں ڈالنے والوں کے انجام
جماعت مالی کے ایک مخلص داعی الی اللہ جالا کولیابی بیان کرتے ہیں کہ جیجینی شہر کا بڑا امام جماعت کا سخت مخالف ہے۔ اس نے کہا کہ میں احمدیت کو یہاں سے ختم کر دوں گا۔ احمدیت اور میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اس نے اپنی ایک بیٹی کی شادی ایک مولوی سے کی اور اسے کہا کہ تم یہاں چلّہ کرو کہ احمدیت اس شہر سے ختم ہوجائے۔ اس مولوی نے چلّہ کیا۔ چلّہ کے دوران وہ سخت بیمار ہوا اور اس کی ایک آنکھ ختم ہوگئی۔ اور اس پر الزام لگائے گئے کہ دھوکہ باز اور چور ہے اور ان الزاموں کو دیکھ کر یہ مولوی جو احمدیت کو اس شہر سے نکالنے کی دعا کر رہا تھا خود شہر چھوڑ کر چلا گیا اور جماعت احمدیہ وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے دن بدن ترقی کر رہی ہے۔
لائبیریا سے حاجی اسماعیل کونے صاحب لوکل مبلغ Teh Town کہتے ہیں کہ پاکستان سے تبلیغی جماعت کے چند مولوی لائبیریا پہنچے اور ان کے علاقہ میں بھی آئے اور جماعت کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ انہوں نے ہمارے لوکل مبلغ سے کہا کہ تم بہت اچھے سلجھے ہوئے نوجوان ہو اور دینی علم بھی رکھتے ہو۔ یہ لوگ کافر ہیں۔ ہم نے ان کو پاکستان سے نکال دیا ہے تم ان کو چھوڑ کر مسلمان ہو جاؤ۔ حاجی اسمٰعیل نے جواب دیاکہ مَیں اس لیے اچھا ہوں کہ بفضلہ تعالیٰ مَیں احمدی ہوں اور دینی علم بھی مَیں نے جماعت سے ہی سیکھا ہے۔ اگر آپ لوگ بھی اچھا بننا چاہتے ہیں تو احمدی ہو جائیں۔ رہی یہ بات کہ آپ نے احمدیوں کو پاکستان سے نکال دیا ہے اور اب آپ لوگ ان کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں آئے ہیں تو یہ بات یاد رکھیں کہ آپ کے باپ دادا احمدیت کو ختم کرنے کی حسرت لیے اس دنیا سے گزر گئے لیکن احمدیت ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب آپ اسے کیا مٹائیں گے؟ تو وہ لوگ لاجواب ہوگئے اور نامراد ہوکر اس علاقہ سے چلے گئے۔
پھر ایک دوسرے علاقہ میں پہنچے اور لوگوں کو جماعت کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ ہمارے یہاں کے معلم حسن جینیکا صاحب نے ان سے بھرے مجمع میں پوچھا کہ آپ احمدیوں کو کافر کیوں کہتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ احمدی کلمہ طیبہ پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر معلم نے کہا کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ احمدیہ مسجد ہے۔ اور یہ سامنے نمایاں طور پر کلمہ طیبہ لکھا ہے۔ کیا یہ آپ کو نظر نہیں آرہا ؟آپ کو نسا اسلام سکھانے آئے ہیں ؟ اس پر وہ بہت شرمندہ ہوئے اور اس علاقہ سے جہاں ان کا تین دن قیام کا پروگرام تھا، پہلے دن ہی رخصت ہوگئے۔ تو وہاں افریقہ کے لوگ جن کو لوگ کہتے ہیں کہ اَن پڑھ ہیں ان کے اندر نورِ فراست ہے مگر اِن پڑھے لکھے لوگوں میں یہ نورِ فراست بالکل نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی بعثت کو، آمد کو پہچان سکیں۔
نو مبائعین بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف جگہوں پر بڑی ثابت قدمی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
نظامِ وصیت
نظام ِ وصیت میں بھی اللہ کے فضل سے وصیتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ 2004ء میں جب مَیں نے بتایا تھا کہ 38ہزار وصیتیں ہیں۔ تو اس کے بعد سے اللہ کے فضل سے اب تک آخری مسل 71,700 کی ہوچکی ہے۔
امیر صاحب بینن کہتے ہیں کہ 1967ء میں ملک کے دارالحکومت پورتو نووو میں بینن کے دو علماء موجود تھے۔ یہ دونوں آپس میں بہت گہرے دوست بھی تھے۔ ان میں سے ایک عالم الحاج بصیرو صاحب نے قبول ِ احمدیت کا اعزاز پایا اور وہ بینن کے پہلے صدر جماعت مقرر ہوئے۔ جبکہ دوسرے عالم قبولِ احمدیت سے محروم رہے اور وہ پورتو نووو کی سینٹرل مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ بعد میں مخالفت کے کئی دور آئے جن میں جماعت احمدیہ ترقی کرتی رہی۔ یہ غیر احمدی عالم اس وقت آل بینن ائمہ ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ ہیں اور پورتونوو سینٹرل مسجدکے امام بھی ہیں۔ اس سال عید الاضحی سے ایک دن قبل مجلس عاملہ کا دس رکنی وفد امام صاحب کے گھر ان کی ملاقات کے لیے گیا تو اس وقت ان کے گھر میں ان کے بیٹے اور دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔ امام صاحب نے بڑا پر تپاک استقبال کیا اور یہ ملاقات قریباًایک گھنٹہ جاری رہی۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ نئے امیر آئے ہیں اور مجھے ملنے آئے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہے۔ مَیں آج آپ سے ایک بات کہتا ہوں۔ میں عمر کے آخری حصہ میں ہوں لیکن میں اپنی اولاد اور ان سب کے سامنے اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ ہی اصلی اور سچی مسلمان جماعت ہے۔ آپ سو فیصد قرآن اور حدیث پر عمل کر رہے ہیں۔ تمام پڑھے لکھے اور عقل مند لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے تمام حکومتیں آپ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ اس موقع پر ہمارا آپ سے مقابلہ سیاسی مقابلہ ہے۔ اگر ہم مخالفت چھوڑ دیں تو سارے لوگ احمدی ہو جائیں۔
چنانچہ امام صاحب کے گھر میں مجلس عاملہ کے افراد نے جذبات میں آکرنعرۂ تکبیر بلند کیا۔ امام صاحب نے بات جاری رکھی۔ کہنے لگے کہ جب احمدیت بینن میں آئی تھی اور ہمارے سوال وجواب شروع ہوئے تھے تو اس کے بعد مجھے جامعہ ازہر جانے کا موقعہ ملا۔ وہاں کے اساتذہ سے بھی مجھے احمدیت کے بارہ میں تحقیق کا موقعہ ملا۔ سب کا یہی جواب تھا کہ احمدیت سچی جماعت ہے اور اگر عرب ممالک آپ کا راستہ چھوڑدیں اور مخالفت چھوڑ دیں۔ یعنی عرب علماء کی مخالفت اگر ختم ہوجائے تو سارے عرب جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ ایک مرتبہ پھر فضا نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی۔ انہوں نے پھر بات جاری رکھی اور کہا کہ آپ کو میں بار بار کہتا ہوں کہ آپ ہمت نہ ہاریں۔ فتح آپ کی ہے۔ ہم لوگ تو روٹی کے لیے لڑرہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے حضورجماعت کی مالی قربانی
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی رپورٹیں وقتاً فوقتاً جماعت کے سامنے پیش ہوتی رہتی ہیں۔ ہر لحاظ سے مالی قربانی میں بھی جماعت آگے سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ابھی آج ہی مجھے سعودی عرب سے ایک خط ملا ہے۔ سعید صاحب وہاں رہتے ہیں۔ مجھے یاد آگیا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی مجھے خط لکھا تھا کہ میری بیٹی نے خواب دیکھی تھی۔ اور اس کا جواب میں نے دیا کہ خواب بڑی مبارک ہے۔ تین چار باتیں اس میں لکھی تھیں۔ ان کو جواب میں نے یہی دیا تھا کہ خواب بڑی اچھی ہے اور مبارک ہے۔ تو کہتے ہیں کہ میری بیٹی جس نے خواب دیکھی تھی اس نے مجھے فون کیا کہ میں نے جو خواب میں دیکھا تھا کہ ریت کے بہت بڑے بڑے ٹیلے ہیں اور ان میں اچانک ایک دروازہ نمودار ہو جاتا ہے جو بہت خوب صورت ہے۔ تو بیٹی نے فون کیا کہ جب یہ بینر لگا ہو ادیکھا، یہ نظارہ جو اس دفعہ پیچھے کا بنایا گیا ہے (حضور انور نے جلسہ کے سٹیج کا جو بیک گراؤنڈ بنایا گیا تھا اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ ناقل) تو یہ بعینہٖ بالکل وہی چیز تھی کہ ریت کے ٹیلے ہیں اور اس پر ایک گیٹ بنا ہوا ہے۔ وہی اس نے خواب میں دیکھا تھا۔ اس لحاظ سے بھی امید ہے کہ انشاء اللہ اب ایم ٹی اے کے ذریعہ سے عرب میں احمدیت پھیلے گی اور چاہے اب یہ مُلّاں روٹی کے لئے لڑیں یا نہ لڑیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ عرب میں انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت نے نفوذ کرنا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جلد تمام مسلمان دنیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں لے لینا ہے۔
اس خواب کے آخر میں یہ کہتی ہیں کہ انہوں نے حج کیا تھا اور حج کے فوراً بعد یہ دیکھا تھا اور یہ بھی کہ ایک ریت کے ٹیلے اور پہاڑی پر بیٹھی ہے۔ اور ریت اٹھا کر یوں ہاتھ سے پکڑ کر چھو ڑتی ہے اور تین دفعہ کہتی ہےTo Allah belong the Heavens and Earth and we belong to Him. کہ تمام زمین وآسمان اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم بھی اللہ کے ہیں۔ تو کہتی ہے تین دفعہ مَیں نے یہ دیکھا کہ اس طرح کے نظارے ہیں اور اس طرح بیٹھی ہوئی ہوں۔ اور تحدیثِ نعمت کے طور پر انہوں نے کہا کہ مَیں لکھ رہا ہوں۔
اس وقت ہمارے مراکش سے ایک غیر از جماعت مہمان دوست محمد عبد القدوس صاحب بھی ہیں جنہوں نے یہ تبصرہ کیا ہے۔ پتہ نہیں مَیں نے پڑھا ہے کہ نہیں۔ وہ یہاں جلسہ پہ بھی آئے ہوئے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’مَیں بڑے دعویٰ اور استقلال سے کہتا ہوں کہ مَیں سچ پر ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔ اورجہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کی تحتِ اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔ اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مشتِ خاک کو کھڑا کردیا ہے۔ ہر یک شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ مَیں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیاوہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ؟کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ؟ ‘‘
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 303)
اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا پیغام تمام دنیا تک پھیلتا ہوا دیکھیں اور تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آیا ہوا دیکھیں۔ اللہ کرے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X