جلسہ سالانہ ماریشس 2005ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا خواتین سے خطاب

کسی بھی قوم کے بنانے یا بگاڑنے میں عورت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ مستقبل کی نسلیں اس کی گود میں پرورش پارہی ہوتی ہیں۔بچے عموماً ماں باپ کے مزاج دیکھتے ہیں، ان کے عمل دیکھتے ہیں، ان کے نمونے دیکھتے ہیں اور سب سے زیادہ ماؤں کے نمونے ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان نمونوں میں سب سے مثالی چیز دعا ہے اور دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ آپ کی یہ نمازیں اور دعائیں آپ کے بچوں کی تربیت کی بھی ضمانت بن جائیں گی۔
خود بھی نمازوں کی طرف خاص توجہ پیدا کریں اور اپنی اولادوں کی بھی نگرانی کریں کہ وہ نماز پڑھنے والی ہو۔
احمدی ماؤں اور بچیوں کو میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جب آپ نمازوں کی طرف توجہ کریں تو قرآن کریم کے پڑھنے اور اُس کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ کریں۔ اس سے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پتہ چلے گا اور اس سے آپ کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کے راستے ملیں گے۔ پس قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اس کا ترجمہ پڑھنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔
جلسہ سالانہ ماریشس کے موقع پر 03 ؍دسمبر 2005ء کو
حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خواتین سے خطاب

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

کسی بھی قوم کے بنانے یا بگاڑنے میں عورت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ مستقبل کی نسلیں اس کی گود میں پرورش پارہی ہوتی ہیں۔ پس آپ جو اس ملک میں رہنے والی احمدی خواتین ہیں اپنی اس ذمہ داری کو سمجھیں، اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں۔ یاد رکھیں کہ بچے عموماً ماں باپ کے مزاج دیکھتے ہیں، ان کے عمل دیکھتے ہیں، ان کے نمونے دیکھتے ہیں اور سب سے زیادہ ماؤں کے نمونے ان پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ چھوٹی عمر میں بچہ سب سے زیادہ ماں کے قریب ہوتا ہے۔ اس لئے میں آج آپ کو ،یہاں کی احمدی ماؤں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بچے احمدیت پر قائم رہیں اور جس انعام کو آپ کے والدین نے حاصل کیا یا بعض صورتوں میں آپ نے خودبیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی اور مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہوئیں، اس انعام اور اس فضل کے آپ کے بچے بھی حقدار بنے رہیں تو آپ کو بھی خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق چلنا ہوگا اور اپنی اولادوں کی تربیت بھی کرنی ہوگی۔ اور اس کے لئے جیسا کہ مَیں نے کہا سب سے بڑا نمونہ آپ کا اپنا ہے اور ان نمونوں میں سب سے مثالی چیز دعا ہے اور دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ پس اگر آپ لوگوں نے اس حقیقت کو پہچان لیا تو آپ نے اپنے مقصد کو پالیا۔ آپ کی یہ نمازیں اور دعائیں آپ کے بچوں کی تربیت کی بھی ضمانت بن جائیں گی۔
پس سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اپنی نمازوں کو سنوار کروقت پرادا کریں۔ آنحضرت ؐ کی صحابیات نے عبادتوں کی وہ مثالیں قائم کیں کہ مردوں کو بھی پیچھے چھوڑدیا۔ اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آکر عورتوں نے اپنے اندر یہ نمونے قائم کئے۔
اس وقت مَیں حضرت اُمّ المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ کی مثال دیتا ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کی دوسری زوجہ تھیں۔ آپ نمازوں کی بڑی پابندی کیا کرتی تھیں اور نہ صرف یہ کہ نمازوں کی ادائیگی کی پابند تھیں بلکہ وقت پر ادائیگی میں پابندی فرماتی تھیں اور دوسروں کوبھی تلقین فرماتی تھیں۔
آپ کے متعلق آتا ہے کہ آپ کا تویہ حال تھا کہ نماز کا وقت قریب ہونے پر وضو کر کے اذان کا انتظار کر رہی ہوتی تھیں اور اذان کے بعد اپنے ارد گرد عورتوں بچوں کو کہتیں کہ میں نماز پڑھنے لگی ہوں۔ لڑکیو! تم بھی نماز پڑھو! تو اس طرح گویا اپنے عملی نمونے کے ساتھ نصیحت فرماتی تھیں۔ تو دیکھیں یہی نصیحت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اگرآپ خود نمازیں نہیں پڑھ رہیں یا کوئی اور نیکی کا کام نہیں کر رہیں اور اپنے بچوں کو ہی نصیحت کر رہی ہیں تو اس کا بھی نیک اثر نہیں ہوگا۔
پھر حضرت اماں جانؓ کے بارے میں ایک اور روایت آتی ہے کہ آپ کس طرح نمازوں کی طرف خاص طور پر توجہ دلایا کرتی تھیں۔ ایک خاتون کہتیں ہیں کہ ایک دفعہ میں اپنی لڑکی کی پیدائش کے بعد حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ کی خدمت میں اپنی بچی کو دعا اور برکت کی غرض سے لے کر حاضر ہوئی۔ اَور بھی خواتین تھیں اس دوران میں نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت اماں جان نماز پڑھنے کی غرض سے اندر تشریف لے گئیں اور ہم بیٹھے رہے۔ آپ نماز پڑھ کر جب دوبارہ تشریف لائیں تو فرمایا کہ لڑکیو! کیا تم نے نماز ادا کرلی ہے۔ اس پر ہم نے کہا کہ بچے نے پیشاپ یا پاخانہ کیا ہوگا اس لئے گھر چل کر پڑھ لیں گے۔ تو اس پر آپ نے فرمایا کہ دیکھو بچوں کے بہانے سے نماز ضائع نہ کیا کرو۔ بچے تو خدا تعالیٰ کا انعام ہوتے ہیں۔ یہ بہانہ بنا کر بچوں کو خدا کی ناراضگی کا موجب نہ بناؤ۔
تو دیکھیں اس زمانے کے امام کی اہلیہ کونمازوں کی حفاظت کی کس قدر فکرتھی۔ اور کیوں نہ یہ فکر ہوتی کیونکہ اب آپ ہی سے خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود ؑ کی نسل چلنی تھی اور یہ وجود جماعت کے لئے بھی بابرکت وجود تھا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ کے پاس خدمت گزار ہوتے تھے، گھر کے کام کرنے کے لئے عورتیں ہوتی تھیں،بچوں کے کام کاج نہیں ہوتے تھے اس لئے وقت پر اور صحیح رنگ میں عبادت کر سکتیں تھیں۔ حضرت اماں جان کے بارے میں آتا ہے کہ بہت سے کام آپ خود کیا کرتی تھیں۔ بہت سی بچیوں کی شادیوں پر ان کے جہیز بھی خودہی تیار کرتی تھیں اور کرواتی تھیں۔ بہت سی عورتیں آپ کے گھر پر جمع رہتی تھیں۔ اور اگر کبھی کسی کو بھوک لگ جاتی اور وہ روٹی کا مطالبہ کرتی اور روٹی پکانے والی اگر کسی کام میں مصروف ہوتی تو آپ خود اپنے ہاتھ سے اس مہمان کو روٹی پکا کر دے دیا کرتی تھیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود عبادتوں کی طرف پوری توجہ رہی اور کبھی نمازیں قضاء نہیں کرتی تھیں بلکہ جو واقعہ میں نے بیان کیا ہے اس میں بچوں والی عورتوں کو بھی جو یہ سمجھتی ہیں کہ بچوں کے کام ہیں یا بچوں کی وجہ سے شاید کہیں کپڑے خراب نہ ہوں یا بچے کسی وجہ سے تنگ نہ کریں، بعد میں نماز پڑھ لیںگے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو یہ بچے اس خدا کا انعام ہیں جس نے تمہیں کہا ہے کہ پانچ وقت میری باقاعدہ عبادت کرو۔ پس اگر اس انعام سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہو تو کبھی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل نہ ہو۔ ایک تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہارے اس بہانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ یہ انعام تم سے واپس لے لے اور تم پھر خالی ہاتھ رہ جاؤ۔ دوسرے جس بچے کے لئے تم نمازیں چھوڑ رہی ہو یا جس بچے کا بہانہ بناکر تم اللہ کی عبادت سے غافل ہو رہی ہو، یہ بچہ بڑا ہو کر تمہارے لئے ایک زحمت بن جائے۔ لڑکا ہے تو غلط کاموں میں ملوث ہوجائے، بری صحبت میں پڑ جائے، بڑھاپے میں ماں باپ کا سہارا بننے کی بجائے ان پر ایک بوجھ بن جائے، والدین کی بدنامی کا باعث بن جائے۔ لڑکی ہے تو معاشرے کے زیرِ اثر آکر گھر سے بغاوت کرنے والی بن جائے۔
پس تمہارے لئے تربیت کا، اپنے بچوں میں دین کی روح قائم رکھنے کا بہترین ذریعہ یہی نماز ہے۔ پس اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرو۔ ان کے دین پر قائم رہنے کے لئے دعائیں کرو اور ان کے روشن مستقبل کے لئے دعائیں کرو۔ اس نیک نیتی کی وجہ سے جہاں یہ دعائیں اولاد کے حق میں اللہ تعالیٰ قبول فرما رہا ہوگا وہاں عبادتوں کے ان نمونوں کے زیرِ اثر جو آپ اپنی اولاد کے سامنے قائم کر رہی ہوں گی آپ کی اولاد بھی ان نیکیوں پر چلنے والی بن جائے گی، نمازوں اور عبادتوں کی طرف توجہ دینے والی ہوگی۔ پس یہ نمازیں ہی ہیں جو آپ پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی ضمانت ہوں گی۔
میری ملاقات کے دوران بہت سی عورتیں پوچھتی ہیں کہ کوئی وظیفہ بتائیں، ہمیں کوئی دعا بتائیں تاکہ ہماری پریشانیاں دور ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب بھی کسی نے اس طرح پوچھا تو آپؑ نے ہمیشہ یہی فرمایا کہ سب سے بڑی دعا اور وظیفہ نماز ہے۔ تم نماز کو سنوار کر ادا کرو اور وقت پر ادا کرو تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر نے والی ہوگی۔
ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نما ز عبادت کا مغز ہے۔ پس یہ خیال کہ اس کے علاوہ بھی کوئی دعا اور وظیفہ ہے، غلط خیال ہے۔ کوئی بھی اَور وظیفہ نہیں جو نماز کو چھوڑ کر پڑھا جائے۔ اس لئے خود بھی نمازوں کی طرف خاص توجہ پیدا کریں اور اپنی اولادوں کی بھی نگرانی کریں کہ وہ نماز پڑھنے والی ہو۔
ایک روایت میں آتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب بچہ سات سال کا ہوتو اس کو نماز کے لئے کہنا شروع کردو اور دس سا ل کی عمر میں اس سے پابندی کروائو۔ تو اس طرف توجہ دینا مائوں کا فرض ہے ۔ جہاںیہ مائوں کا فرض ہے وہاں باپوں کا بھی فرض ہے جو دُور بیٹھے سن رہے ہیں۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ شاید ہم اس فرض سے فارغ ہیں۔ اس وقت کیونکہ مَیں عورتوں سے مخاطب ہوں اس لئے مَیں ان کو توجہ دلارہاہوں کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اوراپنے بچوں کی نمازوں کی بھی اپنے نمونے سے اور انہیں توجہ دلا کر بھی حفاظت کریں۔
بعض ماں باپ شکایت کرتے ہیں اور اس فکر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت نہیں ہو رہی۔ لڑکوں کی طرف سے بھی فکرمند ہیں اور لڑکیوں کی طرف سے بھی فکرمند ہیں۔اپنے بچوں کو معاشرے کے گند سے بچانے کی انہیں یہی ضمانت ہے کہ ان کو نمازوں کی عادت ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ نمازیں ہی ہیں جو معاشرے کی برائیوں سے اور بے حیائیوں سے تمہیں بچائیں گی اور سیدھے راستے پر ڈالیں گی جیسا کہ وہ فرماتا ہے

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ(العنکبوت:46)

یقینا نماز تمام بری باتوں اور تمام ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے اپنی اولاد کو نمازوں کی عادت ڈال دیں اگر ان کو نمازوں کی عادت پڑگئی تو اوّل تو انشاء اللہ تعالیٰ برائیوں میں نہیں پڑیں گے اور اگر کسی عارضی اثر کے تحت برائی کر بھی لی تو ان نمازوں کی برکت سے سیدھے راستے پر انشاء اللہ آجائیں گے۔
آپ کا ملک اب ایک ایسا ملک بن رہا ہے جہاں ٹوراِزم (Tourism) کو بھی بڑا فروغ حاصل ہورہا ہے، بڑی ترقی حاصل ہو رہی ہے ۔ اس سے جہاں مجموعی لحاظ سے ملک کو اقتصادی لحاظ سے فائدہ ہوتا ہے وہاں بہت سی برائیاں بھی آجاتی ہیں۔ ان مغربی ٹورسٹس (Tourists) کو دیکھ کر بے حیائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے زیادہ فکر کے ساتھ احمدی ماؤں اور احمدی بچیوں کو اپنی عبادتوں اور نمازوں کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ ہر قسم کے فحشاء اور برائیوں سے وہ خود بھی اور ان کی اولادیں بھی محفوظ رہیں۔
اسی طرح احمدی ماؤں اور بچیوں کو میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جب آپ نمازوں کی طرف توجہ کریں تو قرآن کریم کے پڑھنے اور اُس کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ کریں۔ اس سے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پتہ چلے گا اور اس سے آپ کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کے راستے ملیں گے۔ پس قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اس کا ترجمہ پڑھنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ ایک احمدی مسلمان کے لئے بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر اس لئے اتاری تھی کہ آپ کے ماننے والے اس کے مطابق عمل کریں، اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں اور خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں، اس کا پیار حاصل کرنے والے ہوں۔
قرآن کریم کے حکموں میں سے ایک حکم عورت کی حیا اور اس کا پردہ کرنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری زینت نامحرموں پر ظاہر نہ ہو۔ یعنی ایسے لوگ جو تمہارے قریبی رشتہ دار نہیں ہیں ان کے سامنے بے حجاب نہ جاؤ۔ جب باہرنکلو تو تمہارا سر اور چہرہ ڈھکا ہونا چاہیے، تمہارا لباس حیادار ہونا چاہیے۔ اس سے کسی قسم کا ایسا اظہار نہیں ہونا چاہیے جو غیر کے لئے کشش کا باعث ہو۔ بعض لڑکیاں کام کا بہانہ کرتی ہیں کہ کام میں ایسا لباس پہننا پڑتا ہے جو کہ اسلامی لباس نہیں ہے۔ تو ایسے کام ہی نہ کرو جس میں ایسا لباس پہننا پڑے، جس سے ننگ ظاہر ہو۔ بلکہ یہاں تک حکم ہے کہ اپنی چال بھی ایسی نہ بناؤ جس سے لوگوں کو تمہاری طرف توجہ پیدا ہو۔
پس احمدی عورتوں کو قرآن کریم کے اس حکم پر چلتے ہوئے اپنے لباسوں کی اور اپنے پردے کی بھی حفاظت کرنی ہے اور اب جیسا کہ مَیں نے کہا باہر سے لوگوں کا یہاں آنا پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ پھر ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعہ سے بعض برائیاں اور ننگ اور بے حیائیاں گھروں کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ ایک احمدی ماں اور ایک احمدی بچی کا پہلے سے زیادہ فرض بنتا ہے کہ اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچائے۔ فیشن میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ اپنا مقام بھول جائیں۔ ایسی حالت نہ بنائیں کہ دوسروں کی لالچی نظریں آپ پر پڑنے لگیں۔ یہاں کیونکہ مختلف مذاہب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں اور چھوٹی سی جگہ ہے اس لئے آپس میں گھلنے ملنے کی وجہ سے بعض باتوں کا خیال نہیں رہتا۔ لیکن احمدی خواتین کو اور خاص طورپر احمدی بچیوں کو اور ان بچیوں کو جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں اپنی انفرادیت قائم رکھنی ہے۔ ان میں اور دوسروں میں فرق ہونا چاہیے۔ ان کے لباس اور حالت ایسی ہونی چاہیے کہ غیرمردوں اور لڑکوں کو ان پر بری نظر ڈالنے کی جرأت نہ ہو۔ روشن خیالی کے نام پر احمدی بچی کی حالت ایسی نہ ہو کہ ایک احمدی اور غیراحمدی میں فرق نظر ہی نہ آئے۔
پس یہ احمدی ماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں، انہیں پیار سے سمجھاتی رہیں اور بچپن سے ہی ان میں یہ احساس پیدا کریں کہ تم احمدی بچی یا بچہ ہو جس کا کام اس زمانے میں ہر برائی کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ اور احمدی بچیاں بھی جو اپنی ہوش کی عمر کو پہنچ گئی ہیں اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت سے منسوب ہوتی ہیں جنہوں نے اسلام کی حقیقی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں رائج کرنا ہے۔ اگر آپ اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر چل رہی ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔ ورنہ حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت میں شامل رہنے کا کیا فائدہ۔ آج کی بچیاں کل کی مائیں ہیں۔ اگر ان بچیوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگیا تو احمدیت کی آئندہ نسلیں بھی محفوظ ہوتی چلی جائیں گی۔
پس ہر احمدی عورت اس امر کی طرف خاص توجہ کرے کہ اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہے تاکہ اللہ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہو اور برائیوں سے بھی بچنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنے والی ہو۔ اگر آپ نے یہ کرلیا تو آپ کی اولادیں بھی محفوظ ہوجائیں گی اور آپ کے گھر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھر جائیں گے اور آپ کی جماعت کی ترقی کی رفتار بھی کئی گناہ زیادہ ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے کہ آپ مثالی احمدی بن جائیں۔ آپ کے عمل اور دعائیں اور نیکیاں اس علاقے میں احمدیت کا پیغام پھیلانے کا باعث بن جائیں اور مرد بھی آپ سے نمونہ حاصل کرنے والے ہوں اور آپ کا شمار ان عورتوں میں ہو جو انقلاب لانے کا باعث بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس روحانی انقلاب لانے کا باعث بنائے۔ آمین

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/5EMNT]

اپنا تبصرہ بھیجیں