جماعت احمدیہ اور خدمت انسانیت

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان کے ملینئم نمبر 2000ء میں جماعت احمدیہ اور خدمت انسانیت کے حوالہ سے مکرم مولوی برہان احمد ظفر صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’ہمارا یہ اصول ہے کہ کُل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اُسکے گھر میں آگ لگ گئی ہے اور نہیں اُٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اسکے چھڑانے میں اس کی مدد نہیںکرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
حضور علیہ السلام نے بہت سے ایسے لوگوں کی ہمیشہ مالی مدد فرمائی جنہوں نے اپنی ساری زندگی حضورؑ کے خلاف مقدمہ بازی میں صرف کردی تھی۔ ان میں سے ایک شخص نہال سنگھ بھی تھا جس نے کئی احمدیوں پر خطرناک جھوٹا فوجداری مقدمہ بھی دائر کروایا تھا۔ مقدمہ کے ایام میں اُس کی کسی عزیزہ کیلئے مشک کی ضرورت پڑی جو بہت قیمتی چیز تھی۔ اس حالت میں وہ حضورؑ کے دروازہ پر آکر سوالی ہوا تو حضورؑ اُس کا سوال سنتے ہی اندر تشریف لے گئے اور نصف تولہ کے قریب مشک لاکر اُسکے حوالہ کی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی طبی خدمات بیان سے باہر ہیں۔ آپؓ نے ہزاروں مریضوں کا مفت علاج کیا بلکہ نادار مریضوں کی مالی مدد بھی فرمائی۔ آپؓ نے ہزار ہا مریضوں کو قرض بھی دیا۔
حضرت مصلح موعودؓ کی ساری زندگی محتاجوں اور مستحقین کی عملی خدمت کے لئے جدوجہد کرتے گزر گئی۔ 1947ء میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد نے قادیان میں پناہ لی ۔ حضورؓ نے اپنے آدمیوں کو بھوکا رکھتے ہوئے بھی پناہ گزینوں کو کھانا کھلایا۔ 1943ء میں بنگال اور اڑیسہ میں قحط پڑا تو جماعت کی طرف سے اُن کی بھرپور مالی مدد کی گئی۔ اگست 1954ء میں مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا تو جماعت نے ہر طرح کی مدد کی۔ خوراک اور لباس کے ساتھ ساتھ بیمار افراد کو دوائیں تقسیم کیں اور دس ہزار افراد کو ٹیکے لگائے گئے۔ ربوہ کے نواح میں احمدیوں کے مخالفین کو جب بھی سیلاب نے تباہ کیا تو احمدیوں نے اُن کی دشمنی بھلاکر اُن کی ہر طرح سے بھرپور مدد کی۔
خلافت رابعہ کے انقلابی دَور میں بیوت الحمد تحریک کے تحت بے شمار خاندانوں کو باعزت چھت فراہم کرنے میں شاندار خدمت کی گئی۔ 1989ء میں جب سلمان رشدی کے خلاف نام نہاد علماء کی طرف سے مسلمانوں کو اکساکر جلوس نکالا گیا جن پر بھارت میں گولی چلائی گئی اور بمبئی میں بارہ افراد شہید ہوئے تو اگرچہ مسلمان علماء کا طرز عمل اسلامی تعلیم کے برعکس تھا لیکن حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنی جانیں فدا کیں، اُن کی اکثریت معصوم ہے اور صرف حضرت اقدس محمد مصطفیﷺ کی غیرت پر حملہ ہوتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے اپنے لئے زندہ رہنا پسند نہیں کیا۔ جب مولویوں نے انہیں کہا کہ آج دین کی غیرت تمہیں بلا رہی ہے تو جو کچھ اُن کے پاس تھا، یعنی ننگی چھاتیاں لے کر وہ میدان میں نکل آئے۔ اُن کے پسماندگان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ یہ معاملہ ایسا ہے جس میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیﷺ کی عزت اور احترام کا تعلق ہے، آپؐ کی محبت اور غیرت کا تعلق ہے۔ اسلئے ہر جگہ جماعت احمدیہ کو مَیں ہدایت کرتا ہوں کہ جہاں جہاں ایسے لوگ اُس نام پر شہید ہوئے ہیں، اُن کے گھروں تک پہنچیں اور اگر محسوس کریں کہ اقتصادی لحاظ سے اُن کی امداد کی ضرورت ہے تو جماعت تحقیق کے بعد فوری طور پر مجھے رپورٹ کرے۔ آپؐ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان کو ذلیل نہیں ہونے دیا جائیگا۔
چنانچہ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ شہداء کے پسماندگان کو واقعی کسی نے بعد میں نہیں پوچھا۔ وہ لوگ جو اِن کو گھروں سے نکالنے میں پیش پیش تھے وہ دوبارہ اِن کے حالات دیکھنے نہیں آئے۔ چنانچہ مقامی جماعت کی سفارش پر حضور انور نے چار خاندانوں کے لئے مستقل امداد جاری فرمائی اور اپنے خط میں یہ بھی تحریر فرمایا کہ ’’ان خاندانوں کو بتادیں کہ اس امداد میں کسی قسم کی کوئی مذہبی Tie نہیں ہے۔ آپ اپنے عقیدہ میں کُلّی طور پر آزاد ہیں۔ اس بارہ میں کسی قسم کی الجھن کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ امداد کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
مضمون میں قدرتی آفات (زلازل، سیلاب اور قحط) کے دوران جماعتی خدمات کو کسی قدر اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔ نیز فسادات کے دوران جماعتی امداد کا بھی بیان ہے۔ 24؍اکتوبر 1989ء کو بھاگلپور میں مذہبی فسادات بھڑک اٹھے جن کے نتیجے میں کئی گھرانے اُجڑ گئے۔ حضور انور ایدہ اللہ نے ایسے وقت دو کالونیاں تیار کرنے کی ہدایت فرمائی اور ایک کالونی ’’کرشن نگر‘‘ میں ہندوؤں اور دوسری کالونی ’’طاہر نگر‘‘ میں مسلمانوں کو بسایا گیا۔ پھر بابری مسجد کی شہادت پر جب بمبئی میں بدترین فسادات پھوٹ پڑے اور ایک ہی دن میں پچاس ہزار افراد مہاجر بن کر رہ گئے تو جماعت احمدیہ نے تمام علاقوں میں امدادی پروگرام شروع کئے۔ پانچ علاقوں میں ریلیف کیمپ لگائے۔ ایک ہزار سے زائد کمبل اور چادریں تقسیم کی گئیں۔ سینکڑوں افراد کو گھروں کو واپس جانے کیلئے کرایہ مہیا کیا گیا۔ جماعت کی امداد بلاتفریق مذہب ہر پناہ گزین کیلئے تھی۔ اسی طرح متعدد مقامات پر جماعت کئی مکانات تعمیر کرکے مستحقین کو دے چکی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں