جوتی کا تسمہ

قبولیت دعا کے حوالہ سے ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ فروری 2010ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں مکرم عطاء المجیب راشد صاحب نے قبولیتِ دعا کے دو واقعات بیان کئے ہیں۔
٭ محترم کیپٹن محمد حسین چیمہ صاحب مرحوم نے 1991ء کی ایک مجلس میں بیان کیا کہ ایک روز وہ اپنے گھر (واقع لندن) سے مسجد فضل آنے کے لئے روانہ ہوئے تو چلتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ اُن کے ایک بوٹ میں تسمہ نہیں ہے۔ اس احساس کے ساتھ ہی اُن کا ذہن اس حدیث کی طرف گیا کہ ’’تم اپنی سب حاجات کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو۔ خواہ ضرورت بڑی ہو کہ چھوٹی۔ حتّی کہ اگر تمہیں جوتی کے ایک تسمہ کی بھی ضرورت ہو تو وہ بھی اپنے خدا سے مانگو‘‘۔ چنانچہ دعا کرتے ہوئے ابھی وہ چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ اُنہیں سڑک کے کنارے ایک تسمہ گرا ہوا نظر آیا جو عین اُسی رنگ اور طرز کا تھا جس کی اُنہیں ضرورت تھی۔
٭ مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ایک اجلاس سے فارغ ہوکر مَیں اپنی کار میں موٹروے پر بریڈفورڈ جارہا تھا۔ دوسری کار انگریز مبلغ مکرم طاہر سیلبی صاحب ڈرائیو کررہے تھے کہ اچانک انہوں نے کار روک لی۔ اس پر مجھے بھی کار روکنی پڑی۔ تیز بارش ہورہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کی کار کا بونٹ (Bonnet) ڈھیلا ہوگیا ہے اور ہوا سے اوپر کو اُٹھنے لگتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی حالت میں کار چلانا خطرہ سے خالی نہیں تھا۔ اُنہیں ایسی رسّی کی ضرورت تھی جس سے بونَٹ کو باندھ دیا جاتا۔ لیکن تیز بارش میں موٹروے کے کنارے رسّی کی تلاش بے سُود ثابت ہوئی۔ کاروں کی تلاشی سے بھی کچھ برآمد نہ ہوا تو دعا کے ساتھ میری توجہ مذکورہ بالا حدیث کی طرف گئی اور فوراً مَیں نے اُن کے پاؤں میں پہنے ہوئے تسمہ والے بوٹوں کی طرف اشارہ کیا کہ تسمہ نکال کر کام چلالیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ منزل پر پہنچ کر مَیں نے موجود احباب کو تسمہ کے استعمال کے پس منظر میں راہنمائی کرنے والی حدیث سے آگاہ کیا تو سب ہی اس سے محظوظ ہوئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

2 تبصرے “جوتی کا تسمہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X