جوہری دھماکوں کے اثرات

دنیا کا پہلا کامیاب ایٹمی تجربہ امریکہ نے نیومیکسیکو کے قریب ایک صحرا میں 16؍جولائی 1945ء کو کیا تھا۔ اور 6؍اگست 1945ء کی صبح پونے تین بجے ایک B-29 جہاز مغربی پیسیفک میں واقع امریکہ کی ایک بندرگاہ سے ایٹم بم لے کر دیگر دو جہازوں کے ہمراہ روانہ ہوا اور صبح سوا آٹھ بجے جاپان کے شہر ہیروشیما کی فضا میں پہنچ گیا۔ موسم صاف تھا۔ جہاز نے شہر کے وسط میں ایٹم بم پھینکا اور اس بم کی تباہ کاری سے بچنے کے لئے پوری رفتار کے ساتھ داہنے ہاتھ پرواز کرگیا۔ بم پھٹنے تک یہ جہاز سولہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرچکا تھا۔ ٹیکنیکل میگزین 1999ء (انگریزی حصہ) میں جوہری دھماکوںکے اثرات کے بارہ میں ایک مضمون مکرم منیر احمد فرخ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
ایٹم بم گرائے جانے کے 43 سیکنڈ بعد شدید دھماکہ کے ساتھ پھٹا۔ عینی شاہد کے مطابق گلابی اور سفید رنگ کی آگ کا ایک غیرمعمولی بڑا شعلہ پیدا ہوا۔ اس کے ساتھ ہی کھمبی کی شکل میں دھوئیں کا ایک مینار زمین سے نو ہزار میٹر بلند ہوا۔ بم کے پھٹنے سے شہر کے کئی حصوں میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد عمارتیں یا تو منہدم ہوگئیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔ ایٹم بم کی تباہی تین اقسام کی ہوتی ہے: حدّت میں انتہائی اضافہ، شدید دھماکہ اور ہوا کا دباؤ، تابکاری اثرات۔
ایٹم بم کے نتیجے میں جو شعلہ پیدا ہوا اُس کا درجہ حرارت تین لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو ایک سیکنڈ کے اندر پانچ سو ساٹھ میٹر کی گولائی میں پھیل گیا اور اِس کی بیرونی سطح کا درجہ حرارت پانچ ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اس شعلہ کے نتیجے میں ساڑھے تین کلومیٹر میں علاقہ میں موجود لوگوں کے جسم جھلس گئے اور کپڑے اور لکڑی کے مکان جل کر راکھ ہوگئے جبکہ ایک کلومیٹر کے علاقہ تک کے پتھر بھی پگھل گئے۔
دھماکہ کے نتیجہ میں شدید دھماکہ ہوا اور ہوا اپنی اُس رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز تھی جتنی شدید طوفان میں ہوتی ہے۔ حتّٰی کہ قریباً سوا کلومیٹر کے فاصلہ پر ہوا کی رفتار 120؍میٹر فی سیکنڈ تھی۔ اس کی وجہ سے متعدد افراد زمین سے کئی میٹر اوپر اچھل گئے، جھلسی ہوئی جلد کے چیتھڑے اُڑ گئے اور جسموںکے اندرونی اعضاء کو شدید نقصان پہنچا۔قریباً سوا دو کلومیٹر تک کی لکڑی کی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہوگئیں جبکہ کنکریٹ سے بنی ہوئی عمارتوں کی چھتیں زمیں بوس ہوگئیں۔
ایٹم بم کے نتیجہ میں تابکاری اثرات بہت تباہ کن تھے۔ گاما ریز اور نیوٹرانز کی بارش ہوئی اور چار روز کے بعد بھی اگر کوئی شخص بم گرنے کی جگہ سے ایک کلومیٹر کے فاصلہ تک گیا تو اُس کو اِن تابکاری اثرات سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ تاہم بم پھٹنے کے نصف گھنٹے بعد جب اوپر اٹھا ہوا دھوئیں اور راکھ کا طوفان شہر پر نازل ہونا شروع ہوا تو اُس میں خطرناک تابکاری اثرات تھے۔ ’’سیاہ بارش‘‘ کے نام سے یاد کی جانے والی یہ راکھ ڈیڑھ گھنٹے تک شہر پر برستی رہی جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے اور اکثر ایک سال کے اندر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک اندازہ کے مطابق اس بم کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ چھہتر ہزار عمارتیں جل کر خاکستر ہوگئیں یا تباہ ہوگئیں۔
ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کی تباہی موجودہ بموں کی طاقت کے مقابلہ پر بہت کم ہے۔ آج کے دور میں صرف ایک بم گرائے جانے کی صورت میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوجائیں گے جبکہ پانچ چھ کلومیٹر تک کے علاقہ میں موجود ہر چیز صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی اور ایک سو مربع کلومیٹر تک تابکاری اثرات شدید تباہی پھیلائیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

جوہری دھماکوں کے اثرات” ایک تبصرہ

  1. 005 YUA
    ایٹم بم اور اولاد آدم
    تحریر
    علامہ یوسف جبریلؒ
    کون ہے جو ایٹم بم کی تباہ کاری سے بے خبر ہے۔ کون ایسا صاحبِ اولاد ہے جو تصور میں سینکڑوں معصوم بچوں کو زندہ آگ میں جلتا دیکھ کر کانپ نہیں اٹھتا۔ ماسکو، واشنگٹن، اور لندن میں بسنے والے علمبردارانِ تہذیب اس عذابِ الہی سے قطعاَ َبے خبر نہیں ہو سکتے۔ یو این او کے جہاں نما ہال میں کرہ ارض کی جملہ انسانیت کی نمائندگی کرنے والی چیدہ اور جہاندیدہ شخصیتیں اس دیو جہاں سوز کی تباہ کاریوں سے لاعلمی کا اظہار کرنے میں حق بجانب نہیں ہو سکتیں لیکن ہر شخص ایٹمی قوت کے پر امن استعمال کا سہارا لے کر شتر مرغ کی طرح اپنے سر کو ریت میں دھنسائے کھڑا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ہم جو اس خطرے کو نہیں دیکھ سکتے شائید وہ بھی ہماری طرف نہیں آ رہا۔ موثر سے موثر ترین ایٹم بم ایجاد کئے جا رہے ہیں۔ دنیا ایٹمی یا غیر ایٹمی گروہ میں بٹ چکی ہے۔بعض قومیں اندھا دھند دوڑ میں اپنے بھوکے عوام کو ننگا رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں مگر دو چار ایٹم بم بنا کر لہو لگا کر شہیدوں میں نام لکھانے کے لئے بے قرار ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس پر امن ایٹمی استعمال کا ڈھنڈھورا پیٹا جاتا ہے اس کی کوئی اچھی خاصی نشانی سامنے نہیں آ رہی ورنہ اس حقیقت سے کس نابکار کو انکار ہو سکتا ہے کہ ایٹمی قوت اگر انسان کی فلاح وبہبودکے لئے استعمال کی جائے تو انسانیت کے بہت سارے دکھوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔تاہم اس بے خیالی کے باوجود ایٹمی تباہ کاری کا خوف ہر جگہہ سائے کی طرح مسلط ہےلیکن آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل،والا مسئلہ ہے۔خطرہ سامنے نہیں،اس لئے دور ہے۔ہر کوئی اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہے۔ایٹمی تباہی بے شک بے حد و حساب ہے۔بنی نوع انسان کو زندہ آگ میں جھونک دینا کوئی معمولی المیہ نہیں، تاہم ایک بہت بڑا پہلو جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں کہ اس ایٹمی تخلیق کے مظاہرے سے خود انسان کی اپنی تخلیق کا مقصود غارت ہو کر رہ جائے گا مگرافسوس کہ حرص کی آگ چہار دانگِ عالم میں اتنی تیز ہو گئی ہے اور باہمی خوف و ہراس اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ہر فرد اور ہر قوم نفسی نفسی کے عالم میں اپنی حفاظت کا سامنا ہر جائز و ناجائزطریقے سے بہم پہنچانے میں سرگرم ہے۔ اس آگ کو سرد کرنے کا طریق کار بھی عجیب ہے کہ ایندھن کے انبار جھونکے جا رہے ہیں۔پانی کے پمپ تک کسی کا ہاتھ نہیں بڑھتا۔ عالم ِاسلام کو یک زبان ہو کر ایٹمی تباہ کاری کے خلاف سینہ سپر ہو جانا چاہیئے۔ اس طرح مسلمانوں کو دوسری تمام قوموں پر فوقیت حاصل ہو گی، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ماضی میں مسلمانوں کے دنیا پر بڑے بڑے احسان ہیں لیکن اگر مسلمان ایٹمی خطرے کو دنیا سے دور کریں تو یہ احسان عظیم ہو گا۔قرآن حکیم نے ایٹمی بم کے متعلق سورۃ الھمزہ میں واضح پیشین گوئی کی ہے۔اس طرح سے بھی مسلمانوں کابحیثیت مسلمان یہ فرض بنتا ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں اللہ تعالیٰ کاپیغام، نشر کر دیں شائید کہ کسی دل میں اتر جائے تری بات اور اس سے بڑی بات کیا ہوگی۔
    علامہ یوسف جبریلؒ
    ادارہ افکار جبریل ؒقائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ
    یوسف جبریل فاونڈیشن پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں