تعارف کتاب: ’’حرفِ عاجزانہ‘‘

تعارف کتاب
از فرخ سلطان محمود
(مطبوعہ انصارالدین نومبر و دسمبر 2013ء)

’’حرفِ عاجزانہ‘‘

مکرم رانا مبارک احمد صاحب کا اسم گرامی (لاہور پاکستان میں) جماعتی خدمات کے حوالہ سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اگرچہ پیشہ کے اعتبار سے آپ ایک انجینئر ہیں لیکن سلسلہ احمدیہ کے اخبارات و رسائل میں آپ کے افکار تسلسل سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ قبل ازیں آپ کی ایک کتاب ’’یادیں اور قربتیں‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آچکی ہے۔ اور گزشتہ سال 2012ء میں ایک دوسری کتاب ’’حرفِ عاجزانہ‘‘ کے نام سے طبع ہوئی ہے جو کہ آج ہمارے پیش نظر ہے۔ یہ کتاب دراصل اُن مختصر مضامین کا مجموعہ ہے جو آنمحترم نے مختلف اخبارات و رسائل کو ارسال کئے اور وہ اُن جرائد میں شامل اشاعت بھی کئے گئے۔
A5 سائز کے 236 صفحات پر مشتمل یہ کتاب سادہ مگر رنگین سرورق کے ساتھ، غیرمجلّد شائع کی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے نام ہے اور مصنف ابتدائی کلمات میں رقمطراز ہیں کہ اُن کی پہلی کتاب پر پہلا تبصرہ بھی حضورانور ایدہ اللہ نے اپنے خط کے ذریعہ فرمایا تھا جس میں رقم فرمایا تھا:
’’…آپ کی کتاب یادیں اور قربتیں بھی مل گئی ہے۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ اور مَیں تقریباً ساری کتاب میں سے گزر گیا ہوں۔ مضمون تو آپ ویسے بھی اچھے لکھتے ہیں۔ اچھا ہوگیا کہ اب تک کے سب مضامین جمع ہوگئے۔ ان یادوں میں پڑھنے والوں کے لئے سبق اور اللہ پر یقین اور اس کے فضل کے واقعات بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم و فضل میں مزید جلاء بخشے اور تمام نیک تمنائیں پوری فرمائے۔‘‘
’’حرفِ عاجزانہ‘‘ خلفائے سلسلہ کی قبولیت دعا اور شفقتوں کے واقعات، بعض بزرگوں اور خدامِ سلسلہ کی سیرت کے حالات، بعض سفرناموں کے ذکر اور متعدد متفرق مگر دلچسپ اور معلوماتی مضامین پر مشتمل ہے۔ تاہم اس امر کے بیان کرنے میں ہمیں حجاب نہیں ہے کہ طباعت سے قبل اس کتاب میں شامل مواد کی پروف ریڈنگ کا معیار مزید بہتر کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ املاء کی اغلاط تو کسی بھی شستہ اور جاندار تحریر کو مجروح کردیتی ہیں۔ البتہ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ مکرم رانا صاحب موصوف کی تحریر سادگی اور سلاست کا بے باک اظہار ہے، ہر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک ہے۔ نیز دین کی محبت اور مخلوق کی خدمت کے جذبہ سے سرشار نظر آتی ہے۔ نہ صرف تربیت کے مختلف پہلوؤں پر آپ کی نظر ہے بلکہ یہ بھی آپ کا حسن نظر ہے کہ آپ ہر چیز میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ سے بالمشافہ ملنے پر بھی درحقیقت یہی احساس پیدا ہوتا ہے۔ گویا آپ کی تحریر بھی آپ کی شخصیت کا ہی پرتَو ہے۔
اس کتاب میں بہت سی تصاویر بھی شامل اشاعت کی گئی ہیں جن کی مدد سے اُن افراد کا تعارف حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے جن کا ذکرخیر اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔
اس کتاب میں ’’خلافت احمدیہ کی دعاؤں کی قبولیت‘‘ کے حوالہ سے شامل کئے جانے والے ایک باب میں درج ایک واقعہ نمونہ کے طور پر ہدیۂ قارئین کیا جارہا ہے جس سے قارئین کو کتاب کا مزاج سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ مکرم رانا صاحب رقمطراز ہیں کہ:
’’16مئی 2009ء کو خاکسارکا بیٹا عطاء النور سیڑھیوں سے گرا اور دیوار کے ساتھ ٹکرا گیا جس سے بے تحاشا خون بہہ نکلا۔ فوری طور پر جنرل ہسپتال ایمرجنسی اپریشن روم میں پہنچا دیا اور اُسی رات تین گھنٹے کا آپریشن کیا گیا۔ شدید خطرہ کی حالت تھی اور صرف 10فیصد بچنے کے چانسز تھے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کوبذریعہ فیکس دعا کی درخواست کی تو حضور کی طرف سے جواب آیا: اللہ فضل فرمائے ۔ اپنے بیٹے کو حسب ذیل ہومیو پیتھی کا نسخہ بھی استعمال کروائیں اللہ آپ کے بیٹے کو کامل و عاجل شفا عطا فرمائے اورصحت والی زندگی سے نوازے۔
نسخہ یہ تھا: آرنیکا اور نیٹرم سلف۔ (روزانہ ایک خوراک چار دن۔ اس کے بعد ہفتہ کے وقفہ سے دوخوراکیں)۔
پھر سب ڈاکٹر حیران تھے اور اس آپریشن کی کامیابی پر مبارکباد دے رہے تھے۔ بعد میں خون کا پریشر دماغ کے دوسری طرف چلا گیا اور 21مئی کو دوبارہ آپریشن کرنا پڑا۔ اس میں کامیابی کا چانس اور بھی کم تھا۔ چنانچہ حضور کو پھر درخواستِ دعا کی۔ جس کا جواب ملا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرا آپریشن بھی کامیاب رہا ۔ پھر 29مئی کو تیسرے آپریشن کی ضرورت پڑی کیونکہ دماغ کے اوپر والے حصے میں پیپ پڑ گئی تھی۔ یہ آپریشن بہت خطرناک تھا اور ڈاکٹر کامیابی پر پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔ حضور انور کی خدمت میں درخواست دعا کی تو حضور نے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ معجزانہ طورپر شفا اورصحت دے اورعزیز کو عمردراز بخشے ۔ آخر ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے پیپ صاف کردی اور ڈیڑھ انچ مربع ہڈی بھی نکال دی۔ ڈاکٹر خود بھی اس تیسرے آپریشن کی کامیابی پر بڑے حیران تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو صرف دعا کا ہی اعجاز ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیٹا ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر 16جون کو گھر آگیا‘‘۔
اس وقت دنیا میں کئی کروڑ احمدی ہیں اوربہت سے دن رات اس جماعت میں شامل ہورہے ہیں لیکن ہر احمدی کے لئے خلیفہ وقت کی دعائیں معجزہ دکھاتی ہیں اور بلاشبہ مذکورہ بالا واقعہ ایسے لاکھوں واقعات میں سے صرف ایک ہے۔
اپنے محدود کالم کے باعث ذیل میں محض چند ایسے عناوین بیان کئے جارہے ہیں جن سے قارئین کو اس کتاب میں شامل بعض دلچسپ مضامین کا اندازہ ہوسکے گا اور دیگر موضوعات کے علاوہ اِن عناوین میں آپ کی دلچسپی بھی آپ کو مجبور کردے گی کہ آپ یہ کتاب حاصل کرکے اس کا مطالعہ کریں۔ مثلاً:
٭… دہشت گردی سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر۔
٭… ایمبولینس اور ریسکیو ٹیم۔
٭… تجارت کے اصول اور ایک احمدی تاجر۔
٭… مچھلی اور دل کا علاج۔ ٭… غصہ حرام ہے۔
٭…شہد اور دارچینی۔ ٭… دانتوں کی خرابی۔
٭… زیتون اور اس کا تیل۔ ٭…نیند۔
٭…کیلا اور بلڈپریشر۔ ٭… بچے کی شخصیت۔
٭…موٹاپے سے نجات۔ ٭… شہد کی مکھی۔
٭… فکروغم کا انسانی صحت پر اثر۔
٭… سیب کے چھلکے کا استعمال۔
٭… ورزش اور دفاعی نظام ۔… وغیرہ
دلچسپ اور مفید مضامین کی یہ فہرست کہیں زیادہ طویل ہوسکتی تھی لیکن تشنگی کا ایک پہلو اپنے قارئین کی نذر کرتے ہوئے ہم مکرم رانا مبارک احمد صاحب کے حق میں اسی دعا پر اکتفاء کرتے ہیں کہ
’’اللہ کرے زور قلم اَور زیادہ‘‘
…٭٭…٭٭…٭٭…

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں