حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ

رئیس مدینہ ابو طلحہؓ کا نام زید بن سہل تھا اور مدینہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنونجار سے تعلق تھا۔ زبردست تیرانداز، ماہر شکاری اور بہت بہادر انسان تھے۔ آپؓ کے بارہ میں ایک تفصیلی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12 و 13؍فروری 1999ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
اسلام کا پیغام جب مدینہ پہنچا تو مدینہ کی ایک معزز خاتون امّ سُلَیم نے اسے قبول کرلیا۔ اس پر اُن کا شوہر اس قدر ناراض ہوا کہ مدینہ چھوڑ کر چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ابو طلحہ نے امّ سُلَیم کو شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگرچہ ابوطلحہ جیسے عظیم انسان کا پیغام ردّ نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارے درمیان کفر و اسلام کا اختلاف ہے اور اگر ابوطلحہ اسلام قبول کرلے تو میں اسی کو اپنا مہر سمجھوں گی۔ چنانچہ ابو طلحہ نے اسلام قبول کرلیا اور امّ سُلَیم سے شادی کرلی۔ اس کے بعد اس گھرانے نے ایمان اور اخلاص میں غیرمعمولی ترقی کی۔ آنحضرتﷺ کو ایسی بے تکلفی اس گھرانہ کے ساتھ تھی کہ اپنی ذاتی ضروریات کے لئے بلاتردّد انہیں یاد فرمایا کرتے تھے۔ جب آنحضورؐ مدینہ تشریف لائے تو آپؓ کو فرمایا کہ اپنے بچوں میں سے کوئی ایسا مناسب بچہ تلاش کرو جو ہمارے گھر کے کام کاج کر دیا کرے۔ آپؓ نے حضرت انسؓ کو خدمت رسالت میں پیش کیا جو کئی سال تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے۔
آنحضرتﷺ کی حضرت صفیہ کے ساتھ شادی کے موقع پر آنحضورﷺ کے گھر کا انتظام امّ سُلَیم کے ہاتھ میں تھا اور آپؓ ہی نے حضرت صفیہ کو تیار کرنے کی خدمت انجام دی۔ پھر حضرت زینبؓ کی شادی کے موقع پر دعوت ولیمہ کے لئے کھانا وغیرہ بطور تحفہ آپؓ نے اپنے گھر سے تیار کرکے بھجوایا۔
ایک رات جب مدینہ میں کچھ شور بلند ہوا تو آنحضورﷺ نے ابو طلحہؓ کے گھر جاکر آپؓ کا گھوڑا ’’مندوب‘‘ نامی عاریۃً لیا اور جلدی کے باعث اس کی ننگی پشت پر زین ڈالے بغیر تشریف لے گئے۔ واپس آکر تسلی دی کہ خطرے کی کوئی بات نہیں۔ ابوطلحہؓ کا یہ گھوڑا اڑیل تھا مگر اُس رات کے بعد نبی اکرمﷺ کی برکت سے ایسا ہوا کہ کوئی گھوڑا دوڑ میں اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔
حضرت ابو طلحہؓ کا ایک کھجوروں کا باغ مسجد نبوی کے سامنے تھا۔ آنحضورﷺ گاہے بگاہے تشریف لے جاکر کھجوریں تناول فرماتے اور اس کے کنویں کا ٹھنڈا پانی پیتے تھے۔
حضرت ابو طلحہؓ کو نبی کریمؐ کی محبت کا کمال عرفان عطا ہوا تھا۔ آپؓ وہ پہلے شخص تھے جو تبرک کی خاطر آنحضورﷺ کے بال حاصل کرتے تھے۔ خود آنحضورﷺ کو آپؓ کی اس خواہش کا احترام تھا۔ چنانچہ حجۃالوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے بال کٹوائے تو آدھے باقی صحابہ میں تقسیم کئے اور نصف حصہ سر کے بال آپؓ کو عطا فرمائے۔
آپؓ نے آنحضرتﷺ کا ایک پیالہ بھی تبرکاً سنبھال کر رکھا ہوا تھا جو شکستہ ہونے کے بعد لوہے کی تار سے جڑا تھا۔ حضرت انسؓ نے ایک دفعہ خواہش ظاہر کی کہ لوہے کی تار کی بجائے سونے یا چاندی کی تار سے پیالہ کا حلقہ باندھا جائے۔ لیکن آپؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کی بنائی ہوئی چیز میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کرنی۔
مدینہ کے ابتدائی مشکل حالات میں ایک روز ابو طلحہؓ نے امّ سُلَیم سے کہا کہ مَیں نے رسول کریم ﷺ کی آواز میں ضعف محسوس کیا ہے جو مسلسل فاقہ کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے، کیا تمہارے پاس گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟۔ امّ سُلَیم نے جَو کی کچھ روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضرت انسؓ کے ذریعہ خدمت رسالت میں بھجوادیں۔ حضرت انسؓ مسجد نبوی پہنچے تو آنحضورﷺ بعض صحابہ ؓ کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا ابو طلحہؓ نے تمہیں کھانے کی کوئی چیز دے کر بھجوایا ہے۔ انسؓ نے اثبات میں جواب دیا تو آنحضورؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ چلو ابو طلحہ کے گھر چلیں۔ جب ابو طلحہؓ کو اس کا علم ہوا تو آپؓ نے فکرمندی سے ام سلیم سے ذکر کیا اس پر امّ سُلَیم نے کمال توکّل سے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ تب ابو طلحہؓ نے گھر سے نکل کر آنحضورﷺ کا استقبال کیا۔ حضورؐ نے امّ سُلَیم سے پوچھا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے کر آؤ۔ ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں اور ایک برتن میں سے کچھ گھی نکال کر ان پر ڈالا۔ آنحضورﷺ نے اس پر دعا کی اور فرمایا کہ دس دس کرکے صحابہ اندر آتے جائیں اور کھانا کھاتے جائیں۔ اس طرح موجود تمام حاضرین، جن کی تعداد ستّر اسّی کے قریب تھی ، نے کھانا تناول کیا۔
ایک اور تنگی کے زمانہ میں جب ایک مہمان کے لئے کسی کے گھر سے کچھ میسر نہ آسکا تو نبی کریم ﷺ کی تحریک پر ابو طلحہؓ نے لبیک کہا اور مہمان کو اپنے ہمراہ لے آئے۔ ام سلیم نے کہا کہ گھر میں بچوں کے لئے صرف معمولی سا کھانا ہے۔ چنانچہ ان ایثار پیشہ میاں بیوی نے بچوں کو بھوکے سلادیا اور کھانا چننے کے بعد چراغ درست کرنے کے بہانے گُل کر دیا تاکہ رسول اللہ کا مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھالے۔ میزبان خود عملاً کھانا کھانے میں شریک نہ ہوئے بلکہ خالی منہ ہلاتے رہے تاکہ مہمان کے اعزاز کی خاطر یہی ظاہر ہو کہ گویا وہ کھانے میں شریک ہیں۔ صبح جب ابو طلحہؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضورؐ نے فرمایا کہ رات مہمان کے ساتھ جو سلوک تم لوگوں نے کیا خدا تعالیٰ بھی اس پر خوش ہوکر مسکرا رہا تھا۔
ایک دفعہ ابو طلحہؓ کا بیٹا شدید بیمار تھا کہ آپؓ کو کسی کام سے باہر جانا پڑا۔ رات گئے واپس آئے تو بچے کا پوچھا۔ امّ سُلَیم نے جواب دیا کہ وہ پُرسکون ہے اور اسے مکمل آرام ہے۔ آپؓ نے اس سے ظاہری صحت کا مفہوم لیا اور اگلی صبح جب مسجد جانے لگے تو امّ سُلَیم نے کہا کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنی امانت ہم سے واپس لے لی ہے۔ آپؓ اس پر بہت تلملائے اور نبی کریمﷺ کی خدمت میں شکایتاً عرض کیا کہ امّ سُلَیم نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔آنحضورؓ نے دونوں میاں بیوی کو دعا دی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دس بیٹے عطا کئے جو سب حافظِ قرآن تھے۔
حضرت ابو طلحہؓ مالی قربانی میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ ایک بار مسجد نبوی کے سامنے والا اپنا باغ بھی خدمت رسالت میں پیش کردیا۔ آنحضورﷺ نے آپؓ ہی ذریعے اس باغ کو آپؓ کے غریب رشتہ داروں میں تقسیم کروا دیا۔
آپؓ کی اطاعت کا یہ حال تھا کہ ایک بار آپؓ کے ہاں محفل جمی تھی جس میں مہمانوں کی تواضع شراب سے کی جا رہی تھی کہ مدینہ کی گلیوں میں منادی ہوئی کہ شراب حرام کردی گئی ہے۔ آپؓ نے اعلان کرنے والے سے کوئی سوال کرنے کی بجائے حکم دیا کہ شراب کے مٹکے فوراً توڑ دو۔
جنگ بدر میں اسلامی لشکر کو تازہ دم کرنے کیلئے اُن کیلئے عارضی نیند کے غلبہ کا جو نشان اتارا گیا، ابو طلحہؓ اس کے بذات خود شاہد تھے۔ چنانچہ آپؓ کے ہاتھ سے اونگھ آ جانے کے باعث تلوار گر گر جاتی تھی، آپؓ پھر پکڑتے تھے اور وہ پھر گرتی تھی۔ بدر کے میدان میں آپؓ نے ایسی زبردست تیراندازی کی کہ دو تین کمانیں توڑ ڈالیں۔ آپؓ زبردست جنگجو تھے اور میدان میں شیر کی طرح گرج کر دشمن پر حملہ آور ہوتے تھے۔ آنحضورﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لشکر میں ابو طلحہؓ کی تنہا آواز ایک جماعت کی آواز پر بھی بھاری ہوتی ہے۔
غزوہ احد میں آپؓ بھی ان چند جان نثاروں میں شامل تھے جو مسلمانوں کی پسپائی کے وقت آنحضور ﷺ کے گرد جمع ہوگئے تھے۔ انہی خوش نصیبوں میں ایک مہاجر قریشی ابو طلحہؓ بھی تھے جنہوںنے آنحضورﷺ کے چہرہ کی حفاظت کے لئے اپنا ہاتھ بطور ڈھال تیروں کے آگے کردیا اور اُن کا ہاتھ شل ہوکر ٹنڈا ہوگیا۔
غزوہ خیبر کے موقع پر بھی یہ فدائی اپنے آقا کے ہمرکاب تھا اور آپؓ کی سواری آنحضورﷺ کی سواری کے بالکل ساتھ تھی۔ غزوہ سے واپسی کے وقت بھی آپؓ آنحضورؐ کے بالکل ساتھ ساتھ رہے اور جب ایک موقع پر آنحضورﷺ کی اونٹنی جس پر حضورؐ اور حضرت صفیہؓ سوار تھے، ٹھوکر کھاکر گری تو باوفا ابو طلحہؓ نے دیوانہ وار اپنے اونٹ سے چھلانگ لگادی اور عرض کیا میرے آقا! میں آپ پر قربان، آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی۔ آنحضورؐ نے فرمایا، پہلے عورت کی خبرگیری کرو۔ اس پر ابوطلحہؓ نے کمال حیاداری کے ساتھ پہلے اپنے چہرہ پر کپڑا ڈال کر پردہ کیا تب ام المومنین کی طرف رُخ کیا اور پھر وہ کپڑا انہیں اوڑھا دیا اور حضرت صفیہؓ اطمینان سے سنبھل کر بیٹھ گئیں۔ ابوطلحہؓ نے پھر حضورؐ کی اونٹنی کا پالان مضبوطی سے باندھا اور آپؐ کو اور حضرت صفیہؓ کو سوار کرواکے روانہ کیا۔
فتح مکہ اور غزوہ حنین کے تاریخی معرکوں میں بھی حضرت ابو طلحہؓ شریک ہوئے۔ حنین کے موقع پر آنحضورﷺ نے اعلان کیا تھا کہ جو مجاہد کسی کافر کو قتل کرے گا تو کافر کا اسلحہ اور سواری بطور مال غنیمت اسے ملے گا۔ ابوطلحہؓ کے ہاتھوں اس روز بیس دشمنان اسلام کیفر کردار کو پہنچے۔ حضرت ام سلیمؓ بھی ایک خنجر تھامے غزوہ میں شامل تھیں۔
آنحضرتﷺ کی وفات پر تدفین کے لئے جب یہ سوال پیدا ہوا کہ قبر میں لحد بنائی جائے یا سیدھی قبر ہو تو حضرت عباسؓ نے یہ معاملہ منشاء الٰہی کے حوالہ کرتے ہوئے دو آدمی بیک وقت دونوں قسم کی قبر بنانے والوں کی طرف دوڑائے۔ حضرت ابو عبیدہؓ سیدھی قبر بناتے تھے جسے شق کہتے ہیں۔ ان کی طرف جو قاصد گیا وہ اسے نہ مل سکے۔ حضرت ابوطلحہؓ لحد بناتے تھے۔ اُن کی طرف بھیجا ہوا ، اُنہیں ہمراہ لایا چنانچہ نبی کریم ﷺ کی لحد بنانے کی سعادت بھی ابو طلحہؓ کے حصہ میں آئی۔ اور یوں عمر بھر ذاتی خدمات بجالانے والے ابو طلحہؓ کو اس آخری خدمت کی بھی توفیق ملی۔
حضرت ابو طلحہؓ خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں بھی جہاد کی توفیق پاتے رہے۔ جب حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں بحری بیڑہ مہم پر روانہ ہونے لگا تو آپؓ بھی اس میں با اصرار شامل ہوئے۔ اسی سفر میں (34ھ میں) آپؓ کی وفات ہوگئی۔ دورانِ سفر ساتویں روز جب ایک جزیرہ پر بحری بیڑہ اترا تو وہاں آپؓ کو دفن کیا گیا۔ اس عرصہ میں آپؓ کی نعش بالکل محفوظ رہی۔ حضرت عثمانؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
اگرچہ حضرت ابو طلحہؓ کو ایک لمبا عرصہ آنحضورﷺ کی صحبت میں گزارنے کی سعادت عطا ہوئی لیکن اپنی تواضع، انکسار اور محتاط طبیعت کے باعث آپؓ کی روایات بہت کم ہیں۔ اور جو روایات ہیں وہ آپؓ کی گہری دینی بصیرت کو ظاہر کرتی ہیں۔ آپؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز نبی کریم ﷺ کے چہرے سے خوشی کے آثار ہویدا تھے۔ صحابہؓ کے عرض کرنے پر فرمایا کہ میرے ربّ نے مجھے خوشخبری دی ہے کہ میری امّت میں سے اگر کوئی ایک دفعہ درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دس نیکیاں شمار کرے گا اور دس خطائیں معاف کرے گا اور اس کے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور مزید یہ کہ اسی طرح کی رحمتیں اور برکتیں اس کی طرف بھی لَوٹائی جائیں گی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/m25qR]

اپنا تبصرہ بھیجیں