حضرت امام محی الدین ابوزکریاؒ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 25 ستمبر 2020ء)

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اکتوبر 2012ء میں ساتویں صدی عیسوی کے بزرگ عالم حضرت یحییٰ بن شرف کے بارے میں مکرم آصف گلزیب صاحب کے قلم سے مضمون شامل اشاعت ہے۔
آپ کا لقب محی الدین اور کنیت ابوزکریا تھی۔ دمشق کے مقام نَوِی میں محرم الحرام 631ہجری میں پیدا ہوئے۔ بچپن یہیں گزارا اور قرآن کریم حفظ کیا۔ کھیل کُود سے کتراتے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہنا پسند تھا۔ آپؒ کی قرآن کریم سے محبت دیکھ کر لوگ کہا کرتے کہ یہ بڑا ہوکر بہت بڑا عالم بنے گا۔ آپ کے والد لوگوں کی رائے کے مطابق آپ کو پروان چڑھانے کے لیے آپ کو دمشق لے گئے جو علوم و فنون کا گہوارہ تھا۔ وہاں مدرسہ واحیہ میں آپ کو داخل کرلیا گیا اور دو سال کے اندر آپ نے’’کتاب التنبیہ‘‘حفظ کرلی۔ مطالعہ کتب کا آپ کو جنون تھا اور نہایت ذہین تھے۔ روزانہ اپنے اساتذہ سے کئی کئی اسباق لیتے۔ اساتذہ میں ابوابراہیم اسحٰق بن احمدی مغربیؒ، ابی محمد عبدالرحمٰن اور ابو محمد عبدالعزیز شامل ہیں۔
آپ علم و فضل میں بلند مقام رکھتے تھے اور زاہدومتّقی اور صاحب فضل و کمال بزرگ تھے۔ آپؒ دمشق کے پھل نوش نہیں فرماتے تھے۔ دریافت کرنے پر فرمایا کہ یہاں کے اکثر باغات اوقاف ہیں اور بہت سوں کے مالک یتیم ہیں جو معاملات کو درست طریق پر انجام نہیں دے سکتے۔ ایسی حالت میں کیسے اُن کا استعمال کروں۔
آپؒ نے 650ہجری میں حج ادا کیا۔ 676ہجری میں آپؒ واپس اپنے آبائی وطن نَوِی لَوٹ آئے اور اسی سال 14رجب کو رحلت فرمائی۔ اگرچہ آپؒ نے صرف 46 سال عمر پائی لیکن اس مختصر عمر میں تصنیف و تالیف کا قابل قدر ذخیرہ لکھ کر غیرمعمولی خدمات سرانجام دیں۔ صحیح بخاری کی کتاب الایمان تک شرح لکھی۔ صحیح مسلم کی شرح المنہاج، شرح مہذب، کتاب الاذکار، اربعین۔ مشہور تصنیف ’’ریاض الصالحین‘‘ بھی آپؒ ہی کا شاہکار ہے جس کے بارے میں آپؒ فرماتے ہیں کہ مَیں نے یہ کتاب عام مسلمانوں کی زندگی سنوارنے کے لیے لکھی ہے، میری خواہش ہے کہ عام مسلمان اس کو پڑھ کر اپنے شعبہ ہائے زندگی میں ایسی تبدیلیاں لے آئیں جو اُن کی حیاتِ آخرت کے لیے مفید اور نجات کا باعث ہوں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/NDrrq]

اپنا تبصرہ بھیجیں