حضرت جعفرؓ بن ابی طالب

آنحضرتﷺ کے چچازاد حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اگرچہ حضرت علیؓ کے حقیقی بھائی اور عمر میں اُن سے دس سال بڑے تھے لیکن حضرت علیؓ کو رسول اللہ کی تربیت اور خود اُن کی فطری سعادت کے طفیل قبول اسلام میں اوّلیت عطا ہوئی۔ تاہم اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہی ایک روز جب آنحضورﷺ محو عبادت تھے اور حضرت علیؓ آپؐ کے دائیں جانب کھڑے تھے تو وہاں ابی طالب اپنے بیٹے جعفر کے ساتھ آئے اور جعفر سے بھی نماز میں شامل ہوجانے کو کہا۔ اس طرح جعفرؓ نے آنحضورؐ کے بائیں جانب کھڑے ہوکر نماز ادا کی اور تب سے یہ دونوں بھائی رسول اللہ ﷺ کے دست و بازو بن گئے۔آنحضورؐ نے حضرت جعفرؓ کو اپنے بھائی کے پہلو اور ہاتھ مضبوط کرنے کی جزاء کے طور پر بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں روحانی پرواز کے لئے دو پَر عطا فرمائے گا۔ اس طرح آپؓ ’طیار‘ اور ذوالجناحین کے القاب سے ملقّب ہوئے۔ ایک اور موقع پر آنحضورﷺ نے آپؓ کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ محو پرواز دیکھا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍اکتوبر 1998ء میں حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کی سیرۃ و سوانح کا تفصیلی ذکر مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضرتﷺ کے بہت ہی پیاروں یعنی حضرت زیدؓ، علیؓ اور جعفرؓ (کہ ہر ایک ان میں سے اپنے آپ کو حضور کی محبتوں کا مورد اور سب سے زیادہ پیارا جانتا تھا) نے ایک بار آپﷺ سے سوال کیا کہ آپؐ کو سب سے زیادہ پیار کس سے ہے؟۔ آپؐ نے کمال شفقت سے ان سب پیاروں کا دل رکھا کہ سب ہی آپؐ کو محبوب تھے مگر حضرت جعفرؓ سے ایک منفرد بات یہ فرمائی کہ اے جعفر! تُو تو خُلق و خَلق اور صورت و سیرت میں میرے سب سے زیادہ مشابہ اور قریب ہے۔
جب بہت سے مسلمانوں کے ہمراہ حضرت جعفرؓ بھی مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے جہاں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی میسر تھی۔ تو مسلمانوں کو امن میں دیکھ کر قریش مکہ نے اپنے دو سرداروں کے ہاتھ شاہ حبشہ نجاشی اور اُس کے درباریوں کو قیمتی تحائف بھجوائے اور درخواست کی کہ مسلمانوں کو واپس مکہ بھیج دیا جائے۔ اگرچہ نجاشی کے درباریوں نے بھی قریشی سرداروں کی تائید کی لیکن منصف مزاج بادشاہ نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں طلب کیا۔ دربارِ شاہی میں حضرت جعفرؓ نے اسلام کے محاسن اتنی خوبی سے بیان کئے اور مکہ کے مصائب اور حبشہ کی آسائش کا ایسا نقشہ کھینچا کہ نجاشی نے قرآن میں سے کوئی حصہ سننے کی فرمائش کی۔ تب حضرت جعفرؓ نے سورہ مریم میں سے کچھ آیات کی تلاوت ایسی دلآویزی سے کی کہ خداترس نجاشی بے اختیار رونے لگا اور اُس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ ساری محفل پر پاک کلام کا ایسا اثر ہوا کہ اُس کے درباری بھی رو دیئے۔ آیات سن کر نجاشی نے بے اختیار کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا موسیٰ کا کلام اور یہ کلام ایک ہی منبع سے پھوٹے ہیں، پھر اُس نے قریش سرداروں کو نامراد واپس کردیا ۔
لیکن اگلے ہی روز سرداروں نے دربار میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اسلامی عقائد اس طرح بیان کئے کہ مسلمانوں کو دوبارہ دربار میں طلب کرلیا گیا۔ حضرت جعفرؓ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ ہوا کہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے وہی بادشاہ کے سامنے پیش کردیا جائے۔ چنانچہ دربار میں آپؓ نے فرمایا کہ ہمارے نبیؐ پر یہ کلام اترا ہے کہ عیسیٰ، اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول روح اللہ اور اُس کا کلمہ ہے جو اُس نے کنواری مریم کو عطا فرمایا۔ اس پر نجاشی نے زمین پر ہاتھ مارا اور وہاں سے ایک تنکا اٹھاکر کہنے لگا کہ حضرت عیسیٰ کا مقام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں۔ تب نجاشی نے کمال جلال کے ساتھ مسلمانوں کو اپنے ملک میں مکمل امان دی اور عرب سفراء کو اُن کے تحائف واپس لَوٹاتے ہوئے کہا کہ جب اللہ نے میرا ملک مجھے عطا فرمایا تو اُس نے مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی جو میں اب عدل و انصاف کے قیام کیلئے کوئی رشوت لوں۔
فتح خیبر کے موقع پر حضرت جعفرؓ کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک قافلہ حبشہ سے مدینہ آگیا۔ حضورﷺ کا قیام خیبر میں تھا۔ جب حضرت جعفرؓ وہاں خدمت رسالت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے آگے بڑھ کر اُن کا استقبال کیا اور وفورِ محبت سے اُن کی پیشانی کو چوم لیا۔ پھر فرمایا کہ آج میں اتنا خوش ہوں کہ نہیں کہہ سکتا کہ فتح خیبر کی خوشی زیادہ ہے یا جعفر کی ملاقات کی خوشی غالب ہے۔
آنحضورﷺ نے حضرت جعفرؓ کی مواخات حضرت معاذؓ بن جبل انصاری سے قائم فرمادی اور آپؓ آنحضورؐ کے وزراء اور مشیروں میں شامل ہوگئے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو کچھ معزز ساتھی عطا فرماتا ہے اور مجھے چودہ ایسے ساتھی عطا ہوئے ہیں۔ اُن میں آپؐ نے حضرت جعفرؓ کا نام بھی لیا۔
حضرت جعفرؓ کو ابھی حبشہ سے آئے ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ غسانی ریاست کے سردار نے ایک مسلمان سفیر کو، جورسول اللہ ﷺ کا ایک مکتوب لے کر شاہِ بصریٰ کی طرف جا رہے تھے ، قتل کروادیا۔ اس پر آنحضورﷺ نے تین ہزار سپاہیوں کا لشکر بدلہ لینے کے لئے بھجوایا اور فرمایا کہ زیدؓ سالار اول ہیں، اُن کے بعد جعفرؓ قائد ہوں گے اور اُن کے بعد رواحہ ؓ قیادت کریں گے۔ اس لشکر کا مقابلہ موتہ کے مقام پر ایک لاکھ رومی فوج سے ہوا جس میں تینوں سالار یکے بعد دیگرے شہید ہوئے اور بالآخر حضرت خالد بن ولید نے قیادت سنبھالی۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے کشفی نظارے سے آنحضورﷺ کو جنگ موتہ کا احوال دکھادیا اور آپؐ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے پہلے حضرت زیدؓ کی شہادت کا ذکر کیا اور اُن کیلئے دعائے مغفرت کروائی اور پھر حضرت جعفرؓ کی شہادت بیان کرکے دعا ئے مغفرت کروائی اور آپؓ کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں اُن کی عظیم الشان شہادت کا گواہ ہوں‘‘۔ بعد میں میدان جنگ سے واپس آنے والے مجاہدین نے گواہی دی کہ حضرت جعفرؓ نہایت جرأت سے دشمن کی صفوں میں جاکر لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ اور آپؓ کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے ستر سے زیادہ زخم تھے اور کوئی زخم بھی پشت پر نہ تھا۔
حضرت جعفرؓ کی بیوہ اسماء بنت عمیس کا بیان ہے کہ جب حضرت جعفرؓ اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر آگئی تو آنحضورﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ جعفرؓ کے بچوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں بچوں کو آپؐ کے پاس لائی تو آپؐ نے اُنہیں گلے سے لگایا اور پیار کیا اور آپؐ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ میں نے گھبراکر عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، آپؐ کس وجہ سے روتے ہیں؟ کیا جعفرؓاور اُن کے ساتھیوں کے بارہ میں کوئی خبر آئی ہے؟۔ آپؐ نے فرمایا ہاں وہ آج شہید ہوگئے ہیں۔اسماء کہتی ہیں یہ سُن کر میں چیخنے لگی اور دیگر عورتیں اکٹھی ہوگئیں۔ آپؐ اپنے گھر تشریف لے گئے اور ہدایت فرمائی کہ جعفرؓ کے گھر والوں کا خیال رکھنا اور انہیں کھانا وغیرہ بناکے بھجوانا کیونکہ وہ اس صدمہ کی وجہ سے مصروف ہوگئے ہیں۔
چالیس سالہ حضرت جعفرؓ کی شہادت کا ناگہانی صدمہ بہت بھاری تھا۔ آنحضورﷺ نے حضرت جعفرؓ کے گھر کی عورتوں کو آہ و بکا سے منع کرنے کے لئے پیغام بھیجا اور فرمایا کہ جو مقام شہادت اُنہیں مل چکا ہے ، خود اُنہیں بھی ہمارے پاس موجود ہونے سے زیادہ اُس کی خوشی ہے۔ تیسرے روز آپؐ پھر حضرت جعفرؓ کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ بس اب آج کے بعد میرے بھائی پر مزید نہیں رونا۔ پھر اُن کے یتیم بچوں کی کفالت کا انتظام و انصرام اپنے ذمہ لیا اور فرمایا بچوں کو لاؤ۔ آپؐ نے بچوں سے بہت پیار کا سلوک کیا اور فرمایا کہ جعفر طیار کا بیٹا محمد تو ہمارے چچا ابو طالب سے خوب مشابہہ ہے اور دوسرا بیٹا اپنے باپ کی طرح شکل اور رنگ ڈھنگ میں مجھ سے مشابہ ہے۔ پھر بچوں کیلئے دعا کی۔ حضرت اسماء نے بچوں کی یتیمی کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اِن بچوں کے فقر و فاقہ کا خوف مت کرنا میں نہ صرف اس دنیا میں اِن کا ذمہ دار ہوں بلکہ اگلے جہان میں بھی اِن کا دوست اور ولی ہوں گا۔
حضرت جعفرؓ غرباء اور مساکین سے بہت محبت کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آنحضورﷺ نے آپؓ کی کنیت بیٹوں کی نسبت کی بجائے ابوالمساکین رکھ دی تھی۔ حضرت ابوہریرہؓ اپنی مسکینی اور فاقہ کشی کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مسکینوں کے حق میں سب لوگوں سے بہتر اگر کوئی تھا تو وہ حضرت جعفرؓ تھے۔ بعض اوقات وہ مشکیزہ یا برتن ہی لے آتے اور ہم جو کچھ ہوتا کھالیتے۔ غالباً اسی وجہ سے ابو ہریرہؓ برملا اس رائے کا اظہار کرتے تھے کہ رسول کریمﷺ کے بعد حضرت جعفر طیارؓ سے بہتر اور افضل کوئی انسان ہم نے نہیں دیکھا۔
حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کی شہادت پر حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنے مرثیہ میں کہا کہ ہم حضرت جعفر طیارؓ کے نمونے میں وفا کا ایک عظیم الشان واقعہ دیکھتے ہیں کہ جہاں جو فرمان ملا انہوں نے سر تسلیم خم کردیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/1DA3S]

اپنا تبصرہ بھیجیں