حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا سالانہ اجتماع لجنہ برطانیہ 2003ء پر خطاب

ہر احمدی کو عمومی طور پر اور عہدیدار ان کو خصوصی طور پر مَیں یہ کہتا ہوں کہ عاجزی دکھائیں،
عاجزی دکھائیں اور اپنے اندر اور اپنی ممبرات اور اپنے ممبران کے اندر، چاہے مرد ہوں یا عورتیں، عاجزی پیدا کرنے کی خاص مہم چلائیں۔
خلافت اور نظام جماعت کے احترام کے تقاضوں، تربیت اولاد، پردہ کی اصل روح اورحقیقت کے قیام اور خوبصورت اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے سلسلہ میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں نہایت اہم نصائح
لجنہ اماء اللہ یوکے کے سالانہ اجتماع کے موقع پر سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب
فرمودہ 19 اکتوبر 2003ء بروزاتوار بمقام بیت الفتوح۔مورڈن،لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنْیِنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصَّآئِمَاتِ وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰاکِرَاتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا ( الاحزاب: 36 )

یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں مسلمان اور مومن مردوں اورعورتوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ چند خصوصیات ہیں جو مسلمان اور مومن میں ہونی چاہیں۔ اگر یہ خصوصیات پیدا ہو جائیں تو خدا تعالیٰ تمہیں خوشخبری دیتا ہے کہ تم سے نہ صرف مغفرت کا سلوک کرے گا بلکہ اجر عظیم سے بھی نوازے گا ۔اور وہ کیا باتیں ہیں ۔ وہ باتیں یہ ہیں کہ فرمانبرداری کرنے والی ہوں،سچ کو اختیار کرنے والی ہوں، سچ بولنے والی ہوں، صبر کرنے والی ہوں ،عاجزی اختیار کرنے والی ہوں، صدقہ کرنے والی ہوں، روزہ دار ہوں۔آنکھ کان منہ اور شرمگاہوںکی حفاظت کرنے والی ہوں ۔اور اللہ کا ذکر کرنے والی ہوں ۔
اب یہ دیکھیں یہ ایسی باتیں ہیں اگر کسی میں پیدا ہو جائیں اور کسی معاشرہ کی اکثریت میں پیدا ہو جائیں تو ایسا خوبصورت معاشرہ جنم لے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہوگی۔ اس بارہ میں اب مَیں کچھ مزید وضاحت کرتا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے یہ بتاؤں گا کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ مسلمان اور مومن، یہ الگ الگ کیوں کہا گیا ہے؟ اس بارہ میں خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

قَالَتِ الْاَ عْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاِنْ تُطِیْعُوْااللہ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئاً۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ (الحجرات:15)

یعنی بادیہ نشین، وہ لوگ جو گاؤں میں دیہاتوں میں رہتے تھے، کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں ۔ جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے ۔
تو یہ بتا دیاکہ مسلمان ہونے میں اور مضبوط ایمان دلوں میں قائم ہونے میں بہت فرق ہے۔ مضبوط ایمان تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تمہارا ہر عمل، ہر فعل، ہر کام جو تم کرتی ہو خدا کی رضا کی خاطر کرو ۔ اللہ کا خوف اور خشیت ہر وقت تمہارے ذہن میں رہے ۔تقویٰ کی باریک سے باریک راہیں ہمیشہ تمہارے مد نظر رہیں۔ اورتم ان پہ قدم مارنے والی ہو۔اپنے بچوں کے دلوں میں بھی ایمان اس حد تک بھر دو کہ اُن کا اوڑھنا بچھونا بھی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہو ۔ ہاں جو بڑے بڑے احکامات ہیں، فرائض ہیں، ان کو مان کر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہو چکے ہو۔ یہ اطاعت تم کرتے رہو اس کا بھی اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا ۔
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں کہ:
’’ اَسْلَمْنَا ہمیشہ لاٹھی سے ہو تا ہے۔‘‘ یعنی طاقت سے ۔جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کثرت سے لوگ قبول کر رہے ہیں تو اس وقت قبول کر لیا جاتا ہے۔’’ اور اٰمَنَّا اس وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ دل میں ڈال دے۔ ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور اسلام کے اَور۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس وقت ایسے لوازم پیدا کئے کہ جن سے ایمان حاصل ہو‘‘۔
(البدر جلد 2نمبر19 ۔29؍ مئی 1903ء صفحہ 147)
پھر فرماتے ہیں: ’’مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔ جن کے دل پر ایمان لکھا جا تا ہے ۔اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقد م کرلیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسد انہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دُورتو لے جاتے ہیں ۔‘‘(تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ103)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس اقتباس سے اس بات کی مزید وضاحت ہوگئی کہ تقوی ٰکی باریک راہوں پر جب چلنے لگو تو تب سمجھا جائے گا کہ تم مومن ہو۔ اس میں سب سے پہلی چیز آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے زیادہ ہو اور اس کے مقابلہ میں کوئی دنیاوی رشتہ، کوئی محبت روک نہ بنے۔
پھر اخلاقی برائیاں ہیں ان میں علاوہ بڑی بڑی اخلاقی برائیوں کے چھوٹی چھوٹی بھی ہیں۔ مثلاً ہمسایوں سے اچھا سلوک نہ رکھنا ،آپس میں مل کر کسی کا مذاق اڑانا، استہزاء کرنا ،ہنسی ٹھٹھا کرنا، اپنے بچوں سے بہت پیارکرنا اور دوسرے کے بچوں کو پرے دھکیلنا۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات جو اللہ تعالیٰ نے دئیے ہیں کہ وقت پر نماز پڑھو، بڑوں سے ادب سے پیش آئو، چھوٹوں سے شفقت سے کرو۔ یہ یہ برائیاں ہیں یہ نہ کرنا۔ پھر یہ ہے کہ اپنے عہدیداروں کی ہر بات کو غور سے سننا اور ماننا۔ نظام جماعت کی پابندی کرنا۔ یہ اخلاقی اچھائیاں اگر پیدا ہو جائیں تو پھرنظام ترقی کرتا ہے۔
تو فرمایا کہ اگر یہ سب کام خدا کی خاطر کرو گی تو مومن کہلاؤگی اور دن بدن ایمان مضبوط تر ہو تا جائے گا۔ اب یہ مومنانہ حالت پیدا کرلی ہے تو اس میں ایک اہم بات فرمانبرداری بھی ہے۔ اسی تعلق میں فرمایا گیا ہے کامل اطاعت اور فرمانبرداری دکھائو ۔اب یہ نہیں کہ فلاں عہدیدار سے، فلاں صدر سے یا فلاں عورت سے جو اس وقت سیکرٹری تربیت ہے ، کیونکہ میری بنتی نہیں۔ اس نے ایک موقع پر آج سے اتنے سال پہلے مجھے لوگوں کے سامنے ٹوکا تھا یامیری بات نہیں مانی تھی یا میرے بچوں کو نماز کے وقت شرارتیں کرنے پر خاموش کیا تھا، اس لئے اب مَیں اس کی بات نہیں مانوں گی۔ یہ فرمانبرداری نہیں ہے۔ اور پھرجبکہ اتنی ضد آ جاتی ہے، یہاں تک کہ اب چاہے جو مرضی وہ کہے مَیں اس کی بات نہیں مانوں گی۔ ایسی عورتیں جب نظام کی اطاعت چھوڑ دیتی ہیں توپھرچاہے عہدیدار بھی نماز میں ٹیڑھی صفوں میں کھڑی عورتوںکو تلقین کرے کہ صفیں سیدھی کر لو ،آپس کے فاصلے کم کر لو ، خلا کم کرو تو اس کی بات نہیں مانتیں اور پھر ہنسی ٹھٹھے میں اس بات کو اڑا دیتی ہیں۔ تواس کی بات نہ مان کر تم اس کی فرمانبرداری سے باہر نہیں جارہی بلکہ نظام جماعت کے ایک کارکن کی بات نہیں مان رہی۔ اور صرف نظام جماعت کولاپرواہی کی نظر سے نہیں دیکھ رہی بلکہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واضح حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہو، اس کو کم نظر سے دیکھ رہی ہو ۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت اپنی صفوں کو سیدھا رکھو، کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے درمیان شیطان آکر کھڑا ہو جائے گا۔ تو اس طرح اس عہدیدار کی بات نہ مان کر اس کا تو کچھ ضائع نہیں ہورہا آپ اپنے درمیان شیطان کو جگہ دے رہی ہیں۔ اس طرح سے ایک تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہیں۔ جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ انسانوں میں سب سے زیادہ محبت ہمیں اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ محبت کے تقاضے تو اس طرح پورے نہیں ہوتے۔محبت کرنے والے تو اپنے محبوب کی آنکھ کے اشارے کو بھی سمجھتے ہیں۔ وہ تو اس کے ایک ارشاد پر اپنی جانیں قربان کرنے والے ہوتے ہیں۔ کجا یہ کہ اللہ کے گھر میں ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح حکم کی پابندی نہ کر رہے ہوں۔ اور یہ سمجھو کہ یہ بات یہیں ختم ہو گئی! نہیں، جب تمہارے بچے تمہارا یہ عمل دیکھیں گے وہ بھی یہی سمجھیں گے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں سے نہ صرف کسی بھی اچھی بات کہنے والے کا احترام اٹھ جائے گا، بلکہ نظام کے کارکنوں کی اورعہدیداروں کی عزت بھی ختم ہو جائے گی۔ اوریہ سلسلہ صرف یہ نہیں کہ یہیں رک جائے گا بلکہ اور آگے بڑھے گا اور یہ اولادیں اسلام کی خوبصورت تعلیم سے بھی پرے ہٹنے والی ہو جائیں گی۔ نام کے تو احمدی رہیں گے، ایک احمدی گھرانہ میں جو پیدا ہوئے اس لئے احمدی ہیں ۔لیکن خلافت اورنظام جماعت کا احترام کچھ نہیں رہے گا ۔اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھی سرسری نظر سے دیکھنے والے ہوں گے۔ اور جب بھی ان کو شریعت کے بارے میں یا مذہب کے بارے میں یا جماعت کے بارے میں بتایا جائے گا، کوئی ایسی بات ہوگی، کوئی حکم دیا جائے گا، تو ایسے بچے پھر منہ پرے کرکے گزر جانے والے ہوتے ہیں ،کوئی توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔
یہاں مَیں یہ بھی واضح کردوں کہ ایسی ماؤں کے بچے پھر ایک وقت میں ان کے ہاتھ سے بھی نکل جاتے ہیں۔ ان کے کنٹرول میں بھی نہیں رہتے۔ پھر ماؤں کو فکر ہو تی ہے کہ ہمارے بچے بگڑ گئے۔ تو ان کے بگڑنے کے ذمہ دار تو تم خود ہو ۔ اگر تم چاہتی ہو تو اپنے عمل سے اپنی اولاد کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا سکتی ہو۔
کل مجھے امیر صاحب کہنے لگے کہ یہاں بچوں کی تربیت کے بڑے مسائل ہیں ۔بچے اسکول میں جاتے ہیں اور وہاں سکھایا جاتا ہے کہ یہ سوال کرو۔ اور جب ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ یہ کام کرو اوراسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے تو سوال کرتے ہیں کہ پہلے ہمیں سمجھاؤ کہ کیوں؟ تومَیں نے انہیں یہی کہا تھا کہ یہ بچوں کی تربیت کے مسائل نہیں ہیں۔ یہ اچھی بات ہے انہیں سوال کرنے چاہئیں۔ یہ ماں اور باپ کی تربیت کے مسائل ہیں۔ بچے سوال کرتے ہیں تو ماں باپ ان کے سوالوں کے جوابات دیں۔ اس بارہ میں میں پہلے بھی جلسہ پر توجہ دلا چکا ہوں کہ بچوں سے دوستی کا ماحول پید اکریں۔ان کو احساس ہو کہ ہمارے ماں باپ ہمارے ہمدرد بھی ہیں، ہمارے دوست بھی ہیں۔ اور جب خود آپ میں دین کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا تو آپ ایک مضبوط ایمان والے ہوں گے۔ اپنے بچوں کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں گے، نظام کا احترام سکھانے والے ہوں گے، تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بچے آپ کا کہا ماننے والے نہ ہوں۔ جو سوال و جواب ہو گا اس سے بہرحال ان کی تسلی ہو گی، ان کی Satisfaction ہوگی ۔اورجب تک یہ بچے اس شعور کی عمر کو پہنچیں کہ ان کے دل میں مذہب کے بارے میں سوال پیدا ہونے شروع ہوں تو قرآن ،حدیث پڑھ کر،خلفاء کے خطبات سن کر، علماء سے پوچھ کر ، کتابیں پڑھ کر وہ خود اپنے سوالوں کا جواب تلاش کرلیں گے ۔
یہ بات کئی دفعہ تجربہ میں آئی ہے کہ ماں بچوں کے سامنے کہہ دیتی ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اب کوئی بچہ اس طرح بڑوں کا احترام نہیں کرتا، بڑا مشکل کام ہے ،یہ غلط ہے۔ بچوں پہ الزام ہے۔جب بچے کو پیار سے سمجھا یا جاتا ہے تو بچے وہیں ماں کے سامنے اعتراف کرتے ہیں کہ ٹھیک ہے، یہ بات مجھے یوں نہیں بلکہ اس طرح کرنی چاہئے تھی جس طرح آپ نے سمجھایا۔ توبچوں سے یہاں میری مراد سولہ سترہ سال کی عمر کے بچے ہیںلڑکے ،لڑکیاں۔ اوریہ نہیں ہے کہ بچوں نے یہ اعتراف میرے سامنے کیا ہے ، جب ان کو سمجھایا گیا بلکہ جس نے بھی، کسی عہدیدار نے یاکسی بھی شخص نے جب بچوں کو سمجھایا اس کا فائدہ ہی ہوا ہے۔
پھر اس آیت میں فرمایا ہے کہ سچ بولو اورسچ بولنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سچ ایک ایسی بنیادی چیز ہے کہ اگر یہ پیدا ہو جائے تو تقریباً تمام بڑی بڑی برائیاں ختم ہو جاتی ہیں اور نیکیاں ادا کرنے کی توفیق ملنا شروع ہو جاتی ہے ۔ تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ایک شخص حاضر ہوا تھا اوراس نے عرض کی کہ میرے اندر اتنی برائیاں ہیں کہ مَیں تمام کو تو چھوڑ نہیں سکتا مجھے صرف ایک ایسی بیماری یاکمزوری یا برائی کے بارے میں بتائیں جس کومَیں آسانی سے چھوڑ سکوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے زیادہ انسان کی نفسیات اورفطرت کو سمجھنے والے تھے آپؐنے فرمایا: ٹھیک ہے، تم یوں کرو کہ صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو ۔وہ شخص بڑا خوش ہوا کہ چلویہ تو بڑا آسان کا م ہے۔ اٹھ کر چلا گیا اور اس وعدہ کے ساتھ اٹھا کہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا ۔رات کو جب اس کو چوری کا خیال آیا ،کیونکہ وہ بڑا چور تھا اس کو خیال آیا کہ اگر چوری کرتے پکڑا گیا تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہوں گا ۔اور اقرار کرتا ہوں تو سزا ملے گی، شرمندگی ہوگی۔ اگر انکار کیا تو یہ جھوٹ ہے۔ تو جھوٹ مَیں نے بولنا نہیں کیونکہ وعدہ کیا ہواہے۔ تو آخر اسی شش و پنج میں ساری رات گزر گئی اور وہ چوری پر نہ جاسکا۔ پھر زنا کا خیال آیا تو پھر یہی بات سامنے آگئی۔ شراب نوشی اوردوسری برائیوں کا خیال آیا تو پھر یہی پکڑے جانے کا خوف اور جھوٹ نہ بولنے کا عہد یا د آتا رہا۔ آخر ایک دن وہ بالکل پاک صاف ہو کر حاضر ہوا اور کہا کہ اس جھوٹ نہ بولنے کے عہد نے میری تمام برائیاں دور کر دی ہیں۔ تو یہ ہے سچ کی برکت کہ صرف عہد کرنے سے ہی کہ مَیں سچ بولوں گا برائیاں دور ہوگئیں۔
تو جب کسی موقع پر آپ سچ بول رہی ہوں گی اور سچ کا پرچار کر رہی ہوں گی تو پھر اس میں کس قدربرکتیں ہو ں گی۔ بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتیں ،ذاتی گھریلو رنجشیں، عہدیداروں کے خلاف جھوٹی شکایتوں کی وجہ بن رہی ہوتی ہیں۔ اور جب تحقیق کرو تو پتہ لگتاہے کہ اصل معاملہ تو دیورانی جٹھانی کا یا نند بھابھی کایا ساس بہو کا ہے نہ کہ جماعتی مسئلہ ہے ۔اس لئے ہمیشہ سچ کو مقدم رکھیں ۔سچ کو سب چیزوں سے زیادہ آپ کی نظر میں اہمیت ہونی چاہئے۔ سچی گواہی دیں۔ اپنے بچوں کو سچ بولنا سکھائیں۔
یہاں پر پھر میں وہی بات کہوں گا کہ اس معاشرہ میں بچوں کوسکولوں میں سچ بولنے کی اہمیت بہت زیا دہ ہے۔اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے سکولوں میں بتا یا جاتا ہے کہ سچ بولنا ہے۔ تو جب بچہ گھر آتا ہے تو ایسی مائیں یا باپ جن کو نہ صرف سچ بولنے کی خود عادت نہیں ہوتی بلکہ بچوں کو بھی بعض دفعہ ارادۃً یا غیر ارادی طور پر جھوٹ سکھا دیتے ہیں۔ مثلاً اس طرح کہ گھر میں آرام کر رہے ہیں۔کوئی عہدیدار سیکرٹری مال یا صدر یا کوئی مرد آیا یا لجنہ کی کوئی عورت کسی کام کے لئے آگئی تو بچہ کو کہہ دیا چلو کہہ دو جاکے کہ گھر میں نہیں ہے ۔یہ تو ایک مثال ہے۔ اس طرح کی اور بہت ساری چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں۔چا ہے یہ بہت تھوڑی ہی تعداد میںہوں مگر ہمیں یہ تھوڑی تعداد بھی برداشت نہیں کہ سچ پر قائم نہ ہوں ۔کیونکہ اس تھوڑی تعداد کے بچے جب اپنے گھر سے غلط بات سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ خود مذہب سے دور جارہے ہوتے ہیں کہ سکول میں تو ہم کو سچ بولنا سکھا یاجارہاہے اور گھر میںجہاں ہمارے ماں باپ ہمیں کہتے ہیں کہ مذہب اصل چیز ہے، نماز یں پڑھنی چاہئیں، نیک کام کرنے چاہئیں ان کا اپنا عمل یہ ہے کہ ایک چھوٹی سے بات پر، کسی کونہ ملنے کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں ۔سیدھی طرح صاف الفاظ میںیہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ مَیں اس وقت نہیں مل سکتی۔ پھرایسا بچہ اپنے ماحول میںبچوں کو بھی خراب کررہا ہوتاہے کہ دیکھویہ کیسی تعلیم ہے کہ ایک ذرا سی بات پر میری ماں نے جھوٹ بولایامیرے باپ نے جھوٹ بولا۔ توجب اپنے ماں باپ کے یہ عمل بچہ دیکھتاہے تو دور ہٹتا چلاجاتا ہے۔ اس لئے اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے ان باتوں کو چھوٹی نہ سمجھیں اورخداتعالیٰ کاخوف کریں ۔
پھر فرمایا: صبر کرنے والے بنو۔ تمہارے اندر وسعت حوصلہ بھی ہوناچاہئے۔ صبربھی ہوناچاہئے۔ برداشت کا مادہ بھی ہوناچاہئے۔ یہ نہیں کہ ذراسی بات کسی سے سن لی اور صبر کا دامن ہی ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ فون اٹھایا اورلڑائی شروع ہوگئی۔ یا اجلاس میں یا اجتماع کے موقع پر ملیں تو لڑنا شروع کردیا کہ تم نے میرے بارے میں یہ باتیں کی ہیں۔ یامیری بہن کے بارے میں یہ باتیں کی ہیں یا میرے بھائی کے بارے میں یہ باتیں کی ہیں۔ یا بچوں کے بارے میں فلاں بات کی ہے۔ تم ہوتی کون ہو! ایسی باتیں کرنے والی تم کون ہوتی ہو! جب بھی مجھے موقع ملامَیں تمہاری ایسی تیسی کردوں گی !
تو یہ جو چیزیں ہیں اب یہاں یورپ کے ملکوں میں بھی آ رہی ہیں۔ مختلف طبقوں سے شہروں سے دیہاتوں سے ایشیاسے لوگ آئے ہیں،مختلف مزاجوں کے لوگ اکٹھے ہوگئے ہیں۔بعض دفعہ تو پہلوں میں سے بھی بعض مثالیں ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ نئے آنے والوں میں سے ہیں۔ بہر حال بعض دفعہ چاہے یہ تھوڑی تعداد میں ہی ہوں، چند ایک ہی ہوں، ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے ملک میں تو شاید آپ کی یہ برائیاں چھپ جائیں لیکن یہاں آکر نہیں چھپ سکتیں۔ توان برائیوں کوختم کرنے کی کوشش کریں۔
ہروقت ذہن میں رکھیں کہ آپ اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی جماعت سے منسوب ہوچکی ہیں۔ آپ کے اخلاقی معیار اب بہت بلند ہونے چاہئیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تعلیم کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ اگر جماعت میں رہنا ہے تو اعلیٰ اخلاق بھی د کھانے ہو ں گے ورنہ تو کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کی مثال دی ہے کہ اس کی ایسی مثال ہے جس طرح درخت کی سوکھی شاخ جس کو کوئی اچھا مالی یا مالک برداشت نہیں کرتا بلکہ اس سوکھی شاخ کوکاٹ دیتا ہے ۔
پھر اسی لئے بے صبری کامظاہرہ ہوتا ہے بعض دفعہ کوئی نقصان ہوجائے تو رونا دھونا اور پٹینا شروع ہوجاتا ہے، یہ بھی سخت منع ہے۔ چاہے مالی نقصان ہو، جانی نقصان ہو۔ الحمدللہ جماعت احمدیہ میں اکثرمائیں اپنے بچوں کے ضائع ہونے پر بڑے صبر کامظاہرہ کرتی ہیں۔جان جانے پر بھی بڑے صبر کامظاہرہ کرتی ہیں۔ لیکن کچھ شور مچانے والی، رونے پیٹنے والی بھی ہوتی ہیں تو ان کو بھی بہر حال صبرکا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے اور یہ خوشجر ی دیتاہے کہ مَیں صبر کرنے والوں کو بہت بڑا اجر دیتا ہوں۔
پھر اس آیت میں عاجزی کے بارے میں فرمایاگیا ہے کہ عاجزی دکھائو ۔اب کہنے کو توزبانی کہہ دیتے ہیںکہ مَیں تو بڑی عاجز ہوں۔ مالی لحاظ سے اپنے سے بہتر یا برابر سے تو بڑی جھک جھک کر یا اس level پر باتیں کررہی ہوتی ہیں کہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی تکبر یا غرور ہے ۔لیکن پتہ تب چلتا ہے جب اپنے سے مالی لحاظ سے یامرتبہ کے لحاظ سے کمتر کسی عورت سے باتیں کررہی ہوں۔ اس وقت پھر بعض دفعہ ایسی عورتوںسے جن میں عاجزی نہیں ہوتی رعونت اور تکبر کا اظہار ہورہاہوتاہے۔ یہ عاجزی نہیں ہے کہ امیروں سے تو عاجزی دکھادی اورغریبوں سے عاجزی نہیں ہوئی۔ اب بعض دفعہ یہ اظہار صرف بات چیت سے نہیں ہورہا ہوتا۔اگر غور کریں تو ایسی عورتوں کا پھر یا ایسے مردوں کا، دونوں اس میں شامل ہیں،آنکھوں سے بھی تکبر ٹپک رہا ہوتاہے، گردن پر فخر اور تکبر نظر آرہا ہوتا ہے یا چہرے پر تکبر کے آثار نظر آرہے ہو تے ہیں۔ تومنہ سے جتنا مرضی کوئی کہے کہ مَیں تو بڑاعاجز انسان ہوں۔ زبان حال سے یہ پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے اور اس میں کوئی عاجزی نہیں ۔
پھر گھروں میں مثلاً سجاوٹ کی کوئی چیز پڑی ہوئی ہے اس کی کوئی تعریف کر دیتا ہے، تو بڑی عاجزی سے کہہ رہی ہوتی ہیں کہ سستی سی ہے اور قیمت پوچھو تو پتہ چلتا ہے کہ صاف بناوٹ اور تصنّع سے کا م لیا ہے ۔ تو یہ بناوٹ کی باتیں نہیں ہو نی چاہئیں۔ احمدی معاشرہ ان سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔ حقیقی انکسار ی اور عاجزی دکھانی چاہئے۔ ہم تو ایک بہت بڑا مقصدلے کر کھڑے ہوئے ہیں اگر دنیا وی نام و نمود اور بناوٹ اور تصنّع کے چکر میں پڑ گئے تو پھر ان اہم کاموں کو کون سر انجام دے گا جو ہمارے سپرد کئے گئے ہیں ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ جتنا بڑاتمہیں مقام ملے اتنے ہی نیچے جھکتے جائو اور اس کے نتیجے میں خدا تمہیں اتنا ہی اونچا کرتا چلا جائے گا۔ تو ایمان کا تو یہ مقام ہے کہ اللہ کی ذات پرہی بھروسہ ہونا چاہئے نہ کہ بندوں پر۔ اور جس شخص کو ہم نے اس زمانہ میں مانا ہے اور اس کے سلسلہ بیعت میں شامل ہو کر اس کے ہر حکم کو بجا لانے کا ہم عہد کرتے ہیں اس کا عمل تو عاجزی کی اس انتہا تک پہنچا ہوا ہے کہ خدا نے بھی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:’ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں‘۔
پس ہر احمدی کو عمومی طور پر اور عہدیدار ان کو خصوصی طور پر مَیں یہ کہتا ہوں کہ عاجزی دکھائیں، عاجزی دکھائیں اورعاجزی کو اپنے اندر اور اپنی ممبرات اور اپنے ممبران کے اندر چاہے مرد ہوں یا عورتیں ،پیدا کرنے کی خاص مہم چلائیں۔ اس سال اکثر جگہ ذیلی تنظیموں کے انتخابات ہو رہے ہیں آپ کابھی کل ہوگیا۔ تو اس خوبصورت خُلق کی طرف بھی توجہ دیں اور نئے عزم کے ساتھ توجہ دیں۔ عاجزی دکھا کرلوگوں سے دعائیں بھی لیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم کی ضمانت بھی لیں ۔ پس دیکھیں خدا تعالیٰ تو کس کس طریقے سے اپنے بندوں کی بخشش کے سامان کر رہا ہے کہ عاجزی دکھائو تب بھی تمہیں بخش دوں گا ۔اب ہم ہی ہیں جوان باتوں کو نہ سمجھتے ہوئے ان سے دور بھاگ رہے ہیں ۔
پھر فرمایا صدقہ کرنے والے ہو ں ۔ اب صدقہ ایسی نیکی ہے جس کو کرنے والے کا تو بیڑا پار ہو گیا۔ لیکن ایسے لوگ جو توفیق ہوتے ہوئے ہاتھ روکے رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ کے رسول نے بڑا سخت انذار کیا ہے اور تنبیہ کی ہے جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر صبح دو فرشتے اٹھتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس جیسے اور پیدا کر۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ روک رکھنے والے، خرچ نہ کرنے والے، صدقہ خیرات نہ کرنے والے کنجوس کو ہلاکت دے اور اس کا سارا مال ومتاع برباد کردے۔ یہ دیکھیں کس قدر انذار ہے ۔
پھر پڑھی لکھیں عورتیں ہیں، بچیاں ہیں جو کسی بھی رنگ میں کوئی بھی کام کر سکتی ہیں ، دوسروں کی کسی کام میں بھی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم میں یا کوئی چیز سکھانے میں تو یہ بھی ان کے لئے صدقہ ہے۔تو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر کوئی ہر دوسرے کو کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ پہنچاتا رہے تاکہ یہ حسین معاشرہ قائم ہوجائے۔ اور خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں اپنے بندوں سے مغفرت کا سلوک فرمانے کا وعدہ کرتا ہے۔
پھر فرمایا کہ روزہ رکھنے والیاں بھی میرے بہت قریب ہیں۔ اب صرف روزہ رکھنا ہی کافی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے اس کا بھی ثواب ہے۔ لیکن اس کا ثواب تب ہے جب اس کے پورے لوازمات بھی ادا کئے جائیں۔ اب رمضان کے مہینہ میں ایک مہینہ روزہ رکھنے سے صرف اجر عظیم کے وارث نہیں بن جائیں گے۔ فرمایا یہ جو تم نے روزے رکھنے کا مجاہدہ کیا ہے اس کے اثرات اب سارے سال پر محیط ہونے چاہئیں۔ تمہاری راتیں عبادت میں زندہ رہنی چاہئیں، قرآن شریف کے پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی خاطر تمہاری توجہ رہنی چاہئے۔ پاک خیال اور پاک زبان کا لحاظ تمہیں ہر وقت رہنا چاہئے۔ اب مثلاً روزہ دار کو حکم ہے کہ تم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچانا۔ کسی سے لڑنا نہیں،ورنہ تمہارے روزے بے فائدہ ہیں۔ اگر تمہارے سے کوئی لڑے تمہیں کو ئی غلط بات کہے تو کہہ دو کہ میں روزہ دار ہوں۔
اب یہ ہماری ٹریننگ کے لئے ہے کہ روزے میں یہ سب برائیاں چھوڑنی ہیں تاکہ یہ نیکیاں آئندہ زندگی میں بھی تمہاری روز مرہ زندگی کے معمول کا حصہ بن جائیں، اور یہ برائیاں چھُٹ جائیں۔ یہ نہیں کہ آج تو مَیں نے نہیں لڑنا ، مَیں نے چغلی نہیں کرنی مَیں نے غیبت نہیں کرنی، مَیں نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا، مَیں نے کسی کے مال پر قبضہ نہیں کرنا،مَیں نے دو دلوں میں پھوٹ نہیں ڈالنی کیونکہ مَیں روزہ دار ہوں ۔جب میرے روزے ختم ہوں گے تو پھر مَیں تمہیں بتائوںگی اور جواب دوں گی۔ کیونکہ جو تم نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے روزے ختم ہونے کے بعد ہی سارے سلوکوں کا جواب ملے گا۔
اب تعلیم یہ تونہیں ہے۔ یہ تو ہمیں ہماری تربیت کا ایک طریق سکھلایا گیا ہے کہ رمضان میں، روزے کی حالت میں تم اپنی یہ برائیاں دور کرو اور پھر ان کو اپنی زندگی کاحصہ بنالو۔ تو اللہ تعالیٰ بھی تمہارے لئے مغفرت کے سامان پیدا فرمائے گا۔ اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی تمہیں اجر عظیم سے نوازے گا اور تمہاری اولادوں پر بھی فضل فرمائے گا انشاء اللہ۔
اب اس ضمن میں مزید کہنا چاہتا ہوں ۔چند دنوں تک انشاء اللہ تعالیٰ رمضان شروع ہونے والا ہے تو یہ عہد کریں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ایک یا دو برائیاں جو ہم میں ہیں یہ خود جائزہ لیں کہ کیا کیا برائیاں ہیں، ان کو ہم خود دور کریں گے اور ختم کریں گے۔ یہ بھی واضح کردوں کہ کوئی اس وہم میں نہ رہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں۔ اگر کوئی اس وہم میں ہے تو اس کو بہت زیادہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ رحم کرے۔
پھر اس آیت میں ایک یہ حکم ہمیں دیا گیا ہے کہ شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والیاں بنو۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںکہ اس سے مراد آنکھ ، کان منہ وغیرہ بھی ہیں کیونکہ اگر تم نے ان کی حفاظت نہ کی تو یہ بھی برائی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ کانوں سے بری باتیں سنو، منہ سے بری باتیں کرو تو یہ بھی ان کی حفاظت نہیں ہے۔ آنکھوں سے غلط قسم کے نظارے دیکھو تو یہ بھی منع ہے۔ بعض فلمیں دیکھی جاتی ہیں چاہے وہ گھر میں بیٹھ کر دیکھ رہے ہو یا باہر جا کر دیکھ رہے ہو جو اخلاق سوز قسم کی فلمیں ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں کہ تم نے اپنی آنکھوں کی حفاظت نہیں کی۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:

’’وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ(المومنون:06)

یعنی جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کریں گے، لغو سے اعراض کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں گے ۔کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے اور اپنے مال کو خد ا کی راہ میں خرچ کرتا ہے و ہ کسی اور کے مال کو ناجائز طریقے سے کب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اورکب چاہتا ہے کہ مَیں کسی دوسرے کے حقوق کو دبا لوں اور جب وہ مال جیسی عزیز چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ تو پھر آنکھ ،ناک، کان ، زبان وغیرہ کو غیرمحل پر کب استعمال کرنے لگا‘‘۔ یعنی کہ جہاں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہیے وہاں کس طرح استعمال کر سکتا ہے ۔’’ کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص اول درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنیٰ درجہ کی نیکیاں خود بخود عمل میں آتی جاتی ہیں۔ ‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جلد سوم ۔سورۃ المومنون ۔صفحہ398) (ملفوظات جلد پنجم صفحہ401-402۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
یعنی جب بڑی بڑی نیکیوں کے بارے میں محتاط ہو جاتا ہے تو چھوٹی چھوٹی جو نیکیاں ہیں اس شخص سے خود بخود ہونے لگ جاتی ہیں۔
پھر آپ نے فرمایا:-
’’قرآن شریف کے مخاطب چونکہ کُل مِلل اور فرقے تھے اور اس پر پہنچ کر تمام ضرورتیں ختم ہو گئی تھیں اس لئے قرآن کریم نے عقائد کو بھی اور احکام عملی کو بھی مدلّل بیان کیا‘‘ ۔یعنی تمام فرقوں اور قوموں کی ضرورتیں اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھیں۔ اس لئے قرآن شریف میں ان سب کے مطابق حکم دیا گیا ہے اور عقائد کو بھی، احکام عملی کو بھی جو ایسے حکم ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہئے دلیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ’’چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ (النور:31)

یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ کسی کے ستر کو آنکھ پھاڑ کر نہ دیکھیں اور باقی تمام فروج کی بھی حفاظت کریں۔ یعنی انسان پر لازم ہے کہ انسان چشم خوابیدہ ہو‘‘ یعنی کہ پوری آنکھ نہ کھولے۔بلکہ جھکی ہوئی نظر ہو ’’تاکہ کسی غیرمحرم عورت کو دیکھ کر فتنہ میں نہ پڑے۔ کان بھی فروج میں داخل ہیں جو قصص اور فحش باتیں سن کر فتنہ میں پڑجاتے ہیں‘‘ یعنی کہ کان جو ہیں یہ بھی فروج میں داخل ہیں۔ جو قصے سن کر باتیں سن کر پھرفتنے میں پڑجاتے ہیں۔ کیونکہ جھگڑے کی باتیں جو ساری سنی جاتی ہیں جس طرح کہ پہلے مَیں نے کہا کہ کوئی بات اس سے سنی اور پھر جا کر لڑنے پہنچ گئے۔ تو یہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔’’ اس لئے عام طور پر فرمایا کہ تم موریوں(سوراخوں) کومحفوظ رکھو۔ اور فضولیات سے بالکل بند رکھو۔

ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ (النور:31)

یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ طریق تعلیم ایسی اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے۔جس کے ہوتے ہوئے بدکاروں میں نہ ہوگے‘‘۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ55۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
اب جہاں مردوں کو یہ فرمایا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو کہ عورتوں کو نہ دیکھو ،وہاں عورتوں کے لئے بھی ہے کہ ایک تو اپنے نظر یں نیچی رکھیں اور مردوں کو نہ دیکھیں دوسرے قرآن کریم کے حکم کے مطابق پرد ہ کریں۔
اب یہاں یہ بہانے بنائے جاتے ہیں کہ یورپ میں پردہ کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں یہ ایک طرح کاکمپلیکس(complex) ہے اورعورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی ہے۔ تم اپنی تعلیم چھوڑ کر خد ا تعالیٰ کو خوش کرنے کی بجائے معاشرے کو خوش کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہو۔ بلکہ اس معاشرے میں بھی سینکڑوں ، ہزاروں عورتیں ہیں جو پردہ کرتی ہیں، ان کو زیادہ عزت اوراحترام سے دیکھا جاتا ہے بہ نسبت پردہ نہ کرنے والیوں کے۔ اور معاشرتی برائیاں بھی ان میں اور ان کی اولادوں میں زیادہ پیدا ہو رہی ہیں جو پردہ نہیں کرتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے ۔بعض دفعہ بہت ہی بھیانک صورت حال سامنے آجاتی ہے۔
اب انٹر نیٹ(Internet) کے بارے میں بھی مَیں کہنا چاہتا ہوں وہ بھی اسی پردہ نہ کرنے کے زمرہ میں آتا ہے کہ chatting ہو رہی ہے۔ یونہی جب آ کے openکر رہے ہوتے ہیں انٹرنیٹ اور بات چیت (chatting) شروع ہوگئی تو پھر شروع میں تو بعض دفعہ یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کون بات کر رہا ہے؟یہاں ہماری لڑکیاں بیٹھی ہیں دوسری طرف پتہ نہیں لڑکا ہے یا لڑکی ہے اور بعض لڑکے خود کو چھپاتے ہیں اور بعض لڑکیوں سے لڑکی بن کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ لڑکیاں سمجھ کر بات چیت شروع ہوگئی جماعت کا تعارف شروع ہوگیا۔ اور لڑکی خوش ہو رہی ہوتی ہے کہ چلو دعوت الی اللہ کر رہی ہوں۔ یہ پتہ نہیں کہ اس لڑکی کی کیا نیت ہے۔ آپ کی نیت اگر صاف بھی ہے تو دوسری طرف جو لڑکا Internet پر بیٹھا ہوا ہے اس کی نیت کیا ہے آپ کو کیا پتہ؟ اور آہستہ آہستہ بات اتنی آگے بڑھ جاتی ہے کہ تصویروں کے تبادلے شروع ہو جاتے ہیں۔ اب تصویر یں دکھانا تو انتہائی بے پردگی کی بات ہے۔ اور پھر بعض جگہوں پہ رشتے بھی ہوئے ہیں۔ جیسے مَیں نے کہا کہ بڑے بھیانک نتیجے سامنے آئے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر رشتے پھرتھوڑے ہی عرصہ کے بعد ناکام بھی ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ آپ نے اگر تبلیغ ہی کرنی ہے، دعوت الی اللہ کرنی ہے تو لڑکیاں لڑکیوں کو ہی دعوت الی اللہ کریں۔ اورلڑکوں کو تبلیغ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ کام لڑکوں کے لئے چھوڑ دیں۔ کیونکہ جیسے مَیں نے پہلے بھی کہا کہ یہ ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں۔
آج تو Internet ہے۔ آج سے پہلے بھی جہاں بھی وہ عورتیں جنہوں نے غیر از جماعت مردوں سے شادیاں کی ہیں، اب پریشانی اور پشیمانی کا اظہار کرتی ہیں اور لکھتی ہیں کہ ہمارے سے یہ غلطی ہوگئی جو غیر از جماعت سے شادی کی۔ اول تو بچے باپ کی طرف زیادہ رحجان رکھتے ہیں، غیر از جماعت باپ کی طرف، اس لئے کہ اس میں آزادی زیادہ ہے۔ اور اگر بعض بچیاں ماں کے زیر اثر کچھ نہ کچھ جماعت سے تعلق رکھ بھی رہی ہیں تو باپ مجبور کر رہا ہے کہ تمہاری شادی غیر از جماعت میں ہی ہو گی۔ تو بعض بچیاں باپوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ لکھتی ہیں کہ ہماری مدد کی جائے، ہم غیراز جماعت میں شادی نہیں کرنا چاہتیں لیکن اکثر مجبور بھی ہوتی ہیں۔ تو مائیں بھی اور باپ بھی اس بات پر نظر رکھیں کہ اس طرح کھلے طور پر یہ Internetکے رابطے نہیں ہونے چاہئیں۔ پیار سے سمجھائیں، آرام سے سمجھائیں۔ جولڑکیاں شعور کی عمر کو پہنچی ہوئی ہیں خود بھی ہوش کریں ورنہ یاد رکھیں کہ آپ احمدی ماؤں کی کوکھوں سے نکلنے والے بچے غیروں کی گودوں میں دے رہی ہوں گی۔ کیوں آپ لوگ اپنے آپ پر اور اپنی نسلوں پر ظلم کر رہے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں:
’’ یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں۔ لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔ یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔ جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔ اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے۔ بدنظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہوجانا انسان کاخاصّہ ہے۔ پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہوجاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا۔ مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔ نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے دنیاوی لذات کو اپنا محبوب بنا رکھا ہے۔
پس سب سے اوّل ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی جو آزادی کا نعرہ لگانے والے ہیں وہ سن لیں کہ’’اخلاقی حالت درست کرو۔ اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات سے مغلوب نہ ہو سکیں تواس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں۔ ور نہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجے پر غور نہیں کرتے ۔کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔ قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ فرمایا:

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰالِکَ اَزْکٰی لَھُمْ(النور:31)

کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوںکی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔ فروج سے مراد شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے ۔پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کا رانسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے‘‘ ۔(ملفوظات جلد چہارم۔ صفحہ105-104 ۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
اسی آیت کے بقیہ حصہ کی اب مَیں تشریح کرتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والیاں بنو ۔ اس میں ایک تو پانچ وقت کی نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ خود بھی نمازوں کو سنوارکرجو نماز پڑھنے کا حق ہے، اس حق کے ساتھ پڑھو ،ٹھہر ٹھہر کر ،غور سے ہر لفظ جو تم پڑھتے ہو اس کو سمجھو ،ذہن میں ہو کہ ہم اللہ کے حضور حاضر ہیں اور اس سے کچھ مانگنے آئی ہیں ۔وہی ہے جو ہمارا پیدا کرنے والا ہے۔ وہی ہے جو ہماری مشکلیں آسان کرنے والا ہے۔ وہی ہے جس نے ہمیں اس دنیامیں بھیجا ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں۔ اور یہ باتیں اپنی اولادوں کے ذہنوں میں بھی ڈالیں۔
پھر ہر وقت یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ مختلف وقتوں میں ہم نے جو نمازیں پڑھی ہیں ان کا اثر اب ہمارے ذہنوں پر ہر وقت قائم رہنا چاہئے۔ ہرکام کرتے وقت اللہ کے نام سے شروع کیا جا ئے ۔ اللہ کے ذکر سے زبانیں تر رکھی جائیں۔ درود شریف پڑھا جائے کیونکہ خدا تک پہنچنے کا راستہ اب رسول اللہ ؐ کے ذریعہ سے ہی ہے۔ بچوں کو اس ماحول میں رکھیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ سکول بھجوانے کے لئے اور ویسے بھی جب مائیں اپنے بچوں کو تیار کر رہی ہوتی ہیں اس وقت بھی ساتھ ساتھ بچوں کے لئے دعائیں کرتی جائیں۔ تواس سے ایک تو بچوں میں بھی دعائیں کرنے کی عادت پیدا ہو جائے گی دوسرے آپ ان دعائوں کے ذریعے سے ان بچوں کواللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا رہی ہوں گی اور یہ بچے جب بھی آپ سے جدا ہوں گے وقت گزاریں گے۔ سکول کا یا جہاں بھی کھیلنے گئے ہیں تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں گے، ان دعاؤں کے حصار میں ہوں گے جو آپ ان کے لئے ہر وقت کرتی رہتی ہیں۔ پھر خاوندوں کو بھی توجہ دلائیں، نمازوں کے لئے انہیں اٹھائیں۔ خاوند کا بیوی کونماز کے لئے اٹھا نا اور بیوی کا خاوند کو نماز کے لئے اٹھانا۔ حدیثوں میں آیا ہے کہ اس کا دونوں کو ثواب ہوتا ہے ۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ یہ دنیاوی چیزیں تو عارضی ہیں، ختم ہو جائیں گی ۔ساٹھ، ستر،اسّی سال کی عمر میں اللہ کے حضور حاضر ہونا ہی ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان نیکیوں پر قائم کرے اور آپ سب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی ہوں اور جماعت کی تعلیم پر عمل کرنے والی ہوں ۔ جماعت کا وقار بلند کرنے والی ہوں اور اس اجتماع میں جو کچھ آپ نے حاصل کیا اس پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو عمل کرنے کی توفیق دے۔ ا ب دعاکرلیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/SwRSr]

اپنا تبصرہ بھیجیں