حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا جلسہ سالانہ فرانس 2004ء کے موقع پر خطاب

گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کیے جاتے ہیں۔ غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو مغلوب غضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئیے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے۔ جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پوراجنون ہو سکتا ہے۔
خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرالعزیز۔ برموقعہ جلسہ سالانہ فرانس فرمودہ ۲۸ دسمبر ۲۰۰۴ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَلَا تُفْسِدُوْ فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اَصْلَا حِھَا وَادْعُوْہُ خَو ْفًا وَّ طَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیْبٌ مِّنَ لْمُحْسِنِیْنَ۔ (الاعراف ۵۷)

فرمایا: اللہ تعالی نے دنیا میں بے شمار انبیاء مبعوث فرمائے، بھجوائے، ان سب کا ایک بہت بڑا مقصد اپنی قوم کے لوگوں کی اصلاح کرتے ہوئے انہیں پیارو محبت سے رہنا سکھانا تھا۔ اپنی اپنی قوموں کے حالات کے مطابق وہ انکی تربیت کرتے رہے لیکن اس کی انتہا تب ہوئی جب محسن انسانیت خاتم النبیاء حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوا۔ اس محسن انسانیت نے انسان کو انسان کی عز ت کرنے کی جو تعلیم دی، دنیا سے فساد ختم کرنے کی جو تعلیم دی، معاشرے کے لڑائی جھگڑوں کو ختم کرنے کی جو تعلیم دی، دنیا میں محبت اور پیار کی فضا پیدا کرنے کی جو تعلیم دی وہ ایک عالمگیر تعلیم ہے۔ یہ ایسی تعلیم نہیں جو کسی قوم کے، کسی مذہب کے ماننے والوں کے اپنے حالات کے مطابق ہو۔ ایک مسلمان مومن اگر اس تعلیم کو اختیار کرلے اور اس پر عمل کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنے نمونے پیش کرے تو دنیا میں ہر طرف محبت و پیار کی خشبوئیں ہی پھیلتی ہوئی ملیں گی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ پر محبت، پیار، صلح و صفائی کی فضا کو پیدا کرنے اور محبت و پیار کی فضا میں رہنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مومنوں کو نصیحت فرمائی ہے، یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اس طرف توجہ دلاتے ہوئے نصیحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
“اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔ اور اسے خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے رہو۔ یقینا اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب رہتی ہے۔ ”
کہ تم جو مومن کہلاتے ہو اس بات کے دعویدار ہو کہ ہم ایمان لائے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں شامل ہو گئے، تم جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اس حسین اور خوبصورت تعلیم کے ساتھ ہم دنیا سے فساد ختم کر دیں گے، تم جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اس خوبصورت تعلیم کے آنے کے بعد تمہاری اصلاح ہو گئی اور جو معاشرہ تمہارے دائرے میں ہے یعنی اسلامی معاشرہ اس کی اصلاح ہو گئی۔ اس تعلیم کے آنے سے پہلے جو معاشرہ کی حالت تھی وہ فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔ ہر جگہ ہر کوئی ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے والا تھا۔ اور آج بھی اگر کسی معاشرے میں فتنہ و فساد ہے تو اسکی اصلاح کے لئے اگر کوئی حل ہے تو آنحضرت ﷺ کی تعلیم ہی ہے۔ تو اس کے لئے تمہیں عملی نمونے پیش کرنے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کو خوف اور طمع سے پکارنا ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو تم اس پر عمل نہیں کر سکتے اگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور اسکی خشیت اور اس کا پیار تمہارے دل میں ہو گا تو تب ہی تمہارا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ہو گا۔ لیکن یاد رکھو کہ صرف زبانی دعووں سے منہ کی باتوں سے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں۔ تمہیں یہ معیار حاصل نہیں ہو جائیں گے۔ بلکہ تمہیں دنیا کی ہر چیز کی خواہش سے زیادہ اللہ تعالی کی رضا کو حاصل کرنے کی خواہش ہو گی تب تم یہ معیار حاصل کر سکو گے۔ اگر تمہارے خلاف کوئی غلط ہتھ کنڈے استعمال کرتا ہے تو یہ نہ ہو کہ تم بھی ویسے ہی اوچھے ہتھ کنڈے استعمال کرنے لگ جاؤ۔ اگر اس طرح کرو گے تو اصلاح کرنے والے نہیں بلکہ فساد پیدا کرنے والے شمار ہو گے۔ ایسے حالات بھی جب ہوں گے کہ تمہارے خلاف کوئی غلط ہتھ کنڈے استعمال کر رہا ہے تو تمہارا کام یہ ہے کہ اللہ کے آگے جھکو اس سے مدد مانگو۔ اسکی پناہ چاہو۔ اسی طرح جب تمہاری اولاد یا تمہارے کسی عزیز رشتہ دار کے خلاف کوئی بات ہو جسے تم ناجائز سمجھتے ہو تو ویسے ہی حربے استعمال نہ کرنے لگ جاؤ جیسا کہ مخالف استعمال کر رہا ہے بلکہ تمہارا کام یہ ہے کے کوئی بھی انتہائی کوشش جو تم کر سکتے ہو وہ یہ ہے کہ وہ اس فتنے فساد کو جو تمہارے یا تمہارے عزیزوں کے خلاف شروع ہوا ہے، جو فتنے فساد کی آگ جو بھڑکی اس کو وہ اپنے فضل سے ٹھنڈا کر دے۔ تو یاد رکھو کہ اللہ تعالی یقینا ان لوگوں کو جو نیک عمل کرنے میں انتہائی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی جو کسی فتنہ و فساد میں حصہ نہیں لیتے ان لوگوں کی جو اپنی یا اپنے عزیزوں کے خلاف فتنہ و فساد کی بھڑکائی ہوئی آگ کا اس طرح جواب نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ ضرور ان کی دعائیں سنتا ہے اور اپنی رحمت سے انکی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان مومن بندوں کے قریب ہے۔ انکی پکارسے اسکی رحمت جوش میں آجاتی ہے اور فتنا و فساد کی آگ کو اس کے فضل سے ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ پس یہ ہے اسلامی تعلیم فتنہ و فساد کے مقابل میں ردعمل دکھانے کی۔ اور اس طرح جہاں دوسروں میں تم فساد دیکھو یا ان کو فساد کی حالت میں دیکھو ان کو بھی سمجھا کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی تلقین کرو اور خود بھی ان کے لئے دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ اس فساد کی حالت کو ختم کر دے۔ تو یہ تعلیم ہے قرآن کی۔ لیکن افسوس کہ اس قرآنی تعلیم کو ماننے والے اس تعلیم پر جس طرح عمل کر نا چاہیے تھا عمل نہیں کر رہے۔ اور آج کہیں بھی فتنہ و فساد کی آگ بھڑکتی ہے تو فوراٌ مسلمانوں کا نام لگا دیا جاتا ہے۔ چاہے ان کا واسطہ نہ بھی ہو کیونکہ بدنام ہوچکے ہیں۔ بد سے بدنام برا۔ بحر حال یہ بدنامی بعض مسلمانوں نے خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے اپنے اوپر لی ہے۔ لیکن احمدی جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے عاشق صادق کو مانا ہے، جس نے اس قرآنی تعلیم کے محاسن اور اس کی خوبصورتی کھول کر ہمیں بیان فرمائی اس عاشق صادق نے تو اب ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ اسلام کی صلح و صفائی اور محبت و پیار کی اس خوبصورت تعلیم کو ہر جگہ ہر شہر ہر گلی میں پھیلائے۔ یہ خوشبو ہر طرف بکھیرے۔ ہر ایک کو بتائے کہ نہ صرف منہ سے بلکہ اپنے عمل اس خوبصورت تعلیم کے نمونے جو یقینا ایک کامل اور مکمل تعلیم ہے۔ کہیں دیکھنی ہے تو احمدی معاشرے میں دیکھو۔ دنیا کو بتا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْ مُرُوْنَ بِا لْمَعْرُوْ فِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمَنُوْنَ بِاللہِ (سورۃ اٰل عمران۱۱۱)

یعنی تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدے کے لیے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اس کے نمونے اگر دیکھنے ہیں تو احمدی معاشرے میں دیکھو۔ ہر وقت ہر احمدی کو زبان اور ہاتھ اور دعاؤں سے اصلاح معاشرہ کے نمونے دیکھانے چاہیں۔ ہر احمدی سے یہ نمونے سر زد ہوتے ہوئے نظر آئیں۔ اگر کوئی بات احمدی کے منہ سے نکلے تو وہ ایسی خوبصورت ہو جس سے فساد کی آگ خود بخود ٹھنڈی ہو جائے۔ آج اگر اللہ تعالیٰ پر کامل اور مکمل ایمان لانے والا کوئی ہے تو وہ احمدی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات پرکامل یقین ہے۔ جس کا اس بات پر مکمل ایمان ہے کہ وہ خدا اپنے بندے کی جو اس کی طرف جھکنے والا ہو، اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو اس کی مخلوق سے حمدردی کرنے والا ہو اپنے اس بندے کی دعائیں سنتا بھی ہے اور ان کا جواب بھی دیتا ہے۔ پس ہر احمدی یہ عزم کرے کہ گھر کی سطح سے لیکر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک جہاں جہاں جس طرح بھی کسی احمدی کا فتنہ و فسا د کو ختم کرنے کا کردار ادا ہو سکتا ہے اسے ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے معاشرے میں محبت و پیاربکھیرنے اور فتنہ و فساد ختم کرنے کے لئے جو مختلف پیرایوں میں تلقین اور نصیحت فرمائی ہے ان کا یہاں کچھ ذکر کرتا ہوں۔ روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ یہ پہلے اپنے معاشرے کی اصلاح کے لئے کہ جب وہ اسے ملے تو اسے اسلام و علیکم کہے اور جب وہ چھینک مارے تو یر حمکم اللہ کہے۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے جب وہ اسکو بلائے تو اسکی بات کا جواب دے۔ جب وہ وفات پا جائے تو اس کے جنازے پر آئے۔ اور اس کے لیے وہ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اور اس کی غیر حاضری میں بھی وہ اس کی خیر خواہی کرے۔
تو جب معاشرے سے یہ سلوک ہو رہا ہو گا توکسی فتنہ و فساد کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔ جب کسی کا حق سمجھ کر کوئی کام کیا جائے تو پھر سرسری طور پر یا اوپرے طور پر نہیں کیا جاتا بلکہ اگر دل میں ہو کہ یہ حق ہے اس کا اور میں نے حق ادا کرنا ہے تو بڑے سوچ سمجھ کر غور سے اور گہرائی سے کیا جاتا ہے۔
تو جب اس طرح ایک دوسرے کو دعائیں دے رہے ہوں گے۔ جب گھروں اور ہسپتالوں میں جا کر یا فون کر کے لوگوں کی طبعیت پوچھ رہے ہوں گے، بیماروں کی عیادت کر رہے ہوں گے جب خوش دلی سے کسی بات کا جواب دے رہے ہوں، جب لوگوں کی غمی میں شریک ہو رہیں ہو گے اور پھر سب سے بڑھ کر اپنے نفس کے حق کے برابر دوسرے کو بھی اس کا حق دے رہے ہوں گے تو کیا اس معاشرے میں کوئی جھگڑا اور فساد ہو سکتا ہے۔ کبھی نہیں بلکہ وہاں تو ہر وقت محبت اور پیار کے چشمے پھوٹیں گے اور ان باتوں پر عمل کرنا کوئی معمولی بات نہیں،یہ نہ سمجھیں کہ یہ سرسری باتیں ہیں بلکہ اپنے نفس کے خلاف ایک بہت بڑا جہاد ہو گا جو ہر ایک کر رہا ہو گا۔ پس ہر احمدی کو چاہیے کہ اس جہاد میں شامل ہو اور اس میں کامیاب ہو کر نکلے۔ اللہ توفیق دے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرے گا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ تو نہ صرف یہ کہ فتنہ و فساد نہیں کرنا لڑائی جھگڑا نہیں کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لیے اس کا رحم حاصل کرنے کے لیے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے لوگوں پر رحم کرو۔ انکی ضروریات کا خیال رکھو، ان کی مدد کرو،ان کے لیے تمہارے دل میں جزبہ ہمدردی ہو۔ ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھو، تو یہ ہے صحیح ایک احمدی مسلمان کا کردار جو ہونا چاہیے۔ پھر حضرت ام کلثومؓ بیان کرتی ہیں میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں کہلا سکتا جو لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کروانے میں لگا رہتا ہے۔ اور بات کو اچھے معنی پہناتا ہے یا بھلے اور نیکی کی بات کہتا ہے۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے بد ظنی کرتے ہوئے اچھی بات کے بھی الٹے معنی لے لیتے ہیں۔ اور پھر الٹے معنی لے کر فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہر بات کے اچھے معانی تلاش کرو اس سے صلح و صفائی کی فضا پیدا ہو گی اور معاشرے میں امن قائم ہو گا اور اس طرح کرنے سے تمہارا شمار بھی سچوں میں ہو گا۔
پھر حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام امور کو ٹھیک کر دیتا ہے۔ اور اس کی ہر بات کا بدلہ جو وہ کرتا ہے غلا م آزاد کرنے کے برابر دیتا ہے اور وہ ایسی حالت میں لوٹتا ہے کہ اس کے سب گزشتہ گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ اسلام نے بہت سارے گناہوں کا کفارہ اس زمانے میں چونکہ غلام ہوتے تھے ان غلاموں کی آزادی کرنا بتایا ہے یا پھر یہ ہے کہ غلام خرید کر آزاد کرنا ایک انسانی زندگی کو آزادی دلانا ایک بہت اعلیٰ نیکی کا معیار ہے تو اگر صلح کی کوشش کرو گے تو نیکیوں کے یہ اعلیٰ معیار قائم ہو ں گے اور اپنے گناہوں کا بھی مداوا کر رہے ہو گے اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گے جب تمہارے تمام گناہ معاف ہو چکے ہوں گے۔ تو یہ سلوک ہے جو ایک صلح کرنے والے اور صلح کی فضا پیدا کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔
پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں اپنے مظلوم بھائی کی مدد کا تو مطلب سمجھتا ہو ں لیکن ظالم بھائی کی کس طرح مدد کروں۔ آپ نے فرمایا اس کو ظلم سے روکو اور اس سے اس کو منع کرو۔ یہی اس کی مدد ہے۔ تو یہ ہے ایک احمدی کا کام، انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ کسی کو نقصان سے بچایا جائے۔ جب ظالم ظلم کرے گا تو یقینا قانون کی گرفت میں بھی آئے گا۔ اور اس ظلم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت میں بھی آئے گا تو ایک شخص کو ان سزاؤں سے بچانے کے لیے انسانی ہمدردی کا یہ تقاضا ہے کہ اسکو ظلم سے روکنے کی کوشش کرو۔ دیکھیں کتنی خوبصورت تعلیم ہے۔ آج کے بظاہر پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے معاشرے میں بھی یہ تعلیم کسی نے نہیں دی۔ آج کل تو اس لڑائی جھگڑے اور فتنہ کی آگ کو ختم کرنے کی بجائے دوسرے بھی ساتھ مل جاتے ہیں۔ مزید بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان معاملات میں صلح و صفائی کے اور بہت سے معاملات کی طرح یہ جو فساد کی باتیں ہیں آج کل بھی یہ حالات ایسے ہی ہیں جو چودہ سو سال پہلے عربو ں کے تھے۔ یہاں ان مغربی ملکوں میں یہی حال ہے بلکہ دنیا تمام میں یہی حال ہے کوئی اس سے باہر نہیں۔ امیر ملکوں کا بھی یہی حال ہے اور غریب ملکوں کا بھی یہی حال ہے۔ امن قائم کرنے کے نام پر فساد پھیلایا جاتا ہے۔ پھر غلط قسم کی جہادی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جو امن قائم کرنے کی بجائے سوائے فتنہ و فساد کے کچھ نہیں کر رہیں۔ اگر کوئی احمدی آواز اٹھاتا ہے تو اس کو غلط کہا جاتا ہے۔ احمدیوں کے خلاف ایک طوفان اٹھ جاتا ہے ان پرکفرکے فتوے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کو مان کر جس تعلیم پر عمل کر رہا ہے وہی اسلامی تعلیم ہے اور وہی حقیقی تعلیم اسلام کی تعلیم ہے۔
محمد بن منکظر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد کے ایک کونہ میں دو شخص آپس میں الجھ پڑے میں ان کے پاس گیا اور ان کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کی صلح ہوگئی۔ تو حضرت ابوہریرہؓ جو مجھے دیکھ رہے تھے نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو دو اشخاص کے درمیان صلح کرواتا ہے اللہ تعالیٰ اسے شہید کے برابر اجر سے نوازتا ہے۔ تو دیکھیں اس روایت کو یہاں آج کل ہر ایک نے اپنی ایک علیحدہ تنظیم بنائی ہوئی ہے، بعض مسلمان ملکوں میں اور جہاد کے نام پر قتل و غارت کے بازار گر م کیے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں یا معصوم بچوں کی برین واشنگ کر کے ان کو ان حرکتوں پر اکسایا جاتا ہے۔ ان چیزوں کے لیے لے جایا جاتا ہے کہ مرگئے تو شہادت کا درجہ ملے گا۔ حالانکہ بعض اور قسم کی اموات بھی ایسی ہیں جن میں شہادت کا درجہ ملتا ہے اور شہید سیدھا جنت میں جاتا ہے۔ لیکن اس روایت میں صلح کروانے والے کو شہید کا درجہ دیا گیا ہے۔ یعنی اس کی اس نیکی کی وجہ سے اسے جنت مل گئی۔ تو صاف پتہ چلا کہ جہاد بھی وہ جائز ہے جنگ بھی وہ جائز ہے جو فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لیے کی جائے جو دنیا میں امن اور صلح کی فضا پیدا کرنے کے لیے کی جائے نہ کہ بلا امتیاز شہری آبادیوں میں گولے پھینک کر یا خود کش حملے کر کے جس سے نہتے شہری بھی مارے جارہے ہیں۔ معصوم و مظلوم بچے، عورتیں، بوڑھے قتل کئے جا رہے ہیں۔ اور دونوں فریقوں کی طرف سے یہی حال ہے۔ کوئی اس کو امن قائم کرنے کی کاروائی قرار دیتا ہے اور کوئی اسکو جہاد کا نام قرار دے دیتا ہے۔ دوسرے تو یہ ظلم کر ہی رہے ہیں جو غیر ہیں۔ جس میں بعض مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ لیکن مسلمان کہلانے والے جو ہیں وہ تو کم از کم اپنی تعلیم پر نظر کرے۔ وہ تو آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے معصوموں کی زندگی کی ضمانت بن کر نکلیں۔ لیکن نہیں آج اگر یہ نیک کام کسی مسلمان سے ہوگا تو وہ احمدی مسلمان ہے کیونکہ احمدی نے ہی حضرت اقدس مسیح موعودؑ سے علم پا کر اس خوبصورت تعلیم کو سمجھا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مسئلہ جہاد کو جس طرح پر حال کے اسلامی علماء نے جو مولوی کہلاتے ہیں سمجھ رکھا ہے۔ اور جس طرح وہ عوام کے آگے اس مسئلہ کی صورت بیان کرتے ہیں ہرگز وہ صحیح نہیں ہے۔ اور اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ لوگ اپنے پرُ جوش وعظوں سے عوام وحشی صفات کو ایک درندہ صفت بنادیں۔ اور انسانیت کی تمام خوبیوں سے بے نصیب کر دیں۔ پھر فرماتے ہیں کیا یہ نیک کام ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مشلاً اپنے خیال میں بازار میں چلا جاتا ہے اور ہم اس قدر اس سے بے تعلق ہیں کہ نام تک بھی نہیں جانتے اور نہ وہ ہمیں جانتا ہے۔ مگر تا ہم ہم نے اس کے قتل کرنے کے ارادے سے ایک پستول اس پر چھوڑدیا ہے، کیا یہی دین داری ہے؟ اگر یہ کچھ نیکی کا کام ہے تو پھر درندے ایسی نیکی بجا لانے میں انسانوں سے بڑھ کر ہیں۔ فرمایا نادانوں نے جہاد کا نام سن لیا ہے۔ اور پھر اس بہانے سے اپنے نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ تو صلح و صفائی پیدا کرنے اور فساد کو دور کرنے کے لئے جوآپ نے ہمیں تعلیم دی ہے وہی صحیح قرآنی تعلیم ہے۔ جس کی آنحضرت ﷺ نے تلقین فرمائی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں :۔
کہ یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو،ہمدردی کرو۔ پھر فرمایا مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دُور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔ انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اس وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے۔ اور ا س میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔ پھر فرمایا یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک ایک بہت وسیع ہے۔ کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔ میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں ہی سے مخصوص کرو۔ نہیں میں کہتا ہوں تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔ میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نیکی کو بہت پسند کرتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔ اگر وہ بدی کوپسند کرتا تو بدی کی تاکید کرتا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی شان اس سے پاک ہے۔ فرمایا پس تم جومیرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔ یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلاتمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔

وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہٖ مِسْکِیْنَ وَّ یَتِیْمَ وَّ اَسِیْرًا۔ (ادھرآیت ۹)

وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفارہی ہوتے تھے۔
اب دیکھ لو۔ کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔ میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلا م کے اور کسی کونصیب ہی نہیں ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔ قرآن شریف فرماتا ہے:

مَنْ قَتَلَ نَفْسً بِغَیْرٍنَفْسٍ اَوْ فَسَادَ۔

یعنی جو شخص کسی نفس کو بلا وجہ قتل کر دیتا ہے وہ گویا ساری دنیا کو قتل کرتا ہے۔ ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔ زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔ حقوق اخوت کو کبھی نہ چھوڑو۔ وہ لوگ بھی تو گذرے ہیں جو دین کے لئے شہید ہوئے ہیں کیا تم میں سے کوئی اس بات پر راضی ہے کہ وہ بیمار ہو اور کوئی اسے پانی تک نہ دینے جاوے۔
فرمایا میں صلح کو پسند کرتا ہوں اور جب صلح ہو جاوے پھر اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہئے۔ کہ اس نے کیا کہا یاکیاکیا تھا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے ہزاروں مرتبہ دجال اور کذاب کہا ہو اور میری مخالفت میں ہر طرح کی کوشش کی ہو۔ اور وہ صلح کا طالب ہو تو میرے دل میں خیال بھی نہیں آتا اورنہیں آسکتا کہ اس نے مجھے کیا کہا تھا اور میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ ہاں خدا تعالیٰ کی عزت کو ہاتھ سے نہ دے۔ یہ سچی بات ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اس کو کینہ ور نہیں ہونا چاہیے۔ اگر وہ کینہ ور ہو تو دوسروں کو اس کے وجود سے کیا فائدہ پہنچے گا۔ جہاں ذرا اس کے نفس اور خیال کے خلاف ایک امر واقعہ ہوا وہ انتقام لینے کو آمادہ ہو گیا۔ اسے تو ایسا ہونا چا ہیے کہ اگر ہزاروں نشتروں سے بھی مارا جاوے پھر بھی پروانہ کرے۔ میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یاد رکھو۔ ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتے ہو۔ اگر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سرزد ہوجاوے تو اسے معاف کرنا چاہیے۔ نہ یہ کی ا س پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی عادت بنالی جاوے۔ نفس انسان کو مجبور کرتا ہے کہ اسکے خلاف کوئی امر نہ ہو اور اس طرح پر وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تخت پر بیٹھ جاوے۔ یعنی اگر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ فرمایا کہ اس طرح تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے تخت پر بیٹھ جاؤ۔ خدا بن جاؤ۔ فرمایا اس لیے اس سے بچتے رہو۔ میں سچ کہتا ہوں کہ بندوں سے پورا خلق کرنا بھی ایک موت ہے۔ میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ اگر کوئی ذرا بھی کسی کو توں تاں کرے تو اس کے پیچھے پڑ جاوے میں تو اس کو پسند کرتا ہوں کہ اگر کوئی سامنے بھی گالی دے دے تو صبر کر کے خاموش ہورہے۔ پھر آپ نے فرمایا یہ بھی یاد رکھو ہمارا طریق نرمی ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ اپنے مخالفوں کے مقابل پر نرمی سے کام لیا کرے۔ تمہاری آواز تمہارے مقابل کی آواز سے بلند نہ ہو۔ حق بات کہنے میں بلند ہو۔ ا۔ لیکن جو لڑائی جھگڑا اورفسادہے اس میں بلند نہ ہو۔ اپنی آواز اور لہجے کو ایسا بناؤ کہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صدمہ نہ ہووے۔ یہ بات واضع ہو گئی کہ جب لڑائی جھگڑے کی باتیں ہیں تو تمہاری آواز پھر نہیں نکلنی چاہیے۔ ہم قتل اور جہاد کے واسطے نہیں آئے۔ بلکہ ہم تو مقتولوں اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے اور ان میں زندگی کی روح پھونکنے کو آئے ہیں۔ تلوار سے ہمارا کاروبار نہیں۔ نہ یہ ہماری ترقی کا ذریعہ ہے۔ ہمارا مقصد نرمی سے ہے۔ اور نرمی سے اپنے مقاصد کی تبلیغ ہے۔ غلام کو وہی کرنا چاہیے جو اس کا آقا اس کو حکم کرے۔ جب خدا نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے۔ توہم کیوں سختی کریں۔ ثواب تو فرما برداری میں ہوتا ہے اور دین تو سچی اطاعت کا نام ہے۔ نہ یہ کہ اپنے نفس و ہوا و ہوس کی تابع داری سے جوش دکھاوے۔ یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غصب میں آجاتا ہے، اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے۔ جو اپنے مقابل کے سامنے جلد طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں جو غلیظ باتیں کرنے والا ہو اس کے منہ سے پاکیزہ باتیں نہیں نکلتیں۔ چنانچہ دیکھ لیں ہمارے مخالفین میں جو بھی گندہ دہنی کرنے والے ہیں۔ انکے خطبے بھی سن لیں انکی تقریریں بھی سن لیں کبھی ان کے منہ سے کوئی نیکی کی بات نہیں نکلے گی۔ کوئی حکمت کی بات نہیں نکلے گی۔ کوئی ایسی بات نہیں نکلے گی جس کی خدا تعالیٰ نے جس کا حکم دیا ہوا ہے۔ اگر نکلیں گی تو گند گندی گالیاں اورمغلظات۔ فرمایا گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کیے جاتے ہیں۔ غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو مغلوب غضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئیے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے۔ جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پوراجنون ہو سکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جسے نصیحت کرنی ہو اسے زبان سے کرو۔ ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرائے میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرائے سے دوست بنا دیتی ہے۔ پس

جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنَ

کے موافق اپنا عمل درامد رکھو راسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے

یُعْطِ الْحِکْمَتَ مَنْ ایَّشَاء۔

پھرآپ فرماتے ہیں جماعت کونصیحت کرتے ہوئے۔ کہ اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جائے۔ تقویٰ کا نور اُس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کااعلیٰ نمونہ ہو۔ اور بے جا غصّہ و غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔ فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصّے کا نقص ابھی تک موجود ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے۔ اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ا س میں کیا دقت پیش آتی ہے۔ کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے۔ اور اسکا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہیے کہ ابتداء میں صبر سے طبعیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے۔ کہ اللہ تعالیٰ اسکی اصلاح کر دیوے۔ اوردل میں کینے کو ہر گز نہ بڑھاوے۔ جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسا خدا کا بھی قانون ہے۔ جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہ ہوگی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچے جاؤ گے۔ فرمایا اب نصیحت نہیں ہے۔ فرمایا میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں دلوں کو پاک کریں۔ اور اپنی انسانی رحم کو ترقی دیں۔ اور درد مندوں کے ہمدرد بنیں۔ زمین پر صلح پھیلا دیں۔ کے اس سے انکادین پھیلے گا۔ تلوار اور تیر اور توپ و گولے سے تو دین نہیں پھیلے گا۔ بلکہ صلح سے دین پھیلے گا۔ اور اس سے تعجب مت کریں کہ ایسا کیونکر ہو گا کیونکہ جیسا کہ خدا نے بغیر تو سط معمولی اسباب کے جسمانی ضرورتوں کے لئے حال کی نئی ایجادوں میں زمین کے عناصر اور زمین کی تمام چیزوں سے کام لیا ہے۔ اور ریل گاڑیوں کو گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز دوڑا کر دکھلا دیا ہے۔ ایسا ہی اب وہ روحانی ضرورتوں کے لئے بغیر تو سط انسانی ہاتھوں کے آسمان کے فرشتوں سے کام لے گا۔ بڑے بڑے آسمانی نشان ظاہر ہوں گے۔ اور بہت سی چمکیں پیدا ہونگی۔ جن سے بہت سی آنکھیں کھل جائیں گی۔ تب آخر میں لوگ سمجھ جائیں گے کہ جو خدا کے سوا انسانوں اور دوسری چیزوں کو خدا بنا یا گیا تھا، یہ سب غلطیاں تھیں۔ سو تم صبر سے دیکھتے رہو کیونکہ خدا اپنی توحید کے لیے تم سے زیادہ غیر ت مند ہے اور دعامیں لگے رہو۔ ایسا نہ ہو کہ نافرمانوں میں لکھے جاؤ۔ اے حق کے بھوکو اور پیاسو !سن لو کہ یہ وہ دن ہیں جن کا ابتداء سے وعدہ تھا۔ خدا ان قصوں کو بہت لمبا نہیں کرے گا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جب ایک بلند مینار پر چراغ رکھا جائے تو دُور دُور تک اس کی روشنی پھیل جاتی ہے۔ اور یا جب آسمان کے ایک طرف بجلی چمکتی ہے تو سب طرفیں ساتھ ہی روشن ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی ان دنوں میں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے نشان مختلف رنگوں میں مختلف ممالک میں مختلف شکلوں میں دیکھاتا رہتا ہے لیکن جس کی آنکھ دیکھنے کی ہو وہی اسے دیکھ سکتا ہے اسی کو وہ نظر آتا ہے کہیں کوئی آفت اور مصیبت آئی ہوئی ہے کہیں کوئی آفت و مصیبت آئی ہوئی ہے یہ سب کیا ہے؟ اگر سمجھنا چاہیں تو سمجھ آئے۔ اب ختم کرنے سے پہلے میں کچھ دعاؤں کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔ اسیران کو دعاؤں میں یاد رکھیں جو اپنے پر ظلم ہونے کے باوجود ظلم کے الزام میں جیلوں میں ہیں۔ مظلوم بھی ہیں اور ظالم کہلا رہے ہیں۔ اس ظالم قانون کی وجہ سے پاکستان میں اس فساد پیدا کرنے والے قانون کے خاتمے کے لئے بھی دعا کریں جس نے اس پورے ملک کو ایک مشکل میں اور مصیبت میں گرفتار کیا ہوا ہے۔ جس کی وجہ احمدیوں پر جب چاہے جو چاہے جس طرح چاہے ظلم کر لیتا ہے۔ شہدا کے بیوی بچوں کے لیے بھی دعا کریں جن کے خاوندوں اور باپوں کے قاتل اس فاسد قانون کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ کوئی انکو پوچھنے والا نہیں۔ پاکستان بنگلہ دیش انڈیا کہ احمدیوں کے لیے، دنیا کے ہر جگہ کے احمدیوں کے لیے دعا کریں لیکن ان ملکوں میں شریر بہت زیادہ شرارت کرتے رہتے ہیں وقتاً فوقتاً۔
بنگلہ دیش میں بھی فساد پیدا ہوتا رہتا ہے اکثر اور بعض دفعہ اس میں حکومتی کارندے بھی شامل ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی شہ پر ہی ہو رہا ہوتا ہے سب کچھ۔ اور بنگلہ دیش میں بھی شہید ہوئے ہیں۔ شاید پاکستا ن کے بعد سب سے زیادہ شہداء بنگلہ دیش کے ہی ہیں۔ انکے بیوی بچوں کے لیے بھی دعا کریں خاص طور پر۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ تمام شاملیں جلسہ کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے اور جو یہاں جلسے پہ آئے ہوے ہیں اور جو قادیان میں آئے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان کی حاضری بھی اس وقت 35ہزار کے قریب ہے۔ جلسے کی۔ سب لوگ خریت سے اپنے گھروں کو جائیں اور راستے کی مشکلات اور شر سے محفوظ رہیں جلسہ قادیان پر آتے ہوئے اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا ان کو تنگ کیا گیا تھا۔ بعضوں کو، پھر آپ لوگ بھی اور جو قادیان میں بھی بیٹھے ہیں جلسے پر وہ بھی ان دنوں میں جو کچھ انہوں نے سنا ہے اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور جو کچھ سنا ہے سیکھا ہے یہیں بھول کے نہ چلے جائیں بلکہ یہ ہر حکمت کی بات، دانائی کی بات اللہ تعالیٰ کے قریب لے جانے کی بات، انسانیت کی خدمت کرنے کی بات آپ کی زندگیوں کا حصہ بن جائے۔ تمام دنیا سے فتنہ و فساد دُور ہونے خاص طور پر مسلمان ممالک کی جو مظلومیت کی جو حالت ہے اس کے لیے دعا کریں۔ انہیں بھی خاص طور پر عراق پر آج کل بہت زیادہ ظلم ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ان کو اس ظلم سے بچائے۔ جو ظالم امن قائم کرنے کے نام پر کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ جلد عراق کے لوگوں کو اس عذاب سے نکالے اور آئندہ بھی مسلمان ممالک کے خلاف کارروائیوں کی جو کوششیں کی جارہیں ہیں ان سے ان سب ملکوں کو محفوظ رکھے اور مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ عقل دے کہ اس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔ اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق جو آپ ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی آپ کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے کے لیے اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے آئے تھے ان کو ان مسلمانوں کوماننے کی جلد توفیق ملے پھر چند دن ہوئے سری لنکا اور کل پرسوں شاید اور بعض دوسرے ممالک میں ہندوستان کا بھی سنا ہے کچھ حصہ ہے اور کچھ اور ممالک بھی ہیں اسی بیلٹ کے، ان میں زلزلہ آیا ہے اوربڑی سخت تباہی ہوئی ہے اور جانی نقصان ہوا ہے ان کے لیے بھی دعا کریں اور اللہ تعالیٰ دنیا کو ان عذابوں سے بچائے۔ یہ عجیب ہے کہ گذشتہ سال قادیان کے جلسے کے ساتھ ہی ایران میں زلزلہ بڑا شدید آیا تھا اور اس سال تین چار ملکوں میں آ گیا تو یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ میں اس کو اتفاق نہیں سمجھتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کام کر رہی ہے اور دنیا میں ہر جگہ ایسی تقدیریں ظاہر ہونی ہیں۔ اس لیے ابھی بھی انسان کو اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچاننا چاہیے۔ اور دنیا سے فساد اور فتنے کو ختم کرنا چاہیے۔ مرکزی طور پر تو بہرحال انشاء اللہ اِن زلزلہ زدگان کی خدمت کی جائے گی۔ ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ سے بڑی خدمت ہوتی ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ لیکن بڑی بڑی جماعتیں اپنے طور پر بھی پروگرام بنا کر پتہ کریں جہاں جہاں تباہی آئی ہے اُن لوگوں کی خدمت کی طرف آگے بڑھیں اور توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو اور جماعت احمدیہ عالمگیر کو بحثیت جماعت بھی اس کام کی توفیق دے کہ باوجود اس کے کہ اس کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں وہ خدمت انسانیت کرتی چلی جائے اور دنیا سے فساد اور فتنے کو ختم کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کرتی رہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ اب دعا کر لیں۔ آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں