حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا جلسہ سالانہ برطانیہ 2004ء کے دوسرے روز کے اجلاس سے خطاب

2003-2004ء کے دوران جماعت احمدیہ عالمگیر پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کا مختصر تذکرہ
جوافضال وانوارِ الٰہی کی بارش دن رات جماعت احمدیہ پر نازل ہو رہی ہے اسے ہم کبھی شمار نہیں کرسکتے۔ یہ صرف اور صرف خداتعالیٰ کی دین اور عطاہے۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 178 ممالک میں جماعت احمدیہ کا پودا لگ چکا ہے۔ امسال Saint Kitts & Navis اور Martinique میں جماعت کا نفوذ ہوا۔ 542 نئی جماعتیں قائم ہوئیں، 162 مساجد اور 159 مراکز کا اضافہ ہوا، Kannada زبان میں پہلی دفعہ ترجمہ قرآن کریم طبع ہوا۔ دوران سال 84 مختلف زبانوں میں لٹریچر شائع ہوا۔ 252 نمائشیں لگائی گئیں۔ 2936 بکسٹالز و بک فیئرز میں حصہ لیا۔ مختلف زبانوں کے ڈیسکس اور مرکزی شعبہ جات کی مساعی کا تذکرہ۔
ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ اسلام احمدیت کے پیغام کی تشہیر۔
نادار اور ضرورتمندوں غربا اور مریضوں اور مستحقین کی خدمت کے مختلف پراجکٹس۔
دنیا بھر میں اس سال تین لاکھ سے زائد افراد جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔
اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور مخالفین کی ذلّت ورسوائی کے ایمان افروز واقعات کا روح پرور بیان
اسلام آباد (ٹلفورڈ Surrey) میں منعقد ہونے والے جماعت احمدیہ برطانیہ کے 38ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر 31 جولائی 2004ء کو بعد دوپہر کے اجلاس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤا نُوْرَاللہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ (الصف:9)

آج کے اس دوسرے دن کے خطاب میں، دوران سال جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی ہوتی ہے، اس کا کچھ مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔ شاید بارش کے قطرے تو گنے جا سکتے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شمار کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ اگر تفصیل میں جاکر ان کا ذکر کیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ مضمون جلسہ کے ان دنوں میں ختم ہو سکے۔ دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو وعدے کیے تھے ان کو کس طرح پورا فرما رہا ہے۔ اس زمانہ میں بھی ہمارے ایمانوں کو بڑھانے کے لئے ہر روز ایک نئی شان سے ان فضلوں کے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے یہ الفاظ نظروں کے سامنے آجاتے ہیں کہ:

تُو سچے وعدوں والا، منکر کہاں کدھر ہے

اور ان فضلوں کو دیکھ کر کیونکہ دل اللہ تعالیٰ کے حضورمزید جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان میں اور اضافہ فرماتا چلا جاتا ہے، ان کو اور بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ کسی کارکن کو یا کسی احمدی کو کبھی یہ خیال نہیں آیا اور نہ آنا چاہیے،نہ آتا ہے کہ جماعت کی یہ ترقی شاید ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے بلکہ یہ تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نتیجہ ہے۔ اُس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیروی میں ہمیں بھی وہ نظارے دکھائے اور اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے جو فضل نازل ہو رہے ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں اور انہی کا ذکر کرنے کیلئے ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے الفاظ میں ہی یہ کہتے ہیں کہ ؎

ہوا مَیں تیرے فضلوں کا منادی

یہ جو آیت مَیں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ:
’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں،حالانکہ اللہ ہر حال میں اپنا نور پورا کرنے والا ہے خواہ کافر ناپسند کریں۔’‘
اب مَیں کچھ باتوں کا ذکر کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا مومنوں کو مالی قربانی کا بنیادی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں اس کے ایسے عظیم نظارے دیکھنے میں آتے ہیں کہ دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس علیہ السلام کو کیسی پیاری جماعت عطا فرمائی ہے جو اپنے پر تنگی وارد کر کے بھی ا للہ کی خاطرقربانیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔ لوگ دعاؤں کے لیے لکھ رہے ہوتے ہیں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وعدے پورے کرنے کی توفیق دے۔ تو آج کل کی مادی دنیا میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی ہے اور ہر کوئی اپنی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے لگا رہتا ہے جماعت کے ساتھ یہ نظارے ہیں۔ مختصراً کچھ کوائف کا مَیں ذکر کرتا ہوں۔
مالی سال2003-04ء کے لئے حالانکہ جماعتوں کو بڑے بڑے ٹارگٹ دیئے گئے تھے۔ تو جو کچھ رپورٹیں موصول ہوئی ہیں اُن کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف بجٹ پورے ہوئے بلکہ پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی جماعت کو توفیق ملی اور مجموعی طور پر عالمگیر جماعت احمدیہ نے گزشتہ سال کی نسبت ساڑھے چوبیس فیصد سے زائد کی قربانی پیش کی ہے۔
ذرا پیچھے جائیں اور اُس زمانہ کو بھی دیکھیں جب دشمن جماعت کے ہاتھوں میں کشکول تھمانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اور آج یہ وقت ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ پیاری جماعت اشاعتِ دین کے لیے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے کروڑوں اربوں کے حساب سے مالی قربانیاں پیش کر رہی ہے۔ وقت کی کمی کی وجہ سے ان کا تفصیلی ذکر تواس وقت نہیں کیا جا سکتا۔ جو چند نمونے میں نے لیے ہیں اگر ان کا بھی میں ذکر کروں تو کئی گھنٹے لگ جائیں گے۔ بہرحال ان مالی قربانیوں میں جو صفِ اول کے ممالک ہیں ان کا مَیں ذکر کر دیتا ہوں۔ ان میں امریکہ نے قربانیوں میں تقریباً بیس فیصد سے زائد اپنا اضافہ کیا ہے۔ جرمنی نے بھی پندرہ فیصد کیا۔ کینیڈا نے تقریباًساڑھے بارہ فیصد کیااوراس طرح بہت سارے ملک ہیں۔ یورپ کے دوسرے ممالک بیلجیم،سویڈن،فرانس وغیرہ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ پھر افریقن ممالک میں جو غریب ممالک ہیں اُن میں گیمبیا کی جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے 26 فیصد سے زائد اضافہ کیا اور وصولی کی۔ پھر قازقستان، آسٹریلیا،سیرالیون،نائیجیریا وغیرہ جماعتوں میں بھی بڑی تیزی سے مالی قربانی کی طرف رجحان بڑھ رہاہے۔ یہ تومالی قربانیوں کا مختصر ذکر تھا۔
نئے ممالک میں احمدیت کا نفوذ
نئے ممالک میں جہاں جہاں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے اب مَیں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دنیا کے 178 ممالک میں جماعت احمدیہ کا پودا لگ چکا ہے۔ (اس موقع پر حاضرین میں سے کسی نے نعرۂ تکبیر بلند کیا تو حضور انور نے فرمایا: شکر ہے آپ نے نعرہ لگا دیا۔ انتظامیہ تو بہت محتاط ہوگئی ہے)۔ 1984ء کے آرڈیننس کے بعدگزشتہ بیس سالوں میں جبکہ مخالفین نے جماعت کو نابود کرنے کے لیے پورا زور لگایا اورہر حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو 87نئے ممالک عطا فرمائے ہیں۔ اب تک جو ترقی ہو چکی تھی اور جو کو ششیں تھیں وہ بظاہر آخر تک اس طرح لگ رہا تھا، اور مجھے بڑی فکر تھی کہ شاید اس سال کوئی نئے ممالک شامل نہ ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے دینے کے بھی عجیب طریقے ہیں اور ایسا فضل فرماتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال بھی دو نئے ممالک جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ ان میں اگر مَیں صحیح تلفظ بول رہا ہوں تو ایک سینٹ کٹس اینڈ نیوس (Saint Kitts & Navis) ہے اور دوسرا مارٹینیک (Martinique) ہے۔ یہ جو سینٹ کٹس اینڈ نیوس ہے اس میں جماعت کے نفوذ کا منصوبہ جماعت احمدیہ ٹرینیڈاڈ (Trinidad)کے سپرد تھا۔ گزشتہ سال امیر صاحب نے یہاں خود ہی تبلیغی وفد بھجوایا جس کی تبلیغ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں پہلا پھل عطا ہوا۔ اور اس کے بعد پھر ایک فیملی جو ٹرینیڈاڈ میں تھی اور اس کے چھ افراد تھے وہ بھی وہاں شفٹ کر گئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت قائم ہو گئی ہے۔ اب جو رپورٹس ہیں تو امید ہے کہ انشاء اللہ (وہاں)مزید کامیابیاں سامنے آئیں گی۔
پھر مارٹینیک Martinique جو ہے اس میں فرانس کی جماعت کو احمدیت کا پودا لگانے کی توفیق ملی۔ یہ جزیرہ بھی ٹرینیڈاڈ کے شمال میں واقع ہے اور یہاں فرانس سے وفد گیا۔ ریڈیو پروگرام بھی ہوئے،سوال جواب کی مجالس ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دو پھل عطا فرمائے اور اب یہ جو تبلیغ ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیز ہو چکی ہے۔ اس وقت چھ اور آدمیوں نے وہاں بیعت کر لی ہے۔ الحمدللہ۔
نئی جماعتوں کا قیام
اب میں ملک وار جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں اُن کا مختصراً ذکر کرتا ہوں۔ پاکستان کے علاوہ دنیا میں جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں یہ تین سو چوّن (354)ہیں۔ اور ان کے علاوہ جواس سال اب تک ہو چکی تھیں ان میں سے ایک سو اٹھاسی (188) نئے مقامات پرپہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر پانچ سو بیالیس(542) علاقوں میں جماعت احمدیہ کا نفوذ ہو چکا ہے۔ اور ان میں سرِ فہرست ہندوستان ہے۔ یہاں ایک سو اکاون (151) نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ پھر بورکینا فاسو ہے یہاں اکاون (51)مقامات پر نئی جماعتیں بنی ہیں۔ پھر سیرالیون ہے اٹھارہ (18)،پھر تنزانیہ اور نائیجیریا،غانا، انڈونیشیا وغیرہ ملک ہیں۔ بہرحال کافی ممالک ہیں جہاں نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔
امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ : ایک شہر’’باکونے’‘(Becancons میں مقیم ایک البانین عثمان مراد سے ہمارا رابطہ ہوا۔ انہوں نے ہمیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں جب میں اپنے دو سیکرٹریان کے ساتھ لمبا سفر کر کے اس شہر میں پہنچاتو انہوں نے سٹیشن پر اپنے بیٹے کو لینے بھیجا ہوا تھا۔ پھر اصرار کیا کہ آپ ہمارے گھر آئیں۔ کہتے ہیں جب ہم ان کے گھر گئے تو وہاں ایم ٹی اے لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ان کے کمرے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی اور میری تصویر بھی لگی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ کہتے ہیں ہم حیران رہ گئے کہ یہ یہاں کس طرح ہو گیا؟ یہ تو پہلے سے احمدی لگ رہے ہیں۔ تو انہوں نے بتایا کہ جس زمانے میں جماعت نے بوسنیا کی مدد کی تھی اس وقت وہ احمدیت میں شامل ہوئے تھے اور بعد میں یہاں آکر آباد ہوگئے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ان کا رابطہ کٹ گیا۔ یہ مستری کا، راج گیری (Masonary) کا کام کرتے ہیں۔ کہتے ہیں میں ایک دن اونچی جگہ چڑھا کام کر رہا تھا تو آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آسمان کی طرف دیکھ کرمیں نے دعاکی کہ ساری زندگی میں نے کمانے میں گزاری ہے،اب احمدیت کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں تُو اس جنگل میں مجھے احمدی لوگوں سے ملا دے۔ دور دراز علاقہ تھا۔ تو یہ کہتے ہیں میں نے یہی دعا کی اور آج اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی اور آپ لو گ یہاں آگئے ہیں۔ دوپہر بارہ بجے تک پھر ان کے گھر میں مجلس جمی رہی،گفتگو جاری رہی اَور فیملیاں بھی وہاں آئیں ان کو بھی پیغام ِ حق پہنچایا جس کے نتیجہ میں تین نئے خاندان جماعت میں شامل ہوگئے۔
ابھی تفصیلی بیعتوں کا ذکر تو آگے آئے گا۔
مساجد کی تعمیر
پھر مساجد کی تعمیر ہے۔ جماعت کو دورانِ سال خدا تعالیٰ کے حضور جومساجد پیش کرنے کی توفیق ملی۔ ان کی تعداد ایک سو باسٹھ(162)ہے۔ جس میں سے چوہتّر (74) نئی مساجد بنی ہیں اور اٹھاسی (88)مساجد اللہ تعالیٰ نے بنی بنائی عطا فرمائی ہیں۔ اور یہ گزشتہ بیس سالوں میں (1984ء سے لے کے اب تک۔ جب وہ آرڈیننس بنا تھا کہ کسی طریقہ سے احمدیت کو ختم کیا جائے) تیرہ ہزار چار سو ستاون (13,457) نئی مساجد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان میں گیارہ ہزار پانچ سو ساٹھ (11,560) مساجد جو ہیں اپنے اماموں اور مقتدیوں سمیت جماعت کو ملی ہیں۔ گاؤں کے گاؤں احمدی ہوئے ہیں۔
پھر بعض ممالک کی مساجد کا ذکر کرتا ہوں۔
دورانِ سال امریکہ میں شکاگو (Chicago) میں بھی ایک مسجد بنی۔ اور تقریباً چھبیس لاکھ ڈالر میں مکمل ہوئی ہے۔ پھر اس کے علاوہ ہیوسٹن میں مسجد کی تعمیر ہوئی۔ یہ ملا کر اب امریکہ میں کُل پندرہ (15)مساجد ہو گئی ہیں۔ اور اس کے علاوہ بھی چار پانچ اور جگہوں پہ مساجد کیلئے زمینیں خریدی گئیں، پلاٹ خریدے گئے یا تعمیر ہورہی ہے۔
اسی طرح کینیڈا میں گزشتہ سال ٹورانٹو کے نواحی علاقہ بریمپٹن میں جماعت کو ایک نہایت اہم جگہ پر اڑھائی ایکڑ زمین برائے تعمیر مسجد خریدنے کی توفیق ملی۔ وہاں نقشہ بھی دیکھا ہے۔ اب جب میں وہاں گیا ہوں وہ جگہ دیکھی۔ انشاء اللہ وہاں جلدی تعمیرشروع ہو جائے گی۔
پھر سینٹ کیتھرائن (Saint Catherines) کے مقام پر بھی مسجد کے لئے پونے د و ایکڑ زمین خریدی گئی۔ یہ بھی بڑی خوبصورت جگہ پر واقع ہے۔ پھر سینٹر کے طور پر بھی جماعت کینیڈا کو ونڈسر کے مقام پر ایک بڑی خوبصورت،با موقع سکول کی عمارت خریدنے کی توفیق ملی ہے، جس کا covered area اٹھارہ ہزار مربّع فٹ ہے۔
جرمنی میں بھی سو مساجد کی جو تعمیر ہو رہی ہے ان میں سے اس سال دو مساجد انہوں نے تعمیر کی ہیں اور مزید تین کی ان کو امید ہے انشاء اللہ کر لیں گے یا ہو چکی ہوں گی۔
برطانیہ تو اب ہر کوئی جانتا ہے اور دنیا میں ہر جگہ یہ بات مشہور ہو چکی ہے کہ بیت الفتوح اس سال مکمل ہوئی اور دنیا کے پریس میڈیا نے اسے بہت کوریج دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک غیر معمولی نشان نظر آتا ہے۔ برطانیہ کے ایک قومی اخبار انڈی پینڈنٹ(Independent) کا ایک ہفتہ وار میگزین ’’دی انفارمیشن‘‘ (The Information) کے نام سے ہے اس میں دنیا کی پچاس ماڈرن بلڈنگز میں اس مسجد بیت الفتوح کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ یوکے (UK) والوں کے لئے برمنگھم میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ اور بریڈفورڈ اور ہارٹلے پُول میں بھی مسجد کا پروگرام ہے۔ انشاءاللہ اِس سال اُن کی بنیادیں رکھی جائیں گی۔ (اس موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے استفسار فرمایا کہ یہ جو کل شکایت تھی کہ آواز نہیں پہنچ رہی،صرف ایک طرف ہے،کیا آج ہر جگہ پہنچ رہی ہے ؟جو پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں وہ بتائیں کہ آواز ہر جگہ پہنچ رہی ہے ؟حاضرین نے جواب دیا: جی۔ تو فرمایا کہ اچھا)۔ ہندوستان میں دورانِ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے 29 نئی مساجد کا اضافہ ہوا ہے اور یہاں مساجد کی کُل تعداد دوہزار چوّن (2054) ہو چکی ہے۔
بنگلہ دیش میں بھی تین مساجد مکمل ہوئی ہیں۔ یہاں بھی مُلّاں کی دشمنی انتہا کوپہنچی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے شر سے احمدیوں کو محفوظ رکھے۔ ان کے لئے بھی دعا کریں۔
انڈونیشیا کو بھی 7 نئی مساجد ملیں اور اب ان کی تعداد 367 ہو گئی ہے۔
کمبوڈیا میں دو مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ غانا میں اکیس مساجد کا اضافہ ہوا۔ اور اب جب میں دورے پہ گیا ہوں تو انہوں نے کافی مساجد کے، تقریباً گیارہ مساجد کے افتتاح کروائے،اور دو کا سنگِ بنیاد بھی رکھوایا۔
پھر نائیجیریا میں امسال انہوں نے 9 نئی مساجد تعمیر کی ہیں اور 8 بنی بنائی عطا ہوئی ہیں۔ یہاں بھی میں نے ان کو کہا تھا کہ ہر جگہ جہاں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے،جہاں جہاں جماعت قائم ہے مساجد بنائیں۔ جو مخیر حضرات ہیں وہ آگے آئیں اور مسجد کا خرچہ اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی لوگ سامنے آرہے ہیں اور انہوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم مسجدیں بنائیں گے۔ انشاء اللہ۔
اسی طرح سیرالیون میں دورانِ سال 16 مساجد کا اضافہ ہوا۔ سینیگال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک 84 مساجد بن چکی ہیں۔ (یہ اضافہ انہوں نے یہاں نہیں لکھا)۔ گیمبیا میں 2 نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ مڈغاسکر میں گزشتہ سال پہلی نئی مسجد تعمیر ہوئی تھی اور اس سال مزید 2 مساجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔
کونگو میں 4 اور یوگنڈا میں 7 نئی مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ کینیا کو بھی سو مساجد کا ایک منصوبہ دیا گیا تھا اور انہوں نے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے 51 مساجد تعمیر کرلی ہیں۔
تنزانیہ کو بھی 100 مساجد کا منصوبہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے 42 مساجد تعمیر کرلی ہیں اور 3 مساجد زیرِ تعمیر ہیں۔ بورکینافاسو میں 5 مساجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اور اس دفعہ دورہ کے دوران میں نے 3 مساجد کاافتتاح بھی کیا۔
بینن میں 2 نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور کوتونو شہرجو اب ان کا capital بن رہا ہے بلکہ بن چکا ہے جبکہ پہلے پورتونووو (Porto Novo) کیپیٹل تھا۔ یہاں یہ مسجد تعمیرہوئی ہے۔ اور بڑی خوبصورت اور سڑک کے اوپر ہے۔ اس کا بھی اس دفعہ دورہ کے دوران افتتاح ہوا ہے۔ پھر بینن کے نارتھ میں پاراکو (Parakou) میں جماعت کی پہلی مسجد ’’مسجد العافیۃ‘‘ تعمیر ہوئی۔ اس دورہ کے دوران ایک مسجد کا پورتو نووو میں بھی سنگِ بنیاد رکھا۔ اوراب اللہ کے فضل سے بینن میں 11 مساجد زیرِ تعمیر ہیں۔
گزشتہ بیس سالوں میں پاکستا ن میں مخالفین نے ہماری جماعت کی بعض مساجد کو شہید کیا یا حکومت نے ان پر پابندی لگا دی اور سر بمہر (seal)کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نیجماعت احمدیہ کو اس کے مقابلہ میں تیرہ ہزار چار سو ستاون (13457) مسجدیں عطا فرمادیں۔
ہم تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مخالفین اپنے زعم میں ہم سے لڑ رہے ہیں۔ وہ سن لیں کہ وہ ہم سے نہیں لڑ رہے۔ وہ خدا سے لڑ رہے ہیں۔ اللہ کے قہر سے ان کو ڈرنا چاہیے کہ جس دن وہ ان پر نازل ہو گا تو ان کی خاک کا بھی پتہ نہیں چلنا۔
امیر صاحب جزائر فجی لکھتے ہیں کہ ایک رابنی جزیرہ میں کافی عرصہ سے بڑی کوشش کر رہے تھے۔ مسجد کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی تو اچانک کچھ عرصہ پہلے جب انہوں نے دوبارہ کوشش کی۔ مجھے بھی لکھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں دعا کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا ہے کہ کونسل کی طرف سے خط ملا ہے کہ مسجد اور مشن ہاؤس تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ کچھ مہینے پہلے یہ اجازت ملی اور الحمدللہ اس جزیرہ کی جومسجد ہے وہ بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔
مبارک محمود صاحب لکھتے ہیں کہ دارالسلام (تنزانیہ کا دارالحکومت۔ ناقل) سے عروشہ (Arusha) جانے والی شاہراہ پر کوڈی زینگا (Kodi Zinga) ایک گاؤں ہے وہاں جماعت کا پودا لگا۔ اور کچھ عرصہ میں اچھی فدائی جماعت بن گئی۔ گاؤں کے چیئر مین نے بھی احمدیت قبول کر لی۔ ایک احمدی نے مسجد کے لئے زمین وقف کی۔ جماعت نے وہاں پختہ مسجد تعمیر کر لی۔ لیکن اس سارے عرصہ میں جماعت کی سخت مخالفت بھی ہوتی رہی۔ دوسرے جو مسلمان ہیں وہ مخالفت کرتے رہے۔ اس گاؤں میں عین سڑک کے کنارے غیر احمدیوں کی بھی مسجد تھی۔ وہی پاکستان والی حرکتیں وہاں بھی ہوتی ہیں۔ اور یہ لوگ دوسرے شہروں سے مولوی منگواتے تھے۔ اور مسجدوں سے ہر قسم کی مغلظات جماعت کے خلاف بکتے رہتے تھے۔ اس مسجد میں بھی دوسرے شہروں سے مولوی آتے تھے۔ (انہوں نے) احباب کے ساتھ مناظرے بھی کئے۔ خدا کا کرنا اب کیا ہوا ہے کہ گورنمنٹ نے ہائی وے (Highway)کو چوڑا کرنے کے لئے یہ قانون بنایا کہ شاہراہ کے دونوں طرف 75 فٹ تک کسی قسم کی بھی آبادی نہیں ر ہنے دینی۔ تعمیر کو ممنوع قراردے دیا تو جو جماعت کی مسجد تھی وہ تو 75 فٹ سے پانچ فٹ باہر نکلی اور اُن کی مسجد اس کے اندر آگئی۔ اس طرح اُس کو گورنمنٹ نے خود ہی بلڈوز کردیا۔
تبلیغی مراکز میں اضافہ
دورانِ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تبلیغی مراکز میں 159 کا اضافہ ہوا ہے۔ اورمختلف ممالک میں اب اللہ کے فضل سے کُل تعداد 1398 ہو چکی ہے۔ انڈونیشیا میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں مختلف جگہوں پر،وی آنا میں،غانا میں، نائیجیریا میں،تنزانیہ میں، (تعد اد تو اس وقت بتانے کا وقت نہیں رہا) بورکینا فاسو میں۔ بورکینا فاسو میں تو اللہ کے فضل سے ان کوپورا ایک کمپلیکس مکمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔ چند ماہ پہلے ٹِین(tin) کی چھتوں کے نیچے یہ نمازیں پڑھا کرتے تھے اور وہاں بھی ان کو نوٹس مل گیا تھا کہ خالی کرو۔ تو انہوں نے چند مہینوں میں اللہ کے فضل سے ایک مسجد بھی تعمیر کی۔ مشن ہاؤس بنایا۔ گیسٹ ہاؤس بنایا۔ امیر ومبلغ انچارج کی رہائشگاہ بنائی اور ہسپتال بنایا اور کافی وسیع ہسپتال ہے۔ اوریہ ساری چیزیں ایک ہی احاطہ میں ہیں اور اب جب میں دورہ پہ گیا ہوں تو اُس سے کچھ دن پہلے ہی یہ مکمل ہوا تھا اور پھراس کا افتتاح بھی ہوا۔ تویہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ جماعت نے وقارِعمل کرکے رات دن ایک کر کے ان سب تعمیرات کو مکمل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزادے۔
فرانس میں دو نئے سینٹرلئے ہیں۔ جرمنی میں ایک اور یوکے میں ایسٹ ریجن لنڈن میں ایک مرکز کا اضافہ ہوا ہے۔
تراجم قرآن کریم
گزشتہ سال تک مطبوعہ تراجم قرآن کریم کی تعداد 57 تھی۔ اب کنَّٹر(Kanada) زبان میں بھی قرآن کریم طبع ہو گیا ہے۔ یہ بھارت کی زبان ہے۔ اور اس سال چند روز قبل قادیان سے جو وفد آئے ہیں وہ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔ اس طرح تراجم ِقرآن کی کُل تعداد 58 ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ جرمن ترجمہ قرآن کریم out of print تھا۔ وہ دوبارہ پرنٹ کروایا گیا ہے۔ تھائی (Thai) زبان میں پہلے دس پاروں پر مشتمل ترجمہ چھپ گیا ہے۔ جاوانیز(Javanese) زبان میں بھی پہلے دس پاروں کا ترجمہ چھپ گیا ہے۔ پھردورانِ سال حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ کے انگریزی ترجمۂ قرآن کا نیا ایڈیشن تیار ہوا ہے جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے متبادل ترجمہ کو پہلے تو آخر میں ضمیمہ کے طور پر دیا گیا تھا اب وہ جو ٹرانسلیشن ہے اس کو انہی متعلقہ صفحات پر آیات کے ساتھ ہی foot note میں دے دیا گیا ہے۔ اب پڑھنے والے کو سہولت ہوگئی ہے۔ یہ ترجمہ بھی چھپ گیا ہے۔
نابینا لوگوں کے لئے پہلے ڈچ میں بریل (Braille)میں ترجمہ تھا۔ اب حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ کا جو انگریزی میں ترجمہ ہے اس کابھی بریل (Braille) میں قرآنِ کریم تیار ہوگیا ہے۔
اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے چوبیس تراجم ِ قرآن مکمل ہو چکے ہیں جو انشاء اللہ اس سال کے دوران چھپ جائیں گے۔ کافی کام ہورہا ہے۔ صرف اصل ٹیکسٹ کا پیسٹ (paste) وغیرہ ہونا باقی ہے۔ اس میں کچھ جنوبی افریقہ کی زبانیں ہیں، گھانا کی زبانیں ہیں۔ آئیوری کوسٹ کی زبانیں ہیں۔ بوسنینہے۔ برما کی زبان ہے۔ ماریشس کی کریول Creole ہے۔ گیمبیا کی دو تین زبانیں ہیں۔ ہنگری کی ہنگیرین (Hungarian) ہے۔ قازقستان کی زبان قازق ہے۔ کینیا کی ایک زبان ہے۔ کونگو کی، فجی کی،گِنی بساؤ کی،لتھوانیا (Lithuania) کی۔ بورکینا فاسو کی ایک مورے (Mòoré) زبان ہے۔ سری لنکا کی سِنہالہ(Sinhala)،ازبکستان کی،تنزانیہ کی، تو یہ کافی تعداد ہے۔
اس کے علاوہ جو زیرِ تیاری تراجم ِ قرآن کریم ہیں وہ ڈگبانی (Dagbani) گھانا کی ایک زبان ہے۔ بھارت کی ڈوگری ہے۔ ملائیشیا کیDusun زبانہے۔ ایسٹاکو (Estako) نائیجیریا کی، فانٹے (Fanti) گھانا کی۔ عبرانی اور کمبوڈیا کیخمیر (Khmer)۔ لِنگالہ، ماؤرے، سموئن، کرغز،کرغزستان کی زبان اور گاؤن (Goun) بینن کی زبان ہے۔
بعض تراجم ایسے تھے جن پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت تھی۔ پہلے چھپ چکے تھے لیکن دوسرے ایڈیشن میں نظرِثانی کر کے جہاں جہاں تصحیح کرنی تھی وہ کر کے دوبارہ شائع کیے گئے ہیں۔
مختلف زبانوں میں کتب کی اشاعت
دورانِ سال مختلف ممالک میں 84 زبانوں میں 26 نئی کتب اورفولڈر تیار ہوئے ہیں۔ اور اس وقت جو زیرتیاری ہیں وہ 138 کتب اور پمفلٹس ہیں۔ امسال جو بڑی کتابیں طبع ہوئی ہیں اُن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی تفسیر سورۃفاتحہ کا انگریزی ترجمہ ہے جو آپ نے مختلف موقعوں پربیان کیا۔ ان کو پہلے اُردو میں اکٹھا کیا گیا تھا۔ یہاں میرے پاس پڑا ہے (حضور ِ انور نے دریافت فرمایا ’’کہاں ہے ؟‘‘ اس پر حضور کو یہ ترجمہ پیش کیا گیا اور حضور ِ انور نے دست مبارک میں پکڑ کر دکھایا۔) یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں سورۃ فاتحہ کی انگریزی تفسیر ہے۔ پھر’’تذکرہ’‘ہے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو گیا ہے۔ پھر ’’التبلیغ’‘ یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو ایک عظیم الشان تصنیف’’آئینہ کمالات اسلام’‘ہے اس کا ایک حصہ ہے جو عربی میں ہے اور اُسے بھی علیحدہ طور پر ’’التبلیغ‘‘کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ پھر ’’توضیح مرام‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب ہے اُس کا بھی انگریزی ترجمہ اس سال شائع کیا گیا ہے۔ ’’توضیح مرام‘‘کا یہ انگریزی ترجمہ مکرم چودھری محمد علی صاحب نے کیا ہے۔ اُن کے لئے بھی دعا کریں۔ پیرانہ سالی اور مختلف عوارض کے باوجود ماشاء اللہ بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں اور نوجوانوں کی طرح کام کر رہے ہیں اور کِیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت ڈالے۔ (حضرت صاحب نے اس موقع پر توضیح مرام کا انگریزی ترجمہ جو “Elucidation of Objectives” کے عنوان سے شائع ہوا ہے حاضرین کو دکھایا۔)
کتابیں تو یہاں بہت ساری ہیں۔ مَیں چند ایک کا ذکر کر رہا ہوں۔ پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی کتب اور ملفوظات میں سے مختلف موضوعات کے تحت اقتباس لے کر Essence of Islam کے نام سے اُن کے انگریزی ترجمے پہلے کیے گئے تھے۔ اب دوبارہ اُن پر نظرِ ثانی کر کے اور اصل اردو متن سے دوبارہ موازنہ کر کے کچھ درستیاں کی گئی ہیں اور امریکہ کی ایک پوری ٹیم نے اس پر کام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔ وہ بھی شائع ہوگیا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی مزید جلدیں تیار ہو گئی ہیں۔ تیسری بھی انشاء اللہ جلدی تیار ہوجائے گی۔
پھر’’لیکچر سیالکوٹ’‘اور ’’مسیح ہندوستان میں’‘ کا بنگالی ترجمہ کیا گیا ہے۔ Islam’s Respones to Contemporary Issues حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے ایک لیکچر کا ڈینش ترجمہ کروایا گیا ہے۔ اس سال شائع ہوا ہے۔ ’’مسیح علیہ السلام کی توہین کا جواب‘‘۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے مختلف اعتراضات کے جواب تیار کروائے تھے۔ اُن میں سے ایک یہ بھی تھا۔ اس سال اُس کا انگریزی ترجمہ شائع کروایا گیا ہے۔
پھر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے حالات زندگی پر سید حسنات احمد صاحب کینیڈا نے انگریزی میں کتاب لکھی ہے۔ یہ بھی شائع کی گئی ہے۔ ’’شرائطِ بیعت اور ہماری ذمہ داریاں’‘یہ جو گزشتہ سال آخری دن میری تقریر کا عنوان تھا اور اس کے بعد مختلف خطبات،دس شرائطِ بیعت مکمل قرآن و حدیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے اقتباسات کی روشنی میں تھے۔ لوگوں کی خواہش تھی کہ اکٹھا یکجا صورت میں شائع کیا جائے تو وہ بھی اب ایک کتابی صورت میں شائع ہو گئی ہے۔
پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتاب Revelation, Rationality, Knowledge & Truth کا عربی ترجمہ مکرم مصطفی ثابت صاحب نے کیا ہے۔ الحمدللہ کہ یہ ترجمہ بھی چھپ گیا ہے۔ بہت مشکل کام تھا اور مصطفی ثابت صاحب نے باوجود اس کے کہ ان کو ایک بڑی سنجیدہ قسم کی بیماری ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت سے یہ ترجمہ مکمل کیا ہے۔ خاص دعاؤں کے مستحق ہیں۔ اب پھرمیں نے حضرت مولانا غلام فرید صاحب والی جو Five volume commentary انگریزی ترجمہ قرآن اور تفسیرہے اس کا کام اُن کے سپرد کیا ہے۔ وہ بھی کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے۔
Revelation… کاعربی ترجمہ یہ نئی کتاب چھپ کر آگئی ہے۔ (اس موقعہ پر حضور انور نے کتاب ہاتھ میں لے کر حاضرین کو دکھائی)۔
پھر اسلام کے متعلق حضرت چودھری ظفراللہ خاں صاحب کی ایک کتاب Islam it’s meaning for modern man تھی۔ اس کو کسی Publishing Company نے پہلے چھاپا تھا تو اس کے بھی کاپی رائٹس لے لئے ہیں۔ اب اس کو یوکے (UK) کی جماعت نے چھپوایا ہے۔ پھر لجنہ نےGlossary کے ساتھ درّثمین شائع کی ہے۔ پھر قادیان سے بہت ساری کتابیں شائع ہوئی ہیں۔
گزشتہ سال مَیں نے توجہ دلائی تھی کہ ایسے احمدی لوگ جو زبانوں کے ماہر ہیں سامنے آئیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی کتب کے تراجم کرنے میں مدد کریں تو اُس میں بہت سارے لوگ آئے ہیں۔
پھر جہاد کے متعلق اسلام کا جو ایک غلط تصور تھا اُس کے بارہ میں مَیں نے توجہ دلائی تھی کہ لوگوں کو بتانا چاہئے کہ اصل اسلام کیا ہے؟ اور امن پسند مذہب ہے تو اس کا بھی لٹریچر فولڈر کی صورت میں تیار ہوا ہے اور25 زبانوں میں یہ فولڈر تیار ہو چکے ہیں۔
جامع صحیح بخاری کا ترجمہ اور تشریح جوحضرت ولی اللہ شاہ صاحب کا تھا۔ (حضرت صاحب نے دریافت فرمایا،یہ وہی ہے ناں جو شاہ صاحب لائے تھے)وہ ابھی شائع نہیں ہوا لیکن بہرحال اس کی تیاری مکمل ہو گئی ہے۔ اس میں کچھ مزید improvement کی گئی ہے۔ وہ بھی انشاء اللہ تقریباً مکمل ہو گیا ہے،تیار ہو جائے گا۔ اور پھر قرآن کریم کے عربی الفاظ کے انگلش میں معانی کیا ہیں۔ وہ Lexicon of the Quranic Words بھی تیاری کے مراحل میں ہے۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی مختلف کتب تجلّیاتِ الٰہیہ،نشانِ آسمانی،کتاب البریہ، لیکچر لاہور، ایک غلطی کا ازالہ، کشتیٔ نوح، حقیقۃ الوحی،برکات الدّعا،آسمانی فیصلہ، نزول المسیح،لیکچرسیالکوٹ،معیار المذاہب، ازالۂ اوہام، شہادۃ القرآن وغیرہ کا ترجمہ مختلف stagesمیں ہے۔ اس کے لئے بھی ایک ایک کتاب پر کئی کئی سال کام کرانا پڑتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی زبان کا ترجمہ کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ بڑی محنت سے مترجمین یہ کام کر رہے ہیں۔
قرآن کریم اور جماعتی لٹریچر کی نمائشیں
قرآن کریم اور مختلف زبانوں میں دیگر اسلامی لٹریچر کی جو نمائشیں ہوتی ہیں ان کا بڑا اچھا اثر ہوتا ہے اور احمدیت کا پیغام پہنچتا ہے۔ اس سال 252 نمائشیں لگائی گئی تھیں جن کے ذریعہ سے اندزاً پانچ لاکھ تیرہ ہزار افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا۔ اور یہ اہتمام انڈیا، ہالینڈ، پرتگال اور یوکے کی مختلف جگہوں پر کیا گیاتھا۔ باقی ممالک کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ اس طرح کی نمائشوں کا اہتمام کریں۔ تبلیغ کا بھی اور جماعت کے تعارف کا بھی یہ بہت بڑا اچھا ذریعہ ہے۔
بک سٹالز اور بک فیئرز میں شرکت
پھراسی طرح بُک سٹالز اور بُک فیئرز کے ذریعہ بھی اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملتی ہے۔ اور اچھے تبلیغی رابطے ہوتے ہیں۔ اس سال2936 بُک سٹا لز اور بُک فیئرز میں جماعت نے حصہ لیا اور10لاکھ 40ہزار سے اوپر افراد تک جماعت کا پیغام پہنچایا۔ اِس میں جرمنی، تنزانیہ، آسٹریلیا، انڈیا، ہالینڈ، امریکہ، یوکے، سویڈن، سوئٹزرلینڈ وغیرہ ممالک نے اچھا کردار ادا کیا ہے۔
رقیم پریس
پھرجماعت کاجو رقیم پریس ہے۔ ان کی ٹیم بھی اور ان کی آگے مختلف ممالک میں جو برانچیں بھی ہیں وہ اللہ کے فضل سے بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔ گھانا، نائیجیریا، گیمبیا، سیرالیون، آئیوری کوسٹ اور تنزانیہ میں تو اب کام اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ وہ عمارتیں جہاں یہ لگایا گیا تھا، عارضی طور پر انتظام کیا گیا تھا، چھوٹی پڑ رہی ہیں۔ تنزانیہ اور گھانا میں پریس کی نئی عمارتوں کی تعمیر شروع بھی ہو چکی ہے۔
رقیم پریس اسلام آباد سے اس دفعہ 2لاکھ 10ہزار سے اوپر کتابیں اور پمفلٹس شائع ہوئے ہیں۔ اور افریقہ کے مختلف پریسوں سے بھی دولاکھ اکہتر ہزار کے قریب کتابیں اورپمفلٹ،رسالے وغیرہ شامل کر کے شائع ہوئے۔
پھر آئیوری کوسٹ کا پریس ہے یہاں بھی اللہ کے فضل سے ایک مستقل کام ہورہا ہے۔ یہاں سے Review of Religions جو فرنچ میں ہے وہ چھپتا ہے اور پھر افریقن ملکوں سے ہی افریقہ کے جو مختلف فرانکوفون ملک ہیں وہاں بھجوایا جاتا ہے۔
سرکاری طور پر بھی ہمارے پریس کو بعض دفعہ کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزیرِ داخلہ تنزانیہ نے افریقی ممالک کے وزراء کی ایک میٹنگ کے لئے کوئی ضروری رپورٹ کتابی صورت میں پرنٹ کروانی تھی۔ جو کسی وجہ سے طبع نہیں ہوسکی۔ تو میٹنگ سے صرف ایک روز پہلے انہوں نے مختلف پریسوں سے پوچھا،گورنمنٹ کے پریس کو بھی کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ آخروہ جماعت کے پاس آئے اور جماعت نے کہا ٹھیک ہے ہم شائع کر دیتے ہیں اور راتوں رات انہوں نے وہ شائع کرکے پیش کر دیا جس پہ وہ حیران رہ گئے۔ ان کو یہ پتہ نہیں کہ جماعت کے آدمی جب کسی کام میں جُت جائیں اور ارادہ کرلیں تو ایسی ٹریننگ ہے کہ وہ توپھر نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن۔ کر ہی دیتے ہیں۔ دوسرے اتنی قربانی نہیں کر سکتے۔
ڈیسکس (Desks)
عربک ڈیسک

عربک ڈیسک کے تحت گزشتہ سال جو کتب اور پمفلٹس عربی زبان میں تیار ہوکے شائع ہوئے ہیں ان کی تعداد 40ہے۔ اس کے علاوہ وائٹ پیپر کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے جوخطبات ہیں ان کے تراجم میں سے مزید تین کا ترجمہ اس سال ہوا ہے۔ اس طرح کُل خطبات کی تعداد 15ہو گئی ہے۔
محضر نامہ کی نظرِ ثانی ہو رہی ہے۔ اور اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت ’’اَلسِّیْرَۃُ الْمُطَہَّرَۃ‘‘ کی بھی نظرِثانی ہو رہی ہے۔ تفسیر ِ کبیر کی چوتھی جلد کا عربی میں ترجمہ ہو گیا ہے یہ بھی مومن صاحب اور دوسرے لوگوں نے بڑی محنت سے کیا ہے اوروہ چھپ گئی ہے۔ وہ بھی یہیں تھی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اب امید ہے کہ ہر سال ایک جلد کا ترجمہ آجایا کرے گا۔ اسی طرح عربک ڈیسک کی طرف سے انٹر نیٹ پر بھی عربی زبان میں 23کتب اور پمفلٹس دئیے جا چکے ہیں۔ پھر رسالہ ’’التقویٰ’‘بھی پچھلے دو تین سال سے انٹر نیٹ پر دیا جا رہا ہے۔
چینی ڈیسک
چینی ڈیسک کے تحت قرآن کریم کے چینی ترجمہ کے علاوہ جو کتب شائع ہوچکی ہیں ان کی تعداد 11ہے۔ اور مختلف پمفلٹس کی تعداد 7 ہے۔ پھر جہاد کے عنوان سے تین مضمون انہوں نے تیار کیے ہیں۔ اس وقت تک چینی زبان کی جو کتب ترجمہ ہو چکی ہیں اور شائع نہیں ہوئیں ان کی تعداد 10ہے۔ انشاء اللہ وہ بھی شائع ہوجائیں گی۔
اس کے علاوہ مختلف متفرق کام بھی ہیں جو عثمان چینی صاحب اور ان کی ٹیم بڑی محنت سے کر رہے ہیں۔ اس سال تین مہینے کے لئے چینی صاحب نے چین کا دورہ بھی کیا ہے۔ وہاں بھی مختلف نئے رابطے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کا میاب دورہ تھا۔
فرنچ ڈیسک
فرنچ ڈیسک کے تحت جہانگیر صاحب اور ان کی ٹیم کام کر رہے ہیں۔ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی’‘کے فرنچ ترجمہ کو update کیاگیا ہے۔ اور اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتاب “Rationality …” جو ہے اس کا بھی ترجمہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ خطبات وغیرہ کے متفرق بے تحاشا کام بھی ان کے ذمہ ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
بنگلہ ڈیسک
اسی طرح بنگلہ ڈیسک ہے یہ بھی ترجموں کے کافی کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح ساتھ ساتھ خطبات کے ترجمے بھی کر رہے ہیں۔
مجلس نصرت جہاں سکیم
مجلس نصرت جہاں۔ اس وقت افریقہ کے 12ممالک میں ہمارے 36ہسپتال اورکلینکس کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح8ملکوں میں 373ہائر سیکنڈری سکولز ہیں،پرائمری سکولز ہیں۔ بورکینا فاسو میں واگا ڈوگو (Ouagadougou) میں ایک نئے سکول کا افتتاح ہو گیا ہے۔ بینن میں ایک سکول کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔
جو فرانکو فون ملک ہیں ان میں بھی پرائمری سکول کھولنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انشاء اللہ آئندہ چند سالوں میں کافی تعداد میں یہاں پرائمری سکول کھول دئیے جائیں گے جو اِن غریب ملکوں میں تعلیم پہنچانے کے لئے انشاء اللہ مددگار ثابت ہوں گے۔
اسی طرح ہمارے ہسپتالوں سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسانیت کو بڑا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ بہت سارے مریض ہیں جو شفا پا کر یہاں سے جاتے ہیں۔ یہاں ایک واقعہ انہوں نے لکھا ہوا ہے کہ : ’’ایک بچہ جو نائیجیرین عورت کا تھا وہ بیمار ہو گیا۔ وہ بینن میں تھی وہاں لائی کہ یہاں کہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں تو مَیں نے دکھا دیا ہے اور انہوں نے یہ کہہ کر مجھے فارغ کر دیا ہے کہ آج رات تک یہ بچہ فوت ہو جائے گا۔ یا زیادہ سے زیادہ ایک دو دن تک زندہ رہ سکے گا۔ اس لئے ہماری طرف سے جواب ہے۔ اس عورت کا خاوند بھی کسی وجہ سے جیل میں تھا۔ یہ عورت اپنے بچہ کو لے کر جیل کی طرف جا رہی تھی کہ اپنے خاوند کو ملوا لوں اور روتی جاتی تھی۔ راستہ میں کوئی دوسری عورت اسے ملی۔ اُس نے کہا ’’ٹھیک ہے کہ تم جاؤ وہاں ملوا لاؤ لیکن یہاں ایک احمدیہ کلینک بھی ہے وہاں جاؤ۔ اُن کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے بہت شفا رکھی ہے۔ امید ہے تمہارا بچہ وہاں سے شفایاب ہو جائے گا۔’‘ تو وہ وہاں گئی۔ چنانچہ بچہ کو ڈرپ (drip) وغیرہ لگائی گئی۔ کوئی ہو میو پیتھک دوائیاں دی گئیں۔ اور وہی بچہ جس کو ڈاکٹرز لاعلاج قرار دے چکے تھے کہ یہ ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا ہسپتال سے شفا پاکر گھر گیا اور جب وہ دوبارہ اُس ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تو ڈاکٹر نے کہا’’یا تو یہ وہ بچہ نہیں ہے یا پھر بہت بڑا کوئی معجزہ ہوا ہے۔’‘اب ان لوگوں کو کیا پتہ کہ معجزات اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے۔
پریس اینڈ پبلی کیشنز
پھر ایک پریس اینڈ پبلی کیشنز ڈیسک ہے جس میں جماعت کے بارہ میں جو مختلف قسم کی خبریں ہوتی ہیں یا مختلف ممالک میں خاص طور پر بنگلہ دیش،پاکستان وغیرہ میں جو کچھ سلوک ہو رہے ہیں ان کی خبریں دنیا تک پہنچانا اورپریس کانفرنسیں وغیرہ کرنے کا کام ہوتا ہے۔ یہ رشید صاحب کے سپرد ہے۔ ان کی پانچ افراد کی ایک ٹیم ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے فرائض بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً اخبارات میں بیان دیتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کافی پریس ریلیز بھی دی ہیں۔ اور اسی طرح ہیومن رائٹس (Human Rights) کی جو مختلف تنظیمیں ہیں اُن تک یہ پہنچاتے ہیں۔ ہمارا ان تنظیموں کو بتانے کا مقصد کوئی ان سے مدد لینا یا ان کی ہمدردی حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ ہمارا مددگار تو خدا تعالیٰ ہے اور وہی ہمیشہ ہماری مدد کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے اور انشاء اللہ کرے گا۔ صرف یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ تم لوگ جو تنظیمیں بنائے پھرتے ہو اور بعض ملک تمہارے ممبر ہیں تویہ جائزہ لو کہ دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور کس طرح انسانیت کے نام پر انسانیت سوز حرکات ہو رہی ہیں۔
تحریکِ وقفِ نَو
گزشتہ سال واقفین ِ نوکی کُل تعداد 26,321 تک پہنچ چکی تھیجبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے پانچ ہزار کا مطالبہ شروع میں کیا تھا۔ اس طرح ان کی تعداد 28,300 سے اوپر ہو چکی ہے۔ اور ابھی تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہی دو اور ایک کی نسبت چل رہی ہے کہ اٹھارہ ہزار لڑکے ہیں اور دس ہزار لڑکیاں ہیں۔
ایم ٹی اےMTA
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا پیغام پہنچانے کا ایم ٹی اے بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اور جیسا کہ جماعت کو پتہ ہے کہ ایم ٹی اے2کا بھی کچھ وقت سے اجراء ہو چکا ہے۔ پھر یہ ہے کہ اب بیت الفتوح بننے کے بعد ایم ٹی اے کی جوچوبیس گھنٹے کی transmit کرنے کی سہولیات ہیں وہ بیت الفتوح میں بھی میسر ہیں۔ یہاں سے بھی ہروقت اگر لائیو (live)پروگرام دینا چاہیں تو دیا جا سکتا ہے۔ ان کے کچھ دفاتر وہاں بھی shiftکر دئیے گئے ہیں۔ پھر اسی طرح ان کی لائبریری وغیرہ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ بڑے اچھے طریقہ سے یہ کام کر رہے ہیں۔ سٹوڈیو کی نئے سِرے سے تزئین کی گئی ہے، اس کو بنایا گیا ہے۔
ایم ٹی اے کی سیٹلائٹ کے نئے معاہدے ہوئے ہیں۔ اسی طرح یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لئے استعمال ہونے والا سیٹلائٹ ہاٹ برڈ فور(Hot Bird 4) جو تھا اس کا معاہدہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئندہ پانچ سال کے لئے پہلے کی نسبت بہت سستی قیمت پر ہوگیا ہے اور ہماری شرائط پر ہی معاہدہ ہو گیا ہے۔ تو ایم ٹی اے کی وجہ سے ہی دیکھ لیں اب اس دفعہ افریقہ میں گھانا کے دورہ کے دوران پہلی بار دنیا میں Liveپروگرام جلسہ سالانہ گھانا کا دکھایا گیا ہے۔ ایم ٹی اے کی ٹیم میں اکثریت والنٹئیرز (volunteers)کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت اور وفا اور وقف کے جذبہ کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔ ان کے لئے بھی دعا کریں۔
اقبال احمد باجوہ صاحب مبلغ مڈغاسکر لکھتے ہیں کہ مڈغاسکر میں کچھ لوگ پاکستان سے آتے ہیں ان کے بارہ میں امیگریشن والوں کا رویہ بہت نامناسب ہوتا ہے اور بڑا سخت ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ جب میں مڈغاسکر پہنچا تو یہ لوگ بڑی سختی سے پیش آئے اور کرائم برانچ کی پولیس ٹیم مشن ہاؤس آئی اور خاکسار کو کہا کہ ڈائریکٹر نے بُلایا ہے۔ کہتے ہیں میں اسی وقت دفتر گیا تو اُس نے پوچھا کہ آپ کس تنظیم کے آدمی ہیں اور انچارج کون ہے؟‘‘ اس پر مربی صاحب نے جماعت کا تعارف کرایا اور میرا بتایا کہ امام جماعت احمدیہ آج کل مغربی افریقہ کے دورہ پر ہیں۔ تو اُس ڈائریکٹر نے کہا کہ ہاں میں نے بھی ڈش چینل پرانہیں دیکھا تھا۔ گزشتہ رات وہ کسی کانفرنس میں گھانا کے صدر کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو وہ ایم ٹی اے پر یہ دیکھ رہا تھا۔ اور یہ کہنے کے ساتھ ہی اس کا لہجہ بہت نرم ہو گیا اورچند ایک کاغذات طلب کرکے وہیں انکوائری ختم کر دی اور ان کا معاملہ صاف کر دیا۔
اسی طرح صداقت صاحب لکھتے ہیں کہ:’’لَوْزَرْن (سوئٹزر لینڈ کا ایک شہر۔ ناقل)میں جماعت کا تبلیغی میٹنگ کا پروگرام تھا۔ مہمانوں میں ایک صومالین نوجوان بھی تھا۔ جب یہ نوجوان صدر جماعت کے گھر آئے اور انہوں نے خلفاء کی تصویریں دیکھیں تو ساتھ آئے افریقن دوستوں کو بتانا شروع کر دیا کہ یہ پہلے خلیفہ کی تصویر ہے یہ دوسرے کی۔ اس طرح بتاتا رہا تو صدر صاحب نے بڑا حیران ہو کر پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ کون کون خلیفہ ہے؟ تو اُس نوجوان صومالین نے بتایا کہ ان کے کیمپ میں ایم ٹی اے کی سہولت موجود ہے اور وہ باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھتے ہیں اور جو میرا افریقہ کادورہ تھا اس کی بھی تفصیلات اُس نے بتائیں۔ اسی طرح کہتا ہے کہ بچوں کی کلاس بھی باقاعدگی سے دیکھتا ہوں۔ تو یہ اس کا پہلا تعارف تھا۔ جب وہ میٹنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نے وہیں بیعت کرلی۔
اسی طرح جب مَیں بورکینا فاسو گیا ہوں تو وہاں اُن کے جو وزیرِ خارجہ تھے، وہ صدر سے ملنے کے لئے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن سے جب ملاقات ہوئی تو فوراً مجھے پہچان لیا اور کہا ہاں میں تمہیں ایم ٹی اے پر دیکھتا رہتا ہوں اور ہمیں فخر ہے کہ کوئی اسلام کی سچّی تصویر پیش کر رہا ہے۔ تو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ وسیع پیمانے پر دنیا کو احمدیت سے متعارف کروا رہا ہے۔
ایم ٹی اے کے علاوہ دیگر ٹی وی چینلز اور ریڈیو پر جماعت کے پیغام کی اشاعت
ایم ٹی اے کے علاوہ بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعہ جماعت کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ اور اس سال 1431ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ 1227گھنٹے تک یہ پیغام پہنچایا گیا ہے جو کروڑ ہا افراد تک پہنچا۔
اسی طرح ریڈیو اشاعتِ اسلام کا ایک بہت مفید اور کارآمد ذریعہ ہے۔ یہ بھی افریقہ کے ملکوں میں بہت شوق سے سُنا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے بھی پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ بورکینا فاسو میں جو ہمارا چھوٹا ساریڈیو سٹیشن قائم ہے اُس کے ذریعہ سے بھی پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بورکینا فاسو میں ہی مقامی زبانوں میں ہفتہ وار پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اوربورکینافاسو میں جماعت احمدیہ کا جو ریڈیو سٹیشن ہے یہ اب تقریباً ساڑھے سولہ گھنٹے کام کر رہا ہے۔ اور ایم ٹی اے پرخطبات کا جو Liveپروگرام آتا ہے اس ریڈیو کے ذریعہ سے وہ اس کا فرنچ ترجمہ بھی ساتھ ہی دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ فرنچ ملک ہے۔ اب انشاء اللہ وہاں جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان کا جو دارالحکومت ہے وہاں ہم اپنا ٹی وی سٹیشن بھی قائم کردیں جو ڈش سیٹلائٹ کے ذریعہ سے نہیں بلکہ جس طرح عام ٹی وی کو ہر کوئی سادہ انٹینا لگا کر سُن لیتا ہے اس طرح سُنا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ اس کے لئے بھی کوشش ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے۔
ایک خاتون لکھتی ہیں : ریڈیو احمدیہ نے میری زندگی میں ایک تغیر پیدا کر دیا ہے۔ کہتی ہیں اس کو سننے سے قبل میں نہایت غصّہ والی تھی،غصیلی تھی اور تحمل اور بردباری کا بھی مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔ اور میرا ساراخاندان مجھ سے مایوس تھا۔ کہتی ہیں میں ریڈیو احمدیہ پر تر بیتی تقاریر سنتی ہوں تو ان کے سننے سے میرے اندر بڑا تحمل پیدا ہو گیا ہے۔ حتّیٰ کہ میرے عزیز،رشتہ دار بھی حیران ہونے لگ گئے ہیں کہ یہ انقلاب تمہارے اندر کس طرح ہوا؟تو یہ دیکھیں کہ صرف جماعت ہی فائدہ نہیں اٹھا رہی بلکہ غیر بھی تربیتی پروگراموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ایک عیسائی گَمْ سُوْرِے صاحب تھے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک رات مَیں نے خواب میں دیکھا۔ ایک سڑک پر چند لوگوں کی معیت میں چل رہا ہوں۔ مسلمان بھی ہیں،عیسائی بھی ہیں اور سڑک پر ایک بہت بڑا گڑھا ہے جس میں سب لوگ گرنے والے ہیں۔ کہتے ہیں مجھے سخت پریشانی ہوئی مگر اچانک دائیں سمت سے ایک راستہ نظر آتا ہے اور آسمان سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَر کی صدائیں آرہی ہیں۔ کہتے ہیں میں ادھر سے گزر جاتا ہوں اور منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہوں۔ کہتے ہیں جب میں صبح اٹھا تو تھوڑی دیر بعد جب اپنا وہی بورکینا فاسو کا ریڈیو آن (on)کیا تو بعینہٖ وہی لَااِلٰہَ اِلَّا اللّہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَر کے ترانے بلند ہو رہے تھے جو مَیں رات کو خواب میں دیکھ چکا تھا۔ تو وہ کہتے ہیں اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کہ جماعت میں شامل ہو جاؤں۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ افریقہ کے لوگوں کو شاید اتنا شعور نہیں ہے،وہ اتنا غور نہیں کرتے۔ اُن میں جو نور ِ فراست ہے وہ جس طرح کہ مَیں پہلے کہہ چکا ہوں بہت سارے نام نہاد ترقی یافتہ ملکوں سے زیادہ ہے۔
وَتَرا عثمان صاحب ایک گاؤں کے امام تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ریڈیو سننے سے قبل جو کچھ اسلامی تعلیم حاصل کی بھی وہ نہایت خشک تھی اور مشکل اور متشدد قسم کی تھی۔ مگر احمدیہ ریڈیو نے جو نہایت آسان اور حسین تفسیر پیش کی ہے اس کا جواب نہیں۔ کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے بارہ میں جو کہا گیا تھا کہ وہ گردنوں کے بوجھ اُتارے گا تو ریڈیو اسلامک احمدیہ کے ذریعہ سے واقعتاً وہ بوجھ اُتر گیا ہے۔ اور ہم اب ریڈیو سُننے سے اُکتاتے نہیں ہیں۔
سانو اسحٰق صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں غیر از جماعت امام نے احمدیت کے خلاف خطبہ دیا اور ریڈیو احمدیہ سننے سے بڑی سختی سے منع کیا۔ میں نے امام صاحب سے کہا کہ اگر ہم ریڈیو سنیں گے نہیں تو حقیقت کیسے معلوم ہوگی؟ تو امام صاحب نے کہانہیں۔ اس پر میں نے کہا۔ اچھا پھر یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ بوبو جلاسو جو شہر ہے (بورکینا فاسو کا ایک شہر۔ ناقل) اس میں پائے جانے والے تمام فرقوں کے نام پرچیوں پر لکھ کر کسی بچہ سے قرعہ نکلواتے ہیں۔ جو بھی نام نکلے گا وہی سچی جماعت ہوگی۔ تو کہتے ہیں اس طرح ہم نے سارے فرقوں کے نام لکھ کے قرعہ ڈالا تو جب بچہ نے قرعہ نکالا تو جماعت احمدیہ کا نام نکلا۔ اب ذرا آگے سنیں۔ کہتے ہیں اس بات پہ امام کی تسلّی نہیں ہوئی۔ دوسری مرتبہ قرعہ نکالا پھر جماعت احمدیہ کا نام نکلا۔ پھراس کی تسلّی نہیں ہوئی۔ پھر تیسر ی دفعہ قرعہ نکالا پھر جماعت احمدیہ کانام نکلا۔ تو کہتے ہیں سب حیران رہ گئے اور امام کو بڑی شرمندگی ہوئی۔ تو یہ انسانی منصوبے تو نہیں بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کی تدبیریں ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی صداقت کو دنیا میں ظاہر کر رہا ہے۔
اسی طرح گھانا،نائیجیریا،گیمبیا وغیرہ مختلف ملکوں میں اور بینن میں، یوگنڈا میں، آئیوری کوسٹ میں جو ملکی ریڈیو ہیں ان پر جماعت کو مسلسل کئی کئی گھنٹے جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچانے کی، اسلام کا امن پسند پیغام پہنچانے کی توفیق ملتی ہے۔ پھرجزائر فجی ہے،ہالینڈ ہے،ناروے ہے۔ وہاں بھی ایسے پروگرام جو ایم ٹی اے پر نشر ہوتے رہے ہیں ان کو دیکھ کر کئی لوگ احمدی ہوئے۔ فرانس کے امیرصاحب نے بھی ذکر کیا کہ ایک خاندان اس طرح احمدی ہوا۔
اسی طرح امیر صاحب ناروے لکھتے ہیں 7مئی 2004ء کا جومیرا خطبہ تھا وہ انہوں نے سُنا۔ پتہ نہیں یہ کس بارہ میں تھا۔ تو ایک غیرازجماعت دوست نے انہیں فون کیا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات پر انہوں نے بتا یا کہ خطبہ جمعہ سُن کر میرے اندر ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور میری دنیا بدل گئی ہے۔ پھر انہیں دعوۃ الامیر اور چند دوسری کتابیں بھی دی گئیں اور چند دنوں بعد وہ آئے اور انہوں نے بیعت پر اصرار کیا تو ان کو سمجھایا گیا کہ ابھی اور سوچ لیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں مجھے سب پتہ ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ مجھے جماعت کی خاطر قربانی بھی کرنی پڑے گی اور مَیں سب سوچ سمجھ کر ہی بیعت میں شامل ہو رہا ہوں۔
اسی طرح مبلغ صاحب گیانا نے بھی اسی طرح کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ افریقہ کے دورہ کی جو جھلکیاں پیش کی جارہی تھیں۔ اس کو دیکھ کراور خطبہ جمعہ سُن کر تین افراد نے بیعت کی۔ پھر ایک شیعہ عالم نے ایم ٹی اے کو ہی دیکھ کر کچھ سوال اٹھائے۔ ان کو بھی جب لٹریچر دیا گیا تو تسلّی ہوئی اور وہ بھی اپنے 250ماننے والوں کے ساتھ جماعت میں شامل ہوئے۔
ہومیو پیتھی کے ذریعہ خدمت ِ خلق
ہومیو پیتھی کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔ اور 55ممالک میں تقریباً 632 چھوٹے بڑے شفا خانے، کلینک کام کر رہے ہیں۔ اور ان میں ایک لاکھ ستاون ہزار سے زائد لوگوں کامفت علاج کیا گیا ہے۔ جن میں سے 26,000سے زائد غیر از جماعت بلکہ غیر مسلم بھی تھے۔ یہ کلینک انگلستان،جرمنی،افریقن ممالک میں بھی مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستا ن میں بھی کام کر رہے ہیں۔ گھانا کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ وہاں ’’بوادی’‘ (Boadi) میں جو کماسی کے قریب ایک جگہ ہے، طاہر ہومیو کمپلیکس قائم ہے جہاں دوائیاں بھی بنتی ہیں اور مختلف دوائیوں کی جو پوٹینسیز ہیں وہ خود ہی بنائی جاتی ہیں اور بوتلیں،شیشیاں ہر چیز مکمل طور پرخود ہی بنائی جاتی ہے۔ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے والا کلینک ہے بلکہ وہ ارد گرد بھی سپلائی کرتے ہیں۔ انڈونیشیا میں بھی، کینیڈا میں بھی،امریکہ میں بھی،قادیان میں بھی اس طرح کے کلینک کام کر رہے ہیں جہاں 35,000سے زائد افراد کا علاج کیا گیا۔
پھر اسی طرح طاہر ہومیو انسٹی ٹیوٹ ربوہ جو ہے خدام الاحمدیہ کے تحت چل رہا ہے۔ وقار منظور بسراء صاحب اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ بڑے خدمت کے جذبہ سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سال 91,000سے زائد مریضوں کو دیکھا۔ اور اس میں سے 42,000کے قریب غیر از جماعت تھے۔ پھر دوسرے ممالک سے بھی لوگ یہاں آئے۔ یہ مختلف نسخے استعمال کرتے ہیں اورحضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے نسخے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگ جو اولاد سے محروم تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس علاج کی برکت سے اولادوں سے بھی نوازا۔
لندن میں یہاں ایک عیسائی تھے جن کو کوئی Cystic Fibrosis بیماری تھی۔ تو ان کو کسی نے طاہر انسٹی ٹیوٹ کا بتایا۔ انہوں نے خط لکھ کے وہاں سے دوائی منگوائی اور انہوں نے بِل پوچھا کہ بِل کتنا ہے ؟توان کو بتایا گیا کہ یہ علاج ہم مفت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کو شفا ہوئی۔
نادار اور ضرورتمندوں اور یتیموں کی امداد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام ممالک کی جماعتیں اپنی اپنی توفیق کے مطابق یہ خدمت بھی انجام دے رہی ہیں اور بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں۔ مرکزی امداد کے علاوہ جماعتیں مقامی طور پر بھی خدمت کرتی ہیں۔ اور جماعت کی جو علاج وغیرہ کی خدمات ہیں ان کو بڑا سراہا جاتا ہے۔ افریقن ممالک جہاں جہاں بھی میں گیا ہوں ہر جگہ بَر ملا انہوں نے اظہار کیا ہے کہ جماعت دکھی انسانیت کے لئے بہت خدمات سر انجام دے رہی ہے۔
ہیو مینٹی فرسٹ (Humanity First)
پھر ہیو مینٹی فرسٹ بھی اسی طرح کا ایک جماعتی ادارہ ہے جو انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے قائم کیا تھا۔ یہ بھی افریقہ کے ممالک میں بورکینا فاسو،گیمبیا وغیرہ میں نوجوانوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہاں کئی سینٹرانہوں نے کھولے ہوئے ہیں۔ پھر پانی مہیا کرنے کے لئے نلکے وغیرہ لگانے کے لئے بھی بڑی مدد کر رہے ہیں۔ پھر سلائی ٹریننگ سکول وغیرہ کھولے گئے ہیں تاکہ خواتین ٹریننگ لے کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔ پھر جب تعلیم مکمل ہو جاتی ہے تو ان کو مشینیں وغیرہ بھی مہیا کی جاتی ہیں تا کہ اپنے کاروبار کر سکیں۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیومینٹی فرسٹ کے تحت بھی کافی کام ہو رہا ہے۔
اَلْاسلام ویب سائٹ
پھر جماعت احمدیہ کی ویب سائٹ الاسلام جماعت امریکہ کی زیرِ نگرانی کام کر رہی ہے۔ یہ بھی اللہ تعا لیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی درج ذیل آڈیو کتب انہوں نے آن لائن مہیا کر دی ہیں : اسلامی اصول کی فلاسفی اردو اور فرنچ زبان میں بھی۔ لیکچرلاہور، برکات الدعا، ملفوظات، الوصیت اوراس کے علاوہ الاسلام لائبریری میں درج ذیل نئی کتب شامل کی گئی ہیں۔ حیاتِ طیبہ،احمدیہ تبلیغی پاکٹ بک،قندیل ِ صداقت،بائبل کے حوالوں پہ مشتمل نعیم عثمان میمن صاحب کی پاکٹ بک ہے۔ اسوۂ انسانِ کامل، اخلاقِ احمد،خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتب اور ترجمہ قرآنِ مجید یہ ساری کتب آگئی ہیں۔ اسی طرح اخبارات و رسائل جو ہیں۔ روزنامہ الفضل ربوہ،الفضل انٹر نیشنل، اخبار بدر اور تشحیذ الاذہان،التقویٰ،Review of Religions، Muslim Sunrise، یہ سارے اس پہ مہیا ہیں۔ پھر خطباتِ جمعہ بھی باقاعدہ آرہے ہیں۔ تمام جلسوں کی ریکارڈنگ اس پہ آرہی ہے۔ انگریزی،چائنیز،اردو،جرمن کے تراجم بھی آن لائن موجود ہیں۔ اور کچھ کتب انہوں نے upload کے لئے تیار بھی کی ہوئی ہیں۔ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کو روشناس کرانے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے اور لوگ اس سے بڑا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
دورانِ سال بیعتوں کے کوائف
اب مَیں بیعتوں کا ذکر کر دیتا ہوں۔ اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے گھا نا کو 16,200 کے قریب بیعتوں کی توفیق ملی ہے اور 21نئے مقامات پر جماعت کا نفوذ ہوا ہے اورویسے بھی جماعت کا ایک image بن رہا ہے، غیرمعمولی طور پر متعارف ہو رہی ہے۔
امیر صاحب غانا لکھتے ہیں کہ برانگ اہافو ریجن میں تیجانی فرقہ کے مسلمانوں کے ایک لیڈرہیں۔ (وہاں تیجانی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے)۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھو جماعت احمدیہ کے لیڈر جب گھانا میں آئے تو جماعت نے کس منظّم طریق پہ ان کا استقبال کیا۔ انہیں ملک کا دورہ بھی کروایا۔ غیراحمدی،غیرمسلم، بیرونی حکومتوں کے سفراء،حکومتِ گھانا کے وزراء اور خود صدرِ مملکت گھانا تک نے ان کا خیر مقدم کیا۔ یہ جماعت ایک منظّم جماعت ہے۔ یہ زبانی باتیں نہیں کرتی۔ اور یہ اسلام کی صحیح پیرایہ میں خدمت کر رہی ہے،ملک کی ترقی اور بہبودکے لئے خدمات بجا لارہی ہے۔ کہتے ہیں ہمیں کوئی اس لئے نہیں پوچھتا (حالانکہ ان کی تعداد کافی زیادہ ہے) کہ ہم اس طرح ملک و قوم کی خدمت نہیں کرتے اور آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں۔
اسی طرح عبدالحمید طاہر صاحب ٹمالے کے مبلغ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو میرا دورہ ہوا ہے اس کے فوراً بعد یونیورسٹی کے تین طلبا ء نے بیعت کی اور اس کے علاوہ دو امام اور ایک چیف بھی ملاقات کے لئے آئے اور انہوں نے بیعت کی۔ اور اس کے علاوہ 465؍افراد نے بھی بیعت کی۔
اور بہت ساری باتیں ہیں جو کسی وقت کوئی اور بیان کر دے گا۔
بورکینا فاسو میں اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے 56ہزار بیعتیں ہوئی ہیں۔ اور تین چیفس اور 40آئمہ نے احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق پائی ہے۔ 30 نئے علاقوں میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔ یہ لکھتے ہیں جو اس دفعہ کا دورہ تھا، اس کے بھی اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اور نو مبائعین میں بھی جماعت سے تعلق میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
پھر ایک شخص کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے 6سال سے بیعت نہیں کی تھی۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب بیعت کر لینی چاہیے ورنہ گنہگار ہوں گا۔
ایک بچے کا واقعہ لکھتے ہیں کہ 12سال کا تھا۔ اس نے خواہش کا اظہار کیا کہ جلسہ میں شامل ہونا ہے لیکن والد نے یہ کہتے ہوئے کہ پیچھے گھر میں کسی کو رہنا چاہیے اسے کہا کہ تم یہیں رہو۔ تو بچے نے سوچا شاید پیسوں کی کمی کی وجہ سے کہہ رہا ہے۔ تو اس بیچارے نے محنت مزدوری کر کے ایک ہزار فرانک جمع کیے اور کہا یہ میرا کرایہ ہے میں نے ضرور جلسہ پہ جانا ہے۔ میرا کہا کہ اُس نے آنا ہے۔ اس لیے مَیں نے ضرور جاکے ملنا ہے۔ تو باپ نے اس کوکہا کہ ٹھیک ہے پیسے تم رکھو لیکن میرے ساتھ چلنا۔ وہ مجھے ملا بھی لیکن اس کے بعد اسی دن بیچارے کو گردن توڑ بخارہوا اور وہیں اس کی وفات ہوگئی۔ وہاں اس کا جنازہ بھی مَیں نے پڑ ھایا تھا۔ شاید اس کے دل میں یہی ہو کہ میرا وقت آگیا ہے تو میں مل لوں۔ بہر حال اس کی شدید خواہش تھی۔ باپ سے کہتا تھا کہ میں نے ضرور ملنا ہے۔
کایا (Kaya)وہاں کاایک شہر ہے۔ وہاں کے ہائی کمشنر نے کہا کہ ہم بڑے عرصہ سے کوئی 20کلومیٹر کی ایک سڑک پکی کروانے کی کوشش کر رہے تھیجس کی منظوری نہیں مل رہی تھی۔ ہر ایک کی اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے، جس دن میرا دورہ تھا اس دن اُن کو سڑک پکّی کرنے کی منظوری مل گئی۔ اس لئے بھی وہ بہت شکر گزار تھے کہ ہمیں اس وجہ سے منظوری ملی ہے۔
بورکینا فاسو سے ہی ایک مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک جگہ گاؤں میں وزیر زراعت نے دورہ کرنا تھااور بیراج کا افتتاح تھا لیکن جماعت کے افراد پہلے ہی جلسہ پہ آنے کے لئے پروگرام بنا چکے تھے۔ تو لوگوں نے انہیں کہا کہ رُک جاؤکیونکہ وزیر آرہا ہے اور ہمارا ہی فائدہ ہے۔ اگر تم نہ رُکے تو نقصان ہو گا۔ لیکن جو احمدی لوگ تھے وہ نہیں مانے۔ انہوں نے کہا ہم نے تو جلسہ پر جانا ہے کیو نکہ یہ جلسہ جوہے یہ عام جلسہ نہیں ہے۔ خلیفۂ وقت کی یہاں موجودگی ہو گی۔ اس لئے وہ سب کام چھوڑ کر جلسہ پر آگئے۔
ایک صاحب ساقو ابراہیم(Sako Ibrahim) ہیں جن کی عمر 60سال سے زائد ہے۔ خاندان میں اکیلے احمدی ہیں اور سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ وہ جلسہ پر آئے تھے وہ کہتے تھے کہ کاش یہ مخالفین جو میرے رشتہ دار ہیں یہ بھی ایک دن جلسہ پہ گزار لیتے تو انہیں معلوم ہو تا کہ اصل میں اسلام ہے کیا چیز اور اخوت اور بھائی چارہ اور محبت کا مطلب کیا ہے؟ کہتے ہیں دوسرے مسلمانوں کے جلسہ میں جب جاؤ تو وہاں دنگا فساد ہوتا ہے مگر یہ روحانیت کا ماحول تھا جو جماعت کے جلسہ میں تھا اور یہ کہیں اَورنہیں مل سکتا۔
للگائی جماعت کے دو افراد تمباکو کھانے کے عادی تھے۔ مربی صاحب نے ان کو کئی دفعہ منع کیا لیکن باز نہیں آتے تھے۔ انہوں نے جلسہ پر آنا تھا۔ میرا پتہ لگا کہ میں نے بھی جلسہ پر آنا ہے تو انہوں نے پروگرام بنایا۔ اور اس کے بعد کہتے ہیں انہوں نے تمباکو کھانا چھوڑ دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں اتنی دفعہ کہا تم رُکے نہیں اب کیوں رُک رہے ہو؟کہتے ہیں ہم نے انہیں جاکے ملنا ہے تو پھرہمارے منہ سے تمباکو کی بُو آئے گی، شاید انہیں تکلیف ہو۔ اس لئے ہم نے تمباکو پینا چھوڑ دیا ہے۔ تو کئی دفعہ سگریٹ پینے والوں کے جب قریب جاؤ تو بڑی شدید بُو آرہی ہوتی ہے۔ افریقہ کے دُور دراز علاقہ میں گاؤں میں رہنے والوں کے ایمان کی یہ حالت دیکھیں۔
کہتے ہیں ایک جگہ ایک علاقہ میں ہمارا خدام الاحمدیہ کا وفد تبلیغ کے لئے گیا۔ ایک عیسائی سے ملاقات ہوئی۔ اُس نے ہمار ی تبلیغ کے لئے مسلمانوں کو اکٹھا کیا کہ آج احمدی آئے ہیں ان کی تبلیغ سُنیں اور تبلیغ کے بعد اس نے بتایا کہ میں نے ٹیلی ویژن پر آپ کے خلیفہ کی باتیں سنیں اور دیکھا بھی ہے اور اسی طرح لوگوں کابہت بڑا ہجوم بھی دیکھاہے۔ اگر اسی طرح جماعت ترقی کرتی رہی تو یہ دنیا آپ کی ہے اور اس بات نے مجھ پر بہت اثر چھوڑا ہے اور میں جماعت کے بہت زیادہ قریب ہوگیا ہوں۔ الحمد للہ کہ اب اس کا بیٹا بھی احمدی ہو گیا ہے، جماعت میں داخل ہوگیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دورہ کے یہ بھی اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔
آئیوری کوسٹ میں بھی 17نئے مقامات پر جماعت کا نفوذ ہوا ہے۔ 4چیفس اور 17اماموں نے 10ہزار افرادسمیت بیعت کی ہے۔ اسی طرح مالی (Mali) میں بھی دو ہزار تین سو نئی بیعتیں ہوئی ہیں۔ وہاں ایک امام ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ مَیں نے خواب میں کسی کا چہرہ دیکھا، تصویر دیکھی اور اس کے بعد ان کو احمدیت کا تعارف ہوتا رہا۔ کہتے ہیں جب وہ میرے سے ملے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے جب مَیں نے یہ خواب دیکھی تھی تو یہی شکل تھی جو مجھے خواب میں نظر آئی تھی۔
ایک صاحب اس دفعہ اس سال جلسہ پر آئے تھے، یہ بھی بورکینا فاسو کے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس جلسہ نے تو میری زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ اور میرے دل میں خدا کی محبت بڑھا دی ہے۔ مَیں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب کہتے ہیں کہ میں انشاء اللہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کو اپنے ملک میں پھیلانے میں کوشاں رہوں گا اور بڑے عزم اور اخلاص کے ساتھ واپس گئے تھے۔
بینن میں بھی اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے 43ہزار سے اوپر بیعتیں ہوئی ہیں اور تقریباً 23 ہزار سے زائد بیعتیں تو میرے دورہ کے دوران ہوئی ہیں جو مختلف چیف اورآئمہ آئے ہوئے تھے انہوں نے بیعت کی اور وہاں ان کی دستی بیعت بھی ہوئی۔
امیر صاحب بینن لکھتے ہیں کہ Nikkiکے علاقہ میں لیبیا کے مولوی حضرات کا سینٹر ہے اور انہوں نے وہاں اپنا تعلیم القرآن کامدرسہ کھول رکھا ہے۔ دورہ کے بعد مولویوں نے جب دیکھا کہ یہاں تو جماعت کابڑا تعارف ہو رہا ہے تو انہوں نے Nikki شہر میں جماعت کے خلاف تین روزہ کانفرنس رکھی۔ اور کانفرنس میں تمام گاؤں اور جو اردگرد کے علاقے تھے ان کے آئمہ کو بلایا۔ کانفرنس شام کے وقت شروع ہوئی اور شروع میں ہی ان کو یہ بتا دیا کہ یہ کانفرنس جماعت احمدیہ کے خلاف اور ان کی کامیابیوں کے سدّباب کے لئے رکھی گئی ہے۔ نیز یہ بھی کہ جماعت احمدیہ نے اپنے خلیفہ کو بلا کر جو ایک ماحول پیدا کیا ہے اس کے خلاف ہے۔ اس اعلان کے بعد انہوں نے تمام آئمہ سے ایک امام کو بطور نمائندہ بات کرنے کی دعوت دی۔ اس پر سُویا (Suya) گاؤں کے ہمارے ایک نومبائع امام صاحب کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر آپ نے ہمیں یہاں نماز کی تربیت یا چندہ کی تربیت کے لئے یا روزہ کی تربیت کے لئے بلایا ہوتا تو ہمیں بڑی خوشی ہوتی مگر آپ نے ہمیں جماعت احمدیہ کے خلاف بُلایا ہے اس پر ہم لوگ آپ سے متفق نہیں کیونکہ احمدیہ جماعت ہی حقیقی اسلام ہے اور اسلام کے منافی ایک بھی رُکن ان میں نہیں اس لئے ہم سب واپس جا رہے ہیں۔ اس انتہائی ایمانی جرأت پر باقی سب گاؤں کے تمام امام بھی اٹھ کر باہر آگئے اور وہ کانفرنس جو تین دن چلنی تھی پہلے دن ہی اس بیچاری کی ہوا نکل گئی۔
Nikki کے اس علاقے کے مولوی حضرات کی طرف سے یہ بھی اعلان تھا کہ نعوذباللہ احمدیت کے گندے کاموں سے اس شہر کو پاک رکھیں گے اور احمدیت وہاں نہیں آسکے گی۔ لیکن دیکھیں خدا تعالیٰ کی مدد کس طرح ہوتی ہے کہ وہاں کے ایک مسلمان الحاج داؤد صاحب ہیں وہ اپنی فیملی کے ساتھ احمدی ہو گئے اور انہوں نے ہمارے مقامی معلم کو بُلا یا اور کہا کہ تم میری بیعت لے لو۔ ہمارے معلم نے ان سے پوچھا کہ آپ بیعت کیوں کر رہے ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ مَیں آپ کی دعوت پر لوگوں کو لے کر پاراکو (Parakou) گیا تھا۔ یہ وہاں بینن کا ایک بڑا شہر ہے جہاں خلیفۂ وقت اس دورہ کے دوران آئے تھے۔ وہاں میں نے دیکھا ہے کہ اگر کہیں اسلام ہے تو یہیں ہے۔ تو کہتے ہیں اس پہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات گاڑ دی کہ ان کو قبول کرنا چاہیے اورپھر انہوں نے جماعت کی جشنِ تشکر والی ٹی شرٹس خریدیں اور پھر وہاں اپنے علاقے میں تقسیم کیں۔ اور وہ کہتے ہیں مولوی حضرات میرے پاس آئے تھے کہ ہم نے تو یہاں احمدیت کو گھسنے نہیں دینا تھا تم نے احمدیت قبول کر لی ہے۔ تو میں نے ان کو دوڑا دیاکہ یہاں سے دوڑ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں بھی احمدیت کا نفوذ ہو گیا ہے۔
نائیجیریا میں اس سال اکتیس ہزار سے زائد بیعتیں ہوئی ہیں۔ نو (9) اماموں نے احمدیت قبول کی ہے۔ 47مقامات پر پہلی بار احمدیت کا نفوذہوا ہے۔ جماعت نائیجیریا کو ہمسایہ ملک کیمرون اور چاڈ میں بھی کامیابیاں ملی ہیں۔
کیمرون میں امسال 187بیعتیں ہوئی ہیں۔ یہاں کے ایک مقامی نوجوان ہیں جو نائیجیریا کے جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے معلم کے طور پر وہاں کام کررہے ہیں اوراللہ کے فضل سے جماعت منظّم ہو رہی ہے۔
پھر چاڈ میں بھی 107بیعتیں ہوئی ہیں۔ یہاں بھی نائیجریا کے ہی ایک معلم کام کر رہے ہیں اور جماعت آہستہ آہستہ طاقت پکڑ رہی ہے۔
کینیا میں اس سال تقریباً چودہ ہزار بیعتیں ہوئی ہیں۔ اور نیا مشن بھی یہاں کھولا گیا ہے۔
مُویالے (Moyale) ایسا علاقہ ہے جہاں پہلے کوئی احمدی نہیں تھا۔ یہ علاقہ نیروبی سے سات سو کلو میٹر دور ایتھوپیا کے بارڈر پہ ہے۔ تو اِن علاقوں میں بھی بیعتیں عطا ہوئی ہیں۔ ایتھوپیا میں 6,200، ایری ٹیریا میں 15,600، جبوتی میں 3,900 اورپھر کونگو کو بھی اس سال 7,500سے اوپر بیعتوں کی توفیق ملی۔ ایک نئے علاقہ بنداقہ (Mbandaka) میں پہلی دفعہ احمدیت کا نفوذ ہواہے۔
سیرالیون کی اس دفعہ تھوڑی بیعتیں ہیں یعنی 1,800۔ لیکن 17 چیف اور نئے امام جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔ پھر اسی طرح گِنی کوناکری (Guinea Conakry) میں بھی کچھ بیعتیں ہوئی ہیں جہاں پہلے بڑی مخالفت ہوئی تھی اورجماعت کی اجازت نہیں تھی۔ پھر یوگنڈا میں بھی 3,000کے قریب بیعتیں ہوئی ہیں۔
طاہر احمد صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ بانکو بانا(Mbonkobana) کے علاقہ میں ایک بڑا گاؤں ’’مدینہ‘‘ واقع ہے۔ کہتے ہیں یہاں کے لوگ بڑے لمبے عرصہ سے جماعت میں شامل ہونے سے انکاری تھے۔ جب بھی ہم نے ان سے رابطہ کیا تو یہی کہتے تھے ’’نہیں’‘اور بڑی مخالفت بھی تھی۔ کہتے ہیں اس مرتبہ رابطہ کیا تو امام نے ہمیں تاریخ دی اور پروگرام کے مطابق ہم تین مبلغ وہاں پہنچے۔ وہاں کے موجودہ امام نے بتایا کہ ان کے ایک سابق امام کچھ عرصہ قبل وفات پاگئے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ نے صندوق کھولا جو کہ امام کی تحویل میں رہتا تھا تو اس میں سے جماعت احمدیہ کا لٹریچر اور چندہ کی رسیدیں نکلیں۔ اس وقت گاؤں کے لوگ وہاں موجود تھے۔ یہ سُن کر ایک دوست راؤبنگورا صاحب نے بتایا کہ مرحوم امام کہا کرتے تھے کہ ایک دن سیرا لیون میں احمدیوں کی حکومت ہوگی اور سیرا لیون بہت ترقی کرے گا۔ یہ باتیں سُن کر تمام گاؤں والے مع امام اور چیف کے احمدی ہوگئے۔ الحمدللہ۔
ہندوستان میں بھی اس سال اللہ کے فضل سے تقریباً 49,000بیعتیں ہوئی ہیں۔ انیس خان صاحب لکھتے ہیں کہ چند ماہ قبل سرپنچ کے انتخابات ہوئے جس میں ایک احمدی خاتون نے بھی حصہ لیا اور اپنے کاغذات داخل کرتے ہی مجھے دعا کے لئے لکھا۔ تو یہاں سے جوجواب گیااس جواب میں دعائیہ الفاظ تو کافی تھے لیکن وہ خاتون انتخاب ہار گئیں۔ وہ خاتون بڑے پکّے ایمان کی تھی۔ انہوں نے کہا جب وہاں سے خلیفۂ وقت کا جواب اچھا آگیا ہے، حوصلہ افزا ہے اور دعائیں دی ہیں تو پھر یہ بیکار نہیں جائیں گی۔ کہتے ہیں اچانک کچھ دنوں بعد اطلاع آئی کہ جو سابقہ نتیجہ تھا وہ درست نہیں تھا۔ دوبارہ جائزہ لیا گیا ہے اور وہ خاتون ہی کامیاب قرار دی گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے ان کے ایمان میں بڑا اضافہ ہوا۔ کیونکہ یہاں لوگوں نے ان کو کہا تھا کہ اگر تم احمدی نہ ہوتیں تو ہم تمہیں ووٹ دیتے۔ انہوں نے کہا چاہے سرپنچی ملے نہ ملے لیکن مَیں احمدیت نہیں چھوڑ سکتی۔
انڈونیشیا میں بھی تقریباً اڑھائی ہزار بیعتیں ہوئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی نامساعد حالات کے باوجود ان کو بیعتوں کی توفیق ملی۔ فرانس میں بھی اس دفعہ ان کو بیعتوں کی توفیق ملی۔
فرانس کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ انڈورا(Andora) ایک جگہ ہے ایک دفعہ مَیں وہاں گیا۔ مسلمانوں کی وہاں ایک ایسوسی ایشن ہے۔ ان کے ممبران کے ساتھ تبلیغی نشست ہوئی۔ تو جب انہوں نے ایک کتاب پہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصویر دیکھی تو کہنے لگے کہ یہ تو ہم نے ٹیلی ویژن پہ بھی دیکھے ہیں۔
پھر کہنے لگے کہ آج کل تو جو ایم ٹی اے ہے اس پر دو،دو خلفاء ٹی وی پر آتے ہیں۔ ان کو علم نہیں تھا کہ حضرت صاحب فوت ہو چکے ہیں۔ جب ان کو کتابیں پڑھنے کے لئے دی گئیں کہ پڑھیں تو وہ بھی اب جماعت میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔
اسی طرح ایک تیسرے ملک لکسمبرگ (Luxumburg) میں بھی ان کو جماعتی لٹریچر دیا گیا۔ تعارف کروایا گیاتھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک بیعت حاصل ہو چکی ہے۔
پھر وہ کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ فرانس کے آخری روز ایک شخص نے بیعت کی اور جب مجھ سے ملاقات کی تو مَیں نے اس سے پوچھا کہ تم کس طرح احمدی ہو ئے ؟تو اس کا جواب یہ تھا کہ جس خوبصورتی سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّہُ ادھر پڑھتے دیکھا اور سُنا ہے اس سے پہلے کہیں دیکھا اور سُنا نہیں۔ اس نے میرے دل پہ بہت اثر کیا تو میں نے بیعت کر لی۔
یورپ میں جرمنی نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے ملک اور دیگر تمام ملک جو سپرد کیے گئے تھے اُن میں بیعتیں کروائی ہیں اور سات اقوام سے تعلق رکھنے والے 150سے زائد افراد نے بیعت کی ہے۔ پھر مالٹا Malta میں بھی ان کو پیغامِ حق پہنچانے کی توفیق ملی۔
یہ لکھتے ہیں کہ بلغاریہ میں ایک عیسائی فیملی سے رابطہ کیا گیا اور انہیں احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔ اس پر اس خاتون ِ خانہ نے ایک دو اجلاسات میں شرکت کی جس پر خاوند نے گھر پر بڑی سختی کی اور گھر پر نہ صرف اجلاسات سے روک دیا بلکہ جماعت کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا لیکن ہماری لجنہ کی ممبرات نے مسلسل رابطہ رکھاجس کے نتیجہ میں کچھ عرصہ بعد اس خاتون کی ہمشیرہ اور ان کے بچّے خاوند سمیت احمدیت میں داخل ہو گئے۔ مذکورہ خاتون کہتی ہیں کہ ان سے جب مسلسل رابطہ رہا تو ایک روز خاتون نے خواب میں دیکھا کہ اس کے گھر میں ہماری جماعت کا ترجمہ شدہ قرآن پڑا ہوا ہے اور اس میں سے روشنی نکل رہی ہے اور سارا گھر روشنی سے بھر جاتا ہے۔ قرآن کریم کے دائیں طرف دو آدمی ہیں جنہوں نے جیکٹس اور جیکٹ کی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ اسی طرح بائیں طرف بھی دو آدمی ہیں جو نہایت غلیظ معلوم ہوتے ہیں۔ جب وہ قرآن پکڑتی ہیں تو بائیں طرف والے آدمی بھاگ جاتے ہیں۔ یہ خواب اس نے اپنے خاوند کو سنائی۔ چنانچہ اس خواب کی بنا پر یہ ساری فیملی بھی احمدی ہو گئی۔
گیانا میں حالات چونکہ ابھی ذرا مشکل ہیں لیکن بہرحال جماعت گیانا کو بھی ا س سال تین صد بیعتوں کا ٹارگٹ دیا گیا تھا اور اللہ کے فضل سے انہوں نے 428بیعتیں حاصل کی ہیں اور بہت سارے لوگوں کوایم ٹی اے کے ذریعہ تعارف ہوا ہے۔
بیعتوں کی کُل تعداد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتوں کی کُل تعداد تین لاکھ سے اوپر ہے۔ اور کل انشاء اللہ عالمی بیعت میں سارے ممالک کی نمائندگی ہوگی۔
امیر صاحب کینیڈا لکھتے ہیں کہ دورہ کے دوران استقبالیہ پروگرام جو ایم ٹی اے پر Liveدکھایا گیا تھا، اس میں سیٹلائٹس پر سگنل بھیجنے والے ٹرک کا آپریٹر ایک عیسائی تھا۔ وہ استقبال کا منظر دیکھ کر ایسا مبہوت ہوا کہ گویا اس کو کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہورہا ہے۔ کچھ دیر بعد کہنے لگا کہ میرے ذہن میں حضرت مسیح کی آمدِثانی کا جو نقشہ تھا وہ بعینہٖ وہی ہے جو آج مَیں نے دیکھا ہے۔
پھر کہتے ہیں کہ جلسہ پر آنے کے لئے(کیلگری کی ایک فیملی کے) بچّوں نے ضد شروع کر دی کہ ہم نے ٹورانٹو جانا ہے جہاں جلسہ ہوگا۔ اس کا فاصلہ بھی تقریباً 3ہزار کلو میٹر ہے اور کافی خرچ ہو جاتا ہے۔ جب انہوں نے اپنے والد کو کہا تو انہوں نے کہا کہ میں UKکے ٹکٹ لے چکا ہوں اور اب اتنی توفیق نہیں ہے۔ تو بچّی کہتی ہے کہ میں نے رو رو کے دعائیں کیں کہ اللہ میاں کوئی سامان پیداکردے۔ تو وہی ٹکٹ جو 600ڈالر کا تھا وہ اچانک saleپہ آکے 200ڈالر کا ہوگیا جو عموماً وہ کہتے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس طرح ٹکٹ خریدے اور یہ واقعہ بچّی کے لیے بھی ایمان کی مضبوطی کا باعث بنا۔
مخالفانہ پروپیگنڈاکے نتیجہ میں حاصل ہونے والے ثمرات
اس طرح اور بہت سارے واقعات ہیں۔ لیکن وقت کافی ہوگیا ہے۔ مخالفانہ پروپیگنڈا اور اس کے نتیجہ میں فضلِ الٰہی کا ایک واقعہ بیان کردیتا ہوں۔
تنزانیہ سے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ٹانگا (Tanga) شہر سے17کلو میٹر دور واقع ایک گاؤں کِرارے (Kirare)میں تبلیغ کا پروگرام بنایا۔ انفرادی پیغام پہنچانے کے بعد دو دن کے لیے گورنمنٹ سے ا س گاؤں میں پبلک جلسہ کرنے کی اجازت لی۔ جلسہ گاہ کے لئے گاؤں کے چیئرمین سے مشورہ کے ساتھ کھیل کا میدان منتخب کیا گیا۔ پہلے دن کا جلسہ بہت کامیاب رہا۔ حاضری پانچ صد سے زائد تھی۔ جلسہ کے اختتام سے پہلے سوال وجواب کا وقت دیا گیا۔ حاضرین کی دلچسپی سے تأثر ملتا تھا کہ دو دن کی تبلیغ کے بعد کافی لوگ احمدیت قبول کریں گے۔ کہتے ہیں دوسرے دن جب ہم جلسہ گاہ پہنچے تو گاؤں کے سرکردہ لوگ ہمارے پاس آئے کہ ہم یہاں جلسہ نہیں کر سکتے۔ غیراحمدی مولویوں نے رات کو مسجد میں اعلان کیا ہے کہ نیا دین گاؤں میں آرہا ہے۔ لوگ اسے قبول نہ کریں۔ اگر کوئی اس میں شامل ہو گا تو ہم اس کے مرنے پہ اس کے جنازہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ اور اس طرح ہمیں دوسرے دن جلسہ سے روک دیا گیا۔ تو کہتے ہیں ہم پریشانی میں کھڑے دعائیں کر رہے تھے کہ اس دوران ایک غیر احمدی ہمارے پاس آیا اور ہمیں اپنی دکان کے باہر جو کھلی جگہ تھی وہاں لے گیا کہ آپ یہاں جلسہ کریں۔ کہتے ہیں ہم نے بھی اس کو اللہ تعالیٰ کی مدد سمجھتے ہوئے وہاں جلسہ شروع کر دیا اور خدا کے فضل سے کافی حاضری ہوئی اور اس دکاندار سمیت وہیں 43بیعتیں بھی ہوگئیں۔
دعوت الی اللہ میں روکیں ڈالنے والوں کا انجام
اسی طرح ممباسہMombasa (کینیا کا ایک شہر۔ ناقل)کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی نوجوان کا والد سخت مخالف تھا۔ جہاں بھی موقع ملتا احمدیت کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا اور بانی ٔ سلسلہ کو گالیاں دیتا۔ اور اکثر کہتا کہ مرزا غلام احمد(نعوذ باللہ جوالزام مولوی لگاتے ہیں وفات کے لئے) گند میں فوت ہوئے تو وہ بیٹا بار بار اپنے باپ کو سمجھاتا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام خدا کے سچّے نبی ہیں۔ لہٰذا گالیوں سے باز آجاؤورنہ خدا کی پکڑ آئے گی۔ اس پر باپ کہتا ہے کہ تم احمدیت سے توبہ کر لو ورنہ مرزا صاحب کی طرح بُری موت مرو گے۔ (نعوذباللہ)۔ اُس شخص نے ایک دن بھرے مجمع میں اپنی تقریر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے بارہ میں کہا کہ نبی تو الگ رہا یہ تو سچّے مومن بھی نہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ظاہر ہوئی۔ ایک رات وہ گھر نہیں آیا اور گھر والوں کو فکر پیدا ہوئی کہ وہ تو کبھی اتنی دیر باہر نہیں رہا۔ گھر والوں نے اسے ڈھونڈنا شروع کیا۔ ہمسایوں نے بھی ڈھونڈنا شروع کیا تو ہمسایوں نے اسے گھر کے پیچھے لیٹرین میں الٹے منہ پڑا ہوا پایا اور گھر والوں کو اور دوسرے سب لوگوں کواطلاع دی۔ سب لوگ اکٹھے ہوئے اور جب دیکھا تو گند سے بھرا ہوا تھا۔ اس طرح یہ شخص دوسروں کے لئے عبرت بن گیا۔
حفاظتِ الٰہی کا خاص واقعہ
خواجہ مظفراحمد صاحب مبلغ قازقستان لکھتے ہیں کہ سیمی پلانتیس (Semipalatinsk)ریجن میں کافی عرصہ سے جماعت کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ کہتے ہیں گزشتہ سال خاکسار ستمبر کے مہینہ میں وہاں دورہ پر گیا اور ایک غیراحمدی بخت جان کے کیفے پر سوال و جواب کی مجلس کے انعقاد کا پروگرام بنایا۔ اس نے ہمیں ایک کمرہ اس کام کے لئے دے دیا۔ اٹھارہ کے قریب لوگ جمع ہو گئے۔ دو گھنٹے کی مجلس ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے شدید زلزلہ آیا۔ تقریباً 30،35سیکنڈ زلزلہ کے جھٹکے رہے۔ سارا شہر سڑکوں پر نکل آیا لیکن میری درخواست پر سب دوست اسی کمرہ میں بیٹھے رہے۔ جب ہم پروگرام مکمل کر کے باہر نکلے تو کیفے کا مالک باہر کھڑا تھا۔ کہنے لگا کہ میں دیکھ رہا تھاکہ ابھی یہ کمرہ گرا کیونکہ اس کی دیواروں کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ وقتی ضرورت کے لئے تعمیر کیا تھا۔ شہر میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس کمرہ میں موجود کسی دوست کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ یہ دیکھ کر سب حیران تھے اور بخت جان کے ایک عزیز نے فوراً کہا کہ جب امام صاحب نے یہ کہا تھا کہ بیٹھے رہیں تو مجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ یہ جماعت جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ اس طرح اس نے اسی وقت بیعت کر لی اور اس ریجن میں احمدیت کا پودا لگ گیا۔
رؤیا اور خوابوں کے ذریعہ قبولِ احمدیت
پھر خوابوں کے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ لوگوں کو احمدیت میں شامل کرتا ہے تو اس بارہ میں خواجہ مظفر احمد صاحب ہی لکھتے ہیں کہ کریموف صاحب (Karimov) چیچن کا جماعت سے تعارف تھا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ چند دن قرآن سیکھنے اور چند کتب کے مطالعہ سے میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی تصویر اکثر میری آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ میں نے خدا سے دعا کی کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو مجھے اس کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دے۔ کہتے ہیں اسی رات میں نے خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو خواب میں دیکھا۔ وہ مجھے فرماتے ہیں کہ ’’تم دیر کیوں کرتے ہو؟‘‘حضور نے میرے چہرہ پر ہاتھ پھیرا اور لیٹ گئے۔ میں نے سوچا کہ سو گئے ہیں۔ میں نے حضور کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا تو ایسی خوشبو آئی اور مسلسل آتی رہی کہ کبھی اس سے پہلے میں نے ایسی خوشبو نہیں پائی تھی۔ کہتے ہیں اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور کئی گھنٹے اس خوشبو کا احساس رہا۔ کہتے ہیں اس کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا کہ آج سے میں احمدی ہوں۔ چنانچہ وہ بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوگئے۔
بوسنیا سے وسیم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک زیرِ تبلیغ نوجوان نے خواب کے ذریعہ بیعت کی ہے۔ اس نوجوان نے خود اپنی خواب بیان کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ میں ایک بڑے شہر میں چل رہا ہوں جہاں افرا تفری مچی ہوئی ہے۔ وہاں میں نے بہت سے یہودی،عیسائی اور مسلمان دیکھے جو گند سے بھری ہوئی گلیوں میں حیران وپریشان ادھر اُدھر پھر رہے ہیں۔ جیسے گُم گئے ہوں۔ اچانک میری نظر اپنے دائیں طرف پڑتی ہے تو ایک خوبصورت درخت دیکھتا ہوں جس کے نیچے لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ بیٹھا ہوا ہے۔ انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں۔ اس افرا تفری کے دور میں وہ مکمل سکون سے ایک حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ عیاں ہوتی ہے۔ کہتے ہیں میں خواب میں ہی خیال کرتا ہوں کہ یہ ضرور احمدی ہیں۔ میں ان کے پاس پہنچ جاتا ہوں اور ان میں شمولیت اختیار کر لیتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔ ان کے والد نے انہیں گھر سے نکال دیا ہے اور دوستوں نے چھوڑ دیا ہے لیکن یہ ثابت قدم رہے اور مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
پھر طارق رشید صاحب لکھتے ہیں کہ نسروانگہ گاؤں میں ایک ہندو دوست نے16سال قبل ایک غیر احمدی مسلمان لڑکی سے شادی کی اور دونوں اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق زندگی گزار رہے تھے۔ کہتے ہیں ایک روز ہم ان کے گھر ملنے کے لئے گئے۔ ہندو دوست نے روتے ہوئے ہمیں بتایا کہ آج صبح ہی جب میری بیوی روزہ رکھ کے سوئی ہے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔ اور ان کا لباس اور ٹوپی بالکل یہی تھی جو آپ نے پہن رکھی ہے۔ اس پر اسے احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا اور اس نے بیعت کرلی۔ جب یہ بات گاؤں کے سنّی مسلمانوں کو معلوم ہوئی تو انہوں نے پریشر ڈال کر اور مدد کا لالچ دے کر اور اپنا ممبر بنا کر دوبارہ نکاح پڑھوا دیا۔ پھر چند ہفتوں کے بعد یہ نَو مسلم پھر ہمارے پاس آئے اور کہا مجھے معاف کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے میری ہدایت کا ذریعہ تو آپ کو بنایا لیکن میں اپنی غلطی کی وجہ سے ان میں شامل ہو گیا جس کا مجھے سخت افسوس ہے۔ وہ صرف نفرت کی ہی تعلیم دیتے ہیں اور اسلام کے متعلق کچھ نہیں بتاتے۔ الحمدللہ اب یہ چار افراد پر مشتمل خاندان نظامِ جماعت میں شامل ہے۔
مخالفین کے عزائم میں ناکامی
حیدر آباد انڈیا میں مجلس تحفظ ختم ِ نبوت والوں نے خوب مخالفت کا بازار گرم کیاہوا ہے۔ آئے دن جماعت کے خلاف جلسے کرتے ہیں۔ مقصود صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال ستمبر میں مخالفین نے ایک جلسہ کا اہتمام کیا جس میں ہندوستان بھر سے علماء کو مدعو کیا گیا۔ ان سب علماء نے جماعت کے خلاف دل کھول کر زہر افشانی کی۔ آخر پر یہ اعلان کیا گیا کہ اب شعلہ بیان مقرر محمد طلحہ قاسمی صاحب احمدیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے آرہے ہیں۔ مولانا نے اپنی تقریر حضرت مسیح موعود کے خلاف گند بکتے ہوئے شروع کرنی تھی مگر خدا تعالیٰ کی تقدیر اس طرح ظاہر ہوئی کہ ان صاحب نے اپنی تقریر میں حضرت مرزا صاحب کانام لینے کی بجائے یہ کہا کہ مولانا احمد رضا خان کے ماننے والے کافر ہیں۔ جس سے سُنّی مسلمان مشتعل ہوگئے اور مولانا پر حملہ کر دیا اور پورے مجمع میں کھلبلی مچ گئی۔ مولانا بار بار یہ کہتے رہے کہ میرے منہ سے احمدرضا کا نام غلطی سے نکل گیا ہے حالانکہ میرے دل میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام تھا۔ لیکن بہر حال جو ہونا تھا وہ ہو چکااور مولوی کو وہاں سے ذلیل ہو کے جانا پڑا۔
پھر گیمبیا کے امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ستمبر 2003ء کو ایک جنازہ کے موقع پر ایک غیر احمدی نے احمدیوں کے بارہ میں کہا کہ وہ روحانی لحاظ سے گندے ہیں اس لئے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئیں۔ اس طرح اور بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ ان کے مُردوں کو ہم یہاں دفن نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر بہت سے لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ احمدی دوستوں نے اس کی رپورٹ ڈسٹرکٹ چیف کے پاس کی۔ اس نے سماعت کے لئے تاریخ مقرر کر دی۔ چنانچہ مقررہ تاریخ پر سماعت کے دوران چیف نے مخاطب ہو کے کہا کہ گیمبیا ایک سیکولر سٹیٹ ہے اور یہاں ہر قسم کی آزادی ہے۔ کسی کو اس قسم کی کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور نہ ایک دوسرے کی بے عزتی برداشت کی جائے گی۔ چیف نے مزید کہا کہ احمدی قانون کی پابندی کرنے والے ہیں لیکن دوسرے مسلمان نوجوانوں کو جمع کر کے ہمیشہ فساد کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چیف نے اس شخص کو جہاں تین ہزار پانچ سو ڈلاسی (Dalasi) جرمانہ کیا وہاں ایک ہزار ڈلاسی کی رقم جماعت کو بطور ہر جانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
مالی قربانی
مالی قربانی کے ذکر میں بھی ایک آدھ واقعہ سُن لیں۔
جمیل احمد صاحب مبلغ کینیا لکھتے ہیں کہ خاکسار چیبوگا(Chibuga) جماعت میں اپنے معلمین کے ساتھ گیا۔ احباب کو چندہ کی تحریک کی۔ پروگرام ختم ہونے پر صدر جماعت ایک مرغی لے کر آیااور کہا کہ ’’میرے پاس مرغی کے سوا کچھ نہیں۔ یہی چندہ قبول کر لیں’‘۔ کچھ عرصہ بعد خاکسار اس جماعت کے دورہ پر گیا۔ صدر جماعت کے گھر کافی مرغیاں دیکھیں۔ میں نے اس سے کہا کہ اتنی مرغیاں کہاں سے آگئیں ؟پچھلی دفعہ تو صرف ایک تھی۔ اس پراس نے بتایا کہ کسی سے ایک مرغی ادھار لی تھی اور انڈوں پر بٹھا دی۔ سبھی بچے نکلے ہیں۔ ان میں سے اب تک ایک بچّہ بھی نہیں مرا۔ اس لئے اب بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ یہ برکت ایک مرغی چندہ میں دینے کی وجہ سے تھی۔ پرانے زمانہ میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں کہ انڈے بیچ کر لوگ چندے دیا کرتے تھے تو یہ دیکھیں کہ اس قربانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے مال میں برکت ڈالی۔
حسن بصری صاحب کمبوڈیا سے لکھتے ہیں کہ اپریل 2004ء میں بہت گرمی پڑی اور بارش نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچنے لگا۔ لوگ سخت پریشان ہوئے۔ ہمارے لوکل معلم شافی حسین صاحب نے ان سب ممبران کو بلوایا اور کہا کہ آپ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اس لئے بارش نہیں آرہی۔ آپ سب باقاعدہ چندہ ادا کریں پھر دیکھیں کس طرح اللہ بارش برساتا ہے۔ چنانچہ یک صد کے قریب ممبران جماعت ان کے گھر آئے اور چندہ ادا کیا۔ اسی روز چار پانچ بجے شام بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش ہوئی جو تین روز تک مسلسل جاری رہی۔ لوگوں نے خدا کا شکر ادا کیا اور وعدہ کیا کہ اب ہم باقاعدہ چندہ دیا کریں گے۔ اب دیکھیں دُور دُور کے علاقوں میں بیٹھے لوگوں کے ایمان بھی اللہ تعالیٰ کس طرح تازہ کرتا ہے۔
امیر صاحب گیمبیا کہتے ہیں کہ جونگون (Njongon) گاؤں کے دو بھائیوں نے احمدیت قبول کی۔ وہ دونوں مجلس خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شرکت کی تیاری کر رہے تھے کہ غیر احمدی نوجوانوں نے آکر اس بات کی ترغیب دی کہ آج کا دن بہت اچھا ہے۔ ہم مچھلیاں پکڑنے جاتے ہیں۔ ایک بھائی نے تو صاف کہہ دیا کہ میں اجتماع پر جارہا ہوں جبکہ دوسرے نے اجتماع کا چندہ ادا کردیا لیکن شامل ہونے کی بجائے مچھلیاں پکڑنے چلا گیا۔ اجتماع کے دوران یہ خبر ملی کہ یہ نوجوان حادثہ کا شکار ہوگیا ہے۔ کشتی الٹ گئی تھی۔ اجتماع میں جو نوجوان شریک ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ اس حادثہ میں میرا بھائی ضرور بچ جائے گا کیونکہ اس نے چندہ دے دیا تھا۔ بعد میں خبر ملی کہ ان کا بھائی کشتی کے اس حادثہ میں زندہ بچ گیا تھا جبکہ باقی دوست حادثہ کا شکار ہو گئے تھے۔
میں جو چند واقعات لایا تھاتو یہ اُن میں سے بھی میر ا خیال ہے کہ دسواں حصہ بیان کیے ہوں گے اور بے شمار ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ روز جماعت پر اپنا فضل فرماتا ہے اور ہر جگہ ایمان کو تازہ کرنے والے نئے نئے واقعات ملتے ہیں۔ اب کافی وقت ہو گیا ہے اس لئے ختم کرتا ہوں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’مَیں محض نصیحتاً للہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریقِ شرافت نہیں ہے۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔ لیکن اگر مجھے آپ لو گ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہوکر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں اوررو رو کر میرا استیصال چاہیں۔ پھر اگر مَیں کاذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرتِ گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سُنی نہیں جائیں گی کیونکہ مَیں خدا سے آیا ہوں۔ جو شخص میرے پر بددعا کرے گا وہ بددعا اسی پر پڑے گی جو شخص میری نسبت یہ کہتا ہے کہ اُس پر لعنت ہو وہ لعنت اُس کے دل پر پڑتی ہے مگر اس کو خبر نہیں۔’‘ (اربعین 4۔ روحانی خزائن جلد نمبر 17صفحہ 471-472)
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل اور سمجھ دے اور اس زمانہ کے امام کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اسی سے اب ان کو سمجھ آجائے کہ دنیاکا امن اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے ماننے سے ہی وابستہ ہے۔
دعا کر لیں۔
دعا کے اختتام پر حضور نے فرمایا: ’’آمین‘‘۔ اور پھرسب حاضرین کو ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کہہ کر واپس تشریف لے گئے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Kf4kn]

اپنا تبصرہ بھیجیں